Skip to content
مستقبل کے معمار حضرت مولاناغلام محمد وستانویؒ
ازقلم:سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی۔بجنور
9897334419
اٹھ رہی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں
کس کس کا ماتم کیجیے کس کس کو روئیے
ابھی ناظم مدرسہ مظاہر العلوم ،عارف باللہ حضرت مولانا محمد عاقل صاحب ؒ کی قبر کی مٹی سوکھی بھی نہیں تھی ،کہ مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور کے ہی ہونہار طالب علم اور اس کی مجلس شوریٰ کے فعال رکن جناب مولانا غلام محمد وستانوی صاحب بھی اللہ کو پیارے ہوگئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت مولانا مرحوم کی شناخت ایک عالم دین کے ساتھ ساتھ ایک عاشق قرآن کی تھی ۔وہ نیکی و تقویٰ میں اسلاف کے سچے پیرو تھے ۔ ملت کے بہی خواہوں کی فہرست میں ان کا شمار سب سے اوپر تھا ۔علم کی ترویج و اشاعت ،طلبہ کی خدمت ،علماء سے محبت ،اسلام کی دعوت ان کا اوڑھنا بچھونا تھی ۔علم کے معاملے میں وہ دینیات کے ساتھ عصری علوم کے قائل تھے ۔چنانچہ ان کے ذریعہ قائم تعلیمی اداروں میں انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم کا نظم بھی کیا گیا ہے ۔وہ جدید وسائل کے استعمال پربہت زور دیتے تھے ۔
مولانا موصوف کی زندگی نسل نو کے لیے مشعل راہ ہے ۔سادگی اور عاجزی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔وہ سب سے ملاقات کرتے تھے اور ہر کوئی ان سے مل سکتا تھا ۔ان کے یہاں کوئی دربان نہیں تھا ۔سادہ کپڑے زیب تن فرماتے اور سادہ کھانا کھاتے تھے ۔مدرسہ اشاعت العلوم اکل کوا میں قیام کے دوران وہ وہی کھانا کھاتے تھے جو طلبہ کو ملتا تھا ۔وہ مدارس کے ذمہ داران سے کہا کرتے تھے کہ طلبہ کو اچھا کھانا کھلائیں ،تاکہ وہ یکسو ہوکر تعلیم حاصل کرسکیں ۔ایک بار علماء کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا:۔’’ آپ لوگ اپنے مدراس میں مطبخ اور مسجد کا نظام درست کرلیں ،تعلیم کا نظام خود بخود درست ہوجائے گا ۔‘‘ عام طور پر مدارس کے طلبہ کو جو کھانا فراہم کیا جاتا ہے وہ عام انسانی معیار سے بھی گرا ہواہوتاہے ،اس سے نہ صرف طلبہ کے صحت متاثر ہوتی ہے ،بلکہ ان کے اندر احساس کمتری بھی پیدا ہوتا ہے ۔
مولانامرحوم قرآن مجید کے عاشق تھے ۔ہندوستان میں قرآن کے مسابقوں کو مہمیز دینے میں ان کا اہم کردار ہے ۔ان کی نگرانی میں حفظ قرآن کے سیکڑوں مدارس چل رہے تھے ۔خود بھی بہت اچھا قرآن پڑھتے تھے ۔پڑھنے کے ساتھ ساتھ قرآن کو سمجھنے کے بھی قائل تھے ۔اپنی گفتگو میں قرآن مجید کی آیات کا برمحل استعمال کرتے اور ان کے مفاہیم کو بیان کرتے ۔
کوئی بھی بڑا آدمی حقیقت میںاسی وقت بڑا ہوتا ہے جب وہ اپنے بزرگوں کا احترام اور اپنے خوردوں پر شفقت کرتا ہے ۔ہم اپنے اسلاف کی توہین کرکے کبھی عزت نہیں پاسکتے ۔مولانا موصوف اپنے اساتذہ کے ساتھ ساتھ اپنے ہم عصر علماء کی بڑی قدر فرماتے تھے ۔ان کے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھتے ،بلند آواز میں بات نہ کرتے ، اگر کچھ کہنا ہوتا تو اجازت لے کر نہایت نرمی سے اپنی بات کہتے ۔اللہ تعالیٰ نے ان خوبیوں کی بدولت حضرت مولانا کو بہت بلند مقام پر پہنچایا ۔وہ دارالعلوم دیوبند جیسی عظیم اسلامی دانش گاہ کے مہتمم (وائس چانسلر) بنائے گئے ۔یہ منصب کوئی معمولی منصب نہیں ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ مولانا کی جدت پسندی اور عصری علوم کے تئیں ان کی فکر مندی کے باعث بہت زیادہ دن تک وہ اس منصب پر فائز نہ رہ سکے ،اگر ان کو اس منصب پر بنے رہنے دیاجاتا تو میرا یقین ہے کہ آج دارالعلوم نئی رفعتوں کو چھو رہا ہوتا ۔
