Skip to content
جبل ثورکی تاریخی وشرعی حیثیت
ازقلم : مفتی محمد ارشاد اشرفی
خادم تدریس: ادارہ کہف الایمان صفدرنگر ۔بورابنڈہ ۔حیدرآباد
مکہ مکرمہ کی دینی عظمت اور تاریخی اہمیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ خالق کائنات نے اس کو اپنے سب سے مقدس گھر خانے کعبہ کے لیے چنا ،چنانچہ اسی مبارک شہر کو سیدنا اسماعیل ؈وہ سیدہ حاجرہ ؉کا مسکن قرار دیا ،بے شمار حضرات انبیاء اولیاء عظام، اور صالحین نے اس بیت اللہ کے لیے اور ساتھ ہی ساتھ وہاں کے تاریخی مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے رخت سفر باندھا، اور مکے کے زائرین ان مقامات مقدسہ میں وقوع پذیر واقعات پر غور و فکر کر کر اپنی روحانیت کو پروان چڑھایا۔
بنیادی مقصد
ان مقامات مقدسہ کی زیارت کا یہ ہے کہ زائرین دوران سفر یہ سمجھ سکے کہ امت مسلمہ کی بقا اور ترقی کے لیے کیسی کیسی قربانیاں اللہ کے رسول ﷺنے اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دی ہے، انہی مقامات مقدسہ میں ایک تاریخی مقام جبل ثور کہلاتا ہے۔
غارثورکاتعارف
غار ثور یہ غار جبل ثور میں مسجد حرام سے چار کلومیٹر جنوبی سمت میں واقع ہے، سطح سمندر سے اس پہاڑ کی بلندی ۷۴۸ میٹر اور سطح زمین سے ۴۵۸ میٹر ہے، یہ غار اس کشتی کے مشابہ ہے جس کا نچلا حصہ اوپر کو کر دیا جائے ، اس غار کی اندرونی بلندی ۱،۲۵ میٹر ہے اور طول و عرض ۳۰۵×۳۰۵ میٹر ہے اس غار کے دو دھانے ہیں ایک مغربی سمت میں ہے جس سے رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے تھے، اس دروازہ سے لیٹ کر ہی اندر جایا جا سکتا تھا، نویں صدی ہجری کے آغاز سے تیرھویں صدی ہجری تک اس دھانے کومرحلہ وار وسیع کیا جاتا رہا، اب اس کی اونچائی نیچے والی سیڑھی کو ملا کر تقریبا ایک میٹر ہے، دوسرا دروازہ مشرقی سمت میں ہے جو مغربی دھانے سے زیادہ کشادہ ہے اور بعد میں بنایا گیا ہے، تاکہ لوگوں کو غار میں داخل ہونے اور نکلنے میں سہولت ہو، ان دونوں دروازوں کا درمیانی فاصلہ ۳۰۵ میٹر ہے ، اس غار تک پڑھنا دشوار ہے عموماً غار تک پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا ہے، غار کا محل وقوع پہاڑ کی چوٹی سے ذرا نیچے ہے۔
(تاریخ مکہ مکرمہ: ص147)
تاریخی حیثیت
ہجرت کا وہ مشہور واقعہ
رسول اکرمﷺ ابو بکر صدیق کے گھر تشریف لے گئے ۔ دونوں نے مکان کی پچھلی کھڑکی سے کود کر رات کے اندھیرے میں پیدل چلنا شروع کر دیا ۔ آپ دونوں تقریباً پانچ میل چل کر ایک ثورنامی غار میں چھپ گئے ۔
یہ وہی غار ہےجس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتا ب قرآن کریم میں کیا ہے:
(ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ )
ترجمہ : دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے۔(سورۃالتوبہ)
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم
اپنی آسان اصول تفسیر اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کی مددکرو اور یا در کھو کہ دین کی مدد کر نا تمہارے ہی لے سعادت اور کامیابی کی بات ہے، ورنہ اللہ اس کے محتاج نہیں ہیں؛ چنانچہ اللہ کی قدرت دیکھو کہ جب محمد رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو یہ قافلہ صرف دو افراد پر مشتمل تھا، محمد رسول اللہ ﷺ
اور ان کے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق ، ان دونوں نے مکہ سے نکل کر ثور نامی پہاڑ کی بلندی پر ایک غار میں پناہ لی، دشمن تلاش کرتے کرتے قریب تک پہنچ گئے، یہاں تک کہ حضرت ابوبکر بے قرار ہو گئے، مگر رسول اللہ ﷺ نے انھیں اطمینان دلایا کہ گھبرا ؤنہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہیں:
” لَا تَحْزَنْ إِنَّ الله معنا
اس ارشاد نے حضرت ابوبکر کو مطمئن کر دیا ، انھیں سکون حاصل ہوگیا اور فرشتوں کی ان دیکھی طاقتوں سے ان حضرات کی حفاظت کی گئی ، اس طرح اللہ نے کفر کی سازشوں کو پامال کردیا اور اللہ تعالیٰ کے دین کو بلند و بالا فرمایا۔
جب اللہ اتنے مشکل حالات میں اپنے نبی کی حفاظت کر سکتے ہیں تو کیا اب ان کی حفاظت نہیں کر سکتے ؟
اس آیت میں (ثانِيَ اثْنَيْنِ”)
(دو میں کے دوسرے ) اور (صاحبہ) “ ( رسول اللہ ﷺ کی ساتھی ) سے مراد حضرت ابو بکر صدیق ہیں ۔(آسان اصول تفسیر:ص580)
حفاظتی تدابیر اور مشرکین کی ناکامی
مشرکین کا ایک دستہ رسول اکرم ﷺ کی تلاش میں غا ر ثور کے منہ کے سامنے پہنچا ،انہیں غار کے منہ پر مکڑی کا جالا نظر آیا ،اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ رسول ﷺ اس غار میں داخل نہیں ہوئے ورنہ مکڑی کا جالا ٹوٹا پھوٹا ہوتا یہ دستہ
وہاں سے چلا گیا ۔
پہلی بات : مکڑی کا جالا تننا:
یہ بات مختلف حضرات نے اپنی سندوں کے ساتھ نقل کی ہے، مثلاً: امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا :
"وأمر الله العنکبوت فنسجت في وجه النبي صلی الله علیه وسلم فسترته”.
