Skip to content
کیا لوگ تھے جو راہ وفا سے گزر گئے
ازقلم:محمد ریحان ورنگلی
سرخیل علمائے دیوبند، اسیرِ مالٹا ، مجاہدِ جلیل ، محدثِ کبیر، جانشینِ شیخ الہند، خلیفہ گنگوہی، رہبر ،مرشد، سربراہ ، ناصح، واعظ، استاد، مدرس، دانشور، صاحبِ علم و حکمت، صاحبِ بصیرت ، صاحبِ فراست ، تیز فہم ، وانا، عقل مند، دوراندیش، ہوشیار، منکسِر مزاج ، خلیق ، متواضع ، بے باک، بے خوف، حق گو، راست گو ، حق آشنا ، حقیقت آشنا ، حقیقت شناس ، سچا ، صادق القول، توحید پرست ، حق پرست ، موحد، خدا رسیدہ، دین دار، عارف بالله، پرہیز گار، بزرگ ، عابد، زاہد، درویش، پارسا، خدا شناس، عبادت گزار ، پاک دامن، صاف باطن، پاک سیرت ، پاکباز، صاحبِ تقوی ، تہجد گزار، نیک نام نیک دل،نیک سیرت، با عزت ، با وقار، با تمیز، عالی نسب ، صاحبِ ثروت ، خوش طبع ، خوش مزاج ، خوش ذوق، زنده دل، مہمان نواز ، فیاض، سخی، تواضع و خاطر داری کرنے والے ، محسن ، مربی، سرپرست، سخن ور، سخن داں ، سخن شناس : مصنف ، عالم، فاضل، مفسر، یعنی شیخ الاسلام حسین احمد مدنی کی ذات بابرکت ہے، ایک طرف آپ اتباعِ سنت ، اخلاقِ نبوت، سیرتِ صحابہ ، اور اسوہ مشائخ کا سرچشمہ تھے ، تو دوسری جانب جذباتِ حریت ، ترقئ ملت ، حبِ وطن ، ہمدردئ خلقِ خدا، غمخوارئ نوعِ انسانیت اور ایثار و قربانی جیسے عمدہ شمائل و خصائل سے سرشار تھے ، اس لئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا قلب حاملِ شریعت اور عمل تفسیرِ شریعت تھا ۔
مولانا حسین احمدؒ کی شخصیت صدق و اخلاص خودداری، قوتِ ارادی اور بلند ہمتی میں یکتائے روزگار تھی، آپ تکلیفوں پر صبر کرلیتے تھے اور دشمنوں کو نہ صرف معاف کرتے تھے؛ بل کہ ان کی سفارش کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے، آپؒ اپنے اصول کے پابند، کشادہ ذہن اور مختلف خصوصیات کے حامل تھے۔
ولادت اور تعلیم:
آپؒ کی ولادت ١٩ شوال ١٢٩٦ ھ بانگر مئو میں ہوئی، ابتدائی علوم ٹانڈہ میں حاصل کئے ١٣٠٩ ھ ١٣ سال کی عمر میں سفر کرکے دار العلوم دیوبند تشریف لائے، ایک لمبے عرصے تک علامہ محمود حسن دیوبندیؒ کی خدمت میں رہ کر ان سے حدیث و فقہ کا علم حاصل کیا؛ پہر گنگوہ آئے اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے بیعت ہوئے ابھی ان کی عمر چھوٹی تھی کہ ان کے والد فیض آباد سے حجاز چلے گئے؛ تاکہ زندگی کے آخری دن مدینہ منورہ میں بسر کرسکیں، یہ بھی ان کے ہمراہ چلے گئے عام طور پر ہوتا یہ تھا کہ جو لوگ حجاز چلے جاتے تھے ان میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے گزارے کے لئے اوقاف پر اعتماد کرتے تھے؛ لیکن حضرت کے خاندان والوں نے ایسا نہیں کیا؛ بل کہ انہوں نے تجارت کرکے خاندان کا خرچ چلایا، ہندوستان آئے؛ مگر پہر مدینہ منورہ چلے گئے اور درس و تدریس میں مشغول ہوگئے، ١٩١٦ء میں شیخ الہند محمود حسن حجاز گئے یہ وہ زمانہ تھا جب شریفِ مکہ برطانیہ سے مل کر بغاوت کا انتظام کررہا تھا ان کی موجودگی میں بغاوت کا نعرہ بلند ہوا اسے شیخ الہند برداشت نہ کرسکے کسی طرح یہ خبر معلوم ہوئی کہ حضرت شیخ الہند بغاوت کے خلاف ہیں شریف حسن نے انہیں بلاکر برطانیہ کے حوالے کردیا ان کی گرفتاری عمل میں آئی؛ تو مولانا حسین احمد مدنی نے اکیلےرہنا پسند نہیں کیا اور انہوں نے بھی اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کیا؛ چنانچہ مالٹا میں دونوں کو نظر بند کردیا گیا جب جنگ ختم ہوئی تو مولانا محمود حسن اور ان کے ساتھیوں کی رہائی عمل میں آئی وہاں سے وہ ہندوستان آئے۔
اخلاص:
حضرت شیخ الاسلام کے ان کمالات میں جو دیکھے اور دکھائے نہیں جاسکتے البتہ کوئی شخص متوازن ذہن اور قلب سلیم کی نعمتوں سے نوازا گیا ہوں تو وہ حضرت کے ان خصائص و کمالات کو محسوس کرسکتا ہے۔
حضرت کی سیرت کا پہلا عنصر "حسنِ اخلاص” ہے اخلاص ایک "جوہرِ سیرت” ہے، اس کا بیج قلب کی سرزمین میں پھوٹتا ہے، برگ و بار پیدا کرتا ہے اور اس کی سرمدی مہک سے شامِ روح معطر ہوجاتا ہے، اس جوہرِ سیرت کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے؛ لیکن ذوقِ بے میل اور قلب سلیم ہو تو اسے خوشبو کی طرح ضرور محسوس کرلیا جاتا ہے۔
