Skip to content
وقف ترمیمی قانون اور بہار کا انتخاب ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
نتیش کمار نے اپنے طویل مدت کار میں ایک سیکولر شبیہ بناکر مسلم رائے دہندگان کے اندر سیندھ لگائی۔ وہ اپنے رائے دہندگان اور جے ڈی یو سے منسلک مسلم رہنماوں کو خوش کرنے کے لیے بی جے پی کے ساتھ رہنے کے باوجود اس کی مخالفت کرنے کاڈھونگ بھی کرتے رہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ایوان اسمبلی میں سرکاری تجویز کی منظوری تھی ۔ وہ ایسا زمانہ تھا کہ جب بہار کی ریاستی حکومت میں شامل بی جے پی کو اپنی ہی مرکزی حکومت کےقانون کی مخالفت کرنی پڑی تھی ۔ ذات پات کی بنیاد مردم شماری کے معاملے میں بھی یہی ہوا تھا مگر اب وہ دن ہوا ہوگئے ۔ زمانہ بدل گیا ۔ نتیش کمار نے جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے پیر چھوئے ہیں وہ انہیں قدموں تلے روندنے لگے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب تو روی شنکر پرشاد کے بھی پیر چھو ئے جارہے ہیں جبکہ خود بی جے پی نے انہیں مرکزی وزارت سے لات مار کر نکال باہر کیا ہے۔ ایسے میں آر جے ڈی کے لیے نتیش کمار کے چنگل میں پھنسے مسلمانوں کو نکال کراپنے ساتھ کرنے کا نادر موقع ہاتھ آگیا ہے اور وہ اسے خوب بھنا رہی ہے۔
وقف بل پر جب ایوانِ پارلیمان میں بحث چل رہی تھی تو ا س وقت بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کا دہلی کے ایمس اسپتال میں علاج چل رہا تھا ۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لالو پرساد کے ہینڈل سے ایک پوسٹ میں وقف ترمیمی بل کے خلاف آواز بلند کرکے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا گیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آر جے ڈی اس معاملے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران خود بی جے پی کے رہنماوں نے لالو پرساد کا نام لے کر پٹنہ میں وقف کی زمینوں پر قبضہ سے متعلق ان کے بیان کا تذکرہ کیا اور اپنی شامت کو دعوت دے دی ۔ لالو پرساد نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’سنگھی-بھاجپائی نادانوں… تم مسلمانوں کی زمینیں ہضم کرنا چاہتے ہو، لیکن ہم نے ہمیشہ وقف کی زمینیں بچانے کے لیے سخت قانون بنایا ہے، اور بنوانے میں مدد کی ہے۔‘‘
لالو یادو نے اپنے مخصوص انداز میں پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے مزید لکھاتھا کہ ’’مجھے افسوس ہے کہ اقلیتوں، غریبوں، مسلمانوں اور آئین پر چوٹ کرنے والے اس مشکل دور میں پارلیمنٹ کے اندر میں نہیں ہوں، ورنہ تنہا ہی کافی تھا۔ یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ ایوان میں نہیں ہوں، تب بھی آپ لوگوں کے خیالوں، خوابوں، نظریات اور فکروں میں (وجود ) ہوں۔‘‘ لالوپرساد یادو نے بی جے پی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’اپنے نظریات، پالیسی اور اصولوں پر عزم و استحکام ہی میری زندگی کی جمع پونجی ہے۔‘‘ یہ ایک سچائی ہے کہ قومی سیاست میں اچھے اچھوں نے کبھی نہ کبھی بی جے پی کا بلواسطہ یا بلا واسطہ ساتھ دیا اور لیا مگر لالو پرشاد یادو کا دامن اس داغ سے پاک ہے۔ ان کے تیزوتند حملے نے وقف ترمیمی قانون کو بہار کی سیاست کا مرکزی مدعا بنادیا ۔
