Skip to content
مسلم نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مقصد زندگی کو سمجھیں اور اپنی شناخت کو مٹنے نہ دیں۔حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
حیدرآباد (18؍ اپریل 2025ء ) حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیا ن میں کہا کہ دین اسلام میں نوجوانوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے، جوانی ایک عظیم نعمت ہے، اور یہ مقام اس لئے عطا کیا گیا ہے کیونکہ نوجوان وہ صلاحیت رکھتا ہے جو بزرگ میں نہیں ہوتی ہے۔ جوانی کے قیمتی لمحات انمول ہوتے ہیں، یہ قوت و توانائی میں اس کا کوئی ثانی نہیں ، اس لیے کامیابی کے کسی بھی امیدوار کی یہ ذمہ داری ہے کہ جوانی اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارے اور جوانی کے شب و روز عبادتِ الہی سے بھر پور رکھے،
قربِ الہی کی جستجو میں رہے، ہمہ وقت نفسانی اور شیطانی خواہشات کے مقابلے کیلئے جدو جہد کرے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے قبل غنیمت سمجھو، آپ نے ان پانچ چیزوں میں بڑھاپے سے پہلے جوانی کا بھی ذکر فرمایا۔ نوجوانوں کی بہتری میں امت کی بہتری ہے، لہذا یہ امت اس وقت تک خوشحال ، معزز، کامیاب، اور بہتری کی طرف گامزن نہیں ہو سکتی جب تک اس امت کے نوجوان عہد اول کے جوانوں کی طرح نہ بن جائیں، ان کی دینی وابستگی اعلی ترین، زندگی بھی خوشحال، اور کسی بھی مفید اور نیک کام کیلیے جوش و جذبہ بھی دیدنی ہوتا تھا۔
شیخ سعدی کا مشہور قول ہے ’’درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری‘‘ کہ جوانی میں توبہ کرنا پیغمبروں کا شیوہ اور طریق رہا ہے۔ ہم اگر اپنے زمانے پر نگاہ ڈالیں تو ہر تنظیم، تحریک، جماعت اور فو ج میں نوجوانوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نوجوان خود شناسی سے خدا شناسی کا سفر طے کریں، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور بڑے قومی مقاصد کے لیے اپنے آپ کو دوسروں پر غالب کرنے کی کوشش کریں اور اپنے سماج سے ہر قسم کی برائی کو ختم کرکے ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں جس میں امن سلامتی ، برداشت رواداری اور اخوت، سخاوت اور محبت جیسی خوبیاں موجود ہوں۔
نوجوانوں کے خیالات بلند ہوں، انسان کامل اور مرد مومن بننے کی خواہش ان کے دل کے اندر موجود ہو۔لیکن آج کا نوجوان یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ شریعت نے انسان کو یہ حقیقت سمجھائی ہے کہ اس کا وجود، انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، لہٰذا اس امانت کی حفاظت کرنا، اسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق استعمال کرنا، اس سے وہ کام لینا جس کے لیے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور اسے نقصان وزیاں سے بچانا لازم ہے۔ قیامت کے دن اسی جوانی کے بارے میں خصوصی سوال کیا جائے گا۔
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے(۱)عمر کن کاموں میں گنوائی؟(۲)جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ (۳) مال کہاں سے کمایا؟ (۴) اور کہاں خرچ کیا؟ (۵) جوعلم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟ لیکن آج کے نوجوانوں کو دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے، اپنے معاشرے پر نظر ڈالئیے اور دیکھئیے کہ آج کے مسلم نوجوان کہاں کھڑے ہیں؟ وہ کہاں مصروف ہیں؟ انکے مشاغل کیا ہیں؟ انکے شوق کیا ہیں؟ انکے معمولات کیا ہے؟ نوجوان منشیات، فحاشی، خرافات جیسے کاموں میں اپنی جوانی، اپنا زور لگا رہا ہے اور وہ ان میں ایسا مبتلا ہوا ہے کہ وہ سب کچھ بھول گیا ہے کہ میرا وجود کیا ہے اور میری شناخت کیا ہے۔
لیکن ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ شیطان نوجوانوں کے ساتھ بڑی سخت دشمنی روا رکھتا ہے، اس کے لیے وہ نوجوانوں کو اہل باطل کے قافلے میں شامل کر کے جہنم کے راستے پر ڈالنا چاہتا ہے، لہٰذا مسلم نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ اپنے مقصدِ زندگی کو سمجھیں اور اپنی شناخت کو مٹنے نہ دیں۔ کیونکہ قوم اْس وقت تباہ نہیں ہوتی ہے جب کسی کی موت ہوتی ہے بلکہ قوم اْس وقت تباہ ہوتی ہے جب اِس قوم کا نوجوان اپنی شناخت بھول جاتا ہے۔الغرض نوجوان اپنے آپ پر نظر ڈالے کہ میری ذمّہ داری کیا ہے، اور میں کس حد تک اپنی ذمّہ داری سے انصاف کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...