Skip to content
جنرل نالج کی اہمیت اور ضرورت
یہ بدلتی ہوئی دنیا ہے؛ ملکی اور عالمی سطح کی تبدیلیاں، نئی نئی ایجادات،تحقیقات ملکی و عالمی سیاست و صنعت،صحت و معیشت اور دیگر میدانوں کی تازہ معلومات یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ہر انسان کو ضرورت ہوتی ہے، جنرل نالج سماجی زندگی کا حصہ ہے اور ان کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ صرف کتاب پڑھ لینے سے پورا حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ روز مرہ کی زندگی کا مطالعہ ضروری ہے، معلومات جدیدہ کے ساتھ ساتھ معلومات قدیمہ کا سہارا لینا بھی بعض مرتبہ ضروری ہوجاتا ہے۔
مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی معلومات عامہ اور جنرل نالج کی اشد ضرورت ہوتی ہیں؛ کیونکہ یہ اولاد کی مربیہ ہوتی ہیں،بچوں کی عملی ضروریات کی تکمیل اور ترقی میں معاون بنتی ہیں، معلومات عامہ میں مضبوطی کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں اگر یہ زمانے کے اتار چڑھاؤ، قدیم و جدید معلومات سے بے خبر رہے گی تو خود اور اولاد کا بے شمار نقصان کریں گی۔مثلا لفٹ اور چالان کے اصولوں سے ناواقف ہونا،سرکاری اسکیمات سے لا تعلق رہنا ۔۔۔وغیرہ۔
جنرل نالج کی اہمیت
جس طرح ہم سب کے لیے قرآن و حدیث سے واقف ہونا ازحد ضروری ہے اسی طرح ایک حد تک زمانے کے حالات اور اصطلاحات سے واقفیت بھی ضروری ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
"اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”
(العلق: 1)
ترجمہ: "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔”
فاسئلوا اھل الذکر ان كنتم لا تعلمون
معلوم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لیا کرو۔
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ”
(الزمر: 9)
ترجمہ: "کہہ دو! کیا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟”
خير الناس من ينفع الناس
سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔
فقہ کرام فرماتے ہیں من جهل باهل زمانه / من لم يعرف باهل زمانه فهو جاهل. جو شخص اپنے اہل زمانے کی طرز زندگی ان کی معاشرت معیشت اور معاملات وغیرہ سے واقف نہ ہو تو وہ جاہل ہے۔
امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
من لم يعرف احوال زمانه لم يجز الفتيا
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میری جدید رائے یہ ہے کہ ڈاک خانہ ریلوے کے قواعد اور تعزیرات ہند کے قوانین مدارس اسلامیہ کے درس میں داخل ہونا چاہیے۔
مزید معلومات عامہ اپنی شہر آفاق کتاب بہشتی زیور میں بھی آپ نے نقل فرمایا۔
جنرل نالج کی چندقسمیں۔
ملکی و عالمی جغرافیہ ۔
معروف مسلم غیر مسلم شخصیات۔
تمام شعبہ جات کے اصطلاحات مثلا سیاسی عدالتی عسکری اور پارلیمانی وغیرہ۔
دنیا کے موجودہ حکمران۔
زمانے کے مختلف کھیل وغیرہ۔
عوامی خدمات۔ ریلوے بس سڑکیں
جسمانی خدمات۔ ڈاکٹرز،دوا، ٹیسٹ
تجارت و معیشت ،سیاست و حکومت ۔۔۔۔۔
مدارس اسلامیہ میں جھول۔
