Skip to content
بسم اللہ الرحمن الر حیم
"اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تب کیا کرنا چاہئے؟
از قلم: عبدالواحد شیخ ممبئی،
8108188098
اکثر لوگ پولیس کے رویے کو لے کر پریشان رہتے ہیں اور کسی معاملے میں جب وہ پولیس کے پاس ایف آئی آر درج کرنے جاتے ہیں تو اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں ٹال مٹول کا رویہ اختیار کرتی ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے ۔ اسی سلسلے میں رہنمائی کے لیے آج ہم دہلی ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بارے میں بات کریں گے۔ معاملہ یہ ہے کہ دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی ۔ یہ پٹیشن نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (NHRC) کے 27 ستمبر 2023 کے ایک حکم نامے کے خلاف کی گئی تھی۔ اس حکم نامے میں این ایچ آر سی نے دہلی پولیس کو حکم دیا تھا کہ ڈاکٹر نیرج کمار کو 50 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے۔
معاملہ 24 نومبر 2021 کا ہے۔ مالویہ نگر پولیس اسٹیشن کو ایک فون ڈاکٹر نیرج کمار کی طرف سے آیا جس میں انہوں نے پولیس سے کہا کہ کچھ لوگ ان کے دواخانہ پر آکرجھگڑا کر رہے ہیں۔ فون کے بعد انویسٹیگیشن آفیسر اے ایس ائی رمیش چند میرا نے ڈاکٹر کی کلینک جا کر معائنہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے اپنا میڈیکل ایگزامینیشن دینے اور تحریر ی شکایت دینے سے انکار کر دیا ۔ کلینک میں موجود اسٹاف نے بھی تحریری شکایت دینے کے منکر ہوۓ۔ اس لیے آئ او اس کیس میں ایف آئی آر درج نہ کر سکا۔ ایف آئی آر درج نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے دن ڈاکٹر نیرج نے این ایچ آر سی میں پولیس والوں کے خلاف شکایت درج کی۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ لوگ غیر قانونی طور پر ان کی کلینک میں داخل ہو کر جھگڑا کرنے لگے اور لیڈیز اسٹاف کے ساتھ بدتمیزی کی۔ انہوں نے پولیس کو فون کیا، شکایت کی مگر پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ کمیشن نے شکایت موصول ہونے کے بعد ڈی سی پی دہلی کو حکم دیا کہ چار ہفتے میں اس معاملے میں ایکشن ٹیکن رپورٹ (اے ٹی آر) پیش کرے۔ رپورٹ میں پولیس نے کہا کہ پولیس نے ڈاکٹر نیرج سے پوچھ تاچھ کی جس پر پتہ چلا کہ نان بینکنگ فائنانس کمپنی (این بی ایف سی) سے اس ڈاکٹر نے لون لیا تھا.
لیکن کووڈ ( Covid) کی وجہ سے وہ لون ادا کرنے میں تاخیر کرتا ہے اس لیے این بی ایف سی کے پانچ لوگ لون وصول کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر نے این ایچ آر سی میں شکایت کی۔ در حالانکہ ڈاکٹر نے پولیس کے خلاف شکایت کی تھی نہ کہ کمیشن کے خلاف لیکن پولیس نے غلط بیانی سے کام لیا۔ پولیس نے اس پر بھی بس نہ کیا اور اپنے جھوٹ کو جاری رکھتے ہوئے کہا چونکہ اب دونوں کے درمیان مفاہمت ہو چکی ہے اس لیے ڈاکٹر اپنی شکایت پر کوئی کاروائی نہیں چاہتا ۔
ڈاکٹر کی شکایت پر این ایچ آر سی نے وجہ بتاؤ نوٹس پولیس کو جاری کیا کہ آپ نے ایف آئی آر درج نہیں کی تو آپ کے خلاف یہ حکم کیوں نہ دیا جائے کہ پولیس ڈاکٹر نیرج کو 50 ہزار روپے معاوضہ ادا کرے؟ اس نوٹس کا جواب پولیس نے نہیں دیا تو این ایچ آر سی نے دوسری نوٹس پولیس کو جاری کی۔ ڈاکٹر کو پتہ چلا کہ پولیس جھوٹی باتیں لکھ کر کمیشن کو گمراہ کر رہی ہے۔ تب اس نے اس دوران این ایچ آر سی کو ایک میل بھیجا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ میں اس شکایت پر کوئی کاروائی نہیں چاہتا ، بالکل غلط ہے۔ آپ دیکھیے کہ کس طرح سے پولیس والے غلط رپورٹ مختلف عدالتوں میں اور کمیشن میں پیش کرتے ہیں۔ پہلے تو ڈاکٹر کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، ڈاکٹر کی کوئی مدد نہیں کی گئی اور یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر اور فائننس کمپنی میں سیٹلمنٹ ہو چکا ہے، اور یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر اب اس شکایت پر کوئی کاروائی نہیں چاہتا۔
اچھا ہوا کہ ڈاکٹر نے بروقت این ایچ آر سی کو پولیس کے جھوٹ کے بارے میں آگاہ کر دیا۔ پولیس نے مناسب جواب نہیں دیا تو این ایچ آر سی نے پولیس کو حکم دیا کہ 50 ہزار روپے ڈاکٹر کو معاوضہ ادا کرے۔ این ایچ آر سی نے تسلیم کیا کہ پولیس کی غلطی ہے اور پولیس نے جو بیان دیا ہے کہ ڈاکٹر کاروائی نہیں چاہتا بالکل غلط ہے۔ اس حکم کے خلاف دہلی پولیس، دہلی ہائی کورٹ میں دو بار عرضی کر چکی ہے ۔ پہلی عرضی اس لیے وڈرا
( withdraw ) کر لی کیونکہ اس میں این ایچ آر سی کا فائنل آرڈر نہیں لگایا تھا۔ پہلے وہ صرف این ایچ آر سی کے شو کاز نوٹس کو چیلنج کر رہے تھے۔ بعد میں دوسری عرضی میں فائنل آرڈر کو بھی ختم کرنے کی بات کی۔
پولیس نے عدالت میں یہ دلیل دی کہ ڈاکٹر نیر ج یا اس کے کسی سٹاف نے مارپیٹ، بدتمیزی، غیر قانونی اندر گھس آنے کے بارے میں کوئی تحریری شکایت نہیں دی تھی اس لیے ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی ۔ پولیس نے ان دلیل کو مضبوط کرنے کے لیے ڈاکٹر نیرج کا ریکارڈ کیا ہوا ایک بیان بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ شکایت پر کاروائی نہیں چاہتے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ کس طرح سے پولیس غلط بیانات عدالتوں میں پیش کرتی ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر نیرج نے ایسا کوئی بیان پولیس کے سامنے نہیں دیا تھا۔ بلکہ وہ تو چاہتے تھے کہ ایف آئی ار درج کی جائے اور پولیس نے ایف ائی آر درج نہیں کی اس لیے وہ پولیس کے خلاف کاروائی کے لیے این ایچ آر سی چلے گئے۔
پولیس نے 9 نومبر 2023 کو کیے گئے انکوائری کی ایک رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی ہے۔ رپورٹ این ایچ آر سی کے حکم کے بعد محض پولیس اپنی چمڑی بچانے کے لیے تیار کرتی ہے۔ جس افسر کے خلاف ڈاکٹر نے شکایت کمیشن کو دی وہی آفیسر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور یہ بیان لکھوا لیتا ہے کہ وہ کمیشن کے سامنے شکایت کو آگے بڑھانے کے لیے راضی نہیں۔ عدالت نے لکھا ہے کہ یہ عمل اس آفیسر نے محض اس لیے کیا ہے تاکہ وہ کمیشن کے عتاب سے بچا رہے۔ جو بیان ڈاکٹر کا پولیس نے ریکارڈ کرنے کا دعوی کیا ، وہ بیان بھی واضح نہیں کرتا کہ یہ بیان کب ، کہاں ریکارڈ کیا ہے۔
پولیس نے عدالت کے سامنے یہ بھی جھوٹ کہا کہ انکوائری رپورٹ کمیشن کو پیش کی اس کے بعد بھی کمیشن نے معاوضے کا حکم جاری کیا۔ در حالانکہ کمیشن کا آرڈر پہلے ہوا اور پولیس انکوائری رپورٹ بعد میں تیار کی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس ہائی کورٹ کے سامنے کاغذی دستاویز ہونے کے باوجود بھی غلط بیانی سے کام لیتی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن کا حکم صرف گائیڈ لائنز نہیں بلکہ ان کو یہ حکم ماننا ہوگا ۔ کمیشن کے حکم کا پالن کرنے کی بجائے پولیس نے ایک انکوائری کر کے اس کی آڑ میں حکم پر عمل کرنے سے بچنے کی کوشش کی ۔ اس حکم کے بعد بھی پولیس FIR درج کرنے میں تساہلی برتتی رہی۔ دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کی عرضی مسترد کر دی اور کمیشن کے حکم کو مان کر معاوضہ دینے کی بات کہی ہے۔
ہمارا کہنا یہ کہ اس میں عام لوگوں کے لیے ایک سبق ہے ۔ اگر اس طرح کا کوئی معاملہ خدانخواستہ آپ کے ساتھ پیش آتا ہے ، پولیس آپ کی شکایت کے باوجود بھی ایف آئی آر لینے کے لیے تیار نہیں ہے، تو آپ کو فورا متعلقہ پولیس اور مطالقہ شہر کے پولیس کمشنر کو شکایت درج کر دینی چاہیے ۔ آج کل آن لائن ایف آئی آر درج کرنے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ میل کے ذریعے پولیس کمشنر کو شکایت بھیجی جا سکتی ہے ۔ اگر آپ کے دکان یا مکان کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہوں تو اس میں سے فوٹیج نکال کر وہ بھی اپنی شکایت کے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ثبوت کے ساتھ آپ اپنی بات رکھ سکیں۔ کچھ دن انتظار کرنے کے بعد ریمائنڈر ( یاد دہانی) عرضی داخل کرنی چاہیے۔ اس پر بھی کوئی کاروائی نہ ہو تو این ایچ آر سی کو اپروچ کیا جا سکتا ہے۔ کمیشن کی پروسیڈنگ پر نظر رکھے۔
اگر پولیس غلط رپورٹ، غلط بیان آپ کے حوالے سے این ایچ آر سی میں پیش کرتی ہے تو فوراََ اس کا مدلل اور صحیح جواب پیش کیا جائے۔ این ایچ آر سی کا حکم اگر آپ کے حق میں آتا ہے اور اسے پولیس ہائی کورٹ میں چیلنج کرتی ہے تو وہاں بھی آپ کو لڑنا ہوگا اور جس طرح ڈاکٹر نیرج کمار نے اس کیس میں 50 ہزار روپیہ معاوضہ دہلی پولیس سے حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی آپ کو بھی کامیابی مل سکتی ہے۔ بات محض 50 ہزار روپے حاصل کرنے کی نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ پولیس کا رویہ غلط ہے، پولیس اپنے شہریوں کے ساتھ بد سلوکی کرتی ہے، بھیدبھاؤ کرتی ہے، ٹال مٹول کرتی ہے، جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اس کیس پر بنائی ہوئی ہماری ویڈیو اور دہلی ہائی کورٹ کا یہ ججمنٹ دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے ہوئے لنک میں دیکھ سکتے ہیں شکریہ
https://youtu.be/5Vj2wn91GkI?si=cqRCpWz4GT2vds4c
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...