Skip to content
سوشل میڈیا، سیاست اور منافرت:
بھارت میں میٹا کے ہاتھوں مسلم مخالف بیانیے کا پھیلاؤ
(قسط سوم )
ازقلم : ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
————–
گزشتہ سے پیوستہ ….
مسلم طبقے کے لیے آن لائن نفرت انگیز بیانات کے حقیقی دنیا میں نتائج:
بھارت میں مسلم طبقے پر فیس بک کے ذریعے پھیلائی گئی نفرت انگیز بیان بازی کے اثرات نہایت گہرے اور کثیر الجہتی ثابت ہوئے ہیں۔ دہلی فسادات جیسے واقعات میں رونما ہونے والے فوری جسمانی تشدد سے ہٹ کر، آن لائن سطح پر اسلاموفوبیا پر مبنی گفتگو کے معمول بن جانے کے نتیجے میں مسلمانوں کو بڑھتی ہوئی سماجی پسماندگی، امتیازی سلوک، اور شدید نفسیاتی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاشی سطح پر مرتب ہونے والے نتائج خاص طور پر تباہ کن رہے۔ مسلم کاروباروں کے بائیکاٹ کی مہمیں، جو اکثر فیس بک پر منظم اور تشہیر کی جاتی تھیں، نے کئی علاقوں میں مسلمانوں کے ذرائع معاش کو تہس نہس کر دیا۔ مسلم خوانچہ فروشوں، چھوٹے کاروباری مالکان، حتیٰ کہ بڑے تجارتی اداروں نے بھی ایسی مہموں کے باعث ہونے والے بھاری نقصانات کی شکایات کیں۔ بعض علاقوں میں تو مسلمانوں کو مؤثر طور پر مخصوص معاشی شعبوں سے مکمل طور پر بے دخل ہی کر دیا گیا۔ رہائشی مکانات کے حصول میں بھی امتیازی سلوک میں شدت آئی، اور مکان مالکان کی جانب سے مسلمانوں کو کرایہ دار رکھنے سے انکار کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ مکانات کی تلاش کے لیے بنائے گئے فیس بک گروپس میں اکثر و بیشتر واضح طور پر "مسلمانوں کے لیے نہیں” جیسی شرائط درج ہوتی ہیں، حالانکہ یہ بھارتی قوانین کے تحت سراسر غیر قانونی ہے۔ رپورٹ کیے جانے پر بھی، اس قسم کا امتیازی مواد اکثر آن لائن موجود رہتا، جس سے اس رویے کو مزید معمول بنانے میں مدد ملی۔ مسلم طبقے پر مرتب ہونے والے نفسیاتی اثرات بھی نہایت شدید رہے۔ 2020ء سے 2025ء کے دوران بھارتی دماغی صحت کی تنظیموں کی جانب سے کی گئی تحقیقات نے مسلمانوں میں، بالخصوص ان افراد میں جو براہِ راست آن لائن نفرت انگیز مہموں کا نشانہ بنے تھے، بے چینی (anxiety)، افسردگی (depression)، اور مابعد صدمہ ذہنی دباؤ (Post-Traumatic Stress Disorder – PTSD) کی شرح میں نمایاں اضافہ قلمبند کیا۔ بہت سے افراد نے عوامی مقامات پر اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے میں عدم تحفظ محسوس کرنے کی اطلاع دی اور بتایا کہ وہ ممکنہ منفی توجہ سے بچنے کے لیے اپنے رویے کی مسلسل نگرانی پر مجبور ہیں۔ مسلم خواتین کے لیے، مذہبی اور صنفی بنیادوں پر ہونے والی ہراسانی کا امتزاج خاص طور پر شدید خطرات کا باعث بنا۔ "سلی ڈیلز” اور "بلی بائی” جیسی ایپلی کیشنز، جنہوں نے مسلم خواتین کی سوشل میڈیا پروفائلز سے چرائی گئی تصاویر استعمال کرتے ہوئے انہیں آن لائن "نیلام” کیا، اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ کس طرح آن لائن ہراسانی خاص طور پر مسلم خواتین کو ہدف بنا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ مذموم مہمیں دیگر پلیٹ فارمز پر شروع ہوئیں، انہیں اکثر فیس بک پر فروغ دیا گیا اور ان پر بحث کی گئی، اور کمپنی کی جانب سے کارروائی سے قبل ان ایپس کے لنکس اور "نیلامی” کے اسکرین شاٹس وسیع پیمانے پر شیئر ہوتے رہے۔ مسلمانوں کی سیاسی عمل میں شرکت اور اظہارِ رائے کی آزادی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ آن لائن سیاسی رائے کا اظہار کرنے والے مسلمان، بالخصوص حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے، اکثر منظم ہراسانی مہموں کا شکار بنے۔ کئی افراد نے محض معتدل سیاسی بیانات کے جواب میں بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں اور تشدد کی کالیں موصول ہونے کی اطلاع دی۔ اس خوف و ہراس کے ماحول (chilling effect) نے آن لائن سیاسی مکالمے میں مسلم آوازوں کو دبانے کا کام کیا، جس سے یہ طبقہ مزید تنہائی اور پسماندگی کا شکار ہوا۔
4. سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اور مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافے کے مابین تعلق کے شماریاتی شواہد:
2014ء سے 2025ء کے دوران انجام دی گئی تحقیقات نے فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلم مخالف مواد میں اضافے اور مسلم آبادیوں کے خلاف حقیقی دنیا میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں اضافے کے مابین واضح اور ناقابلِ تردید تعلق کو ثابت کیا ہے۔ سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز (CSDS) کی جانب سے 2023ء میں کی گئی ایک جامع تحقیق میں بھارت بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کے 287 واقعات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان میں سے 79 فیصد واقعات سے قبل متعلقہ علاقوں میں سوشل میڈیا پر مسلم مخالف مواد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اس تحقیق نے ان طریقوں کی بھی نشاندہی کی جن کے ذریعے آن لائن نفرت انگیز مواد عملی طور پر جسمانی تشدد میں تبدیل ہوا:
• افواہوں کی تشہیر: معمولی مقامی جھگڑوں یا مکمل طور پر من گھڑت واقعات کو فیس بک پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا، اکثر انہیں فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلمانوں کو جارح بنا کر دکھایا جاتا، جو بالآخر "انتقامی” تشدد کا باعث بنتا۔
• حملوں کی منصوبہ بندی و رابطہ کاری: متعدد مواقع پر، فیس بک گروپس اور ایونٹس کو مسلم اکثریتی علاقوں، کاروباری مراکز، یا مذہبی اجتماعات پر حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد کے لیے استعمال کیا گیا۔
• تشددکے بعد جواز تراشی: پرتشدد واقعات کے بعد، فیس بک مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کا جواز پیش کرنے اور ان کا جشن منانے کا پلیٹ فارم بن جاتا، جس سے تشدد کو معمول بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کے امکانات کو بڑھانے کا ایک خطرناک چکر قائم ہوا۔
اعداد و شمار نے بالخصوص ان ریاستوں میں نہایت مضبوط تعلق کو ظاہر کیا جہاں انتخابات قریب تھے، جو تشدد کے واقعات میں سیاسی محرکات کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 2017ء سے 2024ء کے دوران ہونے والے ریاستی انتخابات سے قبل کے چھ ماہ میں، محققین نے انتخابی ریاستوں میں فیس بک پر مسلم مخالف مواد میں اوسطاً 117 فیصد اضافہ قلمبند کیا، جبکہ اسی عرصے میں غیر انتخابی ریاستوں میں یہ اضافہ محض 34 فیصد تھا۔ انٹرنیٹ ڈیموکریسی پروجیکٹ کے ایک علیحدہ تجزیے میں 2014ء سے 2022ء کے درمیان مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے ذریعے تشدد کے 412 واقعات کا جائزہ لیا گیا، اور یہ پایا گیا کہ 86 فیصد معاملات میں، متاثرین پر گائے کے ذبیحہ، جبری تبدیلی? مذہب، یا "لو جہاد” جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے ،یہ تمام وہ بیانیے تھے جنہیں فیس بک پر شد و مد سے فروغ دیا گیا تھا۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فیس بک کے تجویز کردہ الگورتھم نے ان علاقوں میں، جہاں تشدد کے واقعات رونما ہوئے، ان بیانیوں کو نمایاں طور پر پھیلانے میں کردار ادا کیا۔ شاید سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ بھارت کے قومی کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق، اگرچہ سرکاری طور پر درج ہونے والے فرقہ وارانہ واقعات کی تعداد اس عرصے میں کم ہوئی (جسے کئی تجزیہ کار تشدد میں حقیقی کمی کے بجائے رپورٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلیوں سے منسوب کرتے ہیں)، تاہم واقعات کی شدت میں اضافہ ہوا، اور فی واقعہ اوسط ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی۔ یہ رجحان ان تحقیقات سے مطابقت رکھتا ہے جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا کس طرح زیادہ شدت پسندانہ بیانیوں کو پھیلا کر اور بڑے گروہوں کو تیزی سے متحرک کرنے میں سہولت فراہم کر کے فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔
5.فیس بک کا مودی حکومت اور بی جے پی کے ساتھ تعلق:
بی جے پی سے وابستہ اکاؤنٹس کے ساتھ ترجیحی سلوک کے شواہد:
بھارت میں فیس بک کے خلاف عائد کردہ سنگین ترین الزامات میں سے ایک، حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ اکاؤنٹس کے ساتھ اس کا بظاہر روا رکھا جانے والا ترجیحی سلوک ہے۔ متعدد میڈیا اداروں کی تحقیقات اور اندرونی راز افشا کرنے والوں کی جانب سے فراہم کردہ داخلی دستاویزات، بی جے پی سے منسلک ان اکاؤنٹس کے ساتھ نرمی برتنے کے ایک مستقل رویے کی نشاندہی کرتی ہیں جنہوں نے پلیٹ فارم کی نفرت انگیز مواد سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کی، بالخصوص مسلم مخالف مواد کے حوالے سے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی اگست 2020ء کی تہلکہ خیز رپورٹ نے اس ترجیحی سلوک کا سب سے ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت فراہم کیا۔ اس تحقیقاتی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا کہ بھارت میں فیس بک کی اعلیٰ ترین پبلک پالیسی ایگزیکٹو، آنکھی داس نے، کم از کم چار ایسے افراد اور گروہوں پر نفرت انگیز مواد سے متعلق قوانین کے اطلاق کو روکنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کی تھی جو بی جے پی سے منسلک تھے، باوجود اس کے کہ انہیں داخلی سطح پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کے لیے نشان زد کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، داس نے اپنے عملے کو یہ باور کرایا تھا کہ بی جے پی کے سیاستدانوں کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیوں پر تادیبی کارروائی کرنے سے بھارت میں کمپنی کے کاروباری امکانات شدید متاثر ہوں گے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی، ٹی راجہ سنگھ، اس دوہرے معیار کی سب سے نمایاں اور شرمناک مثال بن کر سامنے آئے۔ مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والے بیانات، بشمول روہنگیا مسلم تارکینِ وطن کو گولی مارنے کا مطالبہ، مساجد مسمار کرنے کی دھمکیاں، اور مسلمانوں کو غدار قرار دینے جیسے مواد کو بارہا پوسٹ کرنے کے باوجود، ان کا اکاؤنٹ اس وقت تک بے روک ٹوک فعال رہا جب تک وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹنگ کے بعد شدید عوامی دباؤ نے فیس بک کو بالآخر کارروائی پر مجبور نہ کر دیا۔ تب بھی، کمپنی نے سنگھ پر پابندی عائد کرنے سے قبل انہیں "خطرناک فرد” قرار دینے کی رسمی کارروائی کی، ایک ایسی درجہ بندی جسے اختیار کرنے سے وہ پالیسیوں کی کھلی خلاف ورزیوں کے باوجود پہلے پہلو تہی کرتی رہی تھی۔ اسی طرح کے طرزِ عمل دیگر بی جے پی سے وابستہ اکاؤنٹس کے حوالے سے بھی مشاہدے میں آئے۔ کپل مشرا، وہ بی جے پی سیاستدان جن کی اشتعال انگیز تقریر فروری 2020ء کے دہلی فسادات کا پیش خیمہ بنی، کو ایسے مواد پر کسی فوری کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو واضح طور پر تشدد پر اکسانے سے متعلق فیس بک کی پالیسیوں سے متصادم تھا۔ اس کے برعکس، حکومت پر تنقید کرنے والے حزبِ اختلاف کے سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کے مواد کو زیادہ سخت جانچ پڑتال اور نسبتاً تیزی سے ہٹائے جانے کا سامنا رہا۔ داخلی دستاویزات سے یہ بھی عیاں ہوا کہ فیس بک نے ایک "کراس چیک” یا "ایکس چیک” (XCheck) نامی نظام قائم کر رکھا تھا جو مؤثر طور پر اعلیٰ سطحی شخصیات، بشمول بی جے پی کے سیاستدانوں، کے اکاؤنٹس کو معمول کے مواد کی نگرانی کے عمل سے استثنیٰ فراہم کرتا تھا۔ اس نظام کے تحت، ان اکاؤنٹس سے پوسٹ کیا جانے والا مواد اگر خلاف ورزیوں کی بنا پر نشان زد بھی ہوتا تھا، تو وہ مزید جائزے کے لیے زیادہ سینئر ملازمین کو بھیج دیا جاتا تھا، جس کا نتیجہ اکثر یہ نکلتا کہ پالیسی کی واضح خلاف ورزیوں کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تھی۔
بھارت میں فیس بک کے اعلیٰ عہدیداران کا کردار (جانبداری کے الزامات):
بھارت میں فیس بک کی قیادت، بالخصوص سابق پبلک پالیسی ڈائریکٹر آنکھی داس، کا کردار بی جے پی کے حق میں مبینہ جانبداری کے الزامات کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ داس، جنہوں نے 2011ء سے لے کر اکتوبر 2020ء میں وال اسٹریٹ جرنل کے انکشافات کے بعد اپنے استعفے تک اس کلیدی عہدے پر خدمات انجام دیں، کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انہوں نے بی جے پی سے وابستہ اکاؤنٹس کو مواد کی نگرانی کی زد سے بچانے کے لیے ذاتی حیثیت میں مداخلت کی۔ صحافیوں کے ہاتھ لگنے والے فیس بک کے داخلی پیغامات نے داس کے واضح سیاسی رجحانات کو بے نقاب کیا۔ مودی کی 2014ء کی انتخابی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے ایک پوسٹ میں، انہوں نے تحریر کیا: "ہم نے ان کی سوشل میڈیا مہم کو مہمیز بخشی اور باقی سب تاریخ کا حصہ ہے۔” انہوں نے "Unapologetic Hindu” نامی ایک پیج سے مسلم مخالف پوسٹ بھی شیئر کی، اور اس پر تبصرہ کیا کہ یہ "ان کے دل کی آواز ہے۔” ان انکشافات نے ایک انتہائی حساس اور سیاسی طور پر منقسم ماحول میں فیس بک کی مواد سے متعلق پالیسیوں کو غیر جانبدارانہ طور پر نافذ کرنے کی ان کی اہلیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ داس واحد فیس بک ایگزیکٹو نہیں تھیں جن کی غیر جانبداری پر انگلیاں اٹھیں۔ شیو ناتھ ٹھکرال، جو داس کی رخصتی کے بعد بھارت کے لیے فیس بک کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر مقرر ہوئے، اس سے قبل بی جے پی کی 2014ء کی انتخابی مہم میں کلیدی کردار ادا کر چکے تھے۔ ناقدین نے یہ دلیل پیش کی کہ فیس بک اور بی جے پی سے منسلک تنظیموں کے مابین اعلیٰ عہدوں پر افراد کا یہ تسلسل (revolving door) مواد کی نگرانی سے متعلق فیصلوں میں مفادات کے فطری ٹکراؤ کو جنم دیتا ہے۔ کمپنی کا انتظامی ڈھانچہ بھی اس مسئلے کو بڑھاوا دینے کا باعث بنا۔ بھارت سے متعلق مواد کی پالیسی کے حتمی فیصلے بالآخر امریکہ میں مقیم ایگزیکٹوز کرتے تھے، جن میں سے بیشتر بھارت کی پیچیدہ سیاسی و مذہبی حرکیات کی گہری سوجھ بوجھ سے عاری تھے۔ داخلی دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ اعلیٰ عہدیداران اکثر مقامی پالیسی ٹیم، جس پر مبینہ طور پر حکمران جماعت کی طرف جھکاؤ کا الزام تھا، کے فیصلوں پر انحصار کرتے تھے، بجائے اس کے کہ عالمی سطح پر وضع کردہ معیارات کو مستقل مزاجی سے نافذ کیا جائے۔
کاروباری مفادات اور منڈی کے تقاضوں کا مواد سے متعلق فیصلوں پر اثر:
بی جے پی کے حوالے سے فیس بک کی بظاہر دکھائی دینے والی نرم گوشگی کو بھارت میں اس کے وسیع کاروباری مفادات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ 340 ملین سے زائد صارفین کے ساتھ، بھارت عالمی سطح پر فیس بک کا سب سے بڑا بازار ہے، اور ایک ایسا خطہ ہے جس میں ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں، کیونکہ ملک کی 1.4 ارب آبادی میں سے زیادہ سے زیادہ افراد آن لائن دنیا کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس تجارتی ضرورت نے کمپنی کے لیے بھارت کی حکمران جماعت کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مضبوط محرکات پیدا کیے۔ داخلی دستاویزات نے بی جے پی سے وابستہ اکاؤنٹس کے خلاف مواد کی پالیسیوں کو نافذ کرنے سے جڑے کاروباری خطرات کے بارے میں ہونے والی واضح گفتگو کو بے نقاب کیا۔ ایک موقع پر، آنکھی داس نے مبینہ طور پر اپنے عملے کو بتایا کہ ٹی راجہ سنگھ پر نفرت انگیز مواد سے متعلق قوانین کا اطلاق بھارت میں کمپنی کے کاروباری امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے دلیل دی کہ بی جے پی کے سیاستدانوں کی جانب سے ہونے والی خلاف ورزیوں پر کارروائی، کمپنی کی اس مارکیٹ میں فعالیت کی صلاحیت کو مجروح کرے گی جسے داخلی دستاویزات میں "تجارتی طور پر انتہائی اہم” قرار دیا گیا تھا۔ بھارت میں موجود ریگولیٹری ماحول کے پیشِ نظر، داؤ خاص طور پر بلند تھے۔ مودی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بتدریج سخت سے سخت تر ضوابط متعارف کرائے تھے، جن میں بھارت میں مقیم تعمیل افسران (compliance officers) کی تعیناتی کی شرط بھی شامل تھی، جنہیں پلیٹ فارمز پر موجود مواد کے لیے ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا تھا۔ ان ضوابط نے حکومت کو فیس بک پر قابلِ ذکر اثر و رسوخ عطا کیا، جس سے کمپنی کے لیے بی جے پی حکام کو ناراض کرنے سے گریزاں رہنے کے اضافی محرکات پیدا ہوئے۔ فیس بک کا ریلائنس جیو، بھارت کی سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی (جس کے مالک ارب پتی مکیش امبانی ہیں، اور جن کے نریندر مودی کے ساتھ قریبی مراسم ہیں)، کے ساتھ قائم ہونے والا کاروباری رشتہ بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کا باعث بنا۔ 2020ء میں، فیس بک نے جیو پلیٹ فارمز میں 5.7 بلین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کی، جس سے وہ اس کمپنی کا سب سے بڑا اقلیتی حصہ دار بن گیا۔ یہ معاہدہ، جس نے فیس بک کو جیو کے وسیع صارف اڈے تک رسائی فراہم کی، بھارت کے سیاسی حلقوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مزید ترغیبات کا موجب بنا۔
