Skip to content
اسرائیل،10مئی(ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے آج جمعے کے روز اعلان میں بتایا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا، جسے کامیابی سے فضا میں تباہ کر دیا گیا۔
العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق یہ میزائل بیت المقدس اور تل ابیب کی سمت داغا گیا تھا۔ اس کے بعد 231 مقامات پر خطرے کے سائرن بجائے گئے جب کہ تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو روکنے کا حکم دے دیا۔ تاہم، حوثی قیادت کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ یہ جنگ بندی صرف امریکہ سے متعلق ہے، اسرائیل پر حملے اس میں شامل نہیں۔
وقت مطالعہ
گھنٹے
اسرائیلی فوج نے آج جمعے کے روز اعلان میں بتایا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا، جسے کامیابی سے فضا میں تباہ کر دیا گیا۔
العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق یہ میزائل بیت المقدس اور تل ابیب کی سمت داغا گیا تھا۔ اس کے بعد 231 مقامات پر خطرے کے سائرن بجائے گئے جب کہ تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کو روکنے کا حکم دے دیا۔ تاہم، حوثی قیادت کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ یہ جنگ بندی صرف امریکہ سے متعلق ہے، اسرائیل پر حملے اس میں شامل نہیں۔
حوثی جماعت کے سینئر سیاسی رکن عبد المالک العجری نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کا مطلب اسرائیل کے ساتھ امن نہیں ہے۔
حوثیوں کے اہم مذاکرات کار محمد عبد السلام نے برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ "یہ معاہدہ صرف امریکہ کے ساتھ ہے، اور وہ بھی عمان کی ثالثی سے، جس کے تحت امریکی جہازوں پر حملے بند کیے گئے ہیں بشرطیکہ امریکہ بھی حملے نہ کرے”۔
اد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے حوثی باغی، اسرائیل پر متعدد بار میزائل اور ڈرون حملے کر چکے ہیں۔ ان حملوں اور بحیرہ احمر و خلیج عدن میں تجارتی جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کو حوثی … فلسطینیوں کے لیے "نصرت” قرار دیتے ہیں۔ ادھر اسرائیل اور اس کے اتحادی ان حملوں کو ایران کی حمایت یافتہ جارحیت سمجھتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...