Skip to content
سوشل میڈیا، سیاست اور منافرت:
بھارت میں میٹا کے ہاتھوں مسلم مخالف بیانیے کا پھیلاؤ
(قسط دوم )
ازقلم : ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
گزشتہ سے پیوستہ …
نفرت انگیز مواد سے متعلق پالیسیوں کا امتیازی نفاذ:
شاید فیس بک کے خلاف بھارت میں سب سے زیادہ تشویشناک الزامات، اس کی نفرت انگیز مواد سے نمٹنے کی پالیسیوں کے امتیازی نفاذ سے متعلق ہیں، بالخصوص جب معاملہ حکمران جماعت بی جے پی سے وابستہ سیاستدانوں اور شخصیات کے مواد کا ہو۔ وال اسٹریٹ جرنل، ٹائم، اور الجزیرہ سمیت متعدد مؤقر میڈیا اداروں کی تحقیقات نے ایسے متعدد واقعات کو قلمبند کیا ہے جہاں فیس بک، بی جے پی سے وابستہ اکاؤنٹس کے اشتعال انگیز مواد پر اپنی ہی وضع کردہ پالیسیوں کے اطلاق میں ناکام رہا۔ اگست 2020ء میں وال اسٹریٹ جرنل کی تہلکہ خیز رپورٹ نے یہ انکشاف کیا کہ بھارت میں فیس بک کی اعلیٰ ترین پبلک پالیسی ایگزیکٹو، آنکھی داس نے، کم از کم چار ایسے افراد اور گروہوں پر نفرت انگیز مواد سے متعلق قوانین لاگو کرنے کی مخالفت کی تھی جو بی جے پی سے منسلک تھے، باوجود اس کے کہ انہیں داخلی سطح پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں نشان زد کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، داس نے اپنے عملے کو باور کرایا کہ بی جے پی کے سیاستدانوں کی جانب سے خلاف ورزیوں پر کارروائی کرنے سے بھارت میں کمپنی کے کاروباری مفادات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس انکشاف نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا اور فیس بک کی اپنی پالیسیوں کے نفاذ میں غیر جانبداری پر سنگین سوالیہ نشان لگا دیے۔ اس کی ایک نہایت واضح مثال تلنگانہ سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی، ٹی راجہ سنگھ کا معاملہ ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والے مواد، بشمول روہنگیا مسلم تارکینِ وطن کو گولی مارنے کی دھمکی، مساجد مسمار کرنے کا عزم، اور مسلمانوں کو غدار قرار دینے جیسے بیانات، بارہا پوسٹ کرنے کے باوجود، ان کا اکاؤنٹ اس وقت تک فعال رہا جب تک وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد عوامی دباؤ نے کمپنی کو کارروائی پر مجبور نہ کر دیا۔ تب بھی، فیس بک نے سنگھ پر پابندی عائد کرنے سے قبل انہیں "خطرناک فرد” قرار دیا، ایک ایسی درجہ بندی جسے اختیار کرنے سے کمپنی پہلے ہچکچاتی رہی تھی۔ اسی طرح کے رویے دیگر بی جے پی سے وابستہ اکاؤنٹس کے ساتھ بھی دیکھنے میں آئے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد کا مطالبہ کرنے والا، مسلم مخالف سازشی نظریات پھیلانے والا، یا مذہبی اقلیتوں کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کرنے والا مواد اکثر، فیس بک کی بیان کردہ پالیسیوں کی صریح خلاف ورزی کے باوجود، آن لائن موجود رہتا تھا۔ اس کے برعکس، حکومت پر تنقید کرنے والے حزبِ اختلاف کے سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کے مواد کو زیادہ کڑی جانچ پڑتال اور نسبتاً تیزی سے حذف کیے جانے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
داخلی دستاویزات اور راز افشا کرنے والوں کے انکشافات:
بھارت میں نفرت انگیز مواد سے نمٹنے میں فیس بک کی ناکامی کا سب سے زیادہ ناقابلِ تردید ثبوت، سابق ملازمین فرانسس ہوگن اور سوفی ڑانگ کی جانب سے افشا کی گئی داخلی دستاویزات سے حاصل ہوا۔ ان دستاویزات، جنہیں مجموعی طور پر "فیس بک پیپرز” کا نام دیا گیا، نے اس امر پر سے پردہ اٹھایا کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے میں اپنے کردار سے کس حد تک باخبر تھی، اور اس کے باوجود مؤثر اقدامات اٹھانے میں کس طرح ناکام رہی۔ 2019ء میں کیے گئے ایک داخلی تحقیقی منصوبے کے تحت بھارت میں ایک نیا آزمائشی اکاؤنٹ (test account) بنایا گیا، جو صرف فیس بک کے الگورتھم کی تجویز کردہ پیجز اور گروپس کو فالو کرتا تھا۔ محض تین ہفتوں کے اندر، اس آزمائشی صارف کی نیوز فیڈ "پولرائزنگ قوم پرست مواد، گمراہ کن معلومات، اور تشدد و خونریزی پر مبنی مواد کی تقریباً مستقل بوچھاڑ” میں تبدیل ہو گئی، جس میں وسیع پیمانے پر مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات بھی شامل تھے۔ تحقیق کار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ "گزشتہ تین ہفتوں میں، میں نے اتنی لاشوں کی تصاویر دیکھی ہیں جتنی اپنی پوری زندگی میں مجموعی طور پر نہیں دیکھی تھیں۔” 2020ء کی ایک اور داخلی رپورٹ میں برملا اعتراف کیا گیا کہ "سیاسی حساسیتیں” فیس بک کو بعض اکاؤنٹس، بالخصوص حکمران جماعت سے منسلک اکاؤنٹس، کے خلاف کارروائی کرنے سے باز رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ "بھارت کی حکمران جماعت کو ناراض کرنے کا خوف” پالیسیوں کے "منتخب اطلاق” کا باعث بنا، جس سے یہ تاثر قوی ہوا کہ فیس بک نفرت انگیز مواد کے فروغ میں "شریکِ جرم” ہے۔ فرانسس ہوگن نے امریکی کانگریس کے سامنے اپنی گواہی اور بعد ازاں دیے گئے انٹرویوز میں، بھارت میں فیس بک کی کوتاہیوں کو خاص طور پر نمایاں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیس بک اس حقیقت سے آگاہ تھا کہ اس کے الگورتھم "خوف و ہراس پھیلانے والے، مسلم مخالف بیانیوں” کو فروغ دے رہے ہیں، لیکن اس نے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل فراہم کرنے سے گریز کیا۔ ہوگن نے اس نکتے پر زور دیا کہ فیس بک کے صارف کی دلچسپی (engagement) پر مبنی درجہ بندی کے نظام نے فطرتاً تفرقہ انگیز مواد کو تقویت بخشی، جس کے بھارت جیسے پہلے سے مذہبی کشیدگی کے شکار معاشروں میں بالخصوص سنگین نتائج برآمد ہوئے۔
میٹا کا انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کا مکمل جائزہ جاری کرنے سے گریز:
بھارت میں نفرت انگیز مواد پھیلانے میں اپنے کردار پر بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کے پیشِ نظر، فیس بک نے 2019ء میں انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کا ایک جامع جائزہ (Human Rights Impact Assessment – HRIA) مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس جائزے کا مقصد بھارت میں انسانی حقوق پر کمپنی کے اثرات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنا تھا، جس میں نفرت انگیز مواد اور تشدد پر اکسانے والے بیانات کے پھیلاؤ میں اس کے کردار کا جائزہ بھی شامل تھا۔ تاہم، جب میٹا نے بالآخر 2022ء میں اپنی پہلی انسانی حقوق کی رپورٹ شائع کی، تو اس میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کے بجائے بھارت سے متعلق جائزے کے محض چند مختصر اقتباسات شامل کیے گئے۔ ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی اور نشاندہی کی کہ میٹا کا "بھارت HRIA سے متعلق مزید کچھ بھی شائع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،” جو "شفافیت اور احتساب کی پاسداری کے اپنے ہی عزم سے صریح انحراف” کے مترادف ہے۔ جاری کردہ محدود معلومات میں، نقصان دہ مواد کو بڑھاوا دینے میں میٹا کے اپنے کردار کا جائزہ لینے کے بجائے، ذمہ داری تیسرے فریق اور صارفین پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ اس رپورٹ میں نہ تو میٹا کو دی گئی سفارشات کا ذکر تھا، نہ ہی اس کے مواد کی نگرانی کے طریقوں کا تجزیہ شامل تھا، اور نہ ہی ان نتائج کی روشنی میں پالیسیوں یا طریقوں میں تبدیلی لانے کے کسی عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت 20 سے زائد حقوق کی تنظیموں نے میٹا کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا جس میں بھارت سے متعلق مکمل جائزہ رپورٹ جاری کرنے پر زور دیا گیا، اور یہ دلیل دی گئی کہ ایسا کرنے سے انکار اقوامِ متحدہ کے کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق رہنما اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ شفافیت کے اس فقدان نے بھارتی سول سوسائٹی کے ساتھ اعتماد کی خلیج کو مزید وسیع کیا اور اس تاثر کو تقویت بخشی کہ میٹا کے انسانی حقوق کے جائزے محض تنقید کا رخ موڑنے کے لیے ہیں، نہ کہ پلیٹ فارم کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے۔
3. بھارت میں مسلم کمیونٹی پر مرتب ہونے والے اثرات
فیس بک پر مسلم مخالف مواد کے پھیلاؤ کے مخصوص واقعات:
بھارت میں فیس بک پر مسلم مخالف مواد کے بے تحاشا پھیلاؤ نے مسلم کمیونٹی کے لیے ٹھوس اور اکثر تباہ کن نتائج پیدا کیے ہیں۔ 2014ء سے 2025ء کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ کس طرح آن لائن نفرت انگیز بیانات نے حقیقی دنیا میں تشدد اور امتیازی سلوک کی آگ کو بھڑکایا۔ یہ پلیٹ فارم اسلاموفوبیا پر مبنی بیانیوں، بے بنیاد سازشی نظریات، اور تشدد پر اکسانے والی اپیلوں کی افزائش گاہ بن گیا، جس نے براہِ راست مسلمانوں کی جان و مال اور روزگار کو متاثر کیا۔ اس کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک 2020ء کے اوائل میں سامنے آئی، جب دہلی فسادات سے قبل فیس بک پر مسلم مخالف مواد جنگل کی آگ کی طرح پھیلا۔ فروری 2020ء میں، بھارت کا دارالحکومت دہلی کئی دہائیوں کے بدترین فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں آیا، جس کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس تشدد سے چند ہفتے قبل، فیس بک ایسی پوسٹوں سے اٹا پڑا تھا جن میں مسلمانوں کو پرتشدد سازشی عناصر کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ بی جے پی کے سیاست دان کپل مشرا کی وہ اشتعال انگیز تقریر، جس میں انہوں نے پولیس کو شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو منتشر نہ کرنے کی صورت میں "معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے” کی دھمکی دی تھی، فیس بک پر براہِ راست نشر ہوئی اور وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی، حالانکہ یہ تشدد پر اکسانے سے متعلق پلیٹ فارم کی پالیسیوں کی صریح خلاف ورزی تھی۔ بعد ازاں فیس بک کی داخلی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا کہ کمپنی تشدد کے امکانات سے بخوبی آگاہ تھی لیکن مناسب تدارک کرنے میں ناکام رہی۔ ایک داخلی رپورٹ میں فسادات سے قبل کے ہفتوں میں پلیٹ فارم پر "مسلم مخالف بیان بازی میں نمایاں اضافہ” کا اعتراف کیا گیا، تاہم اس میں سے بیشتر مواد ملازمین کے بقول "سیاسی مصلحتوں” اور ہندی و اردو مواد کے لیے ناکافی نگرانی کے وسائل کی بنا پر آن لائن موجود رہا۔ ایک اور قابلِ ذکر واقعہ 2020ء میں COVID-19 وبا کے ابتدائی ایام میں ایک مسلم تبلیغی تنظیم، تبلیغی جماعت کو، ہدف بنایا جانا تھا۔ جماعت کے کچھ اراکین کے وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد، فیس بک پر گمراہ کن معلومات کا ایک سیلاب امڈ آیا جس میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ مسلمان دانستہ طور پر وائرس کو "کرونا جہاد” کی شکل میں پھیلا رہے ہیں۔ ان من گھڑت بیانیوں کو تصدیق شدہ اکاؤنٹس، بشمول بی جے پی کے سیاستدانوں اور حکومت نواز میڈیا اداروں کے اکاؤنٹس، نے خوب ہوا دی۔ #CoronaJihad کا ہیش ٹیگ سوشل میڈیا پر چھایا رہا، اور ملک بھر میں مسلمانوں کو ان بے بنیاد الزامات کی پاداش میں جسمانی حملوں، معاشی مقاطعہ (بائیکاٹ)، اور طبی امداد سے انکار جیسے سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
