Skip to content
پاکستان پر حملے سے ذات پر مبنی مردم شماری تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
نتیش کمار کا سب سے بڑا سیاسی ہتھیار منڈل ہے اور اس کو صحیح معنیٰ میں نافذ کرنے کے لیے ذات کی بنیاد پر مردم شماری لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دو سال قبل جب اس مردم شماری کے اعداد و شمار جاری کیے تو اس وقت مدھیہ پردیش میں انتخابی مہم جاری تھی۔ نتیش کمار کے اثرات بہار تک محدود ہیں اس لیے وہ مرکزی حکومت کوذات پرمبنی مردم شماری کے لیے مجبور نہیں کرسکتے مگر جب راہل گاندھی نے اس کے حوالے سےشاجا پورمیں اعلان کردیاکہ ان کی پارٹی مرکزمیں بر سرِ اقتدار آئی تو وہ ملک بھر میں پسماندہ طبقات کی ترقی کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی تونریندر مودی کی نیند اڑ گئی۔ اس کے دودن بعد گوالیار کے اندر وزیر اعظم نے کانگریس کانام لیے بغیراس کو نشانہ بناتے ہوئے جلسۂ عام میں کہا تھا کہ وہ لوگ پہلے بھی غریبوں کے جذبات سے کھیلتےتھے اور آج بھی وہی کر رہے ہیں ۔ تب بھی وہ ذات پات کے نام پر سماج کو تقسیم کرتے تھے، آج بھی وہی گناہ کر رہے ہیں۔ اس طرح علی الاعلان مذکورہ مردم شماری کو پاپ کہنے والے وزیر اعظم کااس پر راضی ہوجانا کمال کی قلابازی ہے مگر ’مودی ہے تو (اقتدار کی خاطر) کچھ بھی ممکن ہے‘۔
مودی سرکار کو ذات کی بنیاد پر تو دور سرے سے مردم شماری میں ہی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ یہ مشق عوام کے فلاح و بہبود کے لیے کی جاتی ہے ۔ موجودہ حکومت کی ساری توجہ اپنے چہیتے سرمایہ داروں کی ترقی پر مرکوز ہے اس لیے اس کو عوامی مسائل حل کرنے میں دلچسپی ہی نہیں ہے۔ عوام کے لیے اس کے پاس نفرت کی شراب ہے جسے پلا کر وہ اسے مدہوش اور مست رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا کے بہانے ٹلنے والی قومی رائے شماری پچھلے چار سالوں سے التواء کا شکار ہے۔ اس سال بجٹ کے اندر اس کے ذکر کا نہ ہونا سرکاری ارادوں کا غماز تھا۔ ایسے میں اچانک مودی جی کو ذات کی بنیاد پر مردم شماری کا خیال آنا اہم ہے۔پہلگام سے قبل جموں کشمیر میں پلوامہ حملہ ہوا تھا تو اس سے زیادہ جانیں تلف ہوئی تھیں اور وہ عام شہری نہیں بلکہ نیم فوجی دستہ تھا ۔ اس کے باوجود سرجیکل اسٹرائیک کرنے میں اتنا وقت نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے درمیان میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری کا شوشا چھوڑ کر پہلگام کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی سعی کیوں کی ہے؟ ان سوالات پر ذرائع ابلاغ میں زور و شور سے بحث ہورہی ہے۔
وزیر اعظم سے سوال پوچھا جارہا ہے کہ اس بار مودی جی اتنے محتاط کیوں ہیں ؟ دنیا کے آخری سِرے تک دہشت گردوں کا پیچھا کرکے دشمن کو سبق سکھانے کی دھمکی دینے والے وزیر اعظم سر حد پار کرنے سے کیوں کنیّ کاٹ رہے ہیں ؟؟ اس ایک سوال کے کئی جوابات ہیں۔ پہلا تو یہ کہ چین کیل کانٹوں سے لیس ہوکر پاکستان کی مدد کو آگیا ۔ گلوان کے بعد پاکستان کو پتہ چل گیا کہ ہندوستان چین کے ساتھ پنگا لینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ چین ڈوکلام پر میں گھسُ جائے یا ارونا چل پردیش میں اس کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ پاکستان اور چین کے علاوہ اب تو بنگلہ دیش بھی دوست ملک نہیں رہا بلکہ اس نے چین اور پاکستان کے ساتھ گہرے مراسم قائم کرلیے ہیں ۔ ایک سابق بنگلہ فوجی کمانڈرفضل الرحمٰن نے توجنگ کو صورت میں چین کو ساتھ لے کر ہندوستان کے شمال مشرق کی ۷؍ ریاستوں کو الگ کرنے کا احمقانہ مشورہ تک دے دیا ہے۔ اس پر حکومت ہند کے سخت ردعمل کا ہنوز انتظار ہے۔
ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد سب سے طویل یعنی ۴؍ ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ چین سے ساڑھے تین ہزار اور پاکستان کے ساتھ تقریباً تین ہزار کلومیٹر۔ جنگ کی صورت میں اگر چین اپنے معاشی مفاد کی خاطر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوجائے اور دوسری جانب بنگلہ دیش بھی چین کے ساتھ مل کر گڑ بڑ کرے تو ہندوستانی فوج کی توجہ تین حصوں میں منقسم ہو جائے گی۔ اس سنگین صورتحال کے لیے شیخ حسینہ واجد کو ہندوستان میں پناہ دے کر بنگلہ دیش کی حکومت کو ناراض کرنا کسی نہ کسی حد تک ذمہ دار ہے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ نیپال سمیت ہندوستان کے سارے پڑوسی ممالک ناراض چل رہے ہیں وزیر اعظم کو سب سے زیادہ امید اپنے قلبی رفیق ڈونلڈ ٹرمپ سے تھی ۔ وہ توقع کررہے ہوں گے کہ اس حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ امریکہ اپنے سارے تعلقات منقطع کرکے ہندوستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