دینی مدارس کا اولین مقصد اسلامی علوم و فنون کی حفاظت وہ اشاعت ہی ہیں،علوم دینیہ کی تعلیم و ترویج ہی ہے؛ لیکن مدارس سے وابستہ علماء و طلباء بھی اسی دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور وہ بھی سماجی زندگی کا ایک حصہ ہیں ،موجودہ حالات کے تناظر میں مدارس کے نصاب و نظام کے اندر خارجیات( جغرافیہ، تاریخ ، جنرل نالج وغیرہ) کو داخل نصاب بنا کر درسا درسا پڑھانا چاہیے،تاکہ اہل علم طبقے کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوں اور دین کا جامع تصور اور مختلف شعبہ جات مثلا شفا خانہ ،یتیم خانہ ،غیر سودی بینک کا نظام ،رفاہی تنظیموں میں خدمت انجام دے سکیں،اسلام اور مسلمانوں کا ایک بہترین ترجمان بن سکیں۔ہم وارثین انبیاء کو دینی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دنیاوی معلومات بھی حاصل کرنا چاہیے ،علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ علوم عصریہ کی کم از کم اجمالی واقفیت سونے پہ سہاگہ کا مصداق ہےاور ایک کامیاب قائد اور علم دین حاصل کرنے والے کے لیے بھی جنرل نالج ضروری ہے؛ ورنہ دنیا ہمیں دنیوی اعتبار سے کمزور اور جاہل شمار کرے گی،اور یہ نظریہ بھی بہت غلط ہے کہ جنرل نالج کو سب کچھ سمجھا جائے،نہ جاننے والے اور کم جاننے والے کو معیوب سمجھا جائے حالانکہ ہم سب کو عصری تعلیم سے زیادہ دینی تعلیم کی ضرورت ہے۔
فوائد
سماجی، معاشی، قانونی سیاسی، فلکیاتی اور ٹکنیکی معلومات سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
انسان احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتا
کسی بھی شعبے میں دوسرے کا محتاج نہ ہوگا
خود اعتمادی پیدا ہوگی
ضیاع وقت اس سے محفوظ رہے گا ۔
دولت کا صحیح استعمال ہوگا۔
عوامی خدمات کا موقع ملے گا، کمزور دیہاتی وغیرہ حضرات کی رہبری ہوگی۔
ذلت اور شرمندگی سے حفاظت ہوگی۔
معلومات عامہ حاصل کرنے کے چند ذرائع
اخبارات و میگزین۔
موجودہ زمانے میں اخبار روزانہ ہفتہ وار / ماہانہ میگزنس حالات و واقعات سے واقفیت اور تازہ ترین معلومات کا سب سے سستہ، آسان اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہیں۔جس میں مختلف موضوعات پر مضامین اور معلومات شائع ہوتے ہیں مثلا تعلیم و تربیت صحت و علاج نفسیاتی و گھریلو مسائل، گھر داری، کھانے پکانے، گھر کی آرائش ، سلائی کڑھائی وغیرہ ان اخبارات اور رسائل کے نظام سے ہم سب کو استفادہ کرنا چاہیے۔
الیکٹرانک میڈیا
یہ بات مسلم ہے کہ موجودہ دور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے اور مختلف قسم کے ٹی وی چینلوں اور نشریاتی اداروں نے لوگوں کے ذہن و فکر پر مضبوط منفی گرفت بنالی ہے اور سوچ میں تبدیلی اور معاشرتی و سماجی زندگی کے تانے بانے بدل ڈالے ہیں۔ لوگوں کے طرز زندگی، ان کی ضروریات، افکار وخیالات اور مذہبی رجحانات تک پر اس نے اثر ڈالا ہے۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں ملکی و عالمی تازہ ترین صورتحال سے واقفیت اور نئی نئی معلومات مہیا کرتا ہے۔
انٹرنیٹ
انٹرنیٹ موجودہ دور میں معلومات کے حصول کا تیز رفتار اور آسان ذریعہ ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو کمپیوٹر سے واقفیت رکھتے ہیں،انٹرنیٹ معلومات قبیحہ اور معلومات حسنہ دونوں کا حامل ہے،فیصلہ ہمیں کرنا ہے steering ہمیں سنبھالنا ہے۔
بہرحال! معلومات عامہ کے ذرائع اور بھی ہیں؛ لیکن بات وہی ہے کہ انسان کے اندر تڑپ ہو نا چاہیے ،علم کا حریص اور ہر وقت حصول علم کے لیے فکرمند رہنا چاہیے۔
اللہ تعالی ہمیں علم و عمل کی توفیق عطا فرمائیں ،اورضروریات زندگی میں خود کفیل بننے کے اسباب عطا فرمائیں۔۔ آمین
اخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین ۔
Post Views: 41