مولانا غلام محمد وستانوی ؒ ایک عملی انسان تھے ۔وہ خاموشی کے ساتھ کام کرنے کو پسند کرتے تھے ۔اسی لیے آپ ان کو اخبارات کی شہ سرخیوں میںبہت زیادہ نہیں پائیں گے ۔جو لوگ بنیادی کام کرتے ہیں ،ان کے پاس اتنا وقت بھی نہیںہوتا کہ ہر اسٹیج کی زینت بنیں اور اپنے فوٹو کھنچوائیں ،یا سوشل میڈیا پر اپنی ریلیں وائرل کریں ۔جس طرح عمارت میں بنیاد کی اینٹیں سارا بوجھ خود اٹھانے کے باوجود رنگ و روغن سے بے نیاز رہتی ہیں اسی طرح حضرت مولانا بھی ،ریا و نمود سے بے نیاز تھے ۔حالانکہ سینکڑوں مدارس کی بنیاد میں وہ شامل تھے ،درجنوں بڑے مدارس کی شوریٰ کے رکن تھے ،ملی ودینی جماعتوں کے ممبر تھے ،پھر بھی ایک عام مسلمان کی سی زندگی گزارتے تھے ۔کرو فر ،ہائو ہو اور کبر غرور ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے ۔ان کے چہرے پر ایک شان بے نیازی تھی ،جو ان کو دیگر واعظان قوم سے ممتاز کرتی ہے ۔
مولانا موصوف نے مدارس کے قیام میں تعاون و رہنمائی کے ساتھ ساتھ مساجد کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔حسب ضرورت مساجد کی تعمیر میں وہ دل چسپی لیتے تھے ۔اس کے لیے وسائل فراہم کرتے تھے ۔انھوں نے پورے ملک میں7500سے زیادہ مساجد تعمیر کرائیں،وہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان سے کماحقہ ٗ واقف تھے کہ جس نے اللہ کے لیے مسجد کی تعمیر کی اللہ اس کے لیے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا۔(مسلم )
آپ نے یکم جون 1950کو کوساڑی ضلع سورت ،گجرات میں آنکھیں کھولیں ۔آپ کی پیدائش کے دوسرے یا تیسرے سال ہی آپ کے والد ایک دوسرے گائوں ’’ وستان‘‘ منتقل ہوگئے ،اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ وستانوی لکھاجاتا ہے ۔آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ قوت الاسلام کوساڑی میں ہی ہوئی ۔یہاں سے آپ نے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔اس کے بعد بڑودہ کے مدرسہ شمس العلوم میں داخل ہوئے ،البتہ عالمیت کی تکمیل آپ نے دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر (گجرات) سے کی ۔1972میں آپ نے مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور کا رخ کیا ۔یہاں سے دورہ حدیث کی سند حاصل کی ۔اسی درمیان آپ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریاؒ کی خوب خدمت کی اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا ،حضرت شیخ سے آپ کا قلبی و تربیتی تعلق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا۔آپ کو حضرت مولانا محمد صدیق باندویؒ سے بھی خلعت خلافت عطا ہوئی ۔آپ کے مشہور اساتذہ میں ،مولانا شیر علی افغانی ؒ ،مولانا ذوالفقار علی ؒاور حضرت مولانا محمد یونس جونپوریؒ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔آخرالذکر سے آپ نے بخاری شریف کا درس لیا ،اسی کے ساتھ آپ کو حضرت مولانا محمد یونس جونپوریؒ سے اجازت بیعت و اجازت حدیث بھی حاصل ہوئی ۔آپ نے دینی علوم کے ساتھ عصری علوم میں گریجویشن کیا۔
تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کئی مدارس میں آپ نے تدریسی خدمات انجام دیں ،لیکن قدرت کو آپ سے عظیم کام لینا تھا اس لیے آپ نے مدرسہ اشاعت العلوم اکل کوا ،کی بنیاد رکھی اور اسے اپنے لہو سے سینچا ۔الحمد للہ آج یہ ادارہ اپنے تعلیمی نصاب و نظام تعلیم کے باعث پوری علمی دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے ۔اس ادارے میں جہاں ایک طرف دینی علوم میں حفظ و قرأت ،عالمیت و فضیلت اور دورہ حدیث کے کورس کرائے جاتے ہیں،وہیں دوسری طرف،عصری علوم کے کورس بھی اعلیٰ پیمانے پرچلائے جاتے ہیں ۔اس طرح اشاعت العلوم اکل کوا عصری و اسلامی علوم کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے اور یہاں کے فارغین دنیا کی عملی زندگی میں قوم و ملک کو بہترین خدمات دینے کے قابل ہیں۔
جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم نے 1993ء میں عصری تعلیم کے شعبے کا آغاز آئی ٹی آئی سے کیا، جس کے بعد بی یو ایم ایس میڈیکل کالج قائم کیا گیا۔ اس کے بعد اردو اسکول (پرائمری سے بارہویں جماعت تک سائنس کے ساتھ)، انجینئرنگ کالج (بی ای اور ڈپلوما انجینئرنگ)، فارمیسی کالج (بی فارمیسی، ڈی فارمیسی اور ایم فارمیسی)، بی ایڈ اور ڈی ایڈ کورسز اردو و مراٹھی زبان میں اور پھر ایم بی بی ایس میڈیکل کالج اور نرسنگ (جی این ایم) پروگرامز کا آغاز کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایل ایل بی پروگرام اور انگلش میڈیم اسکول (کے جی سے بارہویں جماعت تک) بھی متعارف کرائے گئے۔ علاوہ ازیں، دیگر کورسز میں آفس آٹومیشن، ٹیلرنگ، امبرائڈری، جلد سازی اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے پیشہ ورانہ شعبے بھی شامل ہیں۔
جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم نے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ سماجی خدمات کے شعبے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں 7500 سے زائد مساجد 12000 پانی کے لیے بورنگ، سیکڑوں مدارس اسکول کالج وغیرہ کی تعمیر کا انتظام کیا گیا ہے، 2500 مکاتب قائم کیے گئے ہیں اور 34 ہسپتالوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔
جامعہ کے زیرِ اہتمام انڈین انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس اینڈ ریسرچ و نور ہسپتال، واروڈی بدناپور (ضلع جالنہ) کا قیام عمل میں آیا، جو مہاراشٹر کا پہلا مسلم اقلیتی میڈیکل کالج ہے اور میڈیکل کونسل آف انڈیا (MCI) سے منظور شدہ ہے۔ کالج کے ساتھ 770 بستروں پر مشتمل نور ہسپتال قائم ہے، جہاں جدید طبی سہولتیں دستیاب ہیں اور روزانہ سینکڑوں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ یہ ادارہ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو معیاری طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔
حضرت مولاناغلام محمد وستانوی ؒ نے الحمد للہ تنہاوہ کام انجام دیا جس کے لیے ایک پوری جماعت کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ وہ عظیم خدمات ہیں جو مولانا موصوف کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہیں اور عوام کو ان کا گرویدہ بناتی ہیں ۔مجھے امید ہے کہ مولانا کی علمی ،دینی ،سماجی اور فلاحی خدمات بارگاہ رب العزت کی نظر میں قابل قدرقرار پائیں گی اور ان کے لیے جس طرح دنیا میں عزو شرف کا باعث بنی ہیں ،اسی طرح آخرت میں ذریعہ نجات اور حصول جنت کا باعث بھی بنیں گی ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے ۔ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے ،پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور امت کو ان کا نعم البدل نصیب فرمائے ۔آمین
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...