Skip to content
کیا امن کے لئے جنگ ضروری ہے؟
ازقلم:عبدالعزیز
خاکسار جب درجہ دہم میں تھا تو ہمارے اسکول کی ’بزم اردو ادب‘ کی جانب سے ایک انٹر اسکول ڈیبیٹ (مباحثہ) منعقد ہوا تھا۔ اس ڈیبیٹ میں میں نے پہلی بار حصہ لیا تھا۔ دیگر اسکولوں کے کئی طلبہ بھی مباحثے میں شریک تھے۔ یہ میرا پہلا تجربہ تھا اور کسی بڑے فنکشن میں یہ میری پہلی تقریر تھی۔ تقریر سے پہلے میں نے ریہرسل بھی کی تھی اور کچھ لوگوں سے مشورے بھی لئے تھے۔ ریزلٹ کا جب اعلان ہوا تو میرا نام تیسرے نمبر پر تھا۔ اس میں تیسرے انعام کا مستحق ہوا اور یہ میرے لئے بہت بڑی بات تھی۔ ہمارے اسکول کے طلبہ اور اساتذہ میری اس کامیابی پر بہت خوش تھے۔
عام طور پر اسکول، کالج یا کسی تعلیمی ادارے کی طرف سے جب کوئی مباحثہ ہوتا ہے موضوع بحث کے لئے ایک موضوع مقرر کیا جاتا ہے۔ حصہ لینے والے موضوع (Topic)کے حق (Favour) یا مخالفت (Against) میں حصہ لیتے ہیں۔ اس وقت میرے اندر کوئی ذہنی پختگی نہیں تھی اور نہ ہی میری معلومات یا میرا مطالعہ وسیع تھا۔ اس لئے میں نے موضوع کے Against میں تقریر کی۔
آج جب میرا مطالعہ کچھ وسیع ہے اور اسلام سے اللہ کے فضل و کرم سے مکمل وابستگی ہے تو مجھ سے اگر کوئی کہے کہ امن کے لئے جنگ ضروری ہے تو میں دلائل کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امن کے لئے جنگ ضروری نہیں ہے۔ جو لوگ امن پسند ہوتے ہیں ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ’جنگ ٹلتی رہے، جنگ کسی صورت میں نہ ہو۔ آزادیِ ہند کے عظیم مجاہد خان عبدالغفار خان جو ایک فقیرانہ زندگی گزارتے تھے ان کا کہنا تھا کہ ’’جنگ انسانی سوچ کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے‘‘۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب انسان انسان کے بھلے اور نقصان کو نہیں سوچتا تو پھر اس کا ذہن لڑائی جھگڑے کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں مومن کی سو سے زیادہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک صفت صلح جوئی کی ہے یعنی مومن جنگ پسند نہیں بلکہ صلح جو ہوتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لڑائی جھگڑے سے بچے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے کہ ’’اگر کوئی تمہاری جائیداد یا جگہ، زمین قبضہ کرلے تو تمہیں حق ہے کہ اپنی جائیداد اور جگہ، زمین کے لئے لڑو۔ اگر اس لڑائی میں غاصب کی موت ہوجاتی ہے تو وہ جہنمی ہوتا ہے لیکن جو اپنے حق کے لئے مرتا ہے وہ شہید کہلاتا ہے‘‘۔ یہ اسلام کا قانون ہے۔ لیکن اسلام کے قانون سے بڑھ کر اسلام میں ایک درجہ اعلیٰ ہے اسے احسان کہا جاتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری حدیث اسلام کی اعلیٰ تعلیم ہے۔ آنحضرتؐ نے فرمایا ہے کہ ’’جو مومن تنازعے کے خاتمے کے لئے اور لڑائی سے بچنے کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘۔ پہلی حدیث کو تو مسلمان بہت حد تک جانتے ہیں لیکن دوسری حدیث سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ آخر الذکر حدیث کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑائی، جھگڑے سے پرہیز کرنا زیادہ بہتر ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور اے نبی! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہے، تم بدی سے اس نیکی کو دفاع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھوگے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا‘‘۔ (سورہ حٓمٓ السجدہ:35)
اس فرمانِ خداوندی سے بھی مومن کو یہی ہدایت ملتی ہے کہ بدی کا جواب بدی سے دینا سودمند نہیں ہے بلکہ اعلیٰ درجے کی نیکی سے بدی کی مدافعت کرنا یا جواب دینا زیادہ بہتر ہے۔ ہندستان کی آزادی کی لڑائی میں دو بڑی شخصیتو ں کا نام آتا ہے۔ ایک شخصیت تو مہاتما گاندھی جی کی ہے جنھوں نے آزادی کی جنگ میں عدم تشدد کا طریقہ اپنایا۔ انھیں اس میں خاطر خواہ کامیابی ملی۔ دوسری شخصیت نیتا جی سبھاش چندر بوس کی ہے جو عدم تشدد کے حق میں نہیں تھے۔ انھوں نے انگریزوں سے جنگ کرنے کے لئے ’آزاد ہند فوج‘ تشکیل کی اور آخری دم تک انگریزوں سے جنگ کرتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ "Give me blood, I will give you Freedome” (تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دوں گا)۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس کا نام مجاہدین آزادی میں شمار ہوتا ہے۔ وہ ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے لیکن انھیں ان کے مقصد میں کامیابی نہیں ملی۔ آج بھی ان کی موت ایک معمہ ہے۔ کہاں اور کیسے ان کی موت ہوئی یا جان گئی کہا نہیں جاسکتا۔
