Skip to content
یاالٰہی یہ مدینہ کیسی بستی ہے
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے عظیم الشان روحانی مراکز ہیں ،یہ اہل ایمان کے نزدیک سب سے محترم ومتبرک اور قابل عظمت مانے جاتے ہیں ،مکہ معظمہ میں خدا کی عبادت کے لئے تعمیر کردہ پہلا گھر ’’ کعبۃ اللہ ‘‘ ہے ،مدینہ منورہ میں نبی آخر الزماںؐ کا ’’ روضہ ٔ مبارکہ ‘‘ ہے نیز یہاں نبی ؐ کی تعمیر کردہ مسجد نبویؐ بھی ہے ، مکہ اور مدینہ کو حرمین شریفین کہا جاتا ہے ،ایک حرم مکی ہے تو دوسرا حرم نبویؐ ہے ، مکہ مکرمہ نبی ٔ آخر الزماںؐ کی جائے پیدائش ہے تو مدینہ منورہ جائے ہجرت ہے ،آپ ؐ نے مکہ مکرمہ میں پیدائش سے لے کر نبوت کے بعد تیرہ سال تک قیام فرمایا اور پھر بحکم خداوندی مدینہ منورہ ہجرت فرمائی اور یہاں دس سال مقیم رہے اور وفات کے بعد یہی آرام فرماکر اس کو عزت و شرف بخشا، مدینہ منورہ کی بزرگی اور عظمت کے لئے اتنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لاڈلے ،پیارے اور آخری نبیؐ کو اس کی طرف ہجرت کرنے اور اسے جائے اقامت بنانے کا حکم فرمایا ، مکہ مکرمہ کے لئے ابوالانبیاء سیدنا ابراہیم ؑ نے دعا فرمائی تھی جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے تو بلاشبہ مدینہ منورہ کے لئے خاتم الانبیاء سید المرسلین ،رحمۃ للعالمین ؐ نے دعا فرمائی تھی جس کا ذکر متعدد احادیث میں موجود ہے ،آپ ؐ نے مدینہ منورہ کے لئے ان الفاظ میں دعا مانگی ’’اے اللہ برکت عطا فرما ہمارے شہر مدینہ میں ،ہمارے (مدینہ کے) پیمانوں میں،اے اللہ یقینا حضرت ابراہیم ؑ تیرے بندے تیرے خلیل تیرے نبی تھے اور بے شک میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ،حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کے لئے دعا مانگی تھی اور میں مدینہ کے لئے ویسی ہی اور اس کے مثل دعا مانگتا ہوں جیسی کہ انہوں نے مکہ کے لئے مانگی تھی ‘‘(مسلم شریف)،ایک دوسری حدیث میں آپ ؐ نے مدینہ کے لئے دوگنی برکت کی دعا فرمائی ہے ’’اے اللہ !آپ مدینہ میں اس برکت کا دوگنا عطا فرمائے جو آپ نے مکہ معظمہ کے لئے مقرر فرمائی ہے (بخاری شریف)،مدینہ منورہ کی ہر سمت برکت ہی برکت اور رحمت ہی رحمت ہے جس کا ہر آن کھلی آنکھ سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے ،مدینہ منورہ اسلام کا مرکز ، علم کا منبع اور سر چشمہ ہے اور قیامت تک رہے گا، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اسلام سمٹ جائے گا مگر مدینہ منورہ میں اسلام وایمان کا غلبہ رہے گا ،آپ ؐ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’ (قرب قیامت میں) ایمان اسی طرح مدینہ کی طرف لوٹ آئے گا جیسا کہ سانپ اپنے سوراخ کی طرف لوٹتا ہے‘‘(بخاری شریف)۔
مدینہ منورہ کا ذرہ ذرہ رحمت الٰہی سے معطر اور یہ علاقہ وبائی امراض اور دجالی فتنے سے محفوظ ہے ،اللہ تعالیٰ نے یہاں فرشتوں کا زبردست پہرہ لگا رکھا ہے ،مجال ہے کہ دجال اس طرف کا رخ کرے اور وبائی امراض یہاں بسیرا کرے،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’مدینہ منورہ کے داخلہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں ،نہ یہاں طاعون پھیلے گا اور نہ ہی دجال داخل ہو سکے گا(مسلم شریف)، اہل ایمان کے لئے مدینہ منورہ کا قیام باعث سعادت بلکہ باعث رشک ہے ،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں دیار نبی ؐ کی حاضری کاشرف حاصل ہوتاہے ،انہیں روضہ اطہر کی زیارت ،مسجد نبوی کی عبادت اور مقامات مقدسہ کے مشاہدہ کا موقع نصیب ہوتا ہے، صبح کی کرنیں انہیں مرحبا کہتی ہیں تو شام میں ستارے مسکراکر مبارک باد دیتے ہیں ، انہیں ان گلیوں سے گزرنے کا موقع ملتا ہے جہاں کا ذرہ ذرہ آج بھی نبیؐ اور اصحاب نبی ؐ کی خوشبوؤں سے معطر