Skip to content
نیویارک یونیورسٹی (این وائے یو) نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے طالبِ علم کو ڈپلومہ نہیں دے گی جس نے اپنی گریجویشن تقریر کو فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کے لیے استعمال کیا اور جسے انہوں نے "اس نسل کشی میں امریکہ کی حمایت” قرار دیا۔این وائے یو کے گیلاٹن سکول کے فارغ التحصیل طلباء کے لیے بدھ کے روز لوگان روزوس کی تقریر کی اسرائیل کے حامی گروپوں نے مذمت کی جنہوں نے یونیورسٹی سے ان کے خلاف جارحانہ تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ایک بیان میں این وائے یو کے ترجمان جان بیک مین نے اس تقریر پر معذرت کی اور طالبِ علم پر الزام لگایا کہ انہوں نے”ذاتی اور یک طرفہ سیاسی خیالات کے اظہار کے لیے اپنے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا۔”بیک مین نے مزید کہا، "انہوں نے اس تقریر کے بارے میں جھوٹ بولا جو وہ کرنے جا رہے تھے اور اس عہد کی خلاف ورزی کی جو انہوں نے ہمارے قوانین کی تعمیل کے لیے کی تھی۔ یونیورسٹی ان کا ڈپلومہ روک رہی ہے جبکہ ہم تادیبی کارروائی کر رہے ہیں۔”
پورے ملک کی یونیورسٹیز کو فلسطینی حامی تقریر پر کریک ڈاؤن کرنے یا فنڈنگ میں کٹوتی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے زبردست دباؤ کا سامنا ہے جس نے اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی کے مترادف قرار دیا ہے۔لیکن این وائے یو جہاں ٹرمپ کے بیٹے بیرن نے تعلیم حاصل کی ہے، تاحال صدر کے غصے سے بہت حد تک بچی رہی ہے۔
ایک اداکار اور گیلاٹن تھیٹر طائفے کے رکن روزوس کو ساتھی طلباء نے لبرل آرٹ پروگرام پر خطاب کرنے کے لیے منتخب کیا تھا۔ انہوں نے کہا، وہ اپنی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں کہ وہ سامعین سے فلسطین میں ہونے والے مظالم کے بارے میں بات کریں۔انہوں نے کہا، "اس وقت ہونے والی نسل کشی کو امریکہ کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل ہے، اس کی ادائیگی ہمارے ٹیکس کے ڈالرز سے کی جاتی ہے اور گذشتہ 18 مہینوں سے ہمارے فونز پر لائیو سٹریم کیا جا رہا ہے۔”
تقریر پر وہاں موجود لوگوں نے زوردار نعرے لگائے اور خوشی کا اظہار کیا، ساتھ ہی بعض فارغ التحصیل طلباء نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔لیکن جیسے ہی اس تقریر کی ویڈیو آن لائن پھیلی تو اسرائیل کے حامی گروپوں نے اس کی بھرپور مذمت کی اور این وائے یو پر یہودی طلباء کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا کرنے کا الزام لگایا۔اینٹی ڈیفیمیشن لیگ نے ایک بیان میں کہا، "کسی بھی طالبِ علم خاص طور پر یہودی طلباء کو ایسے ذاتی سنگِ میل کے دوران اسرائیل کے بارے میں نقصان دہ جھوٹ کو فروغ دینے والی سیاسی بیان بازی کو برداشت نہیں کرنا چاہیے۔”
اسرائیل کے حامی گروپ #EndJewHatred نے تجویز پیش کی کہ تقریر – جس میں یہودی لوگوں کا ذکر نہیں کیا گیا – یونیورسٹی کی یہود دشمنی کی نئی توسیع شدہ تعریف پر پورا اترتی ہے جس میں اسرائیل پر کچھ خاص تنقید بھی شامل ہے۔روزوس نے اس سلسلے میں کی گئی ای میل کا جواب نہیں دیا۔بعض فیکلٹی ممبران نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اربوں ڈالر کی فنڈنگ روک دینے کے خطرے کے ساتھ اس سال یونیورسٹیوں کے لیے زیادہ مسائل ہیں۔
این وائی یو میں سماجی اور ثقافتی تجزیئے کے پروفیسر اینڈریو راس نے کہا، "وہ اس تقریر پر کریک ڈاؤن کرنے کے لیے شدت سے کوشش کر رہے ہیں جو واشنگٹن میں موجودہ انتظامیہ کی مرضی کے خلاف ہو۔”راس نے مزید کہا ، "میں اور میرے بہت سے ساتھی اس فیصلے پر واضح طور پر حیران اور پریشان ہیں جو ایک طالبِ علم سپیکر کو اس کے ڈپلومہ سے انکار کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک بہت اچھی مثال ہے کہ انتظامیہ اپنا کام کرنے میں ناکام رہی ہے۔”
Like this:
Like Loading...