Skip to content
پہلگام حملہ کے مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے میں تاخیر کیوں؟
دہشت گردی کسی بھی رنگ میں ہو انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے
ازقلم:عبدالغفارصدیقی
9897565066
پہلگام حملہ کی چو طرفہ مذمت کی گئی ہے اورکی جارہی ہے ۔یہاں تک کہ ہمسایہ ملک کی تنظیموں کے ذمہ داران اور باثر افراد بھی اس کی مذمت کررہے ہیں،بھلے ہی دکھاوے کے لیے کررہے ہوں ۔ سیاحوں پروحشیانہ دہشت گردانہ حملہ کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ساری دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ دہشت گردی اورمعصوم انسانوں کا قتل انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے ۔اس کے باوجود دنیا بھر میں یہ مذموم عمل جاری ہے ۔پہلگام حملہ کے تعلق سے الیٹرانک اور سوشل میڈیا پر طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں ۔حملہ کے فوراً بعد ہمارے ملک کے گودی میڈیا نے ایک خاص انداز سے رپورٹنگ کرکے ملک کی فرقہ وارانہ فضا کو مکدر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ دوچار چھٹ پٹ واراداتوں کے علاوہ کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا۔کہا گیا کہ دہشت گردوں نے نام پوچھ کر ،کپڑے اترواکر ایک خاص مذہب کے افراد کو ہی نشانہ بنایا۔یہاں تک کہ انھوں نے کلمہ سن کر کئی لوگوں کو چھوڑ دیا اور جس نے نہیں سنایا اس کو گولی ماردی ۔مرنے والوں میں بیشتر وہ لوگ تھے جو اپنی فیملی کے ساتھ پکنک منانے گئے تھے ۔دہشت گردوں نے جو کچھ کیا ،جس طرح کیا وہ انسانیت کو شرم سار کرنے والا ہے ۔وہ اپنے گھنائونے عمل کی کوئی توجیہ نہیں کر سکتے ،اس حادثہ کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی اور اس حال میں تو بالکل نہیں جب کہ وہاں ایک منتخب جمہوری سرکار موجود ہے ۔گودی میڈیا کی منفی رپورٹنگ نے ملک بھر میں اقلیتوں اور خاص طور پر کشمیریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈال دیا ۔کئی جگہ ان پر حملہ کیے گئے ۔ایک جنونی تو کلہاڑا لے کر نکل گیا اور ایک شخص پر کئی وار کیے اور اس نے کہا کہ میں بھی 26لوگوں کو ماروں گا ۔جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ کو دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کرنی پڑی کہ کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ظاہر ہے انتقام کی یہ آگ گودی میڈیا کی جانب دارانہ رپورٹنگ نے بھڑکائی تھی ۔حالانکہ ان حالات میں میڈیا کی ذمہ دارای ہے کہ وہ لوگوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے بجائے ،ان کے اندر عدل و انصاف اور صبر و تحمل کے جذبات پیدا کرے ۔
دہشت گردی کا اگرچہ کوئی مذہب اور دھرم نہیں ہوتا ۔اس کے باوجود جب بھی کوئی کارروائی ایسے لوگوں کی طرف سے انجام دی جاتی ہے جن کا نام مسلمانوں جیسا ہوتا ہے تو دہشت گردی کو نہ صرف اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے ،بلکہ تمام مسلمانوں کو جرم کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے ۔جب کہ اس طرح کے حادثات کی مذمت کرنے والوں میں مسلمان پیش پیش رہتے ہیں ۔مسلمان رہنما ہر بار صفائی دیتے ہیں کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ۔