ہے ،ان گلیوں سے گزر نے والا جب چودہ صدی پیچھے خیالات کی دنیا میں گم ہوجاتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے ابھی ابھی یہاں سے سروردوعالم ؐ اپنے اصحاب کے ساتھ گزرے تھے ، وہ قت بھی کیسا حسین تھا ،وہ دن کس قدر خوبصورت تھے اور وہ لمحات کس قدر دلکش تھے ، جب سر دار انبیاء ؐ ابوبکر وعمر ،عثمان وعلی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ گزر رہے ہیں تو زمین کے فرشتے راستوں کے دونوں جانب قطار لگائے اس حسین منظر کو شوق نگاہ سے دیکھتے ہوں گے اور آسمان کے فرشتے درود کے پھول برسا رہے ہوں گے ، چنانچہ یہاں قیام کرنے والا اس طرح کا تصور کرے گا تو ہر لمحہ اس کی چاہتوں میں اضافہ ہوتا جائے گا اور مدینہ منورہ میںبیتے ہوئے لمحات کو اپنے لئے عظیم سعادت تصور کرے گا اور دوران قیام اگر کچھ کمی بیشی ہوجائے یا پھر کسی تکلیف سے دوچار ہوجائے تو اس پر صبر وضبط کرنا آسان ہو جائے گا ،کیونکہ یہ مقام ادب ہے یہاں اظہار تکلیف منع ہے ،یہ مقام محبت والفت ہے ،سچے غلام کی چاہتوں کا مرکز ہے ،شکوہ وشکایت محبت ناقص کی نشانی ،جو شخص قیام مدینہ منورہ میں تنگیوں اور دشواریوں پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتا ہے تو ایسے شخص کے لئے آپ ؐ نے شفاعت اور گواہی کی بشارت سنائی ہے ، آپ ؐ نے ارشاد فرمایا’’میراجو بھی امتی مدینہ منورہ میں قیام کے دوران تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کے لئے سفارشی بنوں گا ،اور ایک روایت میں ہے کہ میں اس کے حق میں (ایمان کی) گواہی دوں گا،جو شخص یہاں کی تکلیفوں پر بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے اور شکایت سے اپنی زبان درازکرتا ہے تو وہ رحمت الٰہی سے دور اور مدینہ کی برکتوں سے محروم ہوجاتا ہے،بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ کسی زائر مدینہ نے یہاں کے ’’دہی‘‘ کے کھٹے ہونے کی شکایت کی رات خواب میں نبی ؐ تشریف لائے اور اس شکایت کرنے والے سے ناراض ہوکر فرمانے لگے کہ اگر مدینہ کا دہی کھٹا لگتا ہے تو یہاں سے نکل جاؤ ، یقینا مدینہ جائے ادب ہے اس لئے جتنے دن یہاں قیام ہو باادب ہوکر گزارنا چاہیے۔
جس طرح مدینہ منورہ میں قیام کرنا باعث برکت اور عظیم سعادت ہے اسی طرح یہاں کی موت بھی باعث فضیلت اور قابل رشک ہے ،رسول اللہ ؐ نے یہاں مرنے والے کے لئے اپنی سفارش کی خوشخبری دی ہے ،ارشاد فرمایا’’جو شخص مدینہ منورہ میں وفات پانے کی استطاعت رکھے اسے یہاں کی موت (حاصل) کرنی چاہئے ،کیونکہ میں یہاں مرنے والے کی سفارش کروں گا(ترمذی)، آدمی کے لئے اگر یہاں کا طویل قیام مسیر ہو جائے تو ضرور اسے قیام کرنا چاہئے اور اگر اسی حالت میں اس کا وقت وفات آجائے تو یہ بڑی سعادت کی بات ہوگی کہ اس کے جسد خاکی کو مدینہ کی خاک نصیب ہوگی اور قیامت کے دن یہی سے اٹھایا جائے گا اور ان خوش نصیبوں میں اس کا شمار ہوگا جن کی سفارش کا رسول اللہ ؐ نے وعدہ فرمایا ہے ۔
مدینہ منورہ وہ شہر ہے جہاں نبی ؐ کی تعمیر کردہ مسجد ہے اور اسی میں آپ ؐ کا روضہ ہے جہاں ہر آن رحمتوں کی بارشیں برستی رہتی ہیں،تجلیات ربانی کا ظہور ہوتا رہتا ہے اور انوار وبرکات کا لامحدود سلسلہ ہر لحظہ جاری رہتا ہے ، مسجدحرام کے بعد دنیا کی یہ دوسری مسجد ہے جہاں پر ایک نماز پر پچاس ہزار نمازنوں کا ثواب ملتا ہے اور مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے بقدر ملتا ہے، مدینہ منورہ میں داخلے کی جس وقت سعادت ملے چاہیے کہ اس کی بھر پور قدر کرے اور بڑے اہتمام سے مسجد نبویؐ میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ پنجوقتہ نمازیں ادا کریں ،رسول اللہ ؐ نے چالیس نمازیں پڑھنے والے کے لئے تین خوشخبریاں دی ہیں ،ارشاد فرمایا’’جس شخص نے