Skip to content
جہالت کی کالک:
نفرت کے شعلے اور بھارت کا مستقبل
ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(اکولہ،مہاراشٹر)
————–
غازی آباد ریلوے اسٹیشن کی دیوار پر پینٹ سے لکھی گئی چند تحریریں اور جنگِ آزادی 1857 کے ہیرو، مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی تصویر پر پھینکی گئی سیاہی، ایک بظاہر معمولی واقعہ ہونے کے باوجود، درحقیقت بھارت کے موجودہ سماجی منظرنامے اور مستقبل پر منڈلاتے گہرے خدشات کی ایک تشویشناک علامت ہے۔ جب چند ہندو نوجوان، تاریخ سے اپنی شدید ناواقفیت کے باعث،بھارت کی مشترکہ جدوجہد آزادی کی ایک اہم علامت کو، ایک دوسرے مغل حکمران، اورنگزیب عالمگیر سمجھ کر، اپنی نفرت کا نشانہ بناتے ہیں، تو یہ محض شناخت کی سنگین غلطی نہیں، بلکہ اُس گہری تاریخی جہالت، منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی مسلم دشمنی اور اُس نہایت خطرناک، تفرقہ انگیز رجحان کا منہ بولتا ثبوت ہے جو بتدریج معاشرے کی جڑوں میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ دیوار پر ”HRD” کے حروف کندہ کرکے ”ہندو رکشا دل” جیسی بنیاد پرست تنظیم سے اپنی وابستگی کا کھلم کھلا اظہار اس امر کی واضح غمازی کرتا ہے کہ یہ کوئی انفرادی، جذباتی یا لمحاتی فعل نہیں، بلکہ ایک منظم، زہر آلود اور متشدد سوچ کا عملی مظہر ہے۔ اگرچہ پولیس نے رسمی طور پر مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم ملزمان کی تاحال عدم گرفتاری اور قانون کی گرفت سے آزادی، اُس بے خوفی اور قانون سے استثنیٰ کے خطرناک احساس کو مزید تقویت بخشتی ہے جو انتہا پسند عناصر کو دانستہ یا نادانستہ طور پر میسر آ رہا ہے۔ یہ واقعہ بذاتِ خود کوئی منفرد یا اکیلا سانحہ نہیں؛ بلکہ یہ اُس بڑھتے ہوئے خطرناک سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے دیگر تشویشناک مظاہر میں مہاراشٹر کے بیڑ ضلع (گیورائی تعلقہ کے اردھامسلا گاؤں) کی ایک مسجد پر ہندو نوجوانوں کی جانب سے دیسی ساختہ بم سے کیا گیا حملہ اور پھر سوشل میڈیا پر دیدہ دلیری سے اس کی فخریہ نمائش، کرنی سینا جیسی تنظیم کا آگرہ میں نکالا گیا ہتھیار بند جلوس، اور ملک کے مختلف گوشوں میں تسلسل سے مساجد اور درگاہوں کی بے حرمتی کے بڑھتے ہوئے واقعات، اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی، کردار کشی اور غلیظ گالی گلوچ کا نہ تھمنے والا طوفان شامل ہیں۔ یہ تمام واقعات اسی ایک خطرناک سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں جو بھارت کے صدیوں پرانے سماجی تانے بانے کو تار تار کرنے اور اس کی منفرد گنگا-جمنی تہذیب کی اساس کو پارہ پارہ کرنے کے درپے نظر آتا ہے۔
غازی آباد کا واقعہ محض تاریخی ناواقفیت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ نام نہاد ”واٹس ایپ یونیورسٹی” کے ذریعے شب و روز پھیلائے جانے والے جھوٹے، من گھڑت اور زہریلے پروپیگنڈے کا شاخسانہ ہے۔ یہ وہ ڈیجیٹل فضا ہے جہاں حقائق کو بے دردی سے مسخ کیا جاتا ہے، تاریخی شخصیات کو مخصوص ایجنڈے کے تحت ولن کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے، اور نفرت انگیز بیانیے کو سچائی کا لبادہ اوڑھا کر معصوم ذہنوں میں اتارا جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر، جنہوں نے اپنی بساط بھر ہندوؤں اور مسلمانوں کو بیرونی قابض قوت، انگریزوں کے خلاف متحد کرنے کی سعی کی، انہیں اورنگزیب سمجھ لینا، جس کی شخصیت کو بھی ایک خاص زاویے سے متنازعہ اور منفی رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے، اُس وسیع تر منظم مہم کا حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر مسلم کمیونٹی کو اجتماعی طور پر بدنام کرنا اور انہیں قومی دھارے سے الگ تھلگ کرنا ہے۔ اسی طرح، مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں پیش آنے والا واقعہ اس بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی سنگینی اور بے باکی کو مزید واضح کرتا ہے۔ 30 مارچ 2025 کو وجے گوانے اور شری رام ساگدے نامی نوجوانوں نے ایک مقامی مسجد میں دیسی ساختہ بم (IED) سے دھماکہ کیا، جس سے نہ صرف عبادت گاہ کی عمارت کو نقصان پہنچا بلکہ مقامی آبادی، بالخصوص مسلم کمیونٹی میں شدید خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا احساس پھیل گیا۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک اور شرمناک پہلو یہ تھا کہ ایک ملزم نے اس بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی کی ویڈیو بنا کر، پس منظر میں اشتعال انگیز ہندوتوا گانے کے ساتھ، دیدہ دلیری سے فخریہ انداز میں انسٹاگرام جیسے عوامی پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا۔ یہ عمل نہ صرف قانون سے مکمل بے خوفی کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ اپنی مجرمانہ کارروائی کو ایک ‘کارنامے’ اور ‘بہادری’ کے طور پر پیش کرنے کی بیمار اور متشدد ذہنیت کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ اتر پردیش کے پریاگ راج میں واقع سید سالار مسعود غازی کی قدیم اور تاریخی درگاہ پر بھگوا پرچم لہرانے اور مزار کو مسمار کرنے کے اشتعال انگیز نعرے لگانے کا واقعہ بھی اسی نفرت انگیز سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ یہ محض سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں، بلکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو دانستہ طور پر مجروح کرنے، ان کی تاریخی و ثقافتی شناخت کو مٹانے اور انہیں دوسرے درجے کا شہری محسوس کروانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تو جیسے نفرت کے بیوپاریوں کے لیے میدانِ جنگ بن چکے ہیں، جہاں ہندو نوجوانوں کا ایک قابلِ ذکر حصہ، کھلے عام مسلمانوں کے خلاف غلیظ ترین گالیاں بکتا ہے، انہیں ”دہشت گرد”، ”غدار”، ”ملک دشمن” اور نجانے کن کن القابات سے نوازتا ہے، اور اجتماعی سزا و بائیکاٹ کے مطالبات کرتا ہے۔ یہ سب کچھ اکثر و بیشتر ”ہندو رکشا دل” جیسی ہندو انتہا پسند تنظیموں کے اکسانے، ان کے پھیلائے گئے گمراہ کن پروپیگنڈے اور ان کی فراہم کردہ نظریاتی بنیاد کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اس خطرناک اور تباہ کن رجحان کے پس پردہ کئی پیچیدہ اور باہم مربوط عوامل کارفرما ہیں جن میں تاریخی جہالت اور منظم پروپیگنڈا سرفہرست ہے۔ تعلیمی نظام میں مشترکہ تاریخ، ثقافتی ورثے اور رواداری کی اقدار پر خاطر خواہ زور نہ دیا جانا اور ”واٹس ایپ یونیورسٹی” جیسے غیر مصدقہ، جانبدارانہ ذرائع سے حاصل شدہ مسخ شدہ معلومات، نوجوان نسل کے ذہنوں میں تعصب اور غلط فہمیوں کے بیج بوتی ہیں۔ اورنگزیب اور بہادر شاہ ظفر جیسی تاریخی شخصیات کے کردار اور زمانے میں فرق نہ کر پانا اسی علمی پسماندگی اور جہالت کی واضح علامت ہے۔
دوسرا اہم عامل انتہا پسند تنظیموں کا وجود اور انہیں حاصل بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاسی سرپرستی ہے۔ ہندو رکشا دل جیسی تنظیمیں کھلے عام نفرت پھیلاتی ہیں، نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں اور انہیں تشدد پر اکساتی ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر انہیں کسی نہ کسی سطح پر سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، جو انہیں قانون کے لمبے ہاتھوں سے بچاتی ہے اور ان کی مذموم سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
