Skip to content
فیض کی نظم "ہم دیکھیں گے”: ہنگامہ ہےکیوں برپا؟
——
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
——
فیض احمد فیض، بیسویں صدی کے اردو ادب کے ایک ایسے درخشاں ستارے ہیں جن کی روشنی آج بھی نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ دنیا بھر میں علم و ادب سے شغف رکھنے والوں اور خصوصاً جبر و استبداد کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے لیے مشعل راہ بنی ہوئی ہے۔ ان کی شاعری، جو رومان اور انقلاب کا ایک حسین امتزاج ہے، اپنی گہری معنویت، آفاقی پیغام اور فنی پختگی کے باعث اردو شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ فیض کی متعدد نظموں اور غزلوں نے عالمی سطح پر شہرت پائی، لیکن ان کی ایک نظم، "ہم دیکھیں گے”، نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی علامتی حیثیت اختیار کر لی ہے جو کسی بھی احتجاجی تحریک، کسی بھی مظلوم کی آواز اور کسی بھی آمریت کے خلاف مزاحمت کا نشان بن چکی ہے۔ یہ نظم، جو اپنی تخلیق کے وقت ایک مخصوص سیاسی و سماجی تناظر میں لکھی گئی تھی، آج اپنی معنوی وسعتوں کے باعث ہر اس جگہ گونجتی ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی، اظہار رائے پر قدغن یا ریاستی جبر کا راج ہو۔ خاص طور پر وہ افراد یا گروہ جو کسی جابر فوجی حکمران، مطلق العنان حکومت، یا کسی بھی قسم کے استحصالی نظام کے خلاف اپنا پیغام دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں، اس نظم کو اپنے دل کی آواز اور اپنے مقصد کا نغمہ بنا لیتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں اس کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ یہ زبان و بیان کی حدود سے ماورا ہو کر ہر طبقہ فکر میں سرایت کر چکی ہے، اور بین الاقوامی سطح پر بھی جہاں کہیں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں، یہ نظم اکثر و بیشتر زیر بحث آتی ہے اور گنگنائی جاتی ہے۔
تاہم، پچھلے کچھ برسوں سے، خاص طور پر بھارت میں، ایک نہایت عجیب و غریب اور تشویشناک رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ وہ نظم جو کبھی حریت فکر اور انسانی وقار کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب اسے محض پڑھنا، گنگنانا یا اس کے مصرعے دہرانا بھی بعض حلقوں کی جانب سے بغاوت، ملک سے غداری، اور ہندو مخالف جذبات کے فروغ کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔ اسے اب ریاست مخالف بیانیے اور ملک کے خلاف ایک منظم تحریک کے جزو کے طور پر دیکھا اور پیش کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ چھ سالوں میں اس ضمن میں ایک ایسی تاریخ رقم ہوئی ہے جو جمہوری اقدار اور آزادی اظہار پر یقین رکھنے والوں کے لیے باعث فکر ہے۔ اس افسوسناک سلسلے کی تازہ ترین کڑی مئی 2025 میں بھارت کے شہر ناگپور میں پیش آنے والا واقعہ ہے، جہاں اس نظم کو ایک عوامی تقریب میں گانے یا اس کے حوالے دینے پر چند افراد کے خلاف ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کی گئی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اس پورے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ آخر وہ کیا عوامل ہیں جن کے باعث فیض کی یہ انقلابی نظم آج بھارت میں متنازعہ بنا دی گئی ہے۔
اس نظم کا تاریخی پس منظر نہایت واضح ہے۔ فیض احمد فیض نے "ہم دیکھیں گے” 1979 میں پاکستان کے اس وقت کے فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق کے جابرانہ اور عوام دشمن دور حکومت کے خلاف لکھی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے جمہوری اداروں کو معطل کر دیا تھا، بنیادی انسانی حقوق سلب کر لیے گئے تھے، اور اسلامی نظام کے نام پر ایک ایسی گھٹن زدہ فضا قائم کر دی تھی جہاں ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور فنکاروں کا دم گھٹتا محسوس ہوتا تھا۔ فیض خود بھی اپنی ترقی پسندانہ سوچ اور نظریات کے باعث ریاستی عتاب کا شکار رہے تھے۔ ایسے میں "ہم دیکھیں گے” ظلم کی اس طویل رات کے خاتمے اور ایک روشن صبح کی نوید بن کر ابھری۔ اس نظم نے پاکستان میں جبر کے خلاف مزاحمت کی ایک توانا علامت کی حیثیت اختیار کرلی اور پھر اس کی گونج پورے برصغیر میں پھیل گئی۔ بھارت میں بھی جہاں ترقی پسند ادب اور انقلابی شاعری کی ایک مضبوط روایت رہی ہے، فیض کی اس نظم کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اسے سراہا گیا۔ اگرچہ اس کا فوری پس منظر جنرل ضیاء الحق کی عوام دشمن حکومت کے خلاف ایک احتجاج تھا، لیکن اس کے اشعار میں وہ آفاقیت اور ہمہ گیری تھی کہ اسے مختلف سماجی، سیاسی اور ثقافتی تناظر میں جابر حکمرانوں، استحصالی نظاموں اور غیر منصفانہ فیصلوں کے خلاف ایک طاقتور ترانے کے طور پر گایا جانے لگا۔ جب بھی کسی انتظامی فیصلے، کسی ظالمانہ قانون یا کسی آمرانہ رویے کے خلاف کچھ کہنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تو لوگ اس نظم کے مصرعوں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں اور انہیں اپنی آواز بناتے ہیں۔ اس کے بول، "لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے”، "جب ظلم و ستم کے کوہ گراں، روئی کی طرح اڑ جائیں گے”، "جب اہل حکم، اہل ستم، مسند پر بٹھائے جائیں گے”، ایک ایسی امید اور عزم کا اظہار کرتے ہیں جو ہر مظلوم اور محکوم کی آرزو ہوتی ہے۔ یہ نظم کسی بھی تنظیم، جلوس یا احتجاجی اجتماع میں شرکاء کے حوصلے بلند کرنے، ان میں جوش و جذبہ پیدا کرنے اور انہیں اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنے کا ایک موثر ذریعہ بن جاتی ہے۔
اس نظم کو لازوال شہرت بخشنے اور اسے ہر خاص و عام تک پہنچانے میں پاکستان کی شہرہ آفاق گلوکارہ اقبال بانو مرحومہ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ انہوں نے 1986 میں لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں، ایک ایسے وقت میں جب جنرل ضیاء کی آمریت اپنے عروج پر تھی اور فیض کی شاعری پر بھی قدغنیں تھیں، ہزاروں کے مجمع کے سامنے سیاہ ساڑھی میں ملبوس ہو کر، جس کا پہننا بھی اس دور میں ایک طرح کی مزاحمت سمجھا جاتا تھا، اس نظم کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا۔ یہ وہ پرفارمنس تھی جس نے "ہم دیکھیں گے” کو امر کر دیا۔ اس کے بعد لندن اور دیگر عالمی مراکز میں بھی انہوں نے اس نظم کو گایا، جس کے نتیجے میں یہ نظم ایک صدا بہار انقلابی نغمے کے طور پر دنیا بھر میں پہچانی جانے لگی۔ آج شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اردو ادب یا جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ سے تھوڑی بہت بھی واقفیت رکھتا ہو اور اس نظم سے ناآشنا ہو۔
لیکن، جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، بھارت میں اس نظم کے حوالے سے ایک شدید اور منفی ردعمل حالیہ دور، بالخصوص گزشتہ پانچ چھ سالوں سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہم نے ایسے واقعات دیکھے ہیں جہاں بھارت کے مختلف شہروں میں یہ گانا گانے یا اس کے مصرعے دہرانے پر لوگوں کو ہراساں کیا گیا، ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور یہاں تک کہ گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔ اس منفی رجحان کا آغاز بنیادی طور پر سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ (CAA) کے خلاف ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران ہوا۔ جب ان مظاہروں میں شریک طلباء، سول سوسائٹی کے اراکین اور عام شہریوں نے "ہم دیکھیں گے” کو اپنے احتجاج کی علامت کے طور پر استعمال کیا، تو کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر شدید اعتراضات اٹھائے گئے اور اسے ریاست مخالف سرگرمی قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں ماضی قریب کے چند واقعات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کانپور اور دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 17 دسمبر 2019 کو CAA کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران جب طلباء نے "ہم دیکھیں گے” گائی، تو اس پر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ نظم کا ایک خاص مصرعے ہیں جس پر سب سے زیادہ اعتراض کیا گیا، اور یہی اعتراض ناگپور کے حالیہ معاملے میں بھی دہرایا گیا ہے۔ وہ مصرعے یہ ہیں :
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ سفا مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
اس مصرعے پر اس وقت بھی شدید اعتراض کