Skip to content
ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے
(حضرت مولانا غلام محمد وستانوی کے سانحہ رحلت پر خصوصی تحریر)
ازقلم:مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
استاذ حدیث وادب،
ادارہ کہف الایمان، ٹرسٹ ،
بورابنڈہ ، حیدرآباد
اکابرین کی رحلت کا سلسلہ جاری ہے ، کچھ ہفتوں قبل سے حضرت مولانا غلامحمد وستانوی صاحب کی طبیعت کی ناسازی اور ڈاکٹروں کے ان کے زیست وحیات کے تعلق ناامید کے اظہار کی باتوں کا سلسلہ جاری تھا؛پھر اچانک سے سوشل میڈیا پر غلام وستانوی صاحب کی نہایت نحیف کمزور اور لاغر استخواں ، ایک بستر مرگ پر پڑے شخص کو دیکھنے کا موقع ملا، جس میںلکھا ہوا تھاکہ حضرت کی نقاہت اور لاغری مزید بڑھ گئی، پہلے تو یقین نہیں ہوا یہ وہ وہی شخصیت ہیں ،جو ایک ذات میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتی ہیں ، جب فوٹو زوم کیا تو پھر وستانوی صاحب کی صورت وشباہت نظر آئی، تبھی سے بظاہر یہ یقین ہوچلا کہ یہ خادم قرآن، خادم علوم فرقان، یہ امت کا جیالا،ہزاروں لاکھوں لوگوں کامسیحا، امت کا ڈھرکتا دل، یہ ہر روز اپنی روشنی بکھیرنا والا عظیم سورج شاید غروب ہوجائے ، پھر یہ خبر صاعقہ بن آئی کہ وستانوی صاحب اس دنیا فانی سے رحلت فرما گئے، بروز چہارشنبہ٤فروری کا دن خصوصا مسلمان ہند ، وعلماء وطالبان علوم نبوت ہی نہیں، بلکہ برصغیر کے ائمہ واکابر اور دنیا بھر کے دینی حلقوں میں بے چینی اور بے قراری کا دن تھا، ہو کا سا عالم تھا، اتنے بڑے پیمانے پر تعزیتی پیغامات اور دعاؤوں کا سلسلہ شاید ملک وبیرون ملک میں قریبی وفات پانے والے شخصیات میں کسی کے لئے منعقد کئے گئے ہوں، وسیع تر ، ہمہ جہات کاموں کا جال، جہد مسلسل اور عمل پیہم کا یہ پیکر، مدارس ومساجد اور قرآن کی کریم کی مجالس کو سنوارنے وسجانے والے ایک مشہور اور بافیض شخصیت اور ایک عظیم ادارے کے مہتمم جہاں انہوں نے دینی وعصری تعلیم کا حسین سنگم جمع کردیا تھا، ایک طویل زمانے تک دار العلوم کے رکن رکین، پھر کچھ وقت کے لئے منصب اہتمام پر کا انکا براجمان ہونا، ان ساری خوبیوں اور صفات نے ان کو ایک جامع اور کامل شخصیت بنا دیا تھا، ہر شخص ان کی مختلف الجوانب اور وسیع الجہات خدمات پررطب اللسان تھا، اس لئے ان کے موت کے سانحے نے ساری امت مسلمہ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا، سارے مدارس میں دعاؤں کے ساتھ دینی وعلمی طبقہ سارا دن بلکہ دوسرے دن بھی محو حیرت اور حضرت نماز جنازہ اور اس میں حاضر والے جم غفیر پر نگاہ کئے ہوئے تھا، بس چر چا تھاتو غلام وستانوی صاحب کا ، ایک شخص نہیں ، ساری دنیا کوویران کرگیا۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا
اس دوران حضرت کا ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، اس حوالے سے نہایت پر اثر اور پر مغز دلائل قرآن پر مشتمل بیان کے بھی سماعت کا موقع ملا۔
لیس علی اللہ بمستبعد أن یجمع العالم فی واحد
کسی شاعر نے کہا ہے
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
تعارف
حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی، جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا(مہارشٹر) کے سابق مہتم، اور ملک کے متعدد اداروں کے سرپرست ونگران ،وطن مالوف ”وستان” ضلع سورت، ولادت یکم جون١٩٥٠، والد کا نام حاجی محمد اسماعیل، ابتدائی تعلیم ”کوساری” کے مدرسہ قوت الاسلام میں ہوئی، بعد ازاں ١٩٦٥ء میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے دار العلوم فلاح دارین ترکیسر تشریف لے گئے اور مفتی احمد بیمات، مولانا ذوالفقار قاسمی اور مولانا عبد اللہ کاپودروی وغیرہ سے استفادہ کیا، پھر ١٣٩٢ھ ١٩٧٢ میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں داخلہ لیا اور شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ اور حضر ت مولانا یونس جون پوری رحمہ اللہ وغیرہ وقت کے اساتذہ فن سے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔
تدریسی زندگی کا آغاز ضلع سورت کے ایک قصبہ ”ادھانا” سے کیا، بعد میں کچھ دنوں تک ”دار العلوم کنتھاریہ ” میں بھی منصب تدریس پر فائزرہے، پھر اخیرش ایک نہایت پسماندہ علاقہ اکل کواضلع نندوبار میں مدرسہ اشاعت العلوم کی داغ بیل رکھی، جو ترقی کرتے ہوئے ایک عظیم یونیورسٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے ، اس کی سینکڑوں شاخیںہیں، مدرسہ سے ہزاروں حفاظ اور علماء نے علوم اسلامیہ کی تکمیل کی، عصری تعلیم درسگاہوں کا سلسلہ بھی شروع کیا، جس میں پرائمری اسکول، ہائی سکنڈری ، بی ایڈ کالج ، انجنیرئنگ کالج اور میڈیکل کالج بھی شامل ہیں۔
١٤١٩ھ،میں دار العلوم کی مجلس شوری کا رکن بنایا گیا، پھر حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب کی وفات کے بعداجلاس مجلس شوری منعقدہ ٥صفر١٤٣٢ھ، مطابق :١١۔١٠ جنوری ٢٠١١ء کو آپ کو منصب اہتمام کے لئے چنا گیا، آپ ٢١ شعبان ١٤٣٢ھ ٢٣جولائی ٢٠١١ء تک اس منصب پر فائز رہے ، یعنی کل سات ماہ آپ کا دورانیہ اہتمام رہا ۔وستانوی جمعیة علماء ہند کی اہم تحریک” دینی تعلیمی بورڈ” سے منسلک رہے ، چنانچہ آپ کو ١٩٩٥ء کے اجلاس مجلس منتظمہ ممبئی میں ”دینی تعلیمی بورڈ” کا صدر بھی بنایا گیا۔
خادم القرآن والمساجد
وستانوی کو قرآن ومساجد کی بیش بہا اور وسیع ترین خدمات کی وجہ سے خادم القرآن والمساجد کے لقب سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، ہزاروں حفاظ قرآن اور سینکڑوں مساجد کے جال ملک کے ہر سمت میں بچھادیا، قرآن کریم کے حفظ اوراس کے مسابقات منعقد کرنا اور طلبہ کو حفظ قرآن پر ابھارنا، مساجد کی تعمیر وترقی کے حوالہ سے ان کی کثیر الجہات وہمہ سمت خدمات نے ان کو ہر عام وخاص کی زبان پر ”خادم القرآن والمساجد” کے لقب سے ملقب کردیا،ہر وقت قرآن کے ساتھ شغف، اس سے محبت کا اظہار، حفظ قرآن کی ترغیب ، حافظ قرآن کی قدر واہمیت ، قرآن کریم کا سننا وسنانا حضرت والا کا مشن او رمنصب رہا، جس کی وجہ سے اللہ عزوجل اس شخصیت کو موجودہ دور کے اندرعلمی حلقوں میں ایک خاص مقام عطا کیا، جس کی ان کی ہمہ سمت شخصیت موزوں بھی تھیں۔
موت اس کی ہے، کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے
انتقال پر ملال
مولانا وستانوی کا انتقال٢بج کر ٣٠منٹ کے قریب ٤مئی، ٢٠٢٥ء کو بعمر ٧٥ سال ہوا، کئی سالوں سے فریش تھے ، اور مسلسل علاج جاری تھا، ”مگر موت سے کس کو رستگاری ” آج وہ تو کل ہماری باری ہے ، جس کو ”کل نفس ذائقة الموت” کے مصداق سے قرآن کریم میں یاد کیا گیا، کہ ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، اس دنیا فانی سے بمنزل آخر ت کوچ کر گئے۔ وستانوی صاحب ایک صاحب تقوی بزرگ، عاشق رسول اور خدمت دین میں پیش پیش رہنے والے شخصیت تھے،ان کی تعلیمی کاوشوں نے مسلمانوں میںشعور اور ترقی کا ایک نیا باب رقم کیا، ان کی خدمات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا،ان کی عظیم تعلیمی ،دینی اور رفاہی خدمات سے صرف نظر ان کے اوصاف حمید ہ، اخلاق کریمانہ ایسے تھے کہ ان کی شخصیت کا ذہن ودل پر اثر پڑتاتھا، ان کی نرم خوئی، نرم مزاجی، خورد نوازی، عاجزی وانکساری، بڑوں کی خدمت، چھوٹوں پر شفقت مثالی تھی، مردم شناسی اور مردم گری اور قدردانی کا بڑا وافر حصہ اللہ عزوجل نے ان کو عطا کیا تھا ،اولا انہوں نے حضرت مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ سے اصلاحی تعلق قائم کیا، بعد ازاں مولانا صدیق احمد باندوی سے رجوع کیا، ان کے خلیفہ اور مجاز ہوئے، مزید انہیں مولانایونس جونپور سے بھی اجازت بیعت حاصل ہوئی، وہ دینی وعصری علوم کا عجیب سنگم اور انہوں نے قدیم اور جدید علوم کو یکجا کر کے ملت کو کو ایک نیا فکری زاویہ عطا کیا تھا، وہ اخلاص وسادگی اور مستقل مزاجی کے پیکر تھے، قیام مکاتب اور خدمت قرآن میں ان کا کوئی مثیل وبدیل نہیں تھا، ان کی وفات سے آج عالم اسلام ، ایک عظیم قرآنی وروحانی شخصیت سے محروم ہوگیا، انکی رحلت سے صرف لاکھوں انسانوں کی آنکھیں ہی نم نہیں ہوئیں بلکہ ہزاروں مدارس ومکاتب کے در ودیوار بھی گریہ کناں اور اپنی یتیمی اوربے بسی کا اظہار کررہے ہیں۔
وہ جن کے ذکر سے رگوں میں دوڑتی تھیں بجلیاں
انہیں کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتناسرد ہے
اللہ عزوجل حضرت مولانا حذیفہ وستانوی اور دیگر ابناء وفرزندان ودختران ووالدہ واہلیہ محترمہ کو صبر جمیل عطا فرمائیں، اور مولانا وستانوی صاحب کو جنت الفردوس میں ٹھکانا نصیب فرمائے۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
Like this:
Like Loading...