Skip to content
بغداد،18مئی (العربیہ /ایجنسیز)عرب لیگ نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقدہ 34ویں عرب سربراہ کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں فلسطین کو ایک بار پھر عرب دنیا کا مرکزی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ جنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے جبری بے دخلی کی کوششوں کو بھی سختی سے مسترد کر دیا۔
اعلامیے میں فوری طور پر جنگ بندی، غزہ کے محصور عوام تک بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ رہنماؤں نے دنیا کی بااثر طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اخلاقی و قانونی ذمہ داریاں پوری کریں اور فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بند کرانے میں فعال کردار ادا کریں۔
اعلامیے میں قاہرہ میں منعقدہ ہنگامی عرب سربراہ اجلاس اور جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے غزہ کی تعمیر نو اور جلد بحالی کے لیے اسلامی-عربی منصوبے کی مکمل حمایت کی گئی۔ اعلامیے میں تمام ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ اس منصوبے کو سیاسی، قانونی اور مالی سطح پر بھرپور تعاون فراہم کریں۔
عرب قیادت نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈ کے قیام کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے تمام گزرگاہیں کھولنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے میں فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے عالمی امن کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کی حمایت کی گئی، جس کا مقصد عرب امن منصوبے اور بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کی امن فورس تعینات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
عرب رہنماؤں نے اسپین، ناروے اور آئرلینڈ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم کیا اور جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی عدالت میں اسرائیل کے خلاف دائر کردہ مقدمے کی حمایت کا اعادہ کیا۔اعلامیے میں تمام فلسطینی دھڑوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایک مشترکہ قومی لائحہ عمل پر متفق ہوں اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت قابض اسرائیل کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کریں۔
اعلامیے میں شام کے عوام کے تمام طبقات کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے ان کے لیے امن و استحکام اور خودمختاری کی حمایت کی گئی۔ اسرائیل کی جانب سے شام پر جاری حملوں اور اس کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں لبنان کی خودمختاری، یمن میں سیاسی مفاہمت، سوڈان میں فوری جنگ بندی، اور لیبیا میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کے مطالبات شامل کیے گئے۔ عراق کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی سراہنا کی گئی اور اس کے امن و ترقی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیے میں مصر، عراق، شام اور سوڈان کے پانی کے حقوق کی حمایت کی گئی اور مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں اور تباہی پھیلانے والے اسلحے سے پاک خطہ بنانے کا مطالبہ دہرایا گیا۔
دہشت گردی، منشیات اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی کی ضرورت.اعلامیے میں ہر قسم کی دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات و انسانی اسمگلنگ، اور نفرت انگیز بیانیے کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
عرب رہنماؤں نے ایران اور امریکہ کے درمیان پرامن جوہری توانائی کے حصول سے متعلق جاری بات چیت کی حمایت کی اور اس حوالے سے سلطنتِ عمان کے ثالثی کردار کی تعریف کی۔
Like this:
Like Loading...