Skip to content
دبئی,5مئی(ایجنسیز)اگرچہ اتوار کی شب اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں متفقہ طور پر غزہ میں فوجی آپریشن کو وسیع کرنے کی منظوری دے دی گئی . تاہم اجلاس کے دوران اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر اور قومی سلامتی کے (انتہا پسند) وزیر ایتامار بن گوئر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔
فوجی سربراہ زامیر نے بن گوئر اور دائیں بازو کی وزیر اوریت ستروک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، آپ ہم سب کو خطرے میں ڈال رہے ہیں”۔ یہ بات بن گوئر کے اس مطالبے کے جواب میں کہی گئی جس میں انھوں نے تباہ حال فلسطینی علاقے غزہ کا مکمل محاصرہ جاری رکھنے، امدادی اشیاء اور خوراک کی فراہمی بند کرنے، اور علاقے پر مکمل قبضہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔زامیر نے واضح کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کو "بھوک سے مارنے” کی پالیسی اختیار نہیں کر سکتیں کیوں کہ اس کا منفی اثر فوجیوں کی سیکیورٹی پر پڑے گا۔ انھوں نے بن گوئر کے بیانات کو خطرناک قرار دیا۔
اس موقع پر اسرائیل کی اٹارنی جنرل گالی بہاراف ميارا نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل قانونی طور پر غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کا پابند ہے۔تاہم بن گوئر اپنے موقف پر قائم رہے اور کہا کہ "وہاں کافی خوراک موجود ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ان لوگوں کی خود سے مدد کرنی چاہیے جو ہم سے لڑ رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون میں یہ کہاں لکھا ہے؟”
غزہ پر مکمل قبضہ اور آبادی کو جنوب کی طرف دھکیلنے کا منصوبہ
اس تلخی کے باوجود ایک اسرائیلی اعلیٰ سیاسی عہدے دار نے پیر کو بتایا کہ کابینہ نے فوجی سربراہ کی غزہ کے لیے تجویز کردہ آپریشنل پلان کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد "حماس کو شکست دینا اور اسرائیلی قیدیوں کو بازیاب کروانا” ہے، جو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیانات سے مطابقت رکھتا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اگر ضروری ہوا تو فوج کے ذریعے انسانی امداد تقسیم کی جا سکتی ہے تاکہ حماس امداد پر کنٹرول نہ کر سکے اور اس کی حکمرانی کو کمزور کیا جا سکے۔ البتہ زامیر نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ اس عمل سے فوج کو خطرات لاحق ہوں گے۔منظور شدہ منصوبے میں غزہ پر مکمل قبضہ، زمین پر کنٹرول حاصل کرنا، شہریوں کو جنوب کی طرف منتقل کرنا، حماس کو انسانی امداد کی تقسیم سے روکنا، اور اس کے خلاف شدید حملے شامل ہیں۔
ٹرمپ کا منصوبہ
عہدے دار نے مزید کہا کہ یہ آپریشن غزہ کے مکمل کنٹرول تک جا سکتا ہے اور اس دوران اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "رضاکارانہ ہجرت” کے منصوبے کو بھی فروغ دے رہا ہے۔نیتن یاہو نے اس منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مؤثر حکمتِ عملی ہے جو حماس کی شکست اور یرغمالیوں کی واپسی دونوں مقاصد پورے کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ سابقہ پالیسیوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ محض کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ زمین پر قبضے اور وہاں مستقل موجودگی کی حکمت عملی ہے۔یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایک دن قبل فوجی سربراہ اعلان کر چکے تھے کہ دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ فوجی کارروائی کو وسیع کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اسرائیل پہلے ہی غزہ کے تقریباً ایک تہائی علاقے پر قابض ہے، لیکن مارچ سے امداد کی فراہمی بند کرنے پر عالمی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔اسرائیل نے اس محاصرے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حماس امداد چھین کر یا تو اپنے جنگجوؤں میں تقسیم کر دیتی ہے یا بیچ دیتی ہے … تاہم حماس نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
Like this:
Like Loading...