Skip to content
حج ایک عاشقانہ عبادت
از قلم: مفتی عمر فاروق حسامی
استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ ازہر العلوم للبنات
خطیب: مسجد ومدرسہ گلزار مدینہ
حج اسلام کے ارکان میں سے ایک مہتم بالشان اساسی رکن ہے، جس کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا(آل عمران،آیت نمبر:97) ترجمہ: اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، ان پر اللہ کے لیے اِس گھر کا حج فرض ہے۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ نے جسے حج کرنے کی جسمانی اور مالی استطاعت دی ہو، اس شخص پر فرض ہے کہ وہ اس عبادت کو ادا کرے،اسی طرح نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اعْبُدُوا رَبَّكُمْ , وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ , وَصُومُوا شَهْرَكُمْ, وَحجُّوا بَيْتَ رَبِّكُمْ , وَأَدُّوا زَكَاتَكُمْ طَيِّبَةً بِهَا أَنْفُسُكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ.(مسند الشامیین للطبرانی، حدیث نمبر: 1581) ترجمہ: تم اپنے رب کی عبادت کرو، اپنی پانچ نمازیں پڑھو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اپنے رب کے گھر کا حج کرو، اور خوش دلی کے ساتھ اپنی زکوۃ ادا کرو تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
یہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر کہے گئے الفاظ ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا تھا کہ شاید تم اس سال کے بعد مجھے نہیں دیکھو گے، تو ایک شخص نے سوال کیا تھا، یا رسول اللہ! ہم کیا کریں؟ اس موقع پر تمام امت کو نصیحت کرتے ہوئے سرکار دوعالم صلى اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی اہم عبادتوں کا تذکرہ کیا، اور حج کی ادائیگی کا بھی حکم دیا۔
اسی طرح سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو اسلام کا بنیادی رکن قرار دیا ہے:
بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ. (بخاري،حدیث نمبر:8) ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےحجۃ الوداع کے موقع پر حج کے دن کو بھی محترم قرار دیا ہے، چنانچہ سرکار دوعالم صلى اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ، بَيْنَكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا.(بخاري، حدیث نمبر:67) ترجمہ: بےشک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایسے ہی محترم ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت ہے تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں۔
اس طرح کی کئی احادیث کتابوں میں موجود ہیں جو حج کی فرضیت و عظمت کو بیان کرتی ہیں، اور ان نصوص میں غور کرنے سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ جسے حج کی توفیق مل جائے وہ بڑا نیک بخت انسان ہے۔
حاجیوں کی روانگی اور دیدارِ کعبہ:
ذو القعدہ کا مہینہ چل رہا ہے، حج کے قافلے بڑی کثرت سے مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں ہیں،دنیا بھر سے امت مسلمہ اپنے محبوب سے ملاقات کے لیے بیت اللہ کی طرف رخت سفر باندھ رہی ہے،سعودی حکومت ان کے استقبال کی تیاریاں کررہی ہے،حاجیوں کے لیے خوشی کی آمد آمدہے،اور کیوں نہ ہو، وہ ایک ایسی عبادت کو انجام دینے کے لیے جارہے ہیں جو ہر مسلمان کی آرزو ہے،ہر بندۂ مومن کا خواب ہے،جہاں قدم قدم پر برکتوں کا نزول ہے،جہاں کی فضا میں رحمتوں کی برسات ہے،جہاں کی مٹی میں ایمان کی خوشبو ہے،جہاں کی کنکریاں بھی توحید کی گواہی دیتی ہیں،جہاں امیر وغریب،بادشاہ و فقیر،قوی وضعیف،سیاہ و سفید،کسی کا کوئی فرق نہیں،ہر کوئی عشق کے فتور میں اپنے رب کی طرف دوڑتا جاتا ہے،جس طرح چھوٹا بچہ ماں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، اس کی گود میں جانے کے لیے تڑپتا ہے ،اس کے کندھے پے اپنا سر رکھتا ہے،اور اپنی بولی میں سارا درد سنا دیتا ہے،اسی طرح حاجی اپنے مالک حقیقی کی محبت میں جب کعبۃ اللہ کو دیکھتا ہے تو جھوم اٹھتا ہے،معصوم بچے کی طرح روپڑتا ہے،دل میں چھپی محبت کا اپنے آنسوؤں کے ذریعہ اظہار کرتا ہے،ملتزم سے چمٹ کر اپنی زبان میں ہر درد بیان کرتا ہے،اپنی ہر پریشانی سناتا ہے،اور بتاتا ہے کہ اس بندے کو اپنے رب سے کتنی محبت ہے؟