Skip to content
ممتا بنرجی : لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ہندو عوام کو مسلمانوں سے ڈرا کر اپنے ساتھ رکھنے کی حکمتِ عملی کا بنیادی نعرہ’ ہندو خطرے میں ہے‘ ۔بی جے پی کے اس جعلی بیانیہ کو تقویت پہنچانے کی خاطر ایک ٹھوس واقعہ کی ضرورت تھی تاکہ ہندو عوام کو خوف و دہشت کا شکار کرکے اپنا ہمنوا بنایا جاسکے۔ مرشد آباد کا تشدد اس مسئلہ کاحل بن گیا۔ اب اس کا سب سے زیادہ استعمال مغربی بنگال میں کیا جائے گا مگر اس کے علاوہ بہار اور پھر ملک بھر میں اسے بھنانے کی کوشش کی جائے گی ۔ یہ کام کسی ایسی ریاست میں ممکن نہیں جہاں بی جے پی کی صوبائی حکومت ہو کیونکہ اس سے اس کی مسیحائی پر سوال اٹھتا ہے۔ہندو عوام یہ سوچ سکتے ہیں کہ آخر ہمارا وزیر اعلیٰ ہمیں تحفظ دینے میں کیوں ناکام ہوگیا؟ اور وہ قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ اس لیے ایسے واقعات انہیں ریاستوں میں مفید ہوسکتے ہیں جہاں غیر بی جے پی حکومت ہو تاکہ اپنی ناکامی بھی سامنے نہ آئے اور بی جے پی جیسے محافظ کی ضرورت کا احساس بھی شدید ہوجائے ۔ ایسے میں یہ سوال بھی ہے کہ آخر مغربی بنگال کی صوبائی حکومت نے اس پر قابو پانے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ وہ تو اپنی خفیہ اداروں اور پولیس کے ذریعہ بی جے پی کو اس موقع غنیمت سے محروم کرسکتی تھی مگر ممکن ہے انہیں بھی اس میں اپنا سیاسی فائدہ نظر آگیا ہو ۔ واللہ اعلم ۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کی واحد حریف ٹی ایم سی ہے مگر ممتا بنرجی کو کانگریس اور اشتراکیوں سے بھی خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس قدر طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے سبب عوام میں بیزاری کا پیدا ہونا فطری امر ہے اس لیےجو رائے دہندگان مذکورہ بالا دونوں جماعتوں کو چھوڑ کر ممتا کے ساتھ آئے ہیں ان کے لوٹ جانے کا امکان بہر حال موجود ہے۔ اس لیے ممتا بنرجی ملک بھر میں تو’انڈیا محاذ‘ کی حامی ہیں مگر مغربی بنگال کے اندراسے برداشت کرنے کی روادار نہیں ۔ اس کی سب سے بڑی مثال مرشد آباد کا حلقۂ انتخاب ہے۔ ایوان پارلیمان میں کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری یہیں سے پانچ مرتبہ کامیاب ہوکر جاتے رہے ہیں مگر یہ ایک سیٹ بھی ممتا نے اپنی حلیف جماعت کے لیے نہیں چھوڑی ۔ انہوں نے بڑی چالاکی سے گجرات کے عرفان پٹھان کو ٹکٹ دے کر ٹی ایم سی کی کامیابی کو یقینی کردی۔ وہاں ٹی ایم سی کے۳؍ ارکان اسمبلی پہلےہی موجود ہیں ان پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں یہ فرقہ وارانہ فساد مفید ہوگا کیونکہ اب بی جے پی کے خلاف ممتا مسلمانوں کی واحد محافظ و مسیحا بن کر ابھرآئی ہیں ۔
وقف قانون کے معاملے میں پہلے تو ممتا نے مسلمانوں کے احتجاج کو یہ کہہ کر روکا کہ وہ اسے نافذ نہیں کریں گی اس لیے مغربی بنگال میں اس کے خلاف احتجاج نہ کیا جائے۔ یہ نہایت نامعقول دلیل تھی کیونکہ سی اے اےْ؍ این آر سی کا تنازع بھی مرکزی حکومت کی دین تھا مگر ممتا بنرجی نے نہ صرف حمایت کی تھی بلکہ اس میں شریک بھی ہوئی تھیں ۔ اس لیے اب یہ کہنا کہ وقف کے خلاف مظاہرہ کرنے والے دہلی جائیں ایک احمقانہ مشورہ اور حق تلفی تھی۔ عوام کو اگر اپنے غم و غصے کے اظہار کا موقع دے دیا جائے تو حالات نہیں بگڑتے ورنہ غیر منظم احتجاج ہونے لگتے ہیں۔ مغربی بنگال میں یہی ہوا ریاستی حکومت کی احمقانہ دلیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ کے وہاں سارے مظاہرے بلا اجازت ہوئے حالانکہ اس بابت انتظامیہ نے مظاہرین کے ساتھ نرمی برتی ۔ مرشد آباد کے اندر بھی مسلمانوں نے ۸؍ اپریل کو نہایت پرامن احتجاج کیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا مگر اس کے چار دن بعد فرقہ وارانہ فساد ہوگیا جس کے نتیجے میں مرشدآباد اور اس سے متصل اضلاع مالدہ اور بیربھوم میں بھی انٹرنیٹ سروس معطل کرنی پڑی تاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر فیک جانکاری کو پھیلنے سے روکا جائے ۔
بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل اضلاع مرشدآباد اور مالدہ کے مواضعات میں سیکوریٹی یقینی بنانے کے لیے فی الحال بارڈر سیکوریٹی فورس(بی ایس ایف) کو تعینات کردیا گیا ہے۔ تین لوگوں کی اموات کے علاوہ ضلع مرشدآباد کے تقریباً 500 خاندان ہم سایہ ضلع مالدہ کے ایک اسکول میں واقع عارضی ریلیف کیمپ میں پناہ لیے ہوئے ہیں ۔ مرشدآباد تشدد کے سلسلہ میں گرفتاریوں کی تعداد 200 پار کرچکی ہے۔ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل (لا اینڈ آرڈر)جاوید شمیم کا دعویٰ ہے کہ مرشدآباد اور مالدہ کی حالات اب کم و بیش معمول پر آگئے ہیں دوکانیں و کاروباری ادارے کھلنے لگے ہیں۔ اس دوران ضلع 24 پرگنہ کے مسلم اکثریتی حلقہ اسمبلی بھانگڑ میں پولیس اور آل انڈیا سیکولر فرنٹ کے حامیوں میں جھڑپ ہوگئی۔ اے آئی ایس ایف کے واحدمقامی رکن اسمبلی نوشاد صدیق نے وقف مسئلہ پر کشیدگی پھیلانے کے لئے پولیس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے اساتذہ کے تقررات کی منسوخی سے جو عام بے چینی پھیلی اس سے توجہ ہٹانے کے لئے احتجاج کو بلا وجہ روکا گیا۔
بی جے پی نے ممتا بنرجی پر الزام لگا یا کہ وہ مسلمانوں کی خوشامدی سیاست کے سبب ہندوؤں کے خلاف ہونے والے مظالم سے آنکھیں چرا رہی ہیں۔ اس بیچ بہرام پور سے ٹی ایم سی کے ایم پی، یوسف پٹھان نے ایک انسٹا گرام پر چائے پیتے ہوئے اپنی ایک تصویر پوسٹ کرکے لکھ دیا ’مبارک دوپہر، اچھی چائے اور پرسکون ماحول… اچھے لمحات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘یوسف پٹھان کی اس غیر ضروری تصویر اورتبصرے پر بی جے پی نے بجا طور پر ان کا موازنہ قدیم روم کے بادشاہ نیرو سے کیا، جن کے بارے میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ جب روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجا رہا تھا۔اسی دوران بی جے پی نے ایک پوسٹ کی جس میں مختلف تشدد کی تصاویر کو ہندو تہواروں سے جوڑا گیا تھا مگر ان میں سے بیشتر دیگر ریاستوں کی این آر سی تحریک کے دوران شائع ہونے والے فوٹو تھے۔ زبیر احمد کے اس انکشاف کے بعد بی جے پی آئی ٹی سیل نے شرمندہ ہوکر اسے ہٹاتو لیا مگر اس وقت تک ممتا بنرجی کا افواہ پھیلا کر تشدد کو ہوا دینے کا الزام ثابت ہوچکا تھا۔
یوسف پٹھان تو خیر ناتجربہ کارسیاستداں ہیں مگر ممتا بنرجی کی غیر حساسیت ناقابلِ فہم ہے۔ دوسرے لوگوں کو وہاں جانے سے روکنے کے لیے وہ خود متاثرہ علاقوں میں نہیں گئیں مگر بی جے پی نے اس کا بھی توڑ نکال دیا ۔ اس نے اپنے گورنر کو وہاں جانے کا خفیہ حکم دے دیا اور اب ممتا بنرجی کو انہیں روکنا ناممکن ہوگیا۔ ویسے بھی حالات کے معمول پر آجانے کا دعویٰ اور اس کے بعد کسی آئینی ذمہ دار کو روکنا کو بظاہر متضاد باتیں ہیں ۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے خود نہیں جانے کی پہلی غلطی کی اور اب گورنر سی وی آنند بوس کو روکنے کی دوسری بھول کردی ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر سکانتا مجمدار مرشد آباد کے 19 بے گھر نمائندوں کو لے کر راج بھون پہنچ گئے اور ان کے ذریعہ گورنر کو تشدد زدہ مرشد آباد کی صورتحال کا معائنہ کرنے کے لیے وہاں آنے کی دعوت دلوا دی ۔ یہ سب ہوجانے کے بعد ممتا کو اپنی غلطی کاا حساس ہوا تو انہوں نے گورنرسے مرشد آباد نہ جانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، "امن کی فضا لوٹ آئی ہے۔ اب مقامی لوگوں کے اعتماد میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ اقدامات کر رہی ہے، میں جا سکتی تھی، کیوں نہیں جا سکتی؟ میں وقت پر جاوں گی، اگر میں جاوں گی تو دوسرے کیوں نہیں جا سکتے؟ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔
اس تمہید کے بعد ممتا بنرجی نے گورنر سے گزارش کی کہ کچھ دن انتظار کریں۔ وزیر اعلیٰ کااب اس طرح ہاتھ پیر مارنا ان کے کسی کام نہیں آئے گا ۔ اس کے لیے انہیں دور اندیشی سے کام لینا چاہیے تھا ۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی فی الحال مسلمان رائے دہندگان پر اپنا پورا تسلط قائم کرلینا چاہتی ہیں اور اس میں انہیں کامیابی بھی ملی ہے لیکن اگر بی جے پی ان کی اس حکمتِ عملی کے سبب بیشتر ہندو ووٹرس کو اپنے ساتھ لے جائے تو وہ خسارے میں رہیں گی۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ بی جے پی نے مرشد آباد تشدد کی آڑ میں ہندووں کو مظلوم ثابت کرنے کی کامیاب سعی کردی ممتا بنرجی کو اپنی خفیہ ایجنسی اور پولیس کی مدد سے نہ صرف فساد کو روکنے میں کامیابی حاصل کرنا ضروری تھا بلکہ ان کی سازش کو بھی بے نقاب کیا جاسکتا تھا ۔ ان دونوں محاذ پر وہ ناکام ہوگئیں۔. اگلے الیکشن میں اس کی بڑی قیمت چکانی پڑسکتی ہے ۔ ممتا بنرجی نے اگر اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں کی تو بالاخر ان کا انجام بھی اورند کیجریوال کی طرح ہوسکتا ہے اور ایسے میں ان کے عبرتناک انجام پر مظفر رزمی کا یہ شعر صادق آجائے گا؎
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...