Skip to content
وقف ترمیمی بل کی سیاسی غرض و غایت ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وقف ترمیمی بل کا اصل مقصد بی جے پی کےشدّت پسند ہندو رائے دہندگان کی خوشنودی ہے ۔ 2014میں وزیر اعظم نریندر مودی ’سب کا ساتھ سب کا وکاس(ترقی) ‘ کا نعرہ لگا کر اقتدار پر فائز ہوئے۔ اس وقت ان کا گیم پلان یہ تھا کہ اٹل بہاری واجپائی کی مانند مسلمان سمیت سبھی طبقات کا اعتماد حاصل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں حلف برداری کی تقریب میں میاں نواز شریف کو دعوت دی اورپھر بن بلائے پاکستان کا دورہ بھی کردیا ۔ یہ اپنی شبیہ سدھارنے کی ایک کوشش تھی۔ اس دوران وہ رام مندر جیسے فرقہ وارانہ مسئلہ سے بھی الگ تھلگ ’’اچھے دن آنے والے ہیں‘‘ کا خواب بیچتے رہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی مدت کار میں انہوں نے سوچا کیوں نہ تین طلاق کا معاملہ اچھال کر مسلمان خواتین کے ووٹ بنک پر ہاتھ مارا جائے۔ اس کے لیے انہوں نے انتخاب سے قبل سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی آڑ میں صدارتی آرڈیننس جاری کروا دیا ۔ یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی ۔ ملت اسلامیہ نے اسے بجا طور پر شریعت میں مداخلت کے طور پر لیا اوراس طرح ان کے سارے کیے کرائے پر پانی پھِر گیا یعنی ان کی مسلم دشمنی والی شبیہ پھر سے سامنے آگئی۔
2019کے انتخاب سے قبل رافیل کی بدعنوانی سامنے آئی تو اس بات کا خطرہ رونما ہوگیا کہ راجیو گاندھی کے بوفورس کی مانند یہ مودی سرکار کو لے ڈوبے گی ۔ سنگھ کے دانشور بھی 220تک کی توقع کرنے لگے تھے ایسے میں پلوامہ اور سرجیکل اسٹرائیک کا جوا چل گیا۔ بی جے پی پہلے سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوگئی۔ اب یہ بات سمجھ میں آگئی کہ ’ساتھ اور وکاس‘ کا نعرہ ناممکن ہدف ہونے کے سبب اقتدار میں رہنے کے لیے ہندو شدت پسندی ہی واحد راستہ ہے ۔ 2019کےبعد اس نئی حکمتِ عملی پر سفر جاری رکھنے کی خاطر راجناتھ سنگھ کو وزیر دفاع بناکر ملک سرحدوں پر دفع کردیا گیا اور ان کی جگہ وزارت داخلہ کی باگ ڈور امیت شاہ کے حوالے کی گئی۔ انتخابات کے بعد پہلے ہی اجلاس میں تین طلاق پر ایوان ِ پارلیمان میں قانون سازی کی گئی اور پھر کشمیر کی دفع 370کا خاتمہ کرکے نہ صرف ریاست کا خصوصی درجہ ختم کیا گیا بلکہ اسے تقسیم کرکے مرکز کے تحت علاقہ بنا دیا گیا ۔ ہندو شدت پسند رائے دہندگان کی ناز برداری (appeasement) کا اس طرح پر زور آغاز کیا گیا ۔ اس کے بعد رام مندر کا عدالتی فیصلہ کرواکر اس کا سنگ بنیاد اور بلقیس بانو کے زانیوں کی رہائی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھی۔
بی جے پی اس نئی حکمت ِ عملی کا طریقۂ کار یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ہندو عوام میں نفرت پھیلاو اور پھر ان پر ظلم کرکے شدت پسند ہندووں کو خوش کرو تاکہ وہ مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل کو بالائے طاق رکھ کر ہندو سماج ان کو ووٹ دیتارہے۔ دہلی کا فساد اور مظالم یا این آر سی و سی اے اے کا قانون مسلمانوں کو پریشان کرکےدہشت پسند ہندووں کی خوشنودی کا ذریعہ تھا۔ 2024 کی انتخابی مہم میں نہ صرف ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘اپنی موت مرگیا بلکہ پاکستان کے بجائے ہندوستانی مسلمان نشانے پرآگئے ۔ ان کے ذریعہ ہندو خواتین کےمنگل سوتر کو لاحق خطرات کا ذکر ہونے لگا اورہندووں کوڈرانے کےلیے کانگریس کے ان کی بھینس اور نل کی ٹونٹی بھی چھین کر مسلمانوں کو دینے کے خدشات پیدا کیے گئے۔ اس بار یہ جادو نہیں چلا اور 400پار کا خواب دیکھنے والی بی جے پی 240 پر آگئی۔
حکومت سازی کے لیے جب بی جے پی کو نتیش کمار اور نائیڈو کی بیساکھیوں کا سہارا لینا پڑا تو جن ہندووں کے دل میں مسلمانوں کا خیالی خوف پیوست کردیا گیا تھا ان کے اندر اندیشوں کا پیدا ہونا فطری بات تھی ۔ وہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ کیا یہ لنگڑی لولی بی جے پی سرکار کیسےہمارا تحفظ کرپائے گی؟ یہ سوال بی جے پی کےلیے سمِ قاتل تھا کیونکہ اسی طرح ووٹ بنک کھسکتا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ رائے دہندگان اسی وقت تک رہتے ہیں جب تک کہ وہ دماغ کے بجائے نفرت بھرے دل سے سوچتے ہیں۔ ٹھنڈے دماغ سے اپنے مسائل پر غور وخوض عوام کوبی جے پی سے دورلے جاتاہے ۔ پچھلے قومی انتخابات میں مہاراشٹر اور اترپردیش کے اندر اس کا مظاہرہ ہوچکا ہے۔بی جے پی نے اپنے کٹرّ رائے دہندگان کا اعتماد بحال رکھنے کی خاطر یعنی انہیں یہ احساس دلانے کے لیے کہ اس گئی گزری حالت میں بھی مودی سرکار مسلمانوں کو پریشان کرسکتی ہے انتخاب کے بعد پہلے ہی اجلاس میں یہ وقف بل پیش کردیا ۔ اسے نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو سے ناراضی کی توقع نہیں تھی لیکن جب ایسا ہوا تو وہ ٹی ڈی پی کی تجویز یعنی جے پی سی کے لیے راضی ہوگئی ۔ اس طرح اسے اپنے دونوں حلیفوں کو للچانے اور بلیک میل کرنے کے لیے ۷؍ ماہ کا وقت مل گیا ۔
ان لوگوں نے بھی اپنے مسلم رائے دہندگان کو سمجھا بجھا کر ساتھ رکھنے کی خاطر کچھ ایسی تجاویز بل میں شامل کروائیں جن پر مسلمانوں کو سخت اعتراض تھا مثلاًوقف املاک کے تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت’ وقف بائی یوزر ‘ کی دفع تھی یعنی اگر کسی متنازع زمین کے کاغذات نہ ہوں تو اس کے استعمال کی بنیاد پر ملکیت کا فیصلہ کیا جائے۔ اس ترمیم میں یقین دلایا گیا کہ ’تمام وقف از صارف جائیدادیں جو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے نفاذ سے پہلے رجسٹرڈ ہیں، وقف جائیداد رہیں گی، الاّ یہ کہ وہ متنازعہ نہ ہو یا سرکاری ملکیت نہ ہو۔‘ یہ ایک فریب ہے کیونکہ کسی بھی املاک کو متنازع بناکر اسے’وقف بائی یوزر ‘ سے مستثنیٰ کرناا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ٹی ڈی پی کی یہ تجویز بھی ترمیم کے اندرشامل کی گئی کہ وقف کے معاملات میں کلکٹر کو حتمی اتھارٹی ماننے کے بجائے ریاستی حکومت ایک نوٹیفکیشن جاری کر کے کلکٹر سے اعلیٰ افسر کو نامزد کر سکتی ہے جو قانون کے مطابق انکوائری کرے گا۔ یہ چونکہ اختیاری عمل ہے اس لیے بی جے پی ریاستی سرکار اس کی زحمت ہی نہیں کرے گی اور کرنا ہی پڑے توحکومت کے تلوے چاٹنے والے سنگھی اعلیٰ افسران کا کون سا اکال پڑا ہے؟
ڈیجیٹل دستاویزات کے لیے وقت کی توسیع یعنی مزید چھ ماہ بھی کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں ہے ۔ جے ڈی یو نے حکومت سے کہا چونکہ زمین ریاست کا موضوع ہے، اس لیے نئے قانون میں بھی اسی ترجیح کو برقرار رکھا جانا چاہئے یعنی مرکز کا عمل دخل نہ ہو ۔ اس کی دوسری تجویز یہ تھی کہ وقف جائیداد اگررجسٹرڈ ہوتو نیا قانون سابقہ اثر کے ساتھ لاگو نہیں ہوگا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رجسٹرڈ وقف املاک متاثر نہیں ہوں گی۔ یہ غضب احمقانہ تجویز ہے کیونکہ جن املاک کا اندراج ہے اس کو نہ ترمیمی بل سے کوئی خطرہ ہے اور نہ اس اضافی تحفظ کی ضرورت ہے۔ اصل مسئلہ تو ان املاک کا ہے جن کا گوں ناگوں وجوہات کی بنیاد پر اندراج نہیں ہوسکا اب اگر ان کو تحفظ سے مستثنیٰ کردیا جائے تو یہ ایک بے معنیٰ ڈھکوسلہ ہے۔ جے ڈی یو کی ترمیمی تجویز کے مطابق کسی بھی متنازعہ جائیداد کے مستقبل کا فیصلہ وقف بل میں طے شدہ معیارات کے مطابق کیا جائے گا۔ یعنی سرکار یا انتظامیہ کی نیت جس جائیداد پر خراب ہوگی اسے پہلے متنازع بنایا جائے گا اور پھر اس پر من مانا فیصلہ تھوپ کر قبضہ کرلیا جائے گا۔
جے ڈی یو کی تیسری تجویز یہ تھی کہ اگر کوئی وقف جائیداد سرکاری زمین پر ہے تو اس کا فیصلہ بھی بل کے مطابق ہوگا۔ وقف کا سرکاری زمین پر ہونا بے معنیٰ ہے۔ کوئی فردِ واحد سرکاری زمین کو وقف کرہی نہیں سکتا ۔ وہ تو اپنی ذاتی ملکیت خیرات کرتا ہے اس لیے یہ تجویز بجائے خود گمراہ کن اور فتنہ پرور ہے۔اس نوٹنکی سے قطع نظرٹی ڈی پی اور جے ڈی یو کی ان شرائط کو قبول کرنا بی جے پی کی کمزوری ظاہر کرتا ہے کیونکہ اس سے پہلے تو وہ کسی سے کچھ سننے کی روادار ہی نہیں تھی ۔ شیوسینا کے سریش پربھو کا مرکزی وزیر بنانا یاد کیجیے ۔ شیوسینا نے جب کہا تھا کہ ہمارے کوٹے سے کسے وزیر بنایا جائے اس کا فیصلہ بی جے پی نہیں کرسکتی اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کے ارکان حلف برداری کا بائیکاٹ کریں گے تو مودی جی کا جواب تھا اپنی بلا سے ۔ آناً فاناً سریش پربھو کو شیوسینا سے نکال کر بی جے پی میں شامل کرنے کے بعد وزیر بنادیا گیا اور شیوسینا والے دیکھتے کےدیکھتے رہ گئے کیونکہ دس سال قبل بی جے پی کو اپنے بل پر اکثریت حاصل تھی مگر اب وقت بدل گیا ہے۔ زعفرانیوں کے پاس اپنی اس کمزوری کو چھپانے کی خاطر یوگی اور شاہ کے اشتعال انگیز بیانات کا سہارا لیینا پڑتا ہے تاکہ بھگتوں کو یہ باور کرایاجائے ’ا بھی بھی میں جوان ہوں‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقف ترمیمی بل کی منظوری کے باوجود مودی ۳ کی اپنے حامیوں کے سامنے لاچاری ساری دنیا کے سامنے آگئی ہے۔ بھگتوں کو بہلانے کے لیے اسے چھپانا بی جے پی کی مجبوری ہے بقول سیف الدین سیف؎
غم دل کسی سے چھپانا پڑے گا
گھڑی دو گھڑی مسکرانا پڑے گا
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...