اس عاشق کو اپنے معشوق سے کتنا لگاؤ ہے؟جب کعبہ پہ پہلی نظر پڑتی ہےتو آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیل رواں ہوتا ہے،جس کا ہر قطرہ پکار پکار کر کہتا ہے: ائے میرے مالک!ائے سارے جہاں کے پالنہار!یہ گنہگار بندہ تیری پکار پر حاضر ہے،تیرے در پے بھکاری بن کے آیا ہے،تیرے عشق میں میلوں دور کا سفر کرکے آیا ہے،تیری رضا کی تلاش میں جان ومال کی قربانی دے کے آیا ہے، تیرے گھر کے دیدار کے لیے آل و اولاد کو پیچھے چھوڑ کے آیا ہے، اس بندے کی محبت کو قبول فرما،تو رب تعالیٰ کی رحمت بھی جوش میں آتی ہے،اور بندوں کی بندگی سے خوش ہو کر مغفرت اور اجر عظیم کی خوش خبری سناتی ہے، اور بے شمار نعمتوں سے نوازتی ہے۔
حج کی برکتیں:
اللہ عز وجل نے سورہ حج میں جہاں حج کا تذکرہ کیا تو وہیں یہ بات بھی ارشاد فرمائی : لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ (تاکہ وہ ان فوائد کو آنکھوں سے دیکھے جو ان کے لیے رکھے گئے ہیں) یعنی حج ایسی عبادت ہے کہ اگر اس کو صحیح طور پر اخلاص نیت سے ادا کیا جائے، تو اس کے بےشمار دنیوی اور اخروی فائدے بندے کو نصیب ہوتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ(بخاری، حدیث نمبر: 1521) ترجمہ: جو کوئی اللہ کے لیے حج کرے،پھر کوئی فحش بات نہ کرے، نہ کوئی گناہ کرے، تو وہ اس دن کی طرح لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
یہ حدیث شریف حاجیوں کےلیے مغفرت کا پروانہ اور دلوں کی ٹھنڈک ہے، کہ جو کوئی خالص اللہ کے لیے حج کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اس کے سارے گناہ مٹا دیتے ہیں۔
اسی طرح سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے: تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ، وَالذَّهَبِ، وَالفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ المَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الجَنَّةُ(ترمذي، حدیث نمبر: 810) ترجمہ: حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرو؛ اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو ایسے ہی ختم کرتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے زنگ کو ختم کرتی ہے، اور حج مبرور کا ثواب تو صرف جنت ہے۔
اس حدیث شریف میں حاجیوں کےلیے رزق میں برکت اور حج مبرور کے بدلے جنت کی ضمانت دی گئی ہے، ایک بندۂ مومن کو اور کیا چاہیے کہ جب اسے اپنے رب کی رضا بھی حاصل ہوجائے، اس پر نعمتوں کی بارش ہوجائے، اس کے لیے مغفرت کا اعلان ہوجائے اور نعمتوں سے بھری جنت بھی مل جائے۔
حج کی عاشقانہ شان اور تلبیہ کا پس منظر:
اللہ عزوجل نے حج کا ایک انوکھا نظام بنایا ہے، عام حالات میں جو چیزیں مسلمانوں کے لیے حلال ہوتی ہیں اللہ تعالی نے اسے حج میں حرام قرار دیا، اور بندوں کے لیے ایک خاص لباس مقرر کردیا، ایسی پابندیاں لگادیں کہ ان کو ماننا عشق حقیقی کے بغیر ممکن نہیں، چنانچہ آپ غور کریں کہ جب بندہ احرام باندھتا ہے تو اس پر سلا ہوا کپڑا حرام، خوشبو لگانا حرام، بال اور ناخن کاٹنا حرام، حتی کہ اپنی بیوی سے جائز خواہشات کی تکمیل تک حرام ہوجاتی ہے، پھر آپ غور کریں، ایام حج میں حاجی کبھی منیٰ جارہا ہے، کبھی میدان عرفات میں وقوف کررہا ہے، کبھی مزدلفہ میں قیام کررہا ہے، پھر منی آکر جمرات کو کنکریاں مار رہا ہے، کبھی دو نمازوں کو اکٹھی کرکے ایک ہی وقت میں ادا کررہا ہے، کبھی اکڑ کر بیت اللہ کا طواف کررہا ہے تو کبھی میانہ چال چل رہا ہے،کبھی حجر اسود کو بوسہ دے رہا ہے تو کبھی ملتزم سے چمٹ رہا ہے، کبھی سبز لائٹوں کے درمیان دوڑ رہا ہے، حاجی ان سب اعمال کو بغیر سونچے سمجھے کس کے کہنے پر ادا کررہا ہے؟ اور وہ کیا شئے ہے جو حاجی سے یہ سب افعال کروا رہی ہے؟ وہ صرف اور صرف اللہ کی محبت ہے، کہ جب اللہ کے لیے یہاں آئے ہو تو اس لباس میں آنا پڑے گا جو اس نے متعین کیا ہے، ان قوانین کو ماننا پڑے گا جو اس نے لاگو کیے ہیں؛ لہذا حاجی ان قوانین کو بخوشی مانتا ہے، اور بآواز بلند کہتا ہے: لبیک اللھم لبیک(میں حاضر ہوں ائے اللہ! میں حاضر ہوں) آپ کیا سمجھتے ہیں یہ تلبیہ کیا ہے؟ یہ تلبیہ بندے کے عشق کا اظہار ہے، یہ تلبیہ اللہ کے حکم کی فرماں برداری کا ثبوت ہے، یہ تلبیہ اللہ کے اعلان کا جواب ہے؛ کیوں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کع کعبۃ اللہ کی تعمیر کے بعد فرمایا تھا: وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰی كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ.(الحج، آیت نمبر: 27) ترجمہ: اور لوگوں میں حج کا اعلان بھی کردو ، تمہارے پاس لوگ پیدل اور اونٹنیوں پر دور دراز راستے سے پہنچیں گے۔
اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ابو قبیس نامی پہاڑی پر چڑھے، اور اللہ کے حکم پر آواز لگائی: ائے لوگو! بے شک اللہ تعالی نے تمہیں اس گھر کے حج کا حکم دیا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعہ تمہارے لیے جنت کو ثابت کرے، اور تمہیں دوزخ سے بچائے؛ لہذا تم حج کرو، چنانچہ مردوں کی پشت اور عورتوں کے رحم میں جو لوگ تھے انہوں نے اس کے جواب میں کہا: لبیک اللھم لبیک، تو جس نے اس وقت ایک مرتبہ جواب دیا اسے ایک مرتبہ حج کی توفیق ملے گی، اور جس نے دو مرتبہ جواب دیا اسے دو مرتبہ توفیق ملے گی(تفسیر قرطبی 12/ 38)
اس پس منظر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو حاجی تلبیہ پڑھتے ہیں وہ اسی اعلان کے جواب میں پڑھتے ہیں، اور یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ حج کرنے کے لیے صرف مال کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے توفیق کا عطا ہونا ضروری ہے، اور یہ تلبیہ محض ایک جملہ نہیں؛ بلکہ ایک بندے کی بندگی اور اس کی محبت کا ثبوت ہے؛ لہذا تمام حاجی جب تلبیہ پڑھیں تو یہ پس منظر ضرور ذہن میں رکھیں، اور اللہ کی عطا کردہ توفیق پر شکر ادا کریں۔
حاجیوں کے لیے چند باتیں:
یہ حج کا سفر بے شک بہت مبارک اور سعادت والا سفر ہے؛ لیکن اگر چند باتوں کا خیال نہ کیا جائے تو اس سفر کی کوئی اہمیت نہیں رہ جائے گی۔
1۔ کثرت سے عبادت: یہ جو توفیق آپ کو نصیب ہوئی ہے پتہ نہیں آگے نصیب ہوگی یا نہیں؟ اسی لیے اس حج کو اپنا آخری حج سمجھ کر کثرت سے عبادتوں میں مشغول ہوجائیں، یہ موقع اور ثواب بار بار ملنے والا نہیں، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ احسان کیا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا تھا: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ(مشکوۃ، حدیث نمبر: 2) ترجمہ: کہ تم اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔
یہ کیفیت حج میں بھر پور نصیب ہوسکتی ہے، کیوں کہ کعبہ نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے، اور جب محبوب کی کوئی چیز سامنے ہو تو گویا محبوب سامنے ہے؛ لہذا اس جذبے کو اپنے اندر پیدا کرتے ہوئے اپنے آپ کو عبادتوں میں محو کردیں۔
2۔ موبائیل سے دوری: آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، ہر طرف موبائیل کا دور دورہ ہے، حتی کہ سفر حج میں بھی اس موبائیل نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے، لوگ اپنی عبادتوں سے زیادہ موبائیل سے نظاروں کو قید کرنے کے شوقین ہوتے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے اس عبادت کا خشوع ختم ہوتا جارہا ہے، لہذا ادبا درخواست ہے کہ اس عبادت کو موبائیل کی نذر نہ کریں، اور موبائیل کے استعمال سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔
3۔ اور آخری بات یہ ہے کہ دعاؤں کا خاص اہتمام کریں،مولانا صلاح الدین سیفی نقشبندی دامت برکاتہم نے حاجیوں کو نہایت پیاری دعا بتلائی ہے کہ ائے اللہ آپ کے در کا چکر لگانے کے بعد مخلوق کے در کے چکروں سے محفوظ فرما، یہ نہایت جامع دعا ہے، نیز احقر عمر فاروق حسامی کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، اور جب روضہ اطہر کی زیارت نصیب ہو تو اس گنہگار بندہ کا بھی سلام عرض کریں، اللہ تعالی آپ کے اس سفر کو آسان فرمائے، اور آپ تمام کے حج کو قبول فرمائے، آمین۔
Like this:
Like Loading...