Skip to content
جمعہ نامہ:یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ آپ کے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اورآپ کو یہاں سے نکال باہر کریں‘‘۔ غلبۂ حق کی راہ میں یہ مرحلہ بھی آتا ہے کہ جب مخالفین اسلام عاجز آکر انتہائی اقدام کی سازش کرنے لگتے ہیں۔ نبیٔ کریم ﷺ کے حوالے سے اسے یوں بیان کیا گیا ہے کہ :’’ اور پیغمبرآپ اس وقت کو یاد کریں جب کفار تدبیریں کرتے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا شہر بدر کردیں یا قتل کردیں اور ان کی تدبیروں کے ساتھ خدا بھی اس کے خلاف انتظام کررہا تھا اور وہ بہترین انتظام کرنے والا ہے‘‘۔ اس انتظام کی بابت اول الذکر آیت کے اختتام میں فرمان قرآنی ہے:’’ لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس سنت کے بارے میں فرمایا :’’یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں آپ سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے‘‘۔ یعنی تاریخ انسانی گواہ ہے اور تاقیامت جب بھی تاریکی اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو اس کے بطن سے نورکی روشن کرن نمودار ہوتی ر ہے گی ۔
امت مسلمہ جب سنگین صورتحال سے دوچار ہوتی ہے تو قرآن کریم میں بیان کردہ پہلے والی قوموں کے حالات کا ذکرمہمیز دینے کا کام کرتے ہیں۔ ارشادِ فرقانی ہے:’’ کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟‘‘ آگے دعوتِ دین کے جواب قوم کا ردعمل اس طرح بیان کیا گیا کہ :’’ رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ "جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔ قوم کا یہ سخت رویہ بھی رسولوں کو مایوس کرکے انبیائی مشن کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بن سکا ۔
انبیائے کرام نے اپنے کام جاری رکھتے ہوئےمخاطبین کو جواب دیا : "کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا ر ہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے”۔ اس آیت منکرین کے تئیں ہمدردی و بہی خواہ کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ۔ انہیں مغفرت اور مہلت کی بشارت دی گئی مگرالٹا جواب ملا:’’تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند‘‘۔دعوت اسلامی کے جواب میں منکرین حق پہلے تو داعی پر ذاتی حملہ کرتے ہیں پھر ایک بے بنیاد الزام لگا کر غیر متعلق مطالبات مثلاً سند کا تقاضہ کردیتے ہیں تاکہ داعیٔ حق کو اپنے مشن سےبرگشتہ کرکے ثبوت کی جرح میں اسے الجھا دیا جائے اور اسلام کی حقانیت زیر بحث نہ آئے ۔ عصرِ حاضر میں بھی کبھی تو داعیانِ کرام یا تحریکات اسلامی کے امتیاز کو چیلنج کرکے ان پر بہتان تراشی کی جاتی ہے اور کبھی ان سے وفاداری جیسی بے معنیٰ سند کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
انبیائے کرام باطل کے دام میں گرفتار ہونے کے بجائے خندہ پیشانی سے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:’’واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے‘‘۔ اعتراض کا نہایت موثر جواب دینے کے بعد رجوع الی اللہ کا اظہار اس طرح کیا جاتا ہے کہ :’’ اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے ‘‘۔ توکل علی اللہ کی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ :’’ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے‘‘۔ اہل ایمان کا یہ صبرواستقامت باطل کے قلعہ کو ڈھا دیتا ہے اور منکرین حق اپنی آخری دھمکی اس طرح دیتے ہیں :’’یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے‘‘۔ اس مرحلے میں اللہ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور رسولوں پر یہ وحی کی جاتی ہے کہ:’’ہم اِن ظالموں کو ہلا ک کر دیں گےاور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو‘‘ یہی بشارت اہل ایمان کو حزن و یاس سے محفوظ و مامون رکھتی ہے۔
قرآن حکیم میں یہ خوشخبری جا بجا دوہرائی گئی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:’’اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا پس اے نبیؐ، ذرا کچھ مدّت تک انہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے‘‘۔ اس وعدۂ پر یقینِ کامل اہل ایمان کو دل برداشتہ ہونے نہیں دیتا کیونکہ:’’ اللہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ہی غالب آئیں گے، اللہ قوت اور عزت والا ہے “۔زبور کے حوالے سے فرمانِ ربانی ہے: ’’ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے “۔ اس وراثت کا خود کومستحق بنانے کے لیے قرآن کریم میں موسیٰؑ کی یہ تلقین درج ہےکہ:’’تم اللہ سے مدد طلب کرو، صبر و برداشت کرو، زمین اللہ ہی کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے وارث بنائے انجام کار پرہیزگاروں کا ہی ہے “۔ فرعون کی غرقابی کے بعد ارشادِ حقانی ہے:’’اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا “اس کے برعکس یہ وعید بھی سنائی گئی کہ :’’ جس نے سرکشی اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے “۔غزہ سے لے کر ہندوستان تک ان آیات میں اہل ایمان کے لیے تسکین کا سامان ہے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...
Mashaallah ,nice write up. May Allah bless you.