Skip to content
ایک تشویشناک نظیر: پروفیسر علی خان محمودآباد کی مشروط ضمانت اور اختلافِ رائے کا حق
ازقلم:شیخ سلیم ،ممبئی
سپریم کورٹ کی جانب سے پروفیسر علی خان محمودآباد کو دی گئی مشروط ضمانت نے آئینی اور قانونی دائرے میں اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون کے مساوی اطلاق کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیسور پر مشتمل بینچ نے ان کے خلاف تفتیش کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے ساتھ ہی ہریانہ کے ڈی جی پی کو ہدایت بھی دی کہ وہ تین اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) تشکیل دیں، جن میں ایک خاتون افسر ریاست سے باہر کی ہوں۔ ساتھ ہی عدالت نے پروفیسر محمودآباد کا پاسپورٹ ضبط کرنے اور انہیں حالیہ دہشتگرد حملے یا اس کے جواب میں بھارتی کارروائی پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔قانونی تقاضوں سے قطع نظر، اس فیصلے نے ایک وسیع تر بحث کو تازہ کر دیا ہے جو ہماری جمہوریت میں اختلافِ رائے کے حق اور بالخصوص اقلیتوں کی آوازوں کے حوالے سے جاری ہے۔ پروفیسر محمودآباد کی گرفتاری دو ایف آئی آرز کی بنیاد پر عمل میں آئی جن میں الزام لگایا گیا کہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس نے ملک کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ اُن کے ریمارکس دو خاتون فوجی افسران، کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ، کے بارے میں ناپسندیدہ سمجھے گئے، جو آپریشن سندور سے متعلق سرکاری بریفنگز میں شامل تھیں۔
ہمارے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اختلافِ رائے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر اور بیانات روزانہ کی بنیاد پر سامنے آتے ہیں، مگر ان پر سخت قانونی کارروائی شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔ ایسے میں ایک معروف محقق اور دانشور کی محض رائے رکھنے پر گرفتاری، عدالتی تحویل، اور سخت شرائط کے تحت ضمانت، قانونی مساوات اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم نظر آتی ہے۔
آئینِ ہند کا آرٹیکل 19(1)(a) ہر شہری کو آزادیِ اظہار کا حق دیتا ہے، البتہ حالیہ فیصلے میں لگائی گئی پابندیاں اس آزادی پر غیر متناسب قدغن کے مترادف محسوس ہوتی ہیں۔ خاص طور پر جب ان شرائط کا اطلاق کسی مجرم پر نہیں بلکہ ایک مشہور و معروف شہری پر کیا جائے، تو یہ نہ صرف آئینی جذبے کے خلاف معلوم ہوتا ہے بلکہ علمی و فکری مکالمے کی فضا کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ایسی صورت حال ملک کے ان دانشور مسلمانوں کے لیے خاص طور پر باعثِ تشویش ہے جو اپنے خیالات، سوالات اور تنقید کو ایک جمہوری حق سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے یہ ایک خاموش پیغام نظر آتا ہے کہ تنقیدی رائے حکومت کے خلاف رائے دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ مساوی قانونی رویہ تقاضا کرتا ہے کہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک ہو، چاہے ان کا مذہب یا پس منظر کچھ بھی ہو۔جمہوری معاشرے کی اصل طاقت اسی وقت قائم رہتی ہے جب تمام طبقات کو اظہار، مکالمے اور اختلاف کا مکمل اور بلاخوف حق حاصل ہو۔ آئینی آزادیوں کا تحفظ، قانونی عدل، اور اختلافی آوازوں کی جگہ کو یقینی بنانا صرف عدالتی فریضہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...