Skip to content
سنو سنو!! زمانہ بدل گیا ہے
ازقلم:مولانا ناصرالدین مظاہری
زمانہ تو بدل رہا ہے، حالات بھی تبدیل ہو رہے ہیں، غربت بھی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ بھلے ہی پہلے چیزیں سستی تھیں مگر لوگوں کی جیبیں خالی تھیں، اب بھلے ہی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں مگر لوگوں میں تمول آتا جا رہا ہے۔ پہلے سائیکل میسر نہیں تھی، لوگ پیدل آمد و رفت کرتے تھے، سائیکل والا مالدار سمجھا جاتا تھا۔ سائیکل اب بھی ہے مگر اب سائیکل والا غریب سمجھا جاتا ہے۔
پہلے لوگ مجبوری میں سائیکل چلاتے تھے کہ انھیں سائیکل ہی بڑی محنت اور قربانی کے بعد مل سکی تھی۔ اب بھی لوگ سائیکل چلاتے ہیں، مجبوری اب بھی ہے، لیکن پہلے کی مجبوری اضطراری تھی، اب کی مجبوری اختیاری ہے۔ جی ہاں! اب بڑی تعداد سائیکل اس لئے چلاتی ہے کہ انھیں ڈاکٹروں نے کہہ دیا ہے کہ اپنا پیٹ یا وزن کم کرنے کے لئے یا کسی اور بیماری سے نجات پانے کے لئے سائیکل چلاؤ۔
خیر، میں بھی سائیکل کی بات کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ کہنا یہ تھا: میرے زمانۂ طالب علمی میں مدرسہ مظاہرعلوم وقف سہارنپور کی طرف سے جو نان گوشت ملتا تھا وہ کافی سے زائد ہوتا تھا، یعنی روٹی کے حاشیے جو عموماً کچے ہوتے تھے، ہم لوگ روٹی کا یہ حاشیہ نکال کر باقی روٹی کھا لیتے تھے، اور صبح ناشتہ میں رات والا یہ حاشیہ توڑ لیتے تھے۔
پہلے اسٹوپ جلا کر ہانڈی رکھ کر تیل، سونف ڈال کر بگھارتے، چینی ڈال کر روٹیاں پکاتے اور بڑے چاؤ کے ساتھ کھا لیتے تھے۔ یہ ناشتہ آج کی بازاری چائے، چھولے، سموسے اور پکوڑیوں سے بہت اچھا تھا۔ اس عہد کے طلبہ آج کے طلبہ کی طرح پزہ، برگر چاؤمن کے چکر میں نہ پڑتے تھے اور تب تو شاید یہ زہریلی اشیاء وجود میں ہی نہیں آئی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ شوق ہوا تو جلیبی کھا کر خوش ہو گئے۔ اس وقت طرح طرح کی خطرناک پڑیا بھی شاید دستیاب نہیں تھیں۔ بیڑی کے البتہ کچھ کیس پیش آجاتے تھے اور مناسب گوشمالی ہو جاتی تھی۔
طلبہ کی بڑی تعداد تو ناشتہ کی عادی ہی نہیں تھی کیونکہ اس وقت طلبہ آج کی طرح شاہ خرچ واقع نہیں ہوئے تھے۔ آج تو ماشاء اللہ صبح صبح طلبہ کو دیکھتا ہوں کہ بریڈ مکھن کھا رہے ہیں، جَیم اور بند سے شوق فرما رہے ہیں، چائے اور دودھ پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں، جوس پی رہے ہیں۔ ایسے ایسے مہنگے ناشتے کر رہے ہیں کہ سبحان اللہ، ماشاء اللہ!
پیمنٹ فون ہے، گوگل ہے، پے ٹی ایم یا ڈائریکٹ آن لائن ہو رہا ہے۔ بیکری والوں کے یہاں باقاعدہ کھاتے چل رہے ہیں۔ مدرسہ والے بھی ان کے لئے اسبابِ عیش فراہم کئے ہوئے ہیں۔ ہمارے زمانے میں تو ماہانہ وظیفہ اٹھارہ روپے تھا، پھر دو روپے کا زبردست اضافہ ہو گیا اور بیس روپے ملنے لگے۔ آج دیکھتا ہوں کہ پانچ سو روپے ہر طالب علم ہرماہ وصول کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی جوڑا، کبھی لحاف، کمبل، جیکٹ۔۔۔ واہ واہ!
یہ سب دیکھ کر سوچتا ہوں، جس طالب علم کی جیب میں اے ٹی ایم کارڈ چمک رہا ہے، موٹر سائیکل پر آ جا رہا ہے، دن بھر میں دو تین سو روپے خرچ کر رہا ہے، پھر بھی یہ مدرسہ سے کھانا کھا رہا ہے، ہر رعایت سے فیضیاب ہو رہا ہے، اور اسے پتہ بھی ہے کہ یہ تمام رعایتیں زکوٰۃ اور صدقات سے ہیں۔
عزیز طلبہ!
آپ کو اللہ تعالیٰ نے اگر اس لائق بنایا ہے کہ آپ زکوٰۃ دیتے ہیں، تو آپ سوچیں کہ آپ زکوٰۃ کیسے کھا سکتے ہیں؟ اور ابناء السبیل کی بات تو یہ ہے کہ اب آپ کا بینک اکاؤنٹ آپ کی جیب میں ہے، جہاں آپ کا موبائل ہے، آپ کا پیسہ آپ کے ساتھ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دینے والا بنایا ہے، تو لینے والے نہ بنیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...