Skip to content
پہلگام اور مودی : میں اِ دھر جاوں یا اُدھر جاوں؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
پہلگام کے بعد مودی بھگت پریشان تھے کہ آخر وزیر اعظم کچھ کر کیوں نہیں رہے ہیں؟ وہ دورے کو مختصر کرکے لوٹتے ہیں تو لوگ سرجیکل اسٹرائیک کی امید باندھتے ہیں مگراس کے برخلاف موصوف بہار کی انتخابی مہم پر نکل جاتے ہیں ۔ وہ تینوں فوج کے سربراہوں سے ملتے ہیں تو توقع کی جاتی ہے کہ جنگ کرنے کا حکم دیں گے مگر وہ فری ہینڈ دے کر کھسک لیتے ہیں ۔ کابینہ کی نشست سے امید لگائی جاتی ہے تو وہاں بھی پاکستان کے بجائے ذات پات کی رائے شماری کا فیصلہ نکل کر آتا ہے۔ایسے میں سندھ ندی کا پانی بند کرکے پاکستان کو بوند بوند کے لیے ترسانے کا اعلان یا د آتا ہے تو بھگت اداس ہوجاتے ہیں کیونکہ ندی کا پانی روکنے کے لیے اس کے سامنے لیٹنا بھی کام نہیں آئے گا۔ اس کے جواب میں پاکستانیوں کے ائیر اسپیس بند کردینےسے اپنی ہوائی کمپنیوں کو ہزاروں کروڈ کا خسارہ ہونے لگتاہے۔ ا یعنی’ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ‘۔
سندھ ندی سے دھیان ہٹانے کی خاطر گودی میڈیا چناب ندی میں زیادہ پانی چھوڑ کر پاکستان میں سیلاب برپا کرنے کا شوشا چھوڑتا ہے مگراس کی تباہی نظر نہیں آتی۔ پاکستانی اضافی پانی کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے ’ہم صابن لگا کرحمام بیٹھےہیں برائے کرم پانی چھوڑیں۔ ہم ہندوستانی فوجیوں کو چائے پلانا چاہتے ہیں برائے مہربانی تعداد بتائیں ‘ کہہ کر طنز کرنے لگتے ہیں تو ان تبصروں سے پر یشان ہوکر 16 پاکستانی یوٹیوب چینلز پر ہندوستان میں پابندی لگا کر شتر مرغ کی مانند ریت میں اپنا سر چھپا نےکی کوشش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پہلگام حملے کے بعد جو پاکستانی ذرائع ابلاغ ہمدردی جتا رہا تھا آخر اسے طنز و تشنیع پر کس نےمجبور کیا؟کہیں یہ ہمارے گودی میڈیا کا کارنامہ تو نہیں جس نے سرکاری بدانتظامی کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر پاکستا ن سے جنگ کا شور مچا دیا۔ پاکستانی میڈیا پر پابندی سے توازن پیدا کرنے کی خاطر ملک کے مقبول ترین یوٹیوب نیوز چینل 4PM کو ہندوستان میں "قومی سلامتی یا عوامی نظم” سے منسلک کرکے سرکاری جبر کا شکارکردیا گیا ۔
اس چینل کے مالک اور مدیر اعلیٰ سنجے شرما نے اس بابت یہ وضاحت کی کہ انہیں منگل کی صبح یوٹیوب کی طرف سےیہ ای میل ملا کہ حکومت کی ہدایت پر چینل بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی قومی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں اس لیے حکومت سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔ان کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کو چینل کی کیا بات ناگوار گزری۔پچھلے کچھ دنوں میں، چینل نے پہلگام حملے پر نریندر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کئی ویڈیوز اپ لوڈ کیے تھے جن کی سرخی اس طرح تھی کہ "پہلگام ہملے کا کھل گیا راز۔ راتوں رات کیا ہوا کی ہٹ گئی فوج ؟” یا "لال قالین پر امیت شاہ کا استقبال۔ مہلوکین کی تعزیت کے لیے گئے یا تماشا بنانے؟” اب چینل کے یوٹیوب پیج پریہ پیغام نمودار ہوتا ہے کہ ، ” قومی سلامتی یا پبلک آرڈر سے متعلق حکومت کے حکم کی وجہ سے یہ مواد اس ملک میں اس وقت دستیاب نہیں ہے ۔” سنجے شرما فی الحال یہ گہار لگا رہے ہیں کہ انہیں یہی بتا دیا جائے کہ کس ویڈیو میں کیا غلط ہے جس بھگتوں کی دلآزاری ہوئی ہے۔ سرکاری اعتراض درست ہوتو وہ ویڈیو ہٹانےکے لیےتیار ہیں۔