دہلی میں کامیابی کے بعد بی جے پی کے سامنے اب سب سے بڑا سیاسی ہدف بہار کا الیکشن ہے۔ دہلی کے اندر عوام میں جس طرح کی بیزاری اروند کیجریوال کے تئیں پیدا ہوگئی تھی اس سے زیادہ ناراضی بہار میں نتیش کمار کے خلاف ہے۔ بی جے پی اگر ان کی حکومت میں جونیر پارٹنر نہ ہوتی تو اس صورتحال پر زعفرانی ٹولہ بغلیں بجاتا مگر اب تو اسے بھی ناراضی کی کچھ نہ کچھ قیمت چکانی ہی پڑے گی ۔ سوشیل مودی اگر نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پرفائز ہوتے تووہ اپنی شخصیت سے رائے دہندگان کو کسی نہ کسی حد تک متاثر کرتے مگر ان کے بجائے بی جے پی نے ایسے نااہل لوگوں کو وہ عہدہ سونپا کہ کوئی ان کا کام تو دور نام تک نہیں جانتا۔ پچھلے کئی سالوں سے بی جے پی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے سہارے اقتدار میں آتی رہی ہےمگر اس بار دو مسائل ہیں ۔ اول تو پچھلے انتخاب میں ان کی جے ڈی یو کو بی جے پی نے چراغ پاسوان کے ذریعہ بہت کمزور کردیا اور پھر عمر کے سبب نتیش کمار کا دماغی توازن تقریباً بگڑ گیا۔ آئے دن کی بہکی بہکی باتیں اور الٹی سیدھی حرکات ذرائع ابلاغ میں تفریح کا سامان بن جاتی ہیں۔
تیجسوی یادو نے وقف کی سازش کا دائرۂ کار وسیع کرتے ہوئے دلت اور ہندووں کو آگاہ کیا کہ آر ایس ایس اور بھاجپائی پسماندہ طبقوں کو معاشی طور پر مرکزی دھارے سے دور کرنے کی حکمتِ عملی پر کام کررہی ہے۔فی الحال مسلمان نشانے پر ہیں، لیکن اصل ہدف دلت، قبائلی اور پسماندہ ہندو ہیں۔ تیجسوی نے الزام لگایا کہ دلت اور قبائلی ہندووں کو مرکزی دھارے میں آنے سے روکنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ وقف کے حوالے سے اپنی پارٹی اور قومی صدر لالو پرساد یادو کی سوچ واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا خمیازہ این ڈی اے کو بھگتنا پڑے گا۔بہار کے ایک نائب وزیر اعلیٰ وجئے کمار سنہا ہیں ۔ ان کی کم عقلی کا اندازہ اس بیان سے کیا جاسکتا ہے انہوں نے وقف قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو گرفتاری کی دھمکی دے دی مگر اس اعلان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو نے کھلا چیلنج کردیا کہ اگر بہار میں ان کی حکومت آگئی تو وہ اس بل کو کچرے کے ڈبے میں پھینک دیں گے۔
تیجسوی یادو نے وقف کی لڑائی کو ایوان اور سڑک سے لے کر عدلیہ تک لڑنے کا عزم کیا۔ انہوں نے اس مزاحمت کا موازنہ ریزرویشن کی لڑائی سے کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے بھی سڑک سے ایوان تک آواز اٹھاتے ہوئے عدالت کا رُخ کیا گیا تھا۔ تیجسوی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ وقف بورڈ کو لے کر مسلمانوں کے ساتھ ہو نے والی ناانصافی کے خلاف راشٹریہ جنتا دل سپریم کورٹ جا چکی ہے۔ بی جے پی ایسے نااہل لوگوں کی مدد سے بہار کا انتخاب تو جیت نہیں سکتی اس لیے اس کے پاس مودی اور ان کے ذریعہ منظور کیے جانے والے وقف ترمیمی بل کے سوا کوئی چارہ ٔ کار نہیں ہے۔تیجسوی یادو نے اپنے اراکین پارلیمان کے ذریعہ اس بل کے خلاف ووٹ دینے کے کئی جواز پیش کیے۔ان کے خیال میں یہ غیر آئینی آرٹیکل 26 میں بیان کردہ مذہبی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔وقف بل کی آڑ میں کھیلی جانے والی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لوگ پولرائزیشن کی سیاست کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ مہنگائی،نقل مکانی اور ملک کی معاشی حالات جیسے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں یعنی صرف اور صرف اپنی سیاسی روٹی سینکنے کے فراق میں ہیں۔