(دلائل النبوة: ۲/۳۵۴، ط:دارالحدیث القاهرة)
امام بیہقی رحمہ اللہ کی یہ سند اگرچہ کم زور ہے، لیکن مختلف حضرات نے چوں کہ اسے ذکر کیا ہے اور مسئلہ کا تعلق احکام سے بھی نہیں ہے، لہذا یہ روایت قابلِ قبول ہوگی۔
کچھ دیر کے بعد مشرکوں کا ایک اور دستہ بھی غار ثور تک پہنچ گیا ، انہوں نے غار کے منہ پر پرندے کا ایک گھونسلا دیکھا جس میں پرندے کے انڈے بھی تھے
کبوتر کا انڈے دینا :
یہ بات ہمیں تاحال نہ مل سکی ، البتہ یہ بات ملی ہے کہ دو کبوتر آکر غار کے دہانے کھڑے ہوگئے اور آپ علیہ السلام کو چھپا لیا، امام بیہقی رحمہ اللہ کی روایت ہے:
"وأمر الله حمامتین وحشیتین فوقفتا بفم الغار”
. (دلائل النبوة: ۲/۳۵۴)
تیسری بات: کبوتر کا گھونسلہ بنانا:
اس بات کو بھی کئی حضرات نے نقل کیا ہے، امام مقریزی رحمہ اللہ نے فرمایا :
"وعششت حمامتان علی باب الغار”
. (إمتاع الأسماع :۱/۴۰مطبعة لجنة التالیف والترجمة)
مشرکین ایک دوسرے سے کہنے لگے یقینا وہ اس غار میں نہیں تھے ، ورنہ گھونسلا اور مکڑی کا جالا
ٹوٹے ہوتے۔
چوتھی بات :سانپ کا ڈسنا :
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سانپ کے ڈسنے کا واقعہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے ان الفاظ سے نقل کیا ہے:
"وکان في الغار خرق فیه حیات وأفاعي، فخشي أبوبکر أن یخرج منهنّ شيءٌ یؤذي رسول الله صلی الله علیه وسلم، فألقمه قدمه فجعلن یضربنه ویلسعنه الحیات والأفاعي، وجعلت دموعه تنحدر و رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول له: یا أبابکر لاتحزن إن الله معنا”
. (دلائل النبوة:۲/۳۵۱)
اس کے علاوہ سائل نے یہ بات پوچھی ہےکہ :”یہ انڈے دینے کا واقعہ اچانک ہوگیا تھا یا پہلے سے گھونسلہ بنا رکھا”؟ اس کے بارے میں عرض ہے کہ اس طرح کی مدد ونصرت کا ہونا ظاہر ہے ایک غیبی معاملہ ہے اور اس میں ظاہری اسباب کو نہیں دیکھا جاتا ہے
سوچئے! کہ دشمن رسول اکرم ﷺ سے صرف چند گز دور تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک حقیر مخلوق یعنی مکڑی کے جالے سے رسول اکرم ﷺ کی حفاظت فرمائی ۔ جب دشمن کے دستے غار کے منہ پر کھڑے تھے تو ابو بکر صدیق نے آپﷺ سے عرض کی کہ اگر سپاہی جھک کر دیکھیں تو ہم کو پالیں گے ۔
رسول اکرم ﷺ نے ابو بکر صدیق کو تسلی دی اور فرمایا فکر مت کرو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔
(مکہ مکرمہ کے چند تاریخی واقعات:ص 27)
شرعی حیثیت
اس غار کی زیارت دراصل واقعہ ہجرت کی یاد دلاتی ہے اور مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیوں، اللہ تعالیٰ پر توکل اور نصرتِ الٰہی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہے۔
اس مقام پر جا کر کسی قسم کی بدعت یا غیر شرعی عمل (مثلاً منت مانگنا، نذر چڑھانا، مخصوص انداز میں عبادت کرنا) سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
ہرمسلمان اپنی تاریخی مقامات مقدسہ کا احترام کرے ،اور ان مقامات سے جوڑے واقعات سے عبرت وموعظت لےنے کی کوشش کریں ۔
موجودہ صورۃ حال
سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے سرکاری اداروں نے زائرین کے لیے جبل ثور کلچرل سینٹر قائم کیا ہے ۔
العربیہ نیٹ کے مطابق حج و عمرے یا زیارت کے لیے آنے والے مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران ایسے اہم تاریخی مقامات پر جانے کا پروگرام ضرور بناتے ہیں جن کا تعلق اسلام کے ابتدائی عہد سے ہو۔ ان میں غار ثور کا نام نمایاں ہے
Like this:
Like Loading...