خواتین کے خلاف نفرتی ٹولے کی دیدہ دلیری
ازقلم:شیخ سلیم۔ممبئ
گیارہ سال سے مرکز اور صوبوں میں برسرِ اقتدار دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے کنور وجے شاہ کا کرنل صوفیہ قریشی کے بارے میں یہ کہنا کہ "یہ دہشت گردوں کی بہن ہے” سننے میں زیادہ عجیب نہیں لگا، کیوں کہ خواتین کے خلاف نفرت تو سنگھ پریوار کے عقیدے کا بنیادی حصہ ہے۔ وہ کبھی کسی عورت کو اپنے برابر دیکھ ہی نہیں سکتے، اُن کے ہاں عورت کی کوئی قدر و قیمت ہے ہی نہیں۔ تو بھلا وہ بھارتی فوج کے ترجمان کی حیثیت سے دو عورتوں کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ کو بھلا کیسے دیکھ لیتے اور برداشت کر لیتے۔ چلیے کسی طرح دیکھنے کے لئے راضی بھی ہو جاتے تو مسلم عورت کو ترجمانی کرتے کیسے برداشت کر لیتے۔ یہ تو عقیدے کا مسئلہ ہے۔
آئے دن اپنے خیالات کی مخالفت کرنے والی خواتین کو گالی دینا اور ریپ کی دھمکی دینا اس نفرتی ٹولے کے لئے روزمرہ کی بات ہے، قانون بھی خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ٹولہ مسلم خواتین کو، چاہے وہ صحافی ہوں یا کوئی اور، حتیٰ کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز خواتین کو، توہین آمیز تبصروں کا نشانہ بنا سکتے ہیں، اگر ان خواتین سے نفرتی ٹولے کو ذرا سا بھی خطرہ اپنے لیے نظر آئے۔
12 مئی 2025 کو کنور وجے شاہ کے ایک بیان میں، اُنہوں نے ایک فوجی افسر کرنل قریشی کو "دہشت گردوں کی بہن” کہا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کس طرح فرقہ وارانہ نفرت انگیز بیانات کو کسی عورت کو کمزور کرنے کے لیے ہتھیار بنایا جا سکتا ہے، چاہے ان کی خدمت یا مرتبہ کچھ بھی ہو۔ اگر وہ عورت مسلمان ہو تو ان کا کام اور آسان ہوجاتا ہے۔ ایک سینئر بی جے پی وزیر کی طرف سے یہ رویہ، اقتدار کے غلط استعمال سے اقلیتوں، خاص طور پر اعلیٰ عہدوں پر موجود مسلم خواتین کو ہدف بنانے کے بارے میں تشویش ناک بات اور ایک پالیسی کا حصہ ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سے ملک میں نفرت پھیلانے کا کام صنعتی بنیادوں پر چل رہا ہے جس میں پیش پیش سرکاری سرپرستی والا گودی میڈیا ہے، ساتھ میں پرنٹ میڈیا ہے۔ پولیس افسران، بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز وزیر، وزیراعظم سب مل جل کر یہ کارِ خیر انجام دے رہے ہیں۔
مگر اس بار اس کے خلاف زبردست رد عمل دیکھنے میں آیا۔ قانونی کارروائی اور عوامی غم و غصے سمیت ردعمل سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر ناقابل قبول سمجھا گیا ہے، لیکن یہ مشہور اقلیتی خواتین کو کتنی آسانی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے اُس کی ایک دلیل ہے۔نفرت پھیلانے والوں کی ہمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ان کی نفرت سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔ اس نفرت کا شکار کرنل صوفیہ قریشی ہیں جو جنگ کے دوران پریس کانفرنس کرکے دنیا کے سامنے بھارت کا موقف رکھ رہی تھیں۔ پولیس کی ہمت نہیں ہوئی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی۔ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا جہاں ایف آئی آر کا حکم دیا گیا۔ موصوف سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ بعد میں کنور وجے شاہ نے معافی مانگ لی۔
اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ نفرتی ٹولہ جب اتنی بڑے عہدے پر موجود مسلمان عورت کے ساتھ گالی گلوچ کر سکتے ہیں تو اندازہ لگائیے غریب عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاسکتا ہے۔ ملک کس طرف جارہا ہے، نفرت کتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کے دلوں و دماغ میں سنگھ پریوار نے گھسا دی ہے۔
شیخ سلیم