پہلگام میں حملے کے۴؍ دن بعدجب ٹرمپ سے ہندوستان اور پاکستان کے بیچ بڑھتی کشیدگی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نےفرمایا کہ ‘میں ہندوستان کے بہت قریب ہوں اور میں پاکستان کے بھی بہت قریب ہوں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کشمیر میں وہ برسوں سے لڑ رہے ہیں۔ کشمیر مسئلہ ایک ہزار سال سے چل رہا ہے، شاید اس سے بھی زیادہ وقت سے، حالیہ دہشت گردانہ حملہ بہت برا تھا‘‘۔ اس بار کم از کم ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش نہیں کی مگر اعتراف کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر ہمیشہ کشیدگی رہی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی سے پریشان ہیں تو ٹرمپ نے کہا، ”آپ جانتے ہیں، ایسا ہی رہا ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اس کا حل نکال لیں گے۔” یعنی چین جس طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگیا ٹرمپ نے وہی رویہ اختیار نہیں کیا ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا سنجیدگی سے نہیں لیتی مگر پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دونوں ممالک کو مخاطب کرکے جو پریس نوٹ جاری کی اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔
امریکی وزیر خارجہ نے ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں۔ مارکو روبیو نے دونوں ممالک میں اپنے ہم منصبوں یعنی وزیر خارجہ ایس جے شنکراور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے جلد ہی ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تاکہ ہندوستان کو ضبط سے کام لینے کی تلقین کریں ۔جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کے بعد امریکہ دوسرے عالمی لیڈروں سے بھی کہہ رہا ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو یہی پیغام دیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹمی بروس نے سکریٹری آف اسٹیٹ روبیو کا ایک بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ "ہم دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور یقینی طور پر ان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ کشیدگی کو مزید نہ بڑھائیں۔”بروس نے امریکہ کے ہندوستان اور پاکستان میں وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ دیگر سطحوں پر بات چیت کا اعتراف بھی کیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کوامریکہ کی جانب سے اس سرد مہری کی توقع نہیں رہی ہوگی۔
بیرونی محاذ سے حق ہٹ کر داخلی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان عالمی سطح پر چوتھے نمبر کی فوجی طاقت اور پاکستان بارہویں پرآتا ہے لیکن جہاں تک جوہری اسلحہ کا تعلق ہے ان میں ایک فیصد کا فرق بھی نہیں ہے ۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کورونا کے بعد فوج میں بھرتی بند کردی گئی مگر سبکدوشی کا عمل جاری ہے۔ ہرسال ساٹھ ہزار فوجی کم ہورہے ہیں۔ ان کی جگہ اگنی ویروں کی بھرتی بھی کم تعداد میں ہورہی ہے ۔ جملہ چار سال کے لیے فوج میں آنے والوں کی تربیت دیگر فوجیوں کے ہم پلہ نہیں ہوسکتی اس لیے ان کو محاذ کی اول صف میں بھیجنے کے بجائے انتظامی امور میں رکھا جائے گا۔ ویسے اگر فوجی جوان کو یہ معلوم ہے کہ اگلے ایک دوسال کے بعد جب وہ سبکدوش ہو جائے گاتو پھر اسے کچھ نہیں ملے گا تو اس کا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا بھی مشکل ہے۔ اس اسکیم کا ایک اثر یہ پڑاہے کہ اب فوج میں جانے کی تیاری کرنے والوں کی تعداد ایک چوتھائی ہوکر رہ گئی۔ اس طرح موجودہ سرکار پر الزام لگ رہا ہے کہ اس نے روپیہ بچانے کے چکر میں نادانستہ طور پر فوج کو کمزور کردیا ہے۔
ملک کے اندر ویسے تو کرنی سینا جیسے ہوا میں تلوار گھمانے والے یا سنگھ کی شاکھا میں ڈنڈے چلانے والوں کی کمی نہیں ہے مگر ہو بیچارے سرحد پر کچھ نہیں کرسکتے۔ بی جے پی کے حامی سبکدوش جنرل ڈی جی بخشی جیسے لوگ بھی اب حکومت پرتنقید کرنے لگے ہیں۔ ان مسائل کو سمجھے بغیر پاکستان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کے نعروں کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر ذات پر مبنی مردم شماری کا شوشا ضروری تھی ۔مودی جی کے اعصاب پر بہار سوار ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پہلگام حملے کے بعد وہ اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کرکے دہلی تو لوٹ آئے مگر پھر کشمیر جانے کے بجائے بہارپہنچ گئے۔ 26/11حملے کے بعد ممبئی آنے والے مودی جی نے کشمیر جانے کا کام وزیر داخلہ امیت شاہ کو سونپ دیا ۔ اس کے بعدحزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی بھی پہلگام جاکر آگئے لیکن اگر کوئی کشمیر نہیں گیا تو وہ وزیر اعظم تھے ۔بہار جانے کی خاطر مودی جی نے پہلگام پر ہونے والی کل جماعتی نشست سے بھی رخصت لے لی ۔ اس سے وزیر اعظم کی ترجیحات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور ذات پر مبنی مردم شماری کا محرک بھی بہار کا انتخاب ہی ہے۔
Like this:
Like Loading...