زکربرگ-مودی تعلقات اور ان کے مضمرات:
فیس بک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے مابین استوار ہونے والے ذاتی تعلقات بھی، کمپنی کے بھارت سے متعلق اختیار کردہ رویے میں ایک اہم عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مراسم کم از کم 2015ء سے قائم ہیں، جب مودی نے کیلیفورنیا کے شہر مینلو پارک میں واقع فیس بک کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران، زکربرگ نے مودی کی جانب سے سوشل میڈیا کو اپنانے کے اقدام کی بھرپور تعریف کی اور دونوں رہنماؤں نے ایک ٹاؤن ہال طرز کی تقریب میں شرکت کی جس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ فیس بک ہیڈکوارٹر میں زکربرگ اور مودی کے معانقے کی تصویر ان کے قریبی تعلقات کی علامت بن گئی۔ مودی دنیا کے ان اولین رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے فیس بک کو ایک مؤثر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اور زکربرگ اکثر مودی کی جانب سے پلیٹ فارم کے کامیاب استعمال کو جمہوریت اور شہری شراکت داری پر فیس بک کے مثبت اثرات کی مثال کے طور پر پیش کرتے رہے۔ تاہم، اس تعلق نے اس وقت مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کو جنم دیا جب بھارت میں فیس بک کی پالیسیوں کے نفاذ کا مرحلہ درپیش ہوا۔ داخلی دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا کہ زکربرگ بھارت میں اعلیٰ سطحی شخصیات سے متعلق مواد کی نگرانی کے بعض معاملات میں ہونے والے فیصلوں میں ذاتی طور پر شامل تھے، بشمول بی جے پی کے سیاستدانوں کی جانب سے پوسٹ کی گئی متنازعہ تحریروں سے نمٹنے کے طریقوں پر ہونے والی بحث و مباحثہ۔ 2019ء کی ایک خاص طور پر چشم کشا مثال میں، زکربرگ نے مبینہ طور پر ایک بی جے پی سیاستدان کی ایسی پوسٹ کو ہٹانے کے فیصلے میں مداخلت کی تھی جو فیس بک کی نفرت انگیز مواد سے متعلق پالیسیوں کی صریح خلاف ورزی تھی۔ معاملے سے آگاہ ملازمین کے مطابق، زکربرگ نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کیا یہ پوسٹ، کمپنی کے عالمی معیارات کی کھلی خلاف ورزی کے باوجود، واقعی بھارتی تناظر میں نفرت انگیز مواد کے زمرے میں آتی ہے؟ ناقدین نے یہ موقف اختیار کیا کہ مودی کے ساتھ زکربرگ کے ذاتی مراسم، بھارت میں فیس بک کے وسیع کاروباری مفادات کے ساتھ مل کر، ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر رہے تھے جہاں کمپنی اپنی پالیسیوں کو مستقل مزاجی سے نافذ کرنے پر آمادہ نہیں تھی، اگر ایسا کرنے سے بھارتی حکومت کی ناراضگی کا اندیشہ ہو۔ یہ صورتِ حال مودی کے دورِ حکومت میں مسلم مخالف بیان بازی اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافے کے پیشِ نظر بالخصوص نہایت پریشان کن تھی۔ (جاری ….)
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...