Skip to content
اللہ عز وجل کی داد ودہش اور بندے کی بے رغبتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ازقلم:مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
استاد حدیث وادب، ادارہ کہف الایمان ٹرسٹ، بورہ بنڈہ، حیدرآباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باری تعالی کی عطا ونوازش، داد ودہش کا کوئی حساب وکتاب نہیں، وہ بندے کو بے حساب وعطا دیتے ہیں، ایسی جگہ سے دیتے ہیں، جہاں سے اس کو رزق کے حصول اور ضروریات کی تکمیل کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا، اسی کو امجد حیدرآباد ی نے کہا تھا۔
ہر چیز مسبب سبب سے مانگو
منت سے لجاجت سے ادب سے مانگو
کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھلاتے ہو
گر بندے ہو رب کے تو رب سے مانگو
اس لئے غیر کے سامنے ہاتھ نہ پھیلا ئے، دست سوال دراز نہ کرے، مسبب اسباب سے مانگے، وہی اسباب کو بناتے ہیں، حالات کو درست کرتے ہیں، منت، سماجت اور لجاجت سے مانگے، خوب گڑ گڑائے، اپنی پسماندگی، عاجزی وبیسکی کا اظہار کرے، وہ بے پناہ دیتا ہے، کوئی اپنی ضرورت کا اظہار تو کرے۔ اس نے اپنے خزانہ میں اپنے ہر بندے کے حساب کے بے شمار نعمتیں رکھ رکھی ہیں۔ اس کے بحر بیکراں کی کوئی نہایت نہیں، اس کا دیا سنبھالا نہیں جاسکتا، جب وہ دیتے تو اس قدر دیتے ہیں، بندے کو نہال کردیتے ہیں۔
آیات واحادیث کی روشنی میں
اسی مفہوم کو آیات واحادیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے:﴿ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴾(سورۃ آل عمران، آیت 37)
ترجمہ: "جب کبھی زکریا علیہ السلام ان کے پاس عبادت گاہ میں داخل ہوتے تو ان کے پاس کچھ رزق موجود پاتے۔ وہ کہتے: اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ وہ کہتیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہے، بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔”
جتنا آپ کا اللہ تعالیٰ پر یقین، توکل اور اعتماد ہو گا، اتنا ہی آپ کو رزق ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو رزق عطا فرمایا کیونکہ ان کا ایمان قوی، اللہ پر توکل کامل، اور اعتماد عظیم تھا۔
اسی آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴾(سورۃ آل عمران، آیت 37)ترجمہ: "بے شک اللہ جسے چاہے، بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔”
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
«لَوْ أَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرُزِقْتُمْ كَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ، تَغْدُو خِمَاصًا، وَتَرُوحُ بِطَانًا»(سنن الترمذی، حدیث: 2344، صحیح)
ترجمہ: "اگر تم اللہ پر اسی طرح توکل کرو جیسے اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اسی طرح رزق دے گا جیسے وہ پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔”
بہت سے لوگوں کی مصیبت و پریشانی یہ ہے کہ وہ اسباب پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، اور اللہ پر توکل سے غافل ہو جاتے ہیں۔ اللہ سے مانگتے نہیں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، خُذُوا مَا حَلَّ، وَدَعُوا مَا حَرُمَ»(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2144، صحیح)