میری مسجد میں چالیس نمازیں مسلسل اس طرح پڑھیں کہ ان میں سے کوئی نماز نہیں چھوٹی تو اس کو تین باتوں سے برأت کا پروانہ عطا ہوتا ہے(۱) جہنم سے(۲)عذاب سے(۳)نفاق سے (طبرانی)،مسجد نبوی ؐ کا سب سے اہم حصہ ’’ریاض الجنہ‘‘ ہے جو روضہ اقدس اور منبر نبویؐ کے درمیان میں واقع ہے،اس کا کل رقبہ ۵؍۳۹۷ مربع میٹرہے،ریاض الجنہ کے متعلق رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے کہ ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے(بخاری شریف)اس ٹکڑے کے متعلق دو قول مشہور ہیں ایک یہ کہ زمین کا یہ ٹکڑا بعینیہ جنت میں چلا جائے گا دوسرے اس حصہ میں عبادت کرنے والوں کو آخرت میں جنت کے باغات نصیب ہوں گے ،ریاض الجنہ میں جملہ سات ستون ہیں جن کے نام یہ ہیں اسطوانۂ حنانہ،اسطوانۂ ابولبابہ،اسطوانۂ وفود،اسطوانۂ حرس،اسطوانۂ جبرئیل،اسطوانۂ سریر،اسطوانۂ عائشہ،ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس ساتیوں ستون کے کے باے میں فرماتی ہیں کہ یہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کی جاتی ہیں ،اس لئے اگر موقع ملے تو یہاں آکر کچھ وقت عبادات اور دعا میں گزارنا چاہیے ، گنبد خضریٰ پر نظر پڑتی ہے یا مواجہہ شریف کی طرف قدم بڑھتے ہیں اور روضہ اطہر کی جالیاں دکھائی دیتی ہیں تو کیفیت ہی کچھ اور ہوتی ہے، دل کی حالت بدل جاتی ہے،فرط محبت میںآنکھیں نم اور غایت احترام میں پلکیں جھک جاتی ہیں اور زائرکبھی اپنے اور کبھی روضہ اطہر کی جانب دیکھتا ہے اور خدا کی رحمت ،نبی کی چاہت اور اپنے نصیب پر ناز کرتا ہے کہ گناہگار ہونے کے باوجود حاضری کا موقع نصیب ہوا ہے ، روضہ اطہر کی جالی میں تین پیتل کے دائرہ بنے ہوئے ہیں ،سب سے بڑا آپ ؐ کا موجہ شریف ،دوسرا خلیفہ ٔ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور تیسرا خلیفہ ٔ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کا مواجہہ شریف ہے ،یہاں بڑے دائرہ پر آئیں اور قبلہ کی طرف پشت اور روضہ اطہر کی طرف رخ کریں اور نہایت ادب واحترام کے ساتھ کھڑے ہوں اور تصور کریں کہ ہم عاجز وعاصی اپنے نبی کے سامنے حاضر ہیں ،نہایت ادب کے ساتھ سلام عرض کریں کیونکہ حدیث میں ہے کہ ’’ جو کوئی مجھ پر سلام بھیجے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں‘‘(مسند احمد)،یوں کہے الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ( اے اللہ کے رسول ؐ آپ پر درود وسلام )الصلاۃ والسلام علیک یا حبیب اللہ (اے اللہ کے حبیب ؐ آپ پر صلاۃ وسلام)الصلاۃ والسلام علیک یا خیر خلق اللہ ( اے افضل الخلق آپ پر صلاۃ وسلام) ، پھر ایک قدم دائیں جانب ہٹ کر خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبرؓ کی خدمت میں سلام عرض کریں ’’السلام علیک یا خلیفۃ رسول اللہ ،السلام علیک یاصاحب رسول اللہ ‘‘،اس کے بعد مزید ایک قدم ہٹ کر خلیفہ دوم سیدنا فاروق اعظم ؓ کی خدمتط میں سلام عرض کریں ’’ السلام علیک یا امیر المؤمنین ،السلام علیک یا عز الاسلام والمسلمین‘‘ ،پھر دوبارہ مواجہہ شریف کے سامنے آئے اور خوب تضرع کے ساتھ رسول اللہ ؐ کے وسیلے سے اپنی ،اپنے اہل خانہ ،متعلقین اور مسلمانان عام کی مغفرت ، اسلام کی سر بلندی اور دنیا وآخرت کی کامیابی کی دعائیں کریں اور جب تک مدینہ منورہ میں قیام رہے موقع بموقع حاضر ہوکر سلام پیش کرتے رہیں اور ہر لمحہ خدا کا شکر ادا کرتے رہیں کہ اس نے زندگی کی سب سے بڑی خواہش محض اپنے فضل وکرم سے پوری فرمائی ، یہ وہ جگہ ہے جہاں سید الانبیاء ہیں ،یہاں گنبد خضریٰ ہے اور اس میں صاحب اسریٰ ہیں ؎
یہاں گنبد خضریٰ ہے یہاں صاحب اسریٰ ہے
اللہ کی قدرت کا شاہکار مدینہ ہے
یاالٰہی یہ مدینہ کیسی بستی ہے
جہاں دن رات تری رحمت برستی ہے
Like this:
Like Loading...