Skip to content
ظریفانہ: کسی کی تم دل آزاری نہ کرنا، سیاست میں اداکاری نہ کرنا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
سبکدوش باغ میں چہل قدمی کے دوران آئی ایف ایس للن سے کرنل کلن نے کہا بھیا آج تو میں نے وکرم مصری کو دھو ڈالا۔
کلن نے حیرت سے پوچھا کون وکرم ؟ وہ جو تمہارے پڑوس میں رہتا ہے؟ مجھے تو نہایت شرف انسان لگتا ہے۔ کیا کردیا اس بیچارے نے؟
ارے بھیا وہ تو چکرم مستری ہے ۔ میں نے اسے چوہے مارنے کے لیے(پیسٹ کنٹرول) بلایا تو وہ بلی چھوڑ گیا ۔
اچھا سمجھ گیا ۔ تم خارجہ سیکریٹری وکرم مصری کی بات کررہے ہو لیکن وہ تو نہایت تجربہ کار افسر ہے ۔ بڑی خوبی سے حکومت کی ترجمانی کرتا ہے۔
کلن بگڑ کر بولا کیا خاک تجربہ ہے اس کو ؟ اس میں اور ہمارے پڑوسی چکرم مستری میں کوئی فرق نہیں ہے۔
یہ کیسی باتیں کرتے ہو کلن ۔ وکرم مصری کو نہ صرف اندرا کمار گجرال اور منموہن سنگھ بلکہ نریندر مودی کا بھی نجی سیکریٹری رہا ہے۔
کیا بکواس کرتے ہو ؟ اگر ایسا ہے تو اس نے چکرم مستری جیسا کام کیوں کردیا؟
بھائی اس بیچارے نے ایسا کیا کردیا جو تم اتنے خفا ہو رہے ہو؟
بھیا اس سے کہا گیا تھا کہ دہشت گرد چوہوں کو مارو لیکن وہ درمیان میں ٹرمپ نام کا بلاّ لے آیا اور اس کی میاوں میاوں نے کباڑہ کردیا ۔
للن نے حیرت سے کہا اچھا اب سمجھا !لیکن میں نے اس کے بیان میں ٹرمپ کا ذکر ہی نہیں سنا ۔
بھیا نام لینا ضروری تھوڑی نا ہے۔ اُدھر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا اِ دھر اس مصری کی ڈلی نے تائید کردی ۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ فوج پر کیا گزرے گی؟
ارے بھائی وہ تو صرف ترجمان ہے ۔ اپنی مرضی سے تھوڑی نا کچھ کہتا ہے۔ اس کو جو کہنے کے لیے کہا جاتا ہے کہہ دیتا ہے۔
تو کیا وہ کوئی طوطا ہے؟ ٹرمپ نے جو کہا اس کو دوہرا دیا ۔ اپنا دماغ استعمال نہیں کرسکتا ؟
ارے بھائی وہ ٹرمپ کا نہیں اپنے پردھان جی کا طوطا ہے۔ وہ اس سے جو کچھ کہنے کے لیے کہتے ہیں کہہ دیتا ہے بیچارہ ۔
کلن چڑِھ کر بولا کاہے کا بیچارہ ۔ مجھے تو لگتا ہے وہ ڈبل ایجنٹ ہے۔
یار کلن تم تو بہت بڑا الزام لگا رہے ہو ۔ ذرا سنبھال کر بولو ورنہ نیہا سنگھ راٹھور کی طرح تمہارے خلاف بھی بغاوت کا مقدمہ داغ دیاجائےگا۔
اپنی بلا سے میں نہیں ڈرتا اور کوئی بھی تو نہیں ڈرتا ۔ نہ نیہا، نہ میڈوسا، نہ عارفہ ، نہ سنجے شرما اور نہ پونیہ پرسُن۔ سب کے دل سے ہمارا ڈر نکل گیا ہے۔
للن ہنس کر بولا یہی تو پردھان جی کا کمال ہے کہ انہوں نے سب کو بہادر بنا دیا اور حد تو یہ ہے کہ اب پاکستان بھی ہم سے نہیں ڈرتا۔
کیا بکواس کرتے ہو للن۔ ہماری فوجوں نے تو اسلام آباد، لاہور اور کراچی سب پر قبضہ کرلیا تھا ۔ ان کو تو ڈرنا ہی پڑے گا ۔
یار میڈیا کی جنگ سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آکر بتاو کہ پھر وہ فوجی واپس کیوں آگئے؟ پاکستان کو بنگلہ دیش کی طرح ضم کرلیتے ۔
ارے بھائی آج کل کچھ ضم یا ہضم نہیں ہوتا۔ اس احسان فراموش بنگلہ دیش کو دیکھو پھر پاکستان کا ساتھ کھڑا ہو گیا ۔