اترپردیش کےگزشتہ دونوں انتخابات کے وقت بھی اس چینلزاس آزمائش کی لاٹھی چلی تھی۔ 2017 میں اس پر حملہ ہوا تھا اور 2022میں انتخاب سے قبل اس کی نشریات کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا لیکن اس سے 4؍ پی ایم نیوز نیٹ ورک کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا اور ا ب بھی یہی ہوگا۔ مودی اور یوگی اپنی ساری ہیکڑی کے باوجود فور پی ایم کے یوپی ایڈیشن کو بند نہیں کراسکے اور اس پر سنجے شرما اب بھی دہاڑ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے پاکستان پرحملے سے پیچھا چھڑانے کی خاطر فری ہینڈ کی آڑ میں مسلح افواج کو ”مکمل آپریشنل آزادی“ دےکر اپنا پلہ جھاڑ لیا ۔ خود وزیر اعظم مودی نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال اور تینوں افواج کے سربراہان کے ساتھ شرکت کے بعد یہ اعلان کیا کہ فوج اپنے ”ردعمل“ کے وقت، طریقے اور ہدف کا تعین خود کرے گی کیونکہ فوج کی ”پیشہ ورانہ قابلیت“ پر انہیں پورا یقین ہے۔ اس طرح اگر اب فوج کارروائی نہ کرے تو اس کے لیے وزیر اعظم ذمہ دار نہیں ہوں گے اور خدا نخواستہ کوئی گڑ بڑ ہوجائے تو اس کی ذمہ داری بھی مودی جی پر نہیں آئے گی۔یعنی وہ کریڈٹ لینے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے ۔
اس تناظر میں پہلگام پر شنکر اچاریہ اوی مکتیشور آنند کی وائرل ویڈیو کی معنویت بڑھ جاتی ہے جس میں وہ’چوکیدار‘ کی مثال دے کر وزیر اعظم کو کٹہرے میں کھڑا کرکے وزیر اعظم پر ہلہ ّ بول دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے گھر میں ہم نے چوکیدار رکھا ہوا ہے۔ گھر میں اگر کوئی حادثہ ہوتا ہے تو ہم سب سے پہلے کسے پکڑیں گے ؟چوکیدار سے سوال کریں گے کہ جب یہ ہوا تم کہاں تھے؟ لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم چوکیدار ہیں لیکن اگر چوکیداری کی گئی ہوتی تو اس طرح کا حملہ نہیں ہوتا ۔ لوگوں کو اس طرح مارا نہیں جاتا‘‘۔ اس ویڈیو بیان کا ہر لفظ وزیر اعظم کو موردِ الزام ٹھہرا تا ہے لیکن کیا کسی میں شنکر اچاریہ کو گرفتار تو دور ایف آئی آر درج کرنےکی ہمت بھی نہیں ہے۔ شنکر اچاریہ کا احترامبی جے پی کے ناپاک عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ ہندو رائے دہندگان کی ناراضی کا خوف اس راہ میں حائل ہے۔یتی نرسنگھا نند نے تو ویڈیو میں کہا ہے کہ وہ مودی کے منہ پر تھوکنا بھی چاہتا پھر بھی ہر سو سناٹا چھایا ہوا ہے۔
