Skip to content
کچھ یہ ہے کہ دربار میں سنوائی بھی کم ہے
از قلم عبدالواحد شیخ، ممبئی
8108188098
آج ہم سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بارے میں بات کریں گے جس میں قتل کے کیس سے ۳ لوگوں کو باعزت بری کر دیا گیا۔ فہیم احمد نے 25 جون 1988 کو مقبرہ پولیس اسٹیشن کوٹا راجستھان میں ایف آئی آر درج کی۔ اس نے کہا کہ ایک روز وہ اور احسان علی نیا پورہ احسان کے سسرال جا رہے تھے۔ اس وقت فہیم نے عبدالستار اور عبدالواحد کو راستے میں دیکھا تھا۔ ان دونوں کے احسان علی سے ناموافق تعلقات تھے۔ اسی لیے اس نے احسان کو مشورہ دیا کہ واپسی میں وہ دوسرے راستے سے جائیں گے۔ مگر احسان علی نے انکار کر دیا ۔ واپسی پر راستے میں گھنٹہ گھر کے پاس رات کے وقت ملزم بابو عبدالستار ، عزیز عرف پٹی، عبدالشکور، بندو لاتور علی اچانک ان پر حملہ کر دیتے ہے۔ چاقو سے بابو نے احسان علی کے پیٹھ پر وار کیا جس سے وہ بائیک سے گر گیا ۔ عبدالواحد نے اس کے سینے پر وار کیا ، عبدالشکور نے تلوار سے احسان علی کی پیٹ پر حملہ کیا ۔ فہیم احمد وہاں سے بھاگ گیا ۔ پولیس اسٹیشن آکر اس نے شکایت درج کی۔ اس پورے حملے کے گواہ واحد جو کہ احسان علی کا سالا اور جمیل ہے۔ اس نے کہا کہ دشمنی کی وجہ سے سات لوگوں (ملزمین) نے احسان علی پر حملہ کیا۔ ایف آئی آر درج ہوئی ۔ زخمی احسان علی کو ہسپتال لے گئے۔ مگر زخموں کی تاب نہ لاکر وہ ہلاک ہو گیا۔ سیکشن ، 147 148، 149،307،302 آئی پی سی کے تحت کیس درج ہوا۔ تفتیش کے بعد آٹھ ملزمین کے خلاف چار ج شٹ فائل ہوئی۔
سیشن عدالت میں معاملہ چلا 22 گواہ پیش ہوۓ۔ ملزمین کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور انہیں جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ ٹرائل کے دوران چار ملزمین عبدالستار، بندو لاتور علی ، عزیز اور پٹو ہلاک ہو گئے۔ قریب 15 سال بعد یعنی 10 مارچ 2003 کو سیشن کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم جعفر محمد کو باعزت بری کر دیا باقی تین ملزمین کو عمر قید کی سزا ہوئی۔ اس سزا کے خلاف تینوں ملزمین نے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ قتل کے 23 سال بعد یعنی 26 اگست 2011 کو ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ہوئی۔ 2012 کے آخر تک تینوں ملزمین کو سپریم کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا ۔ پولیس کے گواہ نے عدالت میں قبول کیا تھا کہ اس پر تین چار کریمنل کیس ہے، وہ پولیس کا اسٹاک وٹنس ہیں۔ عدالت نے لکھا ہے کہ اس کو چشم دید گواہ کے طور پر قبول کر کے اس کی گواہی پر سزا دینا مشکوک ہے۔ دفاع کا کہنا ہے تفتیشی افسر نے قبول کیا کہ جس موٹر سائیکل پر مقتول جا رہا تھا اور اس پر حملہ ہوا وہ بائیک پولیس نے ضبط نہیں کی ، خون سے ملی مٹی کو ضبط کر کے اسے ایف ایس ایل نہیں بھیجا گیا ۔ جس چاقو اور تلوار سے حملہ ہوا وہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ ہتھیار کی ضبطے کا پولیس نے پنج نامہ تو بنایا مگر پنجوں نے کہا کہ ان کے سامنے کچھ برآمد نہیں ہوا ۔ بلکہ پولیس اسٹیشن میں انہوں نے پولیس کے دباؤ میں پنچ نامے پر دستخط کیے۔ شکایت کنندہ نے کہا تھا کہ مقتول کے پیٹ پر حملہ ہوا مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پیٹ پر کوئی زخم کے نشان نہیں پائے گئے۔ ہائی کورٹ نے پانچ گواہوں کے بیانات مسترد کر دیے کیونکہ ان کے بیانات عد الت کے اعتماد کو مضبوط نہیں کرتے ۔ ڈاکٹر، جس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کیا اس کے بیان میں بھی تضاد ہے ۔ جن گواہوں نے مقتول کو زخمی حالت میں دیکھا اور فوراََ اسے ہسپتال میں نہیں لے گئے اور نہ ہی پولیس کو آگاہ کیا جس سے وہ مشکوک ہو جاتے ہیں ۔ جراح کے دوران فہیم نے بتایا کہ جب مقتل کو مارا جا رہا تھا تو اس نے شور نہیں کیا کیونکہ قاتلوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر کسی نے شور کیا تو اس کو مار دیا جائے گا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جب مارپیٹ ہو رہی تھی تو 100 لوگ آس پاس کھڑے تھے اور کوئی بھی انہیں بچانے نہیں آیا۔ پولیس کے گواہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزمین کے کہنے پر چاقو تلوار برآمد کیے۔ مقتول کے کپڑے اس کے ساتھ ایف ایس ایل کو بھیجے۔ گرفتار ملزمین ہیبوچول آفینڈرز ہے۔
عدالت نے لکھا ہے کہ تمام ہی گواہوں کے بیانات قریباََ متضاد ہے۔ فہیم موقع واردات سے بھاگ کر قریب کی پولیس اسٹیشن کیوں نہیں گیا؟ بھیڑ میں سے کوئی بھی مقتول کی مدد کے لیے نہیں آیا۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر آئی کہ اس کیس کے ایک ملزم کے خلاف دوسرے کیس میں بھی فہیم گواہ بنا ہے۔ ایسا مشکوک گواہ جس کی گواہی پر کسی کو سزا دینا مناسب نہیں، اگر دیگر شواہد نہ ہو تو ۔ پولیس نے جو ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کیا وہ بہت دنوں بعد ضبط کیے گئے ، کھلی جگہ سے ضبط ہوئے، جس پر عام لوگوں کا تصرف تھا ۔ ہتھیاروں پر خون کے دھبے نہیں تھے۔ ملزمین کے کپڑے ضبط کر کے ایف ایس ایل کو نہیں بھیجے گئے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ان پر لگا خون مقتول کا خون ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزمین نے قتل کیا مگر ان کے خلاف مضبوط شواہد پولیس پیش کرنے میں ناکام ہے۔ اس لیے عدالت نے سیشن کورٹ، ہائی کورٹ کی سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مجرم کو باعزت بری کر دیا۔ پنکج مٹل اور اجل بھویان جسٹس نے فروری 2025 میں سپریم کورٹ کی ایک عدالت میں یہ فیصلہ سنایا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ سالوں سے قید ایک انسان کو کے اس سے آزادی ملی لیکن کیا اپ اسے مکمل انصاف کہہ سکتے ہیں۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ احسان علی کا قتل کس نے کیا ؟ اگر گرفتار کیے گۓ ملزمین نے قتل نہیں کیا تو پھر اصل قاتل کون ہے؟ سپریم کورٹ نے اس جانب توجہ نہیں دی .ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بے گناہوں کو باعث بری کرنے کے بعد سپریم کورٹ یہ سوال کھڑا کرتی کہ اصل قاتل کون ہے؟ پولیس کی سرزنش کی جاتی یا پولیس کو دوبارہ تفتیش کا حکم دیا جاتا. یا کم از کم اتنا ہوتا کہ جن لوگوں نے جھوٹا کیس بنایا ان پولیس والوں پر کیس نہیں بنا سکتے تو ان سے معاوضہ لے کر رہا کیے جانے والے ملزمین کو دیا جاتا۔ لیکن سپریم کورٹ نے بس اتنا ہی فیصلہ دیا کہ ان لوگوں نے جرم کیا ہے یا نہیں کیا ہے۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ مکمل انصاف ہونا چاہیے۔ نہ صرف یہ دیکھا جانا چاہیے کہ گرفتار شدہ لوگوں نے جرم کیا ہے یا نہیں بلکہ اصل مجرموں کا پتہ لگانا چاہیے۔ اور جب تک وہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے نہیں کر دیے جاتے اس وقت تک تفتیش کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ پولیس والوں پر جرمانہ عائد کر کے انہیں آگے بے گناہ لوگوں کو کیس میں ہنسانے سے روکا جا سکتا ہے کاش ہماری عدالتیں اس جانب بھی توجہ دیتیں۔ ضیا ضمیر نے اسی حالت پر شاید کہا ہے :
کچھ ظلم و ستم سہنے کی عادت بھی ہے ہم کو
کچھ یہ ہے کہ دربار میں سنوائی بھی کم ہے
اگر آپ احسان علی کیس کا سپریم کورٹ کا ججمنٹ دیکھنا چاہتے ہیں اور اس پر بنائی ہوئی ہماری ویڈیو سننا چاہتے ہیں تو نیچے دیے ہوئے لنک پر کلک کریں شکریہ
https://youtu.be/YuR0ZWNiCgo?si=zROm8TX6MOA35Jrm
Like this:
Like Loading...