بھیا بنگلہ دیش تو چھوڑو ہمارے ساتھ تو فی الحال نیپال اور سری لنکا بھی نہیں ہیں۔ تم امریکی بلےّ کے چکر میں چینی بھالو کوبھول گئے ۔
ہاں یار اس بھالوکا تو دماغ خراب ہوگیا ہے۔ تجارت ہم سے کرتا ہے اور پاکستان کے ساتھ ایسے کھڑا ہوگیا جیسے کشمیر کی طرح وہ اٹوٹ حصہ ہے۔
للن نے سوال کیا لیکن کیا تم جانتے ہو ایسا کیوں ہوا؟ پہلے ایسا نہیں تھا اب اچانک کیا ہوگیا؟ ذرا سوچو کہ کس نے اسے پاکستان کا گہرا دوست بنا دیا؟
یار دیکھو للن ہم بھگتوں کی شریعت میں سوچنا سمجھنا ممنوع ہے۔ ہمارا کام صرف سننا ، ماننا اور پھیلانا ہے۔ اسی کے پیسے ملتے ہیں اور گھر چلتا ہے۔
بھیاآئین کی دفع 370کے خاتمہ نے چین کو پاکستان کا گہرا دوست بنا دیا ۔
وہ کیوں ؟ ہم ہمارے ملک میں جو چاہیں کریں چین کا اس سے کیا لینا دینا؟ ہم چاہیں تو مقبوضہ کشمیر کو اپنے ساتھ کرلیں ۔
بھیا وہاں سے چینی سڑک گزرتی ہے نیز دہشت گردی کے خلاف پاکستان میں حملے ہونے لگیں تو چینی سرمایہ کاری عدم تحفظ کا شکار ہوجائے گی ۔
لیکن چین کو چاہیے کہ پاکستان کو سمجھائے جس طرح ہم اس کی در اندازی کو نظر انداز کردیتے ہیں وہ بھی ہمارے حملے سے چشم پوشی کرے ۔
للن بولاارے بھیا سمجھانے سے کیا ہوتا ہے۔ سامنے والا مانے نہ مانے یہ تو اس کی مرضی پر منحصر ہے؟
کلن نے کہا لیکن بھائی یہ تو تمہیں بھی ماننا پڑے گا کہ کشمیر سے دہشت گردی کے خاتمہ کی خاطر دفع 370کا ہٹنا ضروری تھا۔
اچھا اگر ایسا ہے تو پہلگام کا سانحہ کیوں ہوا؟ دہشت گرد کیسے آئے ؟؟اور کہاں چلے گئے؟؟ ؟ پکڑے کیوں نہیں جاسکے؟؟؟؟
یار تب تو فوج کے ذریعہ پاکستان پر قبضہ کرلینا ضروری ہے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری لیکن برا ہووکرم مصری کا کہ جس نے جنگ رکوادی۔
للن بولا یار تم گھوم پھر کے وکرم مصری پر چڑھ دوڑتے ہو۔ وہ تو وہی کہتا ہے جو اس سے کہا جاتا ہے۔ اپنی مرضی سے کچھ تھوڑی نا بول سکتا ہے؟
کلن بگڑ کر بولا بکواس نہ کرو ہمارے پردھان جی فوج کو کھلی چھوٹ دی ۔ اس کے ہاتھ کھول دئیے مگر وکرم نے ٹرمپ کے کہنے پر انہیں باندھ دیا ۔
تو کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ پردھان جی مرضی کے خلاف وکرم مصری نے ٹرمپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ؟
اور نہیں تو کیا۔ اسی لیے تو میں نے آج اس کی بیوی اور بیٹی کی کنڈلی کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دی۔
یار وکرم کی غلطی کے لیے اس کی بیوی اور بیٹی کو سزا دینا کون سی دانشمندی ہے ؟ یہ تو سراسر ظلم ہے۔
ارے بھیا ہماری سرکار نے دہشت گردی کے شک میں جن لوگوں کے گھر اڑا دئیے اس میں بھی تو بچے اور عورتیں رہتے تھے ۔تو کیا وہ بھی غلط تھا؟
اوہو کلن سمجھتے کیوں نہیں ۔ اس کو ہماری عدالت بھی غلط کہتی ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کبھی کبھار سزابھی دیتی ہے۔
اچھا توکیا مجھے بھی سزا ملے گی لیکن وکرم مصری کے خلاف اپنے دل بھڑاس نکالنے والے مجھ جیسے سیکڑوں بھگت ہیں سرکار کس کس کو پکڑے گی ؟
لیکن کلن ذرا یہ تو سوچو کہ وکرم مصری جیسا کوئی فرد پردھان جی کی مرضی کے خلاف جنگ بندی کروا کے دہلی میں کیسے رہ سکتا ہے؟
