Skip to content
حکومت کی طرف سے ذات پر مبنی مردم شماری پر رضامندی .
سماجی انصاف کی تاریخی فتح اور راہل گاندھی کی قیادت
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
مودی حکومت نے اچانک پورے ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے اور بھارتی جنتا پارٹی کی اب تک کی پالیسی سے ایک بڑا انحراف ہے۔ یہ محض ایک انتظامی اعلان نہیں، بلکہ سماجی انصاف اور شمولیتی حکمرانی کے لیے جاری جدوجہد کی ایک تاریخی اور اخلاقی فتح ہے۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اس مسئلے پر مسلسل اور زور دار آواز اٹھا رہے تھے پارلیمنٹ میں بھی اور عوامی جلسوں میں بھی۔ ان کی مسلسل مطالبات اور عوامی دباؤ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت کو آخرکار اس پر رضامندی دینی پڑی۔ بہار، تلنگانہ اور کرناٹک جیسے ریاستوں میں پہلے ہی ذات پر مبنی مردم شماری ہو چکی ہے اور وہاں کے تجربات نے اس کی قومی ضرورت کو مزید تقویت دی ہے۔ اس کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے "ہم ایک ہیں تو محفوظ ہیں” جیسے نعرے دیے تھے، جس سے یہ واضح تھا کہ بی جے پی اس مسئلے سے کتنی دوری بنانا چاہتی تھی۔
راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ جب تک ملک کی سماجی ساخت کی اصلی تصویر ہمارے سامنے نہیں آتی، تب تک نہ تو انصاف ممکن ہے اور نہ ہی مساوی مواقع۔ انہوں نے بار بار یہ سوال اٹھایا کہ اگر ہم یہ نہیں جانتے کہ OBC، دلت اور آدیواسی کتنی آبادی میں ہیں، تو ہم انہیں تعلیم، روزگار، وسائل اور سیاسی نمائندگی میں کیسے انصاف فراہم کر سکتے ہیں؟ اسی تناظر میں انہوں نے حال ہی میں ایک اہم پریس کانفرنس کر کے چار ٹھوس اور فیصلہ کن مطالبات پیش کیے۔ پہلا مطالبہ تھا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے واضح ٹائم لائن کا اعلان کیا جائے، تاکہ شفافیت برقرار رہے اور صرف بیانات سے کام نہ چل سکے۔ دوسرے مطالبے میں انہوں نے کہا کہ نجی شعبے میں بھی پسماندہ طبقوں کو تحفظات ملنے چاہئیں، کیونکہ آج کل روزگار کا بڑا حصہ نجی شعبے میں ہے۔
ان کا تیسرا مطالبہ تھا کہ OBC طبقے کو ان کی آبادی کے تناسب میں حصہ ملنا چاہیے۔ یہ مطالبہ صرف تحفظات کا نہیں، بلکہ وسائل، مواقع اور سیاسی نمائندگی میں مساوات کا ہے۔ ان کا چوتھا اور آخری مطالبہ یہ تھا کہ غربت پر مبنی مردم شماری کرائی جائے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کون سے طبقات کو حقیقت میں حکومت کی مدد کی ضرورت ہے۔ ان مطالبات کے ذریعے راہل گاندھی نے واضح کر دیا کہ یہ لڑائی صرف اعداد و شمار یا تحفظات کی نہیں ہے، بلکہ یہ عدم مساوات کے خلاف ایک وسیع سماجی اور اقتصادی تحریک ہے۔ ان کے مطابق ذات پر مبنی مردم شماری سماجی انقلاب کا ایک ذریعہ ہے، جو تعلیم، صحت، زمین اور رہائش جیسے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گا۔
اگر یہ مطالبات پالیسی میں تبدیل ہو جاتے ہیں، تو یہ ملک میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کا سبب بنیں گے۔ دلتوں، آدیواسیوں اور OBCs کو آخرکار پارلیمنٹ، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی اداروں میں ان کی حقیقی تعداد کے مطابق نمائندگی حاصل ہو گی۔ اس سے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں توازن آئے گا، جو اب تک اعلیٰ ذات کے مفادات سے جکڑا ہوا ہے۔ اس سے یہ بھی طے ہے کہ اس کے نتیجے میں پسماندہ طبقات زمین، مکان اور دیگر ضروری وسائل پر اپنے حقوق کی آواز بلند کریں گے۔ ذات پر مبنی مردم شماری اب صرف ایک گنتی نہیں ہے، بلکہ یہ آئینی حقوق، عزت اور ایک حقیقتاً جمہوری ہندوستان کے لیے جدوجہد کا ستون بن چکی ہے۔
اختتام میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی کی قیادت اور ان کے چار جرات مندانہ مطالبات ملک میں سماجی انصاف کی تحریک کو نئی توانائی اور سمت دینے والے ہیں۔ انہوں نے یہ دکھا دیا ہے کہ اگر سیاسی ارادہ مضبوط ہو، تو تاریخی طور پر پسماندہ طبقات کی آوازیں بھی پالیسی سازی کے مرکز میں آ سکتی ہیں۔ حکومت کی رضامندی ایک مثبت پہلا قدم ہے، مگر اصل امتحان اس کے نفاذ میں ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تحریک زمین تک پہنچے اور تمام طبقات اس انقلابی سفر میں مساوی شریک ہوں۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے مودی سرکار نے عوام کا دھیان جنگ سے ہٹانے کے لئے ایسا کیا ہے۔
Like this:
Like Loading...