تیجسوی یادو انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر آئین مخالف ہونے کاالزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ مسلسل دستورِ ہند کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ پورے ملک میں ناگپوریہ قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں یعنی ملک کی عوام، اتحاد اور نظریے کی سیاست نہیں کرتے۔ نریندر مودی اور بی جے پی کی مسلم خیر خواہی ناقابلِ فہم ہونے کی وجہ سے قابلِ قبول نہیں ہے ۔انہوں نے اپنے دعویٰ کی دلیل کے طور پر کہا کہ ’’جو لوگ دن و رات مسلمان کو کھلے عام ٹی وی پر گالی دیتے ہیں۔ ان کے رکن پارلیمنٹ ایوان میں مسلمانوں کو ملّا کہتے ہیں، ان کے لیڈر گولی مارنے کی بات کر تے ہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہیں کپڑوں سے پہچانو، منگل سوتر چھین لیں گے۔‘‘ وہ وقف کے قانون میں ترمیم کرکے مسلمانوں کی خیر خواہی کیسے کرسکتے ہیں؟ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے ووٹنگ کا حق چھین لینے مطالبہ کرنے والے مسلمان بھائیوں کے خیر خواہی کا ڈھونگ بھی نہیں کرسکتے۔ان کے مطابق عوام اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے وقف بل لایا گیا ہے۔اس لیے جب بہار میں ان کی حکومت آئے گی تو وہ اسے کسی بھی قیمت پر نافذ نہیں ہونے دیں گے۔آر جے ڈی رہنما کی یہ خود اعتمادی جے ڈی یو اور بی جے پی کے لیے سمِ قاتل سے کم نہیں ہے۔
جے ڈی یو کے اندر نتیش کے ولیعہد للن سنگھ ہیں ۔ انہوں نے وقف ترمیمی بل پر ایوانِ پارلیمان میں مسلمانوں سے کہا ان کی زمین کوئی چھیننے نہیں جا رہا۔ ان کے مطابق یہ بے بنیاد گمراہی پھیلائی جا رہی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے کے لیے یہ شوشا چھوڑا کہ اس بل کا مقصد پسماندہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ للن سنگھ وقف پر این ڈی اے کی اتحادی پارٹیاں کے علاوہ باہر کے پڑھے لکھے اور سمجھدارا راکین پارلیمنٹ سے حمایت کی توقع کی تھی جو پوری نہیں ہوئی کیونکہ متحدہ قومی اتحاد کے بھی پانچ ووٹ کم ہوگئے اور جے ڈی یو میں استعفوں کی سونامی آگئی۔ للن سنگھ کے اس بیان کو سن کر تیجسوی یاد کے اس تبصرے پر یقین بڑھ جاتا ہے کہ موصوف تو بی جے پی میں ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مہاراشٹر کی شیوسینا اور این سی پی کے ایک ایک دھڑوں کی طرح جے ڈی یو اور ایل جے پی کو بھی نگلنے میں بی جے پی کامیاب ہوگئی ہےلیکن بہار کا مسلمان جے ڈی یو کے جھانسے میں تو آسکتا ہے مگر بی جے پی کے چنگل میں نہیں پھنسنے سے رہا ۔ اس لیے جے ڈی یو کا نقصان کرکے بی جے پی نے اپنا خسارہ کرلیا ہے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...