ہاں یار آخر ہمارے پردھان جی اتنے کمزور کیسے ہوسکتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ملیا میٹ کرنے پر تُلے ہوں اور امریکی صدر اچانک سب کچھ رکوا دے۔
للن بولا دیکھو کلن تمہیں سوچنا ہوگا کہ آخر امریکہ کو ہندو پاک کے درمیان میں مداخلت کا موقع کیسے ملا؟پہلے تو ایسا نہیں تھا؟؟
بھائی میں یہ سوچنے سمجھنے اور پوچھنے وغیرہ کی بات مجھ سے نہ کرو لیکن پھر بھی یہ سوال اہم ہے اس لیے تمہارے پاس کوئی جواب ہو تو بتاو ۔
دیکھو بھائی پاکستان ہمیشہ کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر لے جایا کرتا تھا ۔ اس کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے شملہ معاہدہ کیا گیا ۔
جی ہاں مگر میں نے سنا ہے کہ پاکستان نے شملہ معاہدے کو سندھ ندی میں بہا دیا۔ اس نے یہ بد عہدی کیوں کی ؟ اس کی سزا کون دے گا؟؟
بھیا شملہ معاہدے سے بارہ سال قبل ایک سندھ طاس معاہدہ ہوا تھا ۔ ہم نے اس کو توڑ کر پانی روکنے کا اعلان کیا تووہ شملہ معاہدے سے مکر گیا۔
ارے بھائی جب پاکستان میں دریائے سندھ خشک ہوگیا تو شملہ معاہدہ اس میں کیسے بہہ گیا یہ بات سمجھ میں نہیں آئی؟
اوہو کلن اتنے سال ہوگئے تم اب بھی نہیں سمجھے۔ اچھے دن کی طرح وہ محض ایک جملہ تھا ۔ کسی دریا کا پانی روک دینا کوئی بچوں کا کھیل ہے کیا؟
پانی کو روکنا تو نہیں مگر اس کی آڑ میں شملہ معاہدے سے جان چھڑا کر امریکہ کو ملوث کرلینا یقیناً خطرناک کھیل ہے لیکن ٹرمپ تو ہمارا دوست ہے؟
ارے بھائی ٹرمپ کو اسے امریکی مفاد نے مجبور کردیا ۔ اب وہ بیچارہ مرتا کیا نہ کرتا ۔قومی مفاد نے اچانک جنگ کے بھیڑیےکو امن کی فاختہ بنادیا ۔
کلن نے پوچھا لیکن اتنا بڑا انقلاب راتوں رات کیسے رونما ہوگیا ؟ کیونکہ ایک دن قبل تک تو ٹرمپ کا نائب اس تنازع سے پلہ جھاڑ رہا تھا ۔
بھائی دیکھو فی الحال امریکہ کو چین پر صرف اسلحہ کے بازار میں سبقت ہے اور ہند پاک جھڑپ میں پاکستان چینی اسلحہ کی تشہیر کررہا تھا ۔ کیا سمجھے؟
سمجھ گیا بھیا ۔ امریکہ کو خوف ہوا کہ لوگوں نے اگرچین سے اسلحہ بھی خریدنا شروع کردیا تو وہ دیوالیہ ہوجائے گا ۔
صحیح سمجھے اسی لیے اس نے جنگ رکوادی ۔ بس بات ختم اور جنگ ختم ۔
کلن نے فکر مندی سے کہا اچھا تو یہ چکر ہے ؟ یار کاش کے تم نے مجھے یہی بات پہلے بتائی ہوتی ؟؟
للن نے حیرت سے پوچھا ، اچھا تو تم کیاا کھاڑ لیتے ؟؟
بھائی میں کم از کم وکرم مصری اور اس کی بیوی بیٹی کو برا بھلا تو نہیں کہتا ۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے نادانی میں ہمانشی نروال کو بھی رسوا کیا تھا۔
چلو خیر احساسِ ندامت بھی بڑی چیز ہے۔ اب تم یہ کرسکتے ہو کہ اپنے نفرت انگیز پیغامات کو ہٹا دو اور بہتر ہے کہ معذرت بھی چاہ لو۔
لیکن اس سے کیا ہوگا؟ سنا ہے وکرم مصری نے اپنا اکاونٹ ہی بند کردیا ہے۔ اس تک میری بات کیسے پہنچے گی؟
اس تک نہ سہی لیکن ایسا کرنے کے بعد تمہارا من ہلکا ہوجائے گا اور آئندہ تم اس طرح کی دلآزاری سے باز رہو گے ۔ یہی بہت ہے۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...