ترجمہ: "اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں خوبصورتی اختیار کرو، کیونکہ کوئی جان مرنے والی نہیں جب تک اپنا پورا رزق نہ پا لے، اگرچہ وہ دیر سے ملے۔ پس اللہ سے ڈرو، رزق طلب کرنے میں حسنِ طریقہ اختیار کرو، حلال کو اختیار کرو، اور حرام کو چھوڑ دو۔”
اور جتنا تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو گے اور اس کی اطاعت کرو گے، اتنی ہی برکت تمہارے رزق میں ہو گی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ﴾(سورۃ الأعراف، آیت 96)
ترجمہ: "اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔”
یہ ایک کائناتی سنت ہے، جو کبھی نہیں ٹلتی۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَأَلَّوِ ٱسْتَقَٰمُوا۟ عَلَى ٱلطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَـٰهُم مَّآءً غَدَقًۭا ﴾(سورۃ الجن، آیت 16)
ترجمہ: "اور اگر وہ سیدھی راہ پر قائم رہتے تو ہم انہیں خوب پانی سے سیراب کرتے۔”
اور حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
«لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ»(سنن ابن ماجہ، حدیث: 90، حسن)
ترجمہ: "تقدیر کو صرف دعا ٹال سکتی ہے، اور نیکی ہی عمر میں اضافہ کرتی ہے، اور یقیناً بندہ بعض اوقات گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیاجاتا ہے۔
دو دلچسپ واقعات
یہاں پر دو خوبصورت اور دلچسپ واقعات کا ذکر مناسب ہوگا کہ باری عز وجل کس طرح غیب سے اسباب بنا کر اپنے بے کس و مجبور بندوں کی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں، اس طرح ساری دنیا ہی قدموں ڈال دیتے ہیں، جن کو قریبی زمانے میں نے پڑھا، دل کی کیفیت بدل گئ، اللہ کی عطا و بخشش کی حقیقت بھی واشگاف ہوگئی۔
⚡ایک دیہاتی شخص علم و تجارت کی غرض سے بغداد آیا اور ایک کمرہ کرائے پر لیا، تاکہ اس میں رہائش اختیار کرے۔فجر کی نماز کے بعد کام کے لیے نکلتا، اور ظہر کے بعد علم و معرفت کی مجلسوں میں شرکت کرتا۔وہ نوجوان اپنی مزدوری کو تین حصوں میں تقسیم کرتا:ایک حصہ اپنے والد کے لیے، دوسرا کمرے کے کرائے کے لیے، اور تیسرا اپنی ضروریات کے لیے۔
تین مہینے گزر گئے اور وہ کرایہ ادا نہ کر سکا، تب کمرے کے مالک نے کہا:”تین دن کے اندر کرایہ دو، ورنہ میں تمہیں قید کرا دوں گا، اس لئے کہ میں نے یہ گھر فقیروں کے لیے وقف نہیں کیا۔”
پہلے دن کام کی تلاش میں نکلا، مگر کچھ نہ ملا۔دوسرے دن دیوانِ خراج گیا، وہاں بھی کوئی کام نہ ملا۔یہاں تک کہ تیسرا دن آ گیا، یعنی قید ہونے کا دن۔وہ بوجھل قدموں سے نکل پڑا، یہاں تک کہ بغداد کے کنارے ایک پرانے ٹوٹے پھوٹے گھر تک جا پہنچا۔
سوچنے لگا کہ تھوڑا آرام کر لے، جیسے ہی ہاتھ دروازے پر رکھا، وہ کھل گیا۔اندر ایک بوڑھا شخص بستر پر لیٹا ہوا تھا۔اس نے آواز دی: "بیٹا! سنو، واللہ تمہیں اللہ نے ہی میری طرف بھیجا ہے۔ میں مرنے والا ہوں اور مجھے انگور کھانے کی خواہش ہے۔”
میں نے کہا: "خوشخبری ہو، اللہ کی قسم، آج تم انگور ضرور کھاؤ گے۔”دوڑتا ہوا بازار پہنچا اور ایک انگور فروش سے قیمت پوچھی: "کتنے کا ہے؟”کہا: "ایک درہم کا۔”میں نے کہا: "یہ میرا کپڑا رکھ لو، میں تمہیں بعد میں رقم لا دوں گا۔”
اور انگور لے کر دوڑتا ہوا واپس آیا تاکہ بوڑھے شخص کو زندگی کی آخری خواہش پوری کروا سکوں، حالانکہ مجھے خود بھی اس کی ضرورت تھی۔
اس نے انگور کھائے اور پھر کہا:”بیٹا! اس کمرے کے کونے میں کھدائی کرو، وہاں کچھ ہے۔”میں نے کھدائی شروع کی تو ایک مٹکا نکلا جو سونے اور مال سے بھرا ہوا تھا۔میں نے وہ اسے پیش کیا، لیکن اس نے وہ سارا مال میرے کپڑوں میں ڈال دیا اور کہا:”یہ سب تمہارا ہے، لیکن سنو! اس مال کی ایک کہانی ہے۔
میں اور میرا بھائی بڑے تاجر تھے۔ ہم ہندوستان و سندھ میں ریشم اور اون کی تجارت کرتے۔چوروں اور ڈاکوؤں سے ڈرتے تھے۔ایک دن ہم ایک جگہ اترے، میں نے بھائی سے کہا: یہ جگہ خطرناک لگتی ہے، اپنا مال مجھے دے دو، میں اسے محفوظ جگہ رکھ آتا ہوں۔وہ مان گیا۔رات کو ڈاکو آئے، بہت سوں کو قتل کیا، باقیوں کو لوٹ لیا۔صبح سورج کی گرمی سے آنکھ کھلی، بھائی کو تلاش کیا مگر وہ نہ زندہ ملا، نہ مردہ۔بغداد آ گیا، یہ گھر بنایا اور بھائی کا مال یہاں چھپا دیا۔یہ مال پچھلے بیس سال سے یہاں رکھا ہے۔اگر میں مر جاؤں تو یہ تمہارے لیے حلال ہے۔”پھر اس نے کلمہ پڑھا اور وفات پا گیا۔میں نے اسے دفن کروایا اور واپس آ کر مٹکے سے مال لے لیا۔پہلے میں ایک محتاج و مفلس تھا، اب بغداد کے امیر لوگوں میں شامل ہو گیا، یقیناً جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اللہ انہیں بے حساب رزق عطا کرتے ہیں۔
من يتق الله يجعل له مخرجا ورزقه من حيث لا يحتسب۔
⚡اس حوالے سے ایک اور واقعہ ذکر کرتا چلوں کہ عرب ممالک میں ایک مالدار شخص تھا، رات میں بے کل وبے چین ہوگیا، اس کی نیند اڑ گئی، اسی بے چینی وبے قراری کی حالت میں وہ گھر سے باہر ٹہلنے کے لیے نکل گیا، راستے پر ٹہلنے ہوئے جارہا تھا کہ مسجد پر نظر پڑی، سوچا دو رکعت نماز ادا کر لیتا ہوں، مسجد میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں گریہ وزاری، آہ وبکا کے ساتھ مصروف دعا ہے، اس شخص کو اس کے اس بیچارگی وبے بسی کے اظہار، اللہ سے طلب اور تڑپ کو دیکھ کر بڑا رحم آیا، اس کے دعا سے فراغت کا انتظار کرتا رہا، پھر اس کے قریب جا کر اس کے احوال معلوم کئے، اس کے تضرع وگریہ وزاری کے حوالے سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ میرے قرض داروں نے مجھے بہت تنگ کیا ہے، مجھ سے ادائیگی نہیں ہو پارہی، دریافت کرنے پر بتلایا کہ چار ہزار سعودی ریال قرض ہے، اس مالدار شخص نے یہ رقم اس کو اپنے پاس سے نکال کر دی اور اس سے کہا کہ جب بھی کوئی ضرورت درپیش ہو یہ میری پرچی میرے پاس لے کر آجاؤ، میں ساری ضروریات کی تکمیل کردوں گا، اس غریب نے اس کو پہلے تو دعائیں دی، پھر اس سے مزید کچھ لینے سے معذرت کرتے ہوئے کہا مزید کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو اسی طرح رب کی بارگاہ میں آجاؤں گا، وہ ساری ضرورت پوری کر دے گا۔
دیکھئے جو اللہ عز وجل پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے حادثات اور ضروریات کو ایسی جگہوں سے پوری فرمادیتے ہیں، جہاں سے اس کو اپنی ضروریات کی تکمیل کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔
Like this:
Like Loading...