ہندوتوا نواز طاقتور سے ڈرنے اور مفاد کی خاطر جھکنے کا قائل ہے۔ اسی لیے ان کےانگریزوں سے خوشگوار تعلقات تھے مگر اپنی بزدلی کو چھپانے کے لیے کبھی نیہا سنگھ اور امین الحسن جیسے بظاہر کمزور نظر آنے والوں پر اپنا زور دکھایا جاتا ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان کے آگے نہ تو رعنا ایوب جھکی اور نہ محمد زبیر نے گھٹنے ٹیکے بالآخر زعفرانیوں کو پسپا ہونا پڑا۔مودی سرکار کی حفاظتی ناکامی کا پردہ فاش کرتے ہوئے اوی مکتیشورآنند سرسوتی نے کہا’ان دہشت گردوں سے کوئی لڑا ہی نہیں ، کسی نے بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی۔ سب آرام سے آئے اور واردات کو انجام دے کر واپس چلے گئے۔ کسی کو بھی کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوئی ‘۔ یہ بیان پوری طرح درست نہیں ہے کیونکہ عادل حسین اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے جانِ عزیز کا نذرانہ پیش کیا۔ بی جے پی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلمان نکل گیا ۔ سیاحوں کو بچانے والا دوسرا نزاکت حسین بھی مسلم ہے ورنہ ابھی تک ان لوگوں کو پرم ویر چکر دے دیا جاتا ۔
شنکر اچاریہ سوال کرتے ہیں کہ ’چوکیدار کے بارے میں کوئی چرچا ہی نہیں ہورہی ہے‘۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔ انہوں سرکاری دعویٰ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کہا ’وہ کہہ رہے ہیں ہم پاکستان کو سبق سکھا دیں گے‘ اس کے بعد پوچھا ’ لیکن دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے یا نہیں اتنی جلدی آپ کو پتہ کیسے چل گیا ؟یہ بات آپ کو ورادات سے پہلے کیوں نہیں پتہ چلی؟
شنکر آچاریہ کا یہ سوال اہم ہے کیونکہ پلوامہ میں دھماکہ خیز اشیاء کیسے پہنچا اور اسے کس نے استعمال کیا اس کا پتہ ۶؍ سال بعد بھی نہیں چل سکاتو پہلگام کے دہشت گردوں کی معلومات ۲؍دن میں کیسےمل گئی؟ اور ان کے گھروں کو بم سے اڑانے کی کارروائی شروع ہوگئی۔ شک کی بنیاد پر کسی کا گھر تباہ کردینا اور ایک فرد کے جرم کی سزا پورے خاندان کو دینا غیر قانونی ہے۔عدالتِ عظمیٰ اس پر حکومت کو پھٹکار لگا چکی ہے مگر مرکزی حکومت اپنی ناکامی کی پردہ پوشی کے لیے یہ خلافِ قانون کام کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے۔ شنکر اچاریہ نے سندھ ندی کے پانی کو روکنے کی لفاظی پر بھی سوال اٹھایا ۔ وہ بولے سندھ ندی کو روکنے کا دعویٰ ہندووں کو بیوقوف بنانے کے لیے کیا گیا ۔ انہوں نے ماہرین سے رائے لی تو معلوم ہوا کہ فی الحال یہ ناممکن ہے اور ایسا کرنے میں سرکار کو کم ازکم بیس سال لگیں گے ۔ ایسے میں نشی کانت دوبے نے یہ پیشنگوئی کردی ہے کہ دسمبر کے بعد پاکستان نام کا ملک دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا یعنی ہندوستان میں شامل ہوجائے گا تو پانی کو وہاں جانے سے روکنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی؟ ویسے چند دہشت گردوں کی کسی حرکت کے سبب کروڈوں لوگوں کو پینے کے پانی سے محروم کرنے کی سفاکی کا خواب تو راون نے بھی نہیں دیکھا ہوگا؟ مودی جی فی الحال بہت پریشان ہیں اس لیے کبھی ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی فوج کے پیچھے چھپنے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل ان کے کتنا کام آئے گا یہ توو قت بتائے گا۔
Like this:
Like Loading...