اس کے برعکس جب یہی حادثات غیرمسلموں کی جانب سے انجام دیے جاتے ہیں تو شاذو نادر ہی ہندودھرم کے رہنما اس کی مذمت کرتے ہیں ۔بلکہ ملک نے کئی بار یہ تماشہ بھی دیکھا ہے کہ ہندورہنمائوں نے ان لوگوں کا استقبال کیا ہے ،جنھوں نے مسلم کش فسادات میں اہم کردر ادا کیا ہے ۔مظفر نگر فسادات کے موقع پر اس وقت کے وزیر سنگیت سوم کا اس لیے پھولوں سے استقبال کیا گیا کہ انھوں نے مسلمانوں کو سبق سکھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔گجرات کی بلقیس بانو کے ساتھ زنا بالجبر کرنے والوں کی سزائیں حکومت کے دبائو میں معاف کردی جاتی ہیں ،ان کے جیل سے نکلنے پر زوردار استقبال کیا جاتا ہے ۔ملک میں ماب لنچنگ کے درجنوں واقعات ہوچکے ہیں ،جن میں مسلمانوں کی جانیں گئی ہیں ،مگر ایک بھی واقعہ میں کسی ملزم کے مکان کو بلڈوز نہیں کیا گیا ۔جب کہ مسلمانوں کے تعلق سے محض شبہ ہونے پر بھی بلڈوزر پہنچ جاتا ہے ۔کیا ہولی کے جلوس کے دوران مساجد پر رنگ ڈالنا ،اشتعال انگیز نعرے بازی کرنا ،معمول کی بات نہیں ہوگئی ہے ؟کیا مسلمانوں کے کسی تیوہار پر کسی مندر کے ساتھ کوئی بدسلوکی کبھی کی گئی ہے ؟ملک کی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی مندر یا معبود کی بے حرمتی نہیں کی ۔اس لیے کہ ان کے دین میں اس عمل سے ان کو روکا گیا ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں ہندو مسلم منافرت کی جو ہوا گودی میڈیا کے ذریعہ چلائی جارہی ہے اور جس کو ہندو شدت پسند اپنے بیانات سے ہوا دیتے رہے ہیں ،یہ ملک کی سالمیت کے لیے بڑا خطرہ ہے ۔اس پر روک لگنی چاہیے ۔مجرم کو اس کے جرم کے مطابق سزا دی جانی چاہیے ،نہ کہ اس کے دھرم کے مطابق ۔انصاف کے دوہرے پیمانے سماج میں عدم تحفظ اور بے یقینی کی صورت حال پیدا کرتے ہیں ،جس سے ملک میں بدامنی پھیلنے کا خدشہ بنا رہتا ہے ۔
اس وقت سوشل میڈیا پر ایک دو نہیں سیکڑوں ویڈیوز موجود ہیں ،جن میں پہلگام حملہ پر گفتگو کی گئی ہے ۔طرح طرح کے سوالات کھڑے کیے جارہے ہیں ۔مثلاًپہلگام کے اہم سیاحتی مقام پر پولس اور فوج موجود کیوں نہیں تھی ؟حادثہ کے مقام سے پولس چوکی اور فوجی چھائونی کے سات کلومیٹر دور ہونے کے باوجود ان کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ کیوں لگا؟اس لیے کہ ایک خاتون نے یہ گواہی دی ہے کہ میرا شوہر ڈیڑھ گھنٹے تک زندہ تھا ،وہ تڑپتا رہا ،اگر بروقت اسے طبی مدد مل گئی ہوتی تو وہ زند ہ بچ جاتا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ انٹلی جنس کی جانب سے پہلے ہی کسی دہشت گردانہ حملہ کی خبر دی گئی تھی ،اس کے باوجود وہاں سیکوریٹی نہیں تھی ،سوال یہ بھی ہے کہ حملہ سے ہفتہ بھر پہلے بی جے پی کے ایک وزیر سیاحت کے لیے گئے تھے تو ان کی حفاظت پر سیکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے تھے ،اور پہلگام میں دوہزار سیاحوں کی حفاظت پر کوئی نہیں تھا۔سوال تو یہ بھی ہے کہ کشمیر میں ہر طرح کے حالات سازگار ہونے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے دور میں تقریباً ہر سال کوئی نہ کوئی چھوٹی بڑی واردات ہوہی جاتی ہے ۔جب ہمارے محترم وزیر اعظم اقتدار میں نہیں تھے تو اس وقت کے وزیر اعظم سے بہت سوالات پوچھتے تھے ،جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے ،مگر اب کوئی ان سے سوال پوچھتا ہے تو اسے ملک دشمن گردانتے ہیں ۔کیا پہلگام حملہ کی اخلاقی ذمہ داری برسر اقتدار گروہ کی نہیں بنتی اور انھیں اس کے لیے استعفیٰ نہیں دینا چاہیے؟حملہ کے فوراً بعد میڈیا نے ہم سایہ ملک کو حملہ کا ذمہ دار قرار دے دیا ،لیکن دس منٹ پہلے تک اسے کوئی خبر کیوں نہیں مل سکی ؟