جوہرِ اخلاص داد و تحسین سے بے نیاز اور ستائش کی تمنا سے بے پروا ہوتا ہے، اخلاص چاہتا ہے کہ صلہ و ثواب کی آرزو سے قلب کو پاک کرلیا جائے، حسن اخلاص عشق کے مدعی سے مطالبہ کرتا ہے کہ میری محبت کا دام بھرتے ہو اور میرے قرب و وصال کے طالب ہو تو پہلے اپنی ذات کے تمام اغراض سے دست بردار ہوجاؤ اور دنیاوی عیش و عشرت اور راحت کی ہر خواہش کو اپنے دل سے نکال پھینکو؛ کیونکہ صاحبِ غرض کبھی صاحبِ اخلاص نہیں ہوسکتا جو بے غرض ہوتا ہے وہی صاحبِ اخلاص ہوتا ہے، چنانچہ شیخ الاسلام بے غرض تھے، قوم و ملت کی خدمت کو شعار بنایا اور تحریکِ آزادی کی راہ میں قدم رکھا حضرت شیخ الاسلام جنگِ آزادی میں صفِ اول کے رہنما تھے، ریشمی رومال تحریک کی اہم شخصیت تھے، قیدِ مالٹا سے رہائی اور ہندوستان واپسی کے بعد حضرت نے ایک بھرپور سیاسی زندگی گزاری، چنانچہ حضرت کے نزدیک جہادِ آزادئ ہند وہ معرکہ تھا جس کی راہ میں سر دینے والا شہید اور سر لینے واا غازی کے منصبِ عالیہ کا مستحق تھا اس کے لئے حضرت یہ دلیل دیتے تھے ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد میں اگر مسلمان کی جان بھی کام آجائے تو وہ سراسر سعادت اور نص حدیث کے بموجب شہادت ہے رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے *من قتل دون مالہ فھو شھید ومن قتل دون دمہ فھو شھید ومن قتل دون دینہ فھو شھید ومن قتل دون اھلہ فھو شھید او کماقالﷺ (ترمذی) یعنی جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے خون کی یا دین کی یا اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہوا ماراجائے وہ بھی شہید ہے۔
سارے ہی ہندوستان لیڈران اور عوام ہندوستان کی آزادی کے لئے کمر بستہ و سر بکف تھے۔
عزم و عالی ہمتی:
مولانا کی زندگی میں دوسرا نمایاں وصف ان کا عزم اور عالی ہمتی تھا مسلمانوں میں بالعموم اور طبقہ علماء میں بالخصوص قوتِ ارادی کی بڑی کمی نظر آتی ہے، دماغی اور ذہنی حیثیت سے بڑے بڑے ممتاز لوگ ہوں گے اور ہیں؛ لیکن یہ جوہرِ نایاب ہے، دینی و علمی حلقے میں مولانا جس چیز میں ممتاز تھے وہ بلند حوصلگی ہے، جس چیز کو رضائے الہی کے لئے ضروری سمجھا اس کو انہوں نے بڑی خوش دلی اور خندہ پیشانی کے ساتھ جھیلا اور برداشت کیا؛ بل کہ دعوت دی خواہ وہ کیسی ہی تکلیف دہ صبر آزما اور ہمت شکن ہو
جامع سیاست و مذہب:
حضرت شیخ الاسلام کی ایک خوبی علم و عمل، دین و سیاست، تصور و حقیقت، روز و شب کے معمولات اور ملی و قومی تقاضوں واجباتِ دنیا وفکرِ آخرت کا حسنِ امتزاج و توازن اور کمال جامعیت ہے ہماری تاریخ بڑے بڑے اصحابِ علم سے، عظیم مدبروں اور مفکروں سے، نہایت ذہین افراد سے، عدیم المثال شاعروں سے، سراپا عمل مجاہدوں سے کبھی خالی نہیں رہی؛ لیکن حضرت شیخ الاسلام کے توازن و جامعیت کی شخصیت کی دید کے لئے چشم نرگس کو صدیوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے، حضرت شیخ الاسلام علم و عمل کی جامعیت کی مثال تھے، وہ عالم تھے؛ مگر فکر و فلسفہ کی گھتیاں ہی نہ سلجھاتے تھے؛ بل کہ عملی زندگی کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھتے تھے، زندگی کے میدان میں ان کی شخصیت سراپا عمل نظر آتی ہے لیکن علم و فکر کی دنیا سے ان کا رشتہ اس وقت بھی قائم ہوتا تھا دین کے واجبات اور سیاست کے فرائض میں ایک ایسا حسنِ توازن پیدا کیا تھا کہ خالص سیاہی ہنگاموں اور ہجومِ افکار و اعمال میں بھی فرائض و سنن تو کیا مستحبات بھی نہ چھوٹتے تھے، آپ کی ذاتِ گرامی تصور و حقیقیت کا مجمع البحرین تھی۔
خلاصہ یہ کہ آپ تقوی و طہارت میں شانِ قطبیت، ارشاد و طریقت میں شانِ مجددیت، علم و عمل کے شناور، میدانِ سیاست کے شہسوار تھے ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہےچمن میں دیدہ ور پیدا
Like this:
Like Loading...