دنیا میں دو بڑی جنگیں ہوچکی ہیں اور ان جنگوں سے جو تباہی ہوئی اور انسانیت کا نقصان ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔ جنگیں جو بھی ہوئیں وہ حقیقت میں جارحانہ قومیت کی وجہ سے ہوئیں۔ ہٹلر کہتا تھا کہ "Evry thing for nation nothing against nation” (ہر چیز قوم کے لئے اور کوئی بھی چیز قوم کے خلاف نہیں)۔ ہٹلر کا یہی نظریہ تھا جس کی وجہ سے اس کی ذہنیت فسطائیت کی طرف مائل ہوئی۔ ہٹلر کی زندگی بھی ایک ناکام اورنامراد زندگی کہی جاسکتی ہے۔ اسے آخر میں خودکشی کرنی پڑی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھی اس نظریے کو گزشتہ سو سال سے پسند کیا جانے لگا ہے اور یہی وہ نظریہ ہے جس کی وجہ سے قوم و ملک اور انسانیت آج خطرے میں ہے۔ جس طرح ہٹلر نے یہودیوں کو اپنا دشمن بنایا تھا اور قوم پرستی میں غرق ہو گیا تھا اور اپنے ملک کے باشندوں کو جارحانہ قوم پرستی کا نشہ پلاکر اپنا حامی بنالیا تھا ٹھیک اسی طرح ہمارے ملک میں بھی مسلمانوںکے خلاف نفرت اور دشمنی کے ساتھ ساتھ قوم پرستی کی جارحیت کا نشہ پلایا جارہا ہے۔ ہر وہ واقعہ جو رونما ہوتا ہے اس کا بیانیہ کچھ اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ہندو/مسلمان ہوجائے۔
مثلاً پہلگام میں جو واقعہ ہوا وہ انتہائی قابل مذمت، افسوسناک اور شرمناک تھا۔ اس کے خلاف ہندستان کے سارے لوگ کھڑے ہوگئے۔ سارے لوگوں نے اس کی مذمت کی۔ خاص طور پر کشمیریوں نے اعلیٰ اخلاق و کردار کا مظاہرہ کیا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو مرنے والوں کی تعداد کئی گنا ہوجاتی۔ جو لوگ بچے ہیں ان میں سے اکثر و بیشتر لوگ کشمیریوں کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ ایک فوجی کی بیوہ کے سامنے اس کے شوہر کو مارا گیا۔ اس کی شادی ایک ہفتہ پہلے ہوئی تھی۔ شوہر کی لاش کے ساتھ اس کی تصویر بہت سے اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس خاتون نے جو بیان دیا ہے وہ سنہرے حرفوں سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ ہندو مسلمان میں تفریق کرنا نہیں چاہتی، وہ کسی قسم کی لڑائی نہیں چاہتی، بس وہ انصاف چاہتی ہے۔ ایک مغموم و مظلوم عورت کا بیان فرقہ پرستوں کے منہ پر بہت بڑا طمانچہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف فرقہ پرستوں کی ٹولی سرگرم عمل ہے اور ٹوئٹ پر ٹوئٹ کر رہی ہے۔ ٹرول پر ٹرول کر رہی ہے۔ اس اتحاد کے باوجود فرقہ پرست عناصر نفرت اور فرقہ پرستی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں۔
جنگ کے خلاف بہت سے دلائل دیئے جاسکتے ہیں۔ اردو کے بہت بڑے شاعر ساحرؔ لدھیانوی نے اپنی ایک نظم میں جنگ کے خلاف جو دلائل دیئے ہیں اسے عام کرنے کی ضرورت ہے۔
خون اپنا ہو یا پرایا ہو/نسل آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں/امن عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر/روح تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے/زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں/کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ/زندگی میّتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے/جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی/بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو/جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں/شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
برتری کے ثبوت کی خاطر/خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو/گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں/صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں
حاصل زندگی خرد بھی ہے/حاصل زندگی جنوں ہی نہیں
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں/فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے/ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ وحشت سے بربریت سے/امن تہذیب و ارتقا کے لئے
جنگ مرگ آفریں سیاست سے/امن انسان کی بقا کے لیے
جنگ افلاس اور غلامی سے/امن بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے/ امن بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمائے کے تسلط سے/ امن جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف/امن پر امن زندگی کے لیے
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...