تیسرا بڑا سبب قانون کے نفاذ میں واضح کمزوری اور عدم مساوات کا تاثر ہے۔ جب غازی آباد کے ملزم آزاد گھومتے ہیں یا بیڑمسجد دھماکے کے ملزمان کے گھروں پر بلڈوزر نہیں چلتا (جبکہ مسلمانوں کے خلاف اکثر ایسی کارروائیاں فوری طور پر دیکھنے میں آتی ہیں)، تو اس سے قانون کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور شدت پسند عناصر مزید بے باک اور جری ہوجاتے ہیں۔
چوتھا عنصر معاشی بدحالی اور وسیع پیمانے پر پھیلی بے روزگاری ہے۔ معاشی مسائل، مستقبل کی غیریقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مسابقت نوجوانوں میں شدید مایوسی اور فرسٹریشن پیدا کرتی ہے۔ انتہا پسند گروہ اسی مایوسی اور غصے کا فائدہ اٹھا کر انہیں ایک فرضی ‘دشمن’ (جو اکثر مسلم کمیونٹی کو بنا کر پیش کیا جاتا ہے) دکھاتے ہیں اور ان کی توانائیوں کو مثبت اور تعمیری سمت دینے کے بجائے نفرت اور تشدد کے راستے پر لگاتے ہیں۔
ان منفی رجحانات اور واقعات کے نتائج انتہائی سنگین اور دور رس ہیں۔ سب سے پہلا اور بڑا نقصان سماجی ہم آہنگی کی تباہی ہے۔ یہ واقعات ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں پرانے باہمی اعتماد، محبت اور بھائی چارے کے رشتوں میں گہری دراڑیں ڈال رہے ہیں، خوف اور بدگمانی کی فضا پیدا کر رہے ہیں، جس سے ملک کا سماجی تانا بانا بری طرح بکھر رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد کی آگ بھڑکا سکتی ہے، جس کی ایک جھلک 2020 کے دہلی فسادات میں دیکھی جا چکی ہے۔ دوسرا بڑا خطرہ خود ان ہندو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے ہے جو اس نفرت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ تعصب اور انتہا پسندی انہیں معیاری تعلیم، ہنر مندی کے حصول اور مثبت سماجی و معاشی ترقی کی راہ سے بھٹکا دیتی ہے۔ ان کی قیمتی توانائی تعمیری کاموں میں صرف ہونے کے بجائے تخریبی سرگرمیوں، مقدمہ بازی اور باہمی نفرت کو ہوا دینے میں ضائع ہوتی ہے، جو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ملک کے مجموعی مستقبل کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ تیسرا اہم منفی اثر بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ بھارت کی شناخت دنیا بھر میں ایک عظیم سیکولر، جمہوری اور کثیر الثقافتی ملک کی رہی ہے، جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ ایسے پرتشدد اور متعصبانہ واقعات عالمی سطح پر اس کی اس مثبت شناخت کو شدید ٹھیس پہنچاتے ہیں، جس کے منفی اثرات غیر ملکی سرمایہ کاری، سیاحت، سفارتی تعلقات اور عالمی فورمز پر بھارت کے موقف پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس زہر کا تریاق کرنے اور ملک کو اس خطرناک دلدل سے نکالنے کے لیے ایک جامع، مربوط اور کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تعلیمی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ قومی نصاب میں بھارت کی مشترکہ تاریخ، گنگا-جمنی تہذیب، ثقافتی ورثے اور رواداری کی عظیم اقدار کو نمایاں اور مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔ بہادر شاہ ظفر کی انگریز مخالف جدوجہد میں ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں اور چھترپتی شیواجی مہاراج کی فوج اور انتظامیہ میں دولت خان، ابراہیم خان اور قاضی حیدر جیسے مسلم جرنیلوں اور عہدیداروں کی شمولیت جیسے تاریخی حقائق کو پوری دیانتداری سے اجاگر کیا جائے تاکہ نوجوان نسل اپنی تاریخ کی وسعت، جامعیت اور شمولیت پسندی سے کماحقہ آگاہ ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تنقیدی سوچ، منطقی استدلال اور میڈیا لٹریسی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نوجوان جھوٹے پروپیگنڈے اور سچ میں تمیز کر سکیں۔ دوسرا قدم پروپیگنڈے، بالخصوص ڈیجیٹل نفرت انگیزی کا مؤثر تدارک ہے۔ ”واٹس ایپ یونیورسٹی” اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلنے والے جھوٹے، من گھڑت اور نفرت انگیز مواد کے خلاف سخت ترین قوانین بنائے جائیں اور ان پر بلا تفریق اور سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی ان کے پلیٹ فارمز پر پھیلنے والے مواد کے لیے زیادہ جوابدہ بنایا جائے۔ تیسرا، انتہا پسند اور نفرت پھیلانے والی تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ ہندو شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے، ان کی مالی معاونت کے ذرائع منقطع کیے جائیں، ان پر قانونی طور پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے رہنماؤں اور کارکنان کو، جو تشدد یا نفرت انگیزی میں ملوث ہوں، قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ایسی تنظیموں کی دہشت گردانہ یا انتہا پسندانہ نوعیت کو اجاگر کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ چوتھا اور انتہائی اہم قدم قانون کی بالادستی کا غیر متزلزل قیام ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر، مکمل غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ، بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب، فوری اور مؤثر کارروائی کرنی چاہیے۔بیڑمسجد دھماکہ جیسے سنگین واقعات کے ملزمان کے خلاف تیز ترین ٹرائل مکمل کرکے انہیں قرار واقعی سزا دینے سے قانون کا خوف اور احترام بحال ہوگا۔ قانون کا اطلاق سب کے لیے یکساں نظر آنا چاہیے۔ پانچواں، سیاسی قیادت کا ذمہ دارانہ کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو، اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں، ہر قسم کے نفرت انگیز بیانات، اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ بیان بازی سے مکمل گریز کرنا چاہیے اور عوامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ چھٹا، معاشی محاذ پر نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے معیاری تعلیم، جدید ہنر مندی کی تربیت اور روزگار کے وسیع اور منصفانہ مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے تاکہ وہ معاشی مایوسی اور سماجی محرومی کا شکار ہو کر انتہا پسند عناصر کے آلہ کار نہ بنیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ غازی آباد، بیڑمسجد دھماکہ اور پریاگ راج کے واقعات محض چند گمراہ نوجوانوں کی انفرادی کارستانیاں نہیں، بلکہ ایک گہرے اور وسیع ہوتے ہوئے قومی بحران کی انتباہی گھنٹیاں ہیں۔ تاریخی جہالت، منظم نفرت انگیز پروپیگنڈا، سیاسی مفاد پرستی، قانون کی کمزور عملداری اور معاشی ناہمواری مل کر اس آگ کو مسلسل ہوا دے رہے ہیں۔ اگر اس خطرناک رجحان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بھارت کی سماجی ہم آہنگی، داخلی سلامتی اور بین الاقوامی وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی انتظامی بصیرت اور رواداری اور بہادر شاہ ظفر کی مشترکہ جدوجہد کی عظیم میراث کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ تعلیم کی روشنی پھیلانا، قانون کی حکمرانی قائم کرنا، معاشی انصاف کو یقینی بنانا اور ذمہ دارانہ سیاسی قیادت کا مظاہرہ کرنا ہی وہ مؤثر ہتھیار ہیں جن سے نفرت کے ان گہرے ہوتے اندھیروں کو شکست دے کر ایک متحد، پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ بھارت کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے، وہ بھارت جس کا خواب ہمارے عظیم اسلاف نے دیکھا تھا۔
============
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...