دہلی فسادات (فروری 2020) میں کردار:
فروری 2020ء کے دہلی فسادات شاید اس تلخ حقیقت کی سب سے بھیانک مثال ہیں کہ کس طرح فیس بک کی نفرت انگیز مواد کو لگام دینے میں ناکامی نے مسلمانوں کے خلاف حقیقی دنیا میں تشدد کی راہ ہموار کی۔ یہ فسادات شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف جاری مظاہروں کے پس منظر میں رونما ہوئے، جس پر بڑے پیمانے پر یہ تنقید کی جا رہی تھی کہ یہ قانون پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم تارکینِ وطن کو تو شہریت کی راہ فراہم کرتا ہے، لیکن مسلمانوں کو اس سے محروم رکھ کر ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔ تشدد کے آغاز سے چند روز قبل، فیس بک پر ایسی پوسٹوں کی بھرمار ہو گئی جن میں CAA مخالف مظاہروں کو ملک دشمن سرگرمی قرار دیا جا رہا تھا اور مسلم مظاہرین کو پرتشدد انتہا پسند کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ مبینہ طور پر مسلم مظاہرین کے تشدد کو ظاہر کرنے والی ویڈیوز وسیع پیمانے پر پھیلائی گئیں، جن میں سے بیشتر بعد ازاں یا تو غیر متعلقہ واقعات کی ثابت ہوئیں یا پھر واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے لیے دانستہ طور پر ترمیم شدہ پائی گئیں۔ اسی دوران، مسلم اکثریتی علاقوں اور کاروباری مراکز کے خلاف "کارروائی” کے مطالبات بھی پلیٹ فارم پر زور و شور سے گونجنے لگے۔ اس ضمن میں سب سے متنازعہ واقعہ بی جے پی کے سیاستدان کپل مشرا کا تھا، جنہوں نے ایک اعلیٰ پولیس افسر کی موجودگی میں پولیس کو CAA مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کا الٹی میٹم دیا۔ یہ تقریر، جسے بعد میں متعدد تجزیہ کاروں نے فسادات کے فوری محرک کے طور پر شناخت کیا، فیس بک پر براہِ راست نشر ہوئی اور شمال مشرقی دہلی میں تشدد پھوٹ پڑنے کے باوجود قابلِ رسائی رہی۔ عین فسادات کے دوران، فیس بک اور واٹس ایپ مسلم گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کا ذریعہ بن گئے۔ مسلمانوں کی جانب سے ہندو علاقوں پر حملوں کی جھوٹی خبریں لمحہ بہ لمحہ پھیلائی گئیں، جس نے انتقامی کارروائیوں کی آگ کو مزید بھڑکایا۔ مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے ہندوؤں پر حملوں کے اعلانات کی بے بنیاد افواہیں پھیلائی گئیں، اور مسلمانوں کے تشدد کی من گھڑت ویڈیوز وسیع پیمانے پر گردش کرتی رہیں۔ فسادات کے بعد بھی فیس بک پر مسلم مخالف مواد کا سلسلہ تھما نہیں، بلکہ کئی پوسٹوں میں تشدد کا جشن منایا گیا اور مسلم آبادیوں کے خلاف مزید کارروائیوں کا مطالبہ کیا گیا۔ صارفین اور سول سوسائٹی تنظیموں کی جانب سے لاتعداد شکایات کے باوجود، اس قسم کا بیشتر مواد طویل عرصے تک آن لائن موجود رہا، یا اگر ہٹایا بھی گیا تو بہت تاخیر سے۔ بعد ازاں دہلی اقلیتی کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ فیس بک اس نازک مرحلے پر "نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہا۔” کمیشن کی رپورٹ میں خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا کہ "مسلمانوں کو ہدف بنانے والے نفرت انگیز مواد کو، دیگر گروہوں کو نشانہ بنانے والے اسی نوعیت کے مواد کے مقابلے میں، کہیں زیادہ طویل عرصے تک پلیٹ فارم پر رہنے دیا گیا،” جو مواد کی نگرانی کے عمل میں واضح امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسلاموفوبک بیانیوں اور گمراہ کن معلومات کی تشہیر:
تشدد کے مخصوص واقعات سے قطع نظر، فیس بک کے الگورتھم نے بھارت میں اسلاموفوبیا پر مبنی بیانیوں اور گمراہ کن معلومات کو پھیلانے اور انہیں تقویت بخشنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ پلیٹ فارم کا صارف کی دلچسپی (engagement) کی بنیاد پر مواد کی درجہ بندی کرنے والا نظام، جو ایسے مواد کو ترجیح دیتا ہے جو صارفین کے مابین زیادہ تعامل (لائکس، شیئرز، تبصرے) پیدا کرے، اکثر و بیشتر مسلمانوں سے متعلق سنسنی خیز اور تفرقہ انگیز مواد کو غیر ارادی طور پر فروغ دینے کا باعث بنا ہے۔ فیس بک پر جڑ پکڑنے والے چند عام اسلاموفوبک بیانیے یہ تھے:
• "لو جہاد” کے سازشی نظریات: یہ بے بنیاد الزامات کہ مسلم نوجوان ایک منظم سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھانس کر انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ تحقیقات میں بارہا جھوٹا ثابت ہونے کے باوجود، یہ نظریات فیس بک پر نہایت وسیع پیمانے پر پھیلے، اور اکثر ان کے ساتھ ہندو خواتین کو مسلم مردوں سے "محفوظ رکھنے” کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا۔
• "آبادی جہاد” کے دعوے: یہ گمراہ کن پروپیگنڈا کہ مسلمان دانستہ طور پر زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں بھارت میں ہندوؤں پر عددی برتری حاصل کر لیں۔ ان آبادیاتی سازشی نظریات میں اکثر توڑ مروڑ کر پیش کیے گئے اعداد و شمار کا سہارا لیا جاتا اور حقیقی آبادیاتی رجحانات کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔
• مسلمانوں کو فطری طور پر متشدد بنا کر پیش کرنا: ایسا مواد جو مسلمانوں کو پیدائشی طور پر تشدد پسند، دہشت گردی کی طرف مائل، اور بھارت سے غیر وفادار ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ حقیقی اور من گھڑت، تاریخی واقعات کو اس طرح پیش کیا جاتا کہ گویا مسلمان ہندو بھارت کے وجود کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔
• معاشی مقاطعہ (بائیکاٹ) کی مہمیں: مسلم ملکیت والے کاروباروں کے بائیکاٹ کی اپیلیں، جو اکثر کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ یا دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے جھوٹے الزامات پر مبنی ہوتی تھیں۔ ان مہموں نے بھارت بھر میں مسلمانوں کے معاشی ذرائع پر حقیقی اور تباہ کن اثرات مرتب کیے۔
• تذلیل آمیز زبان اور تصاویر: مسلمانوں کو جانوروں، کیڑے مکوڑوں، یا بیماریوں سے تشبیہ دینے والا مواد، اور ایسی غیر انسانی زبان کا استعمال جو تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر میں اقلیتی گروہوں کے خلاف تشدد سے قبل ہمیشہ استعمال ہوتی رہی ہے۔
فیس بک کے الگورتھم نہ صرف اس قسم کے بیشتر مواد کی نشاندہی کرنے اور اسے ہٹانے میں ناکام رہے، بلکہ اس مواد سے پیدا ہونے والی شدید صارف دلچسپی (high engagement) کی وجہ سے اسے فعال طور پر فروغ بھی دیتے رہے۔ داخلی دستاویزات سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ کمپنی کی اپنی تحقیق کے مطابق "انتہا پسند گروہوں میں ہونے والی تمام شمولیتوں میں سے 64 فیصد ہمارے تجویز کردہ ٹولز (recommendation tools) کی وجہ سے ہوتی ہیں،” جن میں "Groups You Should Join” اور "Discover” جیسے فیچرز خاص طور پر مسئلہ کا باعث پائے گئے۔ اس مسئلے کو اکاؤنٹس اور پیجز کے ان منظم نیٹ ورکس نے مزید گھمبیر بنا دیا جو مکمل طور پر مسلم مخالف مواد پھیلانے کے لیے وقف تھے۔ یہ نیٹ ورکس اکثر نشاندہی سے بچنے کے لیے نہایت چالاکی سے کام لیتے تھے، مثلاً خودکار فلٹرز سے بچنے کے لیے تصاویر یا متن میں معمولی تبدیلیاں کر دینا، جبکہ نفرت انگیز پیغام جوں کا توں برقرار رہتا تھا۔ بار بار رپورٹ کیے جانے کے باوجود، ایسے کئی نیٹ ورکس برسوں تک فعال رہے اور لاکھوں کی تعداد میں فالوورز جمع کرنے میں کامیاب رہے۔(جاری ….)
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...