Skip to content
اداکاری +مکاری= ر یاکاری
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اداکاری میں مکاری کا اضافہ اس کو ریاکاری بنادیتا ہے۔ ریاکاری کے مکرو فریب کا اثر تا دیر قائم نہیں رہتا اور جب زائل ہوتا ہے تو لوگ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ آپریشن سندور میں سہاگ اور سندور کےساتھ ویومیکا سنگھ وصوفیہ قریشی کے اشتراک سےقوتِ نسواں و ہندو مسلم اتحاد کا غبارہ نما بیانیہ وجئے شاہ سے پھوٹ گیا۔ اداکاری کو دیکھنے والے حقیقت حال سے واقف ہوتےہیں ۔ وزیر اعظم کا کیمرے کے سامنے ہونٹ ہلانا اورپیچھے سے ریکارڈ کی ہوئی آواز کے نشر ہونے کا انہیں علم ہوتا ہے۔ انہیں اس غیر معمولی احتیاط کی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ کہیں زبان کے پھسلنے سے امریکہ بہادر کو ناراض کرنے والالفظ نہ نکل جائےپھر بھی موصوف کی اداکاری کے شیدائی اسےتفریح کے لیے دیکھتے ہیں ۔ ایسے ناٹک ہٹ یا فلاپ بھی ہوجاتےہیں لیکن مدھیہ پردیش کے ریاستی وزیر وجئے شاہ نے ببانگِ دہل اپنے من کی بات کہی اور’ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘ کی مصداق میڈیا پر چھا گئے ۔ آج کل ملک میں امیت شاہ اور جئے شاہ سے زیادہ وجئے شاہ کا چرچا ہے۔
ریاکاری سے پاک وجئے شاہ کامذموم خطاب بلا کسی لاگ لپیٹ کے اپنے قلبی جذبات کا اظہار تھا ۔ یہ ایک فرد کا ذاتی خیال نہیں تھا۔ ویڈیو میں دورانِ تقریر اسٹیج پر بیٹھے لوگوں کا باغ باغ ہوکر تالیوں کی گڑ گڑاہٹ سے پذیرائی کرنا گواہ ہے کہ ان کی صاف گوئی سارے زعفرانیوں کے افکار و خیالات کی نمائندگی کررہی تھی ۔ بی جے پی سمیت پورا سنگھ پریوار ہر مسلمان سے دہشت زدہ ہے اور اسے دہشت گرد سمجھتا ہے ۔ وجئے شاہ نے وزیر اعظم کے نام پر تالیاں پٹوا کر یہی تو کہا کہ مودی جی نے انہیں (یعنی دہشت گردوں )کی بہن سے ان کا صفایا کروا دیا ۔ اس کی وجہ یہ بتائی کہ دہشت گردوں نے ہندووں کو ننگا کر کے مارا مگر چونکہ مودی جی ایسا نہیں کرسکتے تھے اس لیے انہیں کے سماج کی ایک خاتون کو بھیج کر انہیں برہنہ کردیا ۔ اس نامعقول تبصرے پر وہاں موجود کسی سنگھی نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ یہ ان کے خیالات کی ترجمانی تھی ۔
حزب اختلاف اور عدالت کی پھٹکار سےجب وجئے شاہ کی وزارت پر خطرہ آیا تو وہ ہوائی چپل میں پارٹی کے دفترپہنچ گئے ۔ کرسی کی خاطر کیمرے کے سامنے معافی مانگنے کے فوراً بعد قہقہہ لگا کر منافقت ثابت کردی ۔ پارٹی کے صدر جے پی نڈا نے رسمی رپورٹ طلب کرنے کا ڈھونگ تو کیا مگر ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کی پھٹکار کے باوجود ہٹانے کی زحمت نہیں کی کیونکہ سنگھ پریوار کے نزدیک وہ بے قصور ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو سے جب استفسار کیا گیا تو وہ بولے عدالت کے احکامات کی پیروی کی جائے گی ۔ کانگریس کے ذریعہ ہٹائے جانے کا مطالبہ پر جواب طلب کیا گیا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے اور کہنے لگے کانگریس سدارمیا کو ہٹائے جن کے خلاف مقدمہ ہے نیز عدالت میں ماخوذ کیجریوال کے ساتھ انتخاب لڑنے پر بھی اعتراض کیا؟ یعنی یہ واضح کردیا کہ انہیں وجئے شاہ کی گرفتاری تو دور وزارت سے ہٹانا بھی گوارہ نہیں ہے ۔
بھگوا دھاریوں کی ترنگا یاترا بھی منافقت کا نمونہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہوامحل(جےپور) سے بی جے پی کے بدنام زمانہ رکن اسمبلی بال مکند آچاریہ نے ترنگا یاترا کے دوران قومی پرچم سے ناک یا منہ صاف کیا ۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس کے رکن پارلیمان عمران پرتاپ گڑھی نے لکھا، ’’یہ وہی صاحب ہیں جو روزانہ جے پور کی عوام کے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں لیکن خود ترنگے سے ناک صاف کر رہے ہیں۔ کیا قومی پرچم کا احترام اس طرح کیا جاتا ہے؟ یہ ایک سنگین جرم ہے۔‘‘ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے بھی بال مکند آچاریہ پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’’یہ وہی ہیں نا جو اکثر بریانی کی دکانوں کے باہر پائے جاتے ہیں؟‘‘ یاترا کے دوران بال مکند آچاریہ نہایت ڈرامائی انداز میں نہ صرف گدا اور ترنگا بلکہ ایک پلے کارڈ بھی لیے ہوئے تھے جس پر ’آپریشن سندور پراکرم ابھوت پورو‘ یعنی آپریشن سندورغیر معمولی کامیابی لکھا ہواتھا مگر ان کی غیر معمولی حماقت نے اس پر پانی پھیر دیا ۔ اس کے باوجود بی جے پی نے بال مکند کا بال بیکہ نہیں کیا کیونکہ سنگھ پریوار کے نزدیک یہ قومی پرچم قابلِ احترام کہاں ہے؟ اس لیے کارروائی تو دور افسوس کا بھی کیا ضرورت؟
مدھیہ پردیش میں کابینی وزیر وجئے شاہ کے بعد نائب وزیراعلیٰ جگدیش دیوڑا نے کہہ دیا کہ "پورا ملک، فوج اور سپاہی پی ایم مودی کے قدموں میں سربسجود ہیں‘‘۔ موصوف یہ بات اپنے بارے میں کہنا چاہتے تھے لیکن شرم آئی تو پہلے پورا ملک کہہ دیا حالانکہ فوج اس میں شامل تھی مگر پھر الگ سے اس کا حوالہ دے اپنی تذلیل کا سامان کرلیا ۔ اس پرحزب اختلاف کے رہنما امنگ سنگھر نے کہا ’وجئے شاہ نے صوفیہ قریشی پر متنازعہ بیان دیا، لیکن پارٹی نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی، اب جگدیش دیوڑا نےبھی فوج کے خلاف قابل اعتراض بیان دے دیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسے بیانات کو بی جے پی فوج کی توہین نہیں سمجھتی؟ پارٹی واضح کرے کہ یہ وزراء کا ذاتی معاملہ ہے یا اسے پارٹی کا بیان سمجھا جائے؟‘ یہ پارٹی کا موقف ہے ورنہ کارروائی ہوتی اور پھر بی جے پی کو فوج کی توہین کا احساس کیونکر ہوسکتا ہے؟ یہ لوگ تو اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتے ۔ اسی لیے جب نیہا سنگھ نے پوچھاتھا کہ بی جے پی والے بتائیں ، ان کےکتنے بچے فوج میں ہیں تو سناٹا چھا گیا ۔ اگر سوال کیا جاتا کہ کتنے امریکہ میں عیش کررہے ہیں تو لمبی چوڑی فہرست سامنے آجاتی ۔
بی جے پی چونکہ اپنی روایت کے خلاف یہ سب کرنے کے سبب حواس باختہ ہے ۔ یہی وجہ ہے منڈلا سےاس کے رکن پارلیمان اور سابق مرکزی وزیر فگن سنگھ کلستے نے فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ہماری فوج نےپاکستان کے ہمارے جو دہشت گردوں کا منہ توڑ جواب دیا ۔ پاکستان کے دہشت گردوں کا اپنا تو حکومتِ پاکستان بھی نہیں کہتی لیکن موصوف کی زبان پھسل گئی اس لیے اسے نظر انداز کردیا گیا ۔ ان سے آگے بڑھ کر مان گاوں کے رکن اسمبلی نریندر پرجا پتی بولے اگر اقوام متحدہ سے جنگ بندی کا حکم نہیں آتا تو مودی جی پاکستان کو صاف کردیتے ۔ جو شخص ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کے درمیان فرق نہ سمجھتا ہو یا جسے یہ نہ معلوم ہو کہ مودی سرکار یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان کی درخواست پر ڈی جی ایم او نے جنگ بندی کروادی توایسے پرجا پتی کی عقل پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے لیکن وہ چونکہ وزیر اعظم کے ہم نام ہیں اور ان کی تعریف و توصیف کررہے ہیں اس لیے ان کے سارے قصور قابلِ معافی ہیں۔
اس دوران مشیت الٰہی نے بی جے پی کی منافقت کو بے نقاب کرنے کے لیے اس سے ایک اور حماقت کروادی ۔ہریانہ کی ڈبل انجن سرکار نے اشوکا یونیورسٹی کےپروفیسر علی خان محمود آباد کو گرفتار کرلیا ۔ ان کا قصور صرف یہ لکھنا تھا کہ : ’میں بہت سے دائیں بازو کے مبصرین کو کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوں، لیکن شاید یہ لوگ اسی طرح ماب لنچنگ، گھروں کو مسمار کرنے اور بی جے پی کی منافرت سے متاثرہ افراد کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں کہ ان لوگوں کو ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے تحفظ دیا جائے۔‘پروفیسر علی خان نے بی جے پی کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اس کے پاکھنڈکو بے نقاب کرتے ہوئے آگے لکھا : ’دو خواتین فوجیوں کے ذریعے معلومات دینے کا نظریہ اہم ہے لیکن اس نظریے کو حقیقت میں بدلنا چاہیے، ورنہ یہ محض منافقت ہے۔‘ وہ قومی تنوع کی تعریف کرنے کے باوجود قابلِ گردن زدنی ٹھہرے تو اس پر سکرول کے مدیر نریش فرنانڈیز نے ششی تھرور، اسدالدین اویسی اور پرینکا چترویدی کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا ‘دنیا کا دورہ کرنے والے آل پارٹی مندوب کس طرح سے اس گرفتاری کی دنیا کو وضاحت پیش کریں گے؟’
آسام میں آ ل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کےرکن اسمبلی امین الاسلام کو پہلگام حملے پر تبصرے کے لیے گرفتار کیا گیا لیکن جب عدالت نے ضمانت دے دی تو ان پر NSA لگا دیا گیا۔ اتفاق سے یہ حکم دینے والے ضلع مجسٹریٹ کا نام نریندر کمار شاہ ہے،یعنی نریندر مودی اور امیت شاہ کا مرکب ، اب اس بیچارے سے اور کیا توقع کی جائے؟ امین الاسلام اور وجئے شاہ پر ’’ریاست کے امن عامہ اور سلامتی کے لیے متعصبانہ‘‘کا الزام ہے مگر ایک کی گرفتاری نہیں ہوتی اور دوسرا قوم دشمن قرار پاتا ہے کیونکہ اس کا آپریشن سندور پر سوال اٹھانا ناقابلِ معافی جرم ہے ۔یہی دوغلا معیار سنگھ پریوار کا شانِ امتیاز ہے ۔ عوام کے اندر وجئے شاہ کی بدکلامی کےخلاف پائے جانے والے غم و غصہ کا اندازہ روزنامہ بھاسکر کے جائزے سے کیا جاسکتا ہے۔ اس میں 88 فیصد لوگوں نے وجئے شاہ سے وزارت چھین کر بی جے پی سے نکالنے کی تائید کی اور صرف 12 فیصد اندھے بھگت معافی قبول کرنے کی حمایت میں تھے ۔ عوام کی یادداشت اگر سلامت رہے تو بی جے پی کو اس کی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے ۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...
مضمون حقیقت کا عکاس ہے