Skip to content
گرمائی چھٹیاں اور بچوں کی دینی تربیت
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے اولاد ایک عظیم نعمت ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس نعمت سے سرفرا ز فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی حکمت ومصلحت سے محروم کردیتا ہے، اولاد اپنے والدین کے لئے ایک طرف دل کا سرور اورآنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے تو دوسری طرف بڑھاپے کا سہارا اور خاندان کی برقراری اور بقا کا ذریعہ ہوتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کے پاس امانت کی حیثیت رکھتی ہے ،امانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی صحیح تعلیم وتربیت کی جائے اور بالغ وبا شعور ہونے سے قبل ان کی نقل وحرکت پر نظر رکھتے ہوئے اور ان کے اخلاق وکردار سنوارنے کی کوشش کی جائے کیونکہ بچپن بچوں کی تربیت اور ان کے اخلاق وکردار بنانے اور سنوارنے کا سنہری موقع ہوتا ہے ،بچپن میں بچے بے شعور ہونے کی وجہ سے کاموں کے انجام دینے میں والدین اور اپنے بڑوں کے تابع ہوتے ہیں نیز کم عمری میں بچوں کے اندر سننے اور ماننے کا جذبہ ہوتا ہے ، چھوٹی عمر میں بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں اور اپنے بڑوں کے نقل وحرکت کی نقل اُتار تے ہیں اور ان کے عادتوں کو اپنا کر خوش ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے سب سے بڑے ہیرو ہوتے ہیں ، بچپن میں بچے اپنے والدین ہی کی نقل کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں والدین ہی کی عظمت ووقعت ہوتی ہے پھر جب گھر سے باہر نکلتے ہیں اور اسکول کا رخ کرتے ہیں جس کے بعد ان سے متاثر ہوکر ان کی باتوں کو اور ان کے اخلاق وکردار اپنانے لگتے ہیں ،رسول اللہؐ نے جن چیزوں کو صدقہ جاریہ سے تعبیر کیا ہے ان میں سے ایک نیک اور صالح اولاد بھی ہے جو والدین کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان کے لئے ذخیرہ آخرت اور ذریعہ نجات ہوتی ہے ، اسلام نے والدین کے کندھوں پر ان کی اولاد کے نان نفقہ کے ساتھ تعلیم وتربیت کی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے ، اولاد کی دینی تعلیم وتربیت اور ان کے ایمان کی فکر انہیں دنیا وآخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے وہیں بے توجہی دنیا میں تکلیف اور آخرت میں مجرم بنادیتی ہے ۔
اسلام نے ہر اس شخص پر جسے اپنے ماتحتوں کا ذمہ دار اور محافظ بنایا گیا چاہے وہ آقا ہو یا حاکم ، سردار ہو یا افسر ، سربراہ مملکت ہو یا بادشاہ وقت،سرپرست ِ خانہ ہو یا گھر کا کفیل یا پھر ماں باپ ہوں یا اساتذہ! ہر ایک پر اپنے اپنے ماتحتوں کی خبر گیری و خیر خواہی اور انکی دینی واخلاقی تربیت کی ذمہ داری عائد کی ہے اور آگاہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ لاپرواہی وبے توجہی ، ظلم وناانصافی اوران کی دینی واخلاقی تعلیم وتربیت سے بے فکری وبے زار گی پر روز محشر خدا کے حضور ان کی سخت باز پرس ہوگی، رسول اللہ ؐکا ارشاد گرامی ہے ’’کلکم راعِ وکلکم مسئول عن رعیتہ فالامام راعٍ وھو مسؤل عن رعیتہ والرجل راعٍ وھو مسئول عن اھلہ والمرأۃ راعیۃ علی بیت زوجھا وھی مسئولۃ عنھا والعبد راعٍ علی مالِ سیدہِ وھو مسئول عنہ الا کلکم راعٍ وکلکم مسئوول عن رعیتہ(ابوداؤد:۵۲۷۴ ) ‘‘آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم میںکا ہر شخص نگران ومحافظ ہے اور تم میں ہر ایک سے ان لوگوں کی بابت پوچھا جائے گا جو تمہاری نگرانی وسرپرستی میں ہیں ،امیر بھی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھ تاچھ ہو گی ،اور شوہر بھی اپنی بیوی اور بچوں کا نگران ہے اور اس سے اپنے اہل وعیال کے بارے میں سوال ہوگا ، (اسی طرح ) بیوی (بھی) نگران ہے اپنے شوہر کے گھر کی ،اس سے پوچھا جائے گا،اور (غلام )خادم اپنے مالک کے مال کا محافظ ہے اور اس سے بھی باز پرس ہوگی،یاد رکھو! پس ہر ایک نگران ہے اور اس سے اس کی زیر نگرانی لوگوں کے متعلق پوچھا جائے گا، اس حدیث کے ذریعہ رسول اللہؐ نے نہایت وضاحت اور بے حد تاکید کے ساتھ بتایا کہ نگران اور سرپرست کی ذمہ داری صرف کھلا نے ، پلانے ،عمدہ لباس پہنانے اور اچھے مکان میں رکھنے کی حد تک محدود نہیں بلکہ اس کے دین وایمان اور اخلاق وکردار کی ذمہ داری بھی اسی کے ذمہ ہے اس میں کوتاہی ولاپرواہی بد ترین خیانت اور ایک سنگین جرمِ ہے جس کے سبب قیامت میں سخت پکڑ کی جائے گی۔ اللھم احفظنا منہ
ایک دوسری حدیث میں رسول اللہؐ ؐ نے بڑی صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا : لا یسترعی اللہ تبارک وتعالیٰ عبداً رعیۃ قلت اوکثرت الا سألہ اللہ تبارک وتعالیٰ عنھا یوم القیامۃ اقامہ اقام فیھا امراللہ تبارک وتعالیٰ ام اضاعہ حتی یسئالہ عن اھل بیتہ خاصۃ(مسند احمد) اللہ تعالیٰ دنیا میں جب کسی شخص کو لوگوں پر اقتدار عطا کرتا ہے ،خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ، تو قیامت کے دن ضرور اس سے ان کے بارے میں پوچھے گاکہ اپنے ماتحتوں پر خدا کا دین جاری کیا یا پھر خدا کے دین کو ان پر جاری کرنے میں بے پرواہی برتی،یہاں تک کہ آدمی سے اپنے اہل خانہ (بیوی ،بچے اور دوسرے زیر کفالت لوگوں) کے بارے میں بھی پوچھ گجھ ہوگی،اس حدیث میں آپؐ نے بڑے مشفقانہ و مربیانہ انداز اور نہایت آسان پیرائے میں امت کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے ماتحتوں کے بارے میں غفلت وکوتاہی کا شکار نہ ہوں،اپنی ذات کی طرح ان کی شخصیت کو دیندار بنانے کی فکر کرتے رہیں ، ان کی بے دینی اور شریعت سے دوری اور احکامات ربانی وفرمودات نبویؐ سے بُعد ان کے ساتھ تمہیں بھی سزا کا مستحق نہ بنادے ،عموماً دیکھا گیا کہ صدر خانہ اور ماں باپ تو نماز ،روزہ اور سنتوں کے پابند ہوتے ہیں مگر اپنے ماتحتوں اور اپنی اولاد کو دیندار بنانے کی طرف توجہ نہیں دیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تو دینی احکام پر عمل پیرا ہوتے ہیں لیکن ان کے گھر بے دینی کی عملی تصویر پیش کرنے لگتے ہیں ،پھر دھیرے دھیرے بے دینی کا ماحول آئندہ نسل کے لئے اسلام اور تہذیب ِ اسلام سے دوری کا سبب بن جاتا ہے ،قیامت کے دن ایسے دیندار شخص کی دینداری ناقص ثابت ہوگی اور خدا کے یہاں یہ بھی مجرم بن کر کھڑا ہوگا۔
اولاد کے ساتھ اپنے دیگر ماتحتوں کی تعلیم وتربیت کے متعلق رسول اللہؐ کے ارشادات وفرمودات اور دیگر انبیاء ؑ کے طریقہ ٔ تعلیم و تربیت کا ذکر قرآن وحدیث اور سیرت کی بہت سی کتابوں میں بڑے اچھوتے انداز میں کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح اپنی اولاد کی جسمانی فکر سے بڑھ کر روحانی واخلاقی فکر فرمایا کرتے تھے ، سیدنا ابراہیم ؑ واسحاق ؑ نے اپنے اپنے بچوں کو دین مستقیم پر گامزن رہنے کی جس انداز میں وصیت فرمائی تھی قرآن نے اُسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے :ووصی بھا ابرٰھیم بنیہ ویعقوب یبنی ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن الا وانتم مسلمون(البقرہ ۱۳۲) سیدناابراھیم وسیدنا یعقوبؑ نے اپنے بچوں کو وصیت کی کہ اے ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ا س دین ِ اسلام کو پسند فرمالیاہے لہذا تم اسلام ہی کی حالت میں مرنا،اسی طرح حضرت یعقوبؑ نے اپنے انتقال کے وقت بطور خاص اپنی سب اولاد کو جمع فرماکر ان الفاظ میں وصیت فرمائی کہ : اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیہ ماتعبدون من بعدی قالوا نعبد الٰھک والٰہ اٰبآئک ابراھیم واسمٰعیل واسحق الھا وحدا ونحن لہ مسلمون(البقرہ ۱۳۳) جب سیدنا یعقوب ؑ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنی اولاد سے فرمایا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے؟ تو سب نے جواب دیا کہ (ہم آپ کے بعد بھی) آپ کے معبود اور آپ کے آباواجداد سیدنا ابراہیم ؑ اور سیدنا اسماعیلؑ اور سیدنا اسحاق ؑ کے معبود ہی کی عبادت کریں گے جو ایک ہے اور ہم ہمیشہ اسی کے فرمانبر دار رہیں گے۔
مفسر قرآن ،محدث جلیل اور فقیہ عصر مفتی محمد شفیع ؒ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ’’ انبیاء ؑ کے اس طرز عمل سے ایک اصولی بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ والدین کا فرض اور اولاد کا حق ہے کہ سب سے پہلے ان کی صَلاح وفلاح کی فکر کی جائے اس کے بعد دوسروں کی طرف تو جہ کی جائے ( معارف القرآن ج ۱ ؍۳۴۰)‘‘ جس طرح جسم میں روح کی اہمیت ہے اسی طرح انسانی زندگی میں دین وایمان ، اسلامی تہذیب و کردار اور اسوۂ حسنہ نبی رحمتؐ ؐکی اہمیت ہے ،جس طرح روح کے بغیر جسم بے کار ہے اسی طرح دین وایمان کے بغیر زندگی بے رونق بلکہ بے حیثیت ہے ، عالم اسلام کی عبقری شخصیت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اپنے خطبات میں فرماتے ہیں کہ آج کے دور میں والدین کو اپنے اولاد کے کیریر بنا نے اور ان کے مستقبل سنوار نے کی فکر تو ہے مگر انہیں دیندار بنانے کی طرف کوئی توجہ نہیں ،چنانچہ ایک شخص کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے بچے کی دنیوی کامیابی کو عظیم اور اس کی بے دینی کو معمولی خامی ونقصان سے تعبیر کر رہے تھے حالانکہ ان کا یہ سو چنا ایسا ہی ہے جیسے ایک مریض کو کسی ڈاکٹر کے پاس لیجایا گیا ، مریض کے معائنہ کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ جسم تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہے بس صرف جان نکل گئی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انسان کے جسم سے جان نکل جائے تو وہ مردہ کہلاتا ہے اسی طرح آدمی کی زندگی سے دین وشریعت نکل جائے تو وہ بھی دینی اعتبار سے مردہ انسان ہی کی طرح ہوتا ہے ۔
والدین پر جہاں اپنی اولاد کی ظاہری اور جسمانی راحت وآرام کی فکر کرنا ضروری ہے وہیں انکی دینی ،روحانی اور اخلاقی حالت کی فکر کرتے رہنا بھی اس سے زیادہ ضروری ہے بلکہ جسمانی فکر پر روحانی فکر کو ترجیح دینا زیادہ اہم ہے کیونکہ جسمانی فکر سے دنیا بنتی ہے اور ر دینی و رو حانی فکر سے آخرت سنور تی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اُ خروی زندگی کے مقابلہ میں دنیوی زندگی کی قدر وقیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، قرآن میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے وَالْآخِرَۃُ خَیْْرٌ وَّأَبْقٰی (سورہ اعلیٰ) دنیا کے مقابلہ میں اُخروی زندگی خیر ہی خیر اور دوام ہی دوام ہے،رسول اللہ ؐ نے بہت سے مواقع پر والدین کو اپنی اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے ، آپ ؐ نے اولاد کی عمدہ تربیت اور انہیں اچھے اخلاق وکردار سے سنوار نے کو بہترین تحفہ قرار دیا : مانحل والد ولدا من نحل افضل من ادب حسن(ترمذی) کسی والد نے اپنی اولاد کو کوئی تحفہ حسن ادب اور اچھی تعلیم وتربیت سے بہتر نہیں دیا۔
سیدنا انس ؓ کی روایت ہے جس میں آپ ؐ نے والدین سے فرمایا کہ:اکرموا اولادکم واحسنوا اٰدابھم(ابن ماجہ) اپنی اولاد کا اکرام کرو اور انہیں حسن ادب سے آراستہ کرو ، ایک جگہ آپ ؐ نے اولاد کی تربیت کو صدقہ وخیرات سے بھی افضل قرار دیا ہے :لان یؤدب الرجل ولدہ خیر من ان یتصدق بصاع (ترمذی)آدمی کااپنی اولاد کو ادب سکھانا ایک صاع ( تین کیلو) غلہ خیرات کرنے سے بہتر ہے۔
اولاد کی دنیوی زندگی کی خاطر والدین کا ان کے آخرت کی فکر سے غافل ہوجانا اولاد کے ساتھ ساتھ والدین کے لئے بھی آخرت میں بڑے خسارے اور نقصان کا سبب ہوگا،قرآن کریم میں نہایت خیر خواہانہ انداز میں والدین کو بتایا گیا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کے دین وایمان اور ان کے آخرت کی بھی فکر کریں اور انہیں جہنم کا ایندھن بننے سے بچائیں ارشاد ربانی ہے : یا یھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا وقو دھا الناس والحجارۃ( التحریم ۶)اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔اس آیت کے نازل ہونے پر سیدنا عمر فاروق ؓ نے دربار ِ رسالت مآب ؐ میں حاضر خد مت ہو کر عرض کیا کہ’’ یارسول اللہ ؐ! اپنے کو جہنم سے بچانے کی فکر تو سمجھ میں آگئی (کہ ہم گناہوں سے بچیں اور احکام الہیہ کی پابندی کریں) مگر اہل وعیال کو ہم کس طرح جہنم کی آگ سے بچائیں ؟ رسول اللہ ؐنے ارشاد فرمایا: اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جن کاموں سے منع کیا ہے ان کاموں سے ُان سب کو منع کرو اور جن کاموں کے کرنے کا تم کو حکم دیا ہے تم ان کے کرنے کا اہل وعیال کو بھی حکم کرو تو تمہارا یہ عمل ان کو جہنم کی آگ سے بچا سکے گا( روح المعانی)۔
اس وقت عصری مدارس کو سالانہ گرما ئی تعطیلات ہیں ،تقریبا دو مہینے تعطیلات کا سلسلہ رہتا ہے،گرمائی تعطیلات مسلمان بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کا بہترین موقع ہے ،اس لئے مساجد ،مدارس اور مکاتب میں گرمائی خصوصی کلاسس کا نظم کیا جاتا ہے ، عصری مدارس میں ایک بڑی تعداد مسلمان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے ، سب جانتے ہیں کہ اسکولوں ، کالجوں کا بنیاد ی مقصد ہی عصری تعلیم کو فروغ دینا ہے اس لئے اکثر وبیشتر عصری مدارس میں صرف اور صرف عصری تعلیم ہی دی جاتی ہے اور جن اداروں میں دینی تعلیم کا نظم ہے تو وہ بھی برائے نام ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عصری مدارس کے بے شمار مسلمان بچے اور بچیاںبنیادی دینی واخلاقی تعلیم وتربیت سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں ،ضرورت ہے کہ عصری درسگاہوں میںپڑھنے والے بچے اور بچیوں کو ضروری دینی واخلاقی تعلیم وتربیت سے بھی آراستہ کیا جائے اس کے لئے کم ازکم انہیں گرمائی کلاسس سے استفادہ کا موقع دیا جائے ، والدین کو اس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے،اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد دین وایمان پر قائم رہے، حسنِ اخلاق کے زیور سے آراستہ ہو ،معاشرہ میں اپنا اور اپنے خاندان کا نام روشن کرے ،ملک کے اچھے اورسچے شہری بن کر زندگی گذارے اور دنیا میں والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے ، ان کے لئے دنیا میںصدقہ ٔ جاریہ اور آخرت میں فلاح و نجات کا ذریعہ بنے تو پھر چاہیے کہ والدین اپنی اولاد کو دینی تعلیم اور اسلامی تہذیب سے آراستہ وپیراستہ کریں،رسول اللہؐ نے نیک صالح اولاد کو والدین کے لئے صدقہ ٔ جاریہ فرمایا ہے ’’ اوولدٍ صالحٍ ید عو لہ‘‘(مسلم) یعنی اولاد صالح جب تک نیک کام کرتی رہے گی ان کے ساتھ ان کے والدین کو بھی برابر اس کا ثواب ملتا رہے گا۔ ان دنوں ریاست کے بعض حصوں میں تو عصری و انگریزی اسکولس وکالجس کے طلبہ وطالبات کی گرمائی تعطیلات شروع ہوچکی ہیں اور بقیہ حصوں میں بھی بہت جلد شروع ہونے والی ہیں ، تعطیلات میں طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد اپنے سرپرستوں کے ساتھ تعطیلات گذار نے اور تفریحی مقات کی سیر کرنے کے لئے جاتی ہے ،اگر چہ ذہنی وقلبی آرام کیلئے یہ بھی ضروری ہے مگر اس سے بھی اہم اگر کوئی چیز ہے تو وہ ان کی دینی تعلیم وتربیت ہے کیونکہ ایک مسلمان کے لئے سب سے اہم ترین شے اس کا دین وایمان ہے اسی میں اسکی دنیوی کامیابی اور اُخروی نجات پوشیدہ ہے،ضرورت ہے کہ ان تعطیلات کو کام میں لاتے ہوئے نونہالوں کو اجتماعی وانفرادی طور پر ضروری دینی تعلیم جیسے بنیادی اسلامی عقائد ، قرآن مجید با تجوید پڑھنے کی مشق ،نمازوں میں پڑھنے کے لئے منتخب سورتوں کا حفظ، عبادات جیسے نماز ِ پنجگانہ ادا کرنے کا صحیح طریقہ، اخلاقیات کے ذکر پر مبنی احادیث کا حفظ ، سیرت نبوی ،سیرت خلفائے راشدین اور ا ہم اسلامی تاریخ سے واقفیت ، اسلامی آداب اور روز مرہ پڑھی جانے والی مسنون دعاؤںکا ذہن نشین کر وانا وغیرہ وغیرہ تو ان شاء اللہ اس کے اچھے اثرات ان کی آنے والی زند گی پر مرتب ہوں گے اور آگے چل کر ہماری نئی نسل اپنی دینی واسلامی شناخت کو باقی رکھ سکے گی اور مسلم معاشرہ میں اس کے بہتر نتائج بر آمد ہوں گے۔
Post Views: 22
Like this:
Like Loading...