ملک کی حفاظت سب سے مقدم ہے ۔ملک کی حفاظت میں ذرا سی غلطی اور چوک بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے ۔اگر ہماری سرحدیں محفوظ نہیں ہیں تو ہم کس طرح چین سے سو سکتے ہیں ؟ملک کے ہر شہری کی جان قیمتی ہے ۔صرف نیتائوں کو تحفظ فراہم کرنا اور عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑدینا کسی طرح بھی انصاف نہیں ہے ۔کسی کی موت پر تعزیتی بیان دینے اور چند لاکھ روپے دینے سے ہم دکھ ہلکا کرسکتے ہیں لیکن اس کا مداوانہیں کرسکتے ،جس نوجوان کی شادی کو محض ایک ہفتہ ہوا تھا اس کی شہادت کے بعد اس کی بیوہ کی تکلیف کا کوئی مرحم نہیں ہے ،ہم ہر حادثہ کے بعد عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہونے دیں مگرہر بار حادثہ ہوجاتا ہے ۔اس معاملہ میںہماری بے حسی انتہا کو پہنچ گئی ہے ۔دہشت گرد کوئی جن نہیں ہیںکہ نظر نہ آتے ہوں ،وہ کسی آسمان سے نہیں ٹپک پڑتے ،اگر ان کا تعلق ملک کی سرحد کے دوسری جانب سے ہے توبی ایس ایف کی موجودگی میں کس طرح وہ ہمارے ملک میں داخل ہوجاتے ہیں ؟یہ حادثہ ہمارے سیکوریٹی سسٹم ،ہماری انٹلی جنس سروس اور ہمارے نظم و نسق پر ایک بدنما داغ ہے ۔
پہلگام حادثہ 22؍ اپریل 2025کو رونما ہوا تھا۔ پندرہ دن گزرنے والے ہیں ،ابھی تک اس کے مجرموں ،اور ان کے آقائوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی ہے ۔جب ہمارا اس بات یقین ہے کہ یہ حملہ ہمسایہ ملک نے کرایا ہے، تو پھر تاخیر کیسی ؟ہمیں عالمی برادری کے سامنے ثبوت و شواہد پیش کرنے کے ساتھ ہی مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔آمدورفت بند کردینا،تجارتی اور آبی معاہدے منسوخ کردینا ،کچھ چینلوں پر پابندی لگادینایا چند ایکس اکائونٹ بند کردینے سے شہیدوں کی روح کو سکون ملنے والا نہیں ۔پاکستان کا وجودہی بھارت کے لیے اذیت کا باعث ہے ۔صرف غلام کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان پر بھارتی ترنگا لہرانے کی ضرورت ہے ،ہماری فوجی اور دفاعی طاقت کے سامنے پاکستان ٹکنے والا نہیں ،اس کی فوج نے 1971میں بھی ہتھیار دالے تھے ،وہ آج بھی ڈالیں گے ۔اس سلسلے میں ہمیں کسی سے خوف زدہ ہونے یا اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔مگر ملک میں حکمرانوں کی نسشت و برخاست سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ انتقام لینے کے بجائے وقت ٹالنے میں مصروف ہیں ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ملک کا میڈیا ہماری قوت ارادی پر سوال اٹھانے لگا ہے ۔مجھے امید ہے کہ ہماری حکومت حادثہ کے ذمہ داران کو ایسا سبق سکھائے گی کہ ان کی نسلیں بھی اس کو یاد رکھیں گی ۔اسی کے ساتھ ان لوگوں کو بھی سزادی جائے گی جن کی نااہلی ،یا جن کی چوک کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ۔بھارت کا ہر شہری حکومت کے ہر فیصلے کے ساتھ ہے ۔ہمارے درمیان آپس میں لاکھ اختلاف ہوسکتے ہیں ،لیکن جب کوئی باہری طاقت ہم پر حملہ آور ہوگی تو ہم سب ایک ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے ۔
Like this:
Like Loading...