Skip to content
کاماریڈی/بچکندہ، 21 اپریل(پریس نوٹ) خیر النساء ایجوکیشنل سوسائٹی بچکندہ کے زیر اہتمام جامعہ خیر النساء للبنات بچکندہ کا دسواں سالانہ جلسہ نہایت دینی، روحانی اور تعلیمی فضا میں بعنوان "لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری، اور مسلمانوں کے اوقاف کا تحفظ” بعد نماز مغرب جامعہ خیر النساء للبنات کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ اس باوقار جلسے کی صدارت معروف عالم دین الحاج حضرت مولانا عبدالقدیر العمری رئیس جامعہ دارالفلاح مکھیر نے فرمائی۔
اور صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "تعلیمِ مستورات” نہ صرف فرد کی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت اگر تعلیم یافتہ ہو تو پورا گھر سنور جاتا ہے۔ لڑکیوں کی دینی تعلیم نہ صرف ان کی زندگی کو سنوارتی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے ایمان و کردار کی بھی ضامن ہوتی ہے۔ انہوں نے ماں کی گود کو پہلا مدرسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب مائیں عالمہ ہوں گی، تب ہی معاشرہ علم و تقویٰ سے مزین ہوگا۔
جلسہ کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ نظامت کے فرائض جامعہ کے ناظم مولانا عبدالعلیم فاروقی نے انجام دیئے۔ علماء و مشائخ کے زوردار خطابات ہوئے۔ جلسے کے مہمانِ خصوصی نظام آباد سے تشریف لائے حضرت مولانا مفتی سعید اکبر قاسمی نقشبندی (صدر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ) نے نہایت ولولہ انگیز اور بصیرت افروز خطاب کیا۔ انہوں نے نوجوان نسل کی فکری و عملی تربیت اور دینی بیداری پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آج اگر نوجوانوں کی اصلاح ہو جائے تو پورے معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے نوجوان ٹی وی، انٹرنیٹ اور سینما کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی کا شکار ہو رہے ہیں، باطل طاقتیں مسلم معاشرے میں غیر شرعی تعلقات، معاشقے، گرل فرینڈ اور شادی سے پہلے محبت جیسے رجحانات کو فروغ دے رہی ہیں، جن سے نوجوانوں کا کردار بگڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس کے خلاف منظم مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا کہ اجنبی مرد و عورت کے باہمی تعلقات کو حرام قرار دے کر ان کے خلاف دینی شعور اجاگر کیا جائے۔
مزید کہا کہ نوجوان اپنی قیمتی زندگی بے فائدہ دوستیوں، راتوں کے غیر ضروری مشاغل، اور صرف برتری دکھانے کی خاطر نشہ آور اشیاء کے استعمال میں ضائع کر رہے ہیں، جس پر امت کو سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے دینی مدارس کو تہذیب، دین، شریعت اور اخلاقی اقدار کے قلعے قرار دیتے ہوئے ان کے تحفظ کو وقت کی اہم ترین ضرورت بتایا۔ مفتی عبدالمعز شامزی (صدر مجلس تحفظ ختم نبوت مٹ پلی) نے مسلمانوں کے اوقاف کے تحفظ کو وقت کا اہم ترین تقاضا قرار دیا۔
فرمایا کہ اوقافی جائیدادیں امت کی امانتیں ہیں، جن کی حفاظت ہر مسلمان کا دینی و شرعی فریضہ ہے۔ انہوں نے ناجائز قبضوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور قانونی و اجتماعی جدوجہد کی ترغیب دی۔ حافظ محمد فہیم الدین منیری (صدر جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی) نے جامعہ خیر النساء للبنات کی دینی و تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ خواتین کو علم و تقویٰ کی روشنی سے منور کر رہا ہے جو وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر جامعہ خیر النساء للبنات سے فارغ ہونے والی 12 طالبات کو عالمہ کورس اور مؤمن کورس مکمل کرنے پر اسنادِ فضیلت و خِمارِ فضیلت سے سرفراز کیا گیا۔
صدر جلسہ حضرت مولانا عبدالقدیر العمری نے ان طالبات کو دین کی خدمت کے لیے تیار سپاہی قرار دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کیلئے خصوصی دعائیں فرمائیں اور جامعہ کے بانی و منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کیا۔جلسہ میں علاقہ بھر سے علماء کرام، حفاظ، ائمہ مساجد اور عوام کی بڑی تعداد شریک رہی، جن میں مفتی محبوب قاسمی، حافظ جلال، مفتی عمر بن عیسی قاسمی، مفتی جمشید قاسمی، مفتی نوید قاسمی، مفتی فاروق، مولانا غلام، مولانا ہارون، مولانا عمران، مولوی معین اکبر، حافظ عامر بیدر، حافظ محمود، حافظ واجد، شیخ غوث یلاریڈی،
مولانا منظور عالم، الحاج واجد علی، عبدالرزاق کاماریڈی، شیخ انور، شیخ جلال، شیخ شبیر اور دیگر ممتاز حضرات شامل تھے۔ خواتین کے لئے پردہ کا مکمل اور معقول نظم کیا گیا تھا۔ مرد و خواتین کی سینکڑوں کی تعداد میں شرکت نے جلسہ کو عظمت بخشی۔ آخر میں مولانا عبدالعلیم فاروقی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ خیر النساء للبنات بچکندہ خواتین کی دینی و تعلیمی تربیت کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے، جسے آئندہ نسلوں کی فلاح و نجات کا مرکز بنایا جائے گا۔
Like this:
Like Loading...