Skip to content
واشنگٹن،۱۴؍اپریل(ایجنسیز) سنیچر (12 اپریل) کی علی الصبح امریکہ کے محکمہ کسٹمز کی جانب سے انتہائی خاموشی سے ایک نوٹ (اعلامیہ) جاری کیا گیا جس میں ان تمام مصنوعات کے کوڈز یا نمبرز موجود تھے جنھیں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں چین سے امریکہ درآمد کی جانے والی اشیا پر عائد کردہ 125 فیصد ٹیرف یا اضافی ٹیکس سے استثنی دیا گیا تھا۔کسٹمز کی جانب سے جاری کردہ نوٹ میں درج کوڈ 8517.13.00.00 کا مطلب شاید دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو لیکن امریکہ کے محکمہ کسٹمز کی فہرست میں یہ کوڈ سمارٹ فونز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اور اس کوڈ کو اس فہرست میں شامل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے اس چیز کو 125 فیصد درآمدی ٹیکس سے مستثنی قرار دیا ہے جو گذشتہ سال، مالیت کے لحاظ سے، سب سے زیادہ چین سے امریکہ برآمد کی گئی ہے یعنی سمارٹ فونز۔سمارٹ فونز کے علاوہ دیگر الیکٹرانک آلات اور مصنوعات جیسا کہ سیمی کنڈکٹرز، سولر سیلز اور میموری کارڈ کو بھی 125 فیصد اضافی ٹیرف سے استثنی دیا گیا ہے۔چند روز قبل ہی امریکہ کے سیکریٹری تجارت ہاورڈ لٹنک نے سمارٹ فونز کے معاملے پر بات کرتے ہوئے اور اس ضمن میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اِس کا مقصد آئی فون کی پروڈکشن یا پیداوار کو بتدریج چین سے امریکہ منتقل کرنا ہے۔ ان کے اِس بیان کے فورا بعد سمارٹ فونز کو ٹیرف سے مستثنی کرنے کا اعلان ایک حیران کن یو ٹرن تھا۔اور حیران کن یہ بھی ہے کہ اس اقدام سے قبل اس کا اعلان عوامی سطح پر نہیں کیا گیا۔یہ بات قابل غور ہو گی کہ اگر اس انتہائی اہم برآمد پر استثنی کا اعلان نہ کیا جاتا تو امریکہ کے لیے اس کے کیا نتائج ہوتے۔زیادہ تر آئی فون اور اس سے متعلقہ مصنوعات مشرقی چین میں موجود ایپل کی فیکٹری میں تیار کیے جاتے ہیں۔ اور ان پر 125 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کا اثر امریکہ میں موجود ایپل سٹورز پر گذشتہ کئی ہفتوں سے ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا۔عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ ریسرچ فرم، کانٹر پوائنٹ، کے مطابق امریکہ میں فروخت ہونے والے ایپل کے 80 فیصد آئی فونز چین میں تیار ہوتے ہیں۔ایپل کی مصنوعات پر اس کمپنی (ایپل) کو ہونے والے منافع کا تخمینہ 40 سے 60 فیصد کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ یعنی اگر ایپل کی کوئی ایک پراڈکٹ مارکیٹ میں 100 روپے میں فروخت ہو رہی ہے تو اس پر ایپل کمپنی کو 40 سے 60 روپے کے درمیان منافع حاصل ہوتا ہے۔اگر سمارٹ فونز کو 125 فیصد ٹیرف سے استثنی نہ دیا جاتا تو ممکن ہے کہ عام آئی فون کے ماڈل کی قیمت ایک ہزار امریکی ڈالرز سے بڑھ کر دو ہزار امریکی ڈالرز تک پہنچ جاتی۔ ایپل کے پاس یہ آپشن بھی تھا کہ وہ ٹیرف کے نتیجے میں بڑھنے والے اخراجات کو صارفین کو منتقل کر دیتے مگر ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ کیا باقی دنیا ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ اضافی ٹیکس کو اپنی جیب سے ادا کرنے کے فیصلے کو قبول کر لیتی؟اگرچہ فی الوقت آئی فونز کی عوامی سطح پر قیمت میں ردوبدل یا اس میں بڑے اضافے کو روکا جا چکا ہے مگر قیمت میں ردوبدل ابھی بھی ممکن ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین پر پہلے سے عائد کردہ 20 فیصد محصولات کا فیصلہ برقرار ہے اور اس سے سمارٹ فونز کو استثنی نہیں دیا گیا ہے۔اس پورے معاملے میں ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک ایک اہم شخصیت ہیں۔ اور وہ اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ دونوں کے ساتھ ہی بات اور ملاقات کر سکتے ہیں۔ یہ کچھ عجب نہ ہو گا مستقبل میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں امن قائم کرنے کے لیے ٹم کک کی طرف سے ثالثی کی جائے۔اور تجارتی جنگ میں امن کی یہ کوشش امریکہ اور چین کی معیشتوں کو جوڑے رکھنے میں ٹم کک کے بڑے اور بنیادی کردار پر مبنی ہو گی۔ ٹم کک کا بطور ایپل کے چیف ایگزیکیٹیو انتخاب ایپل کے شریک بانی سٹیو جابز نے سپلائی لاجسٹکس میں ان کی بے مثال مہارت کی بنیاد پر ہی کیا تھا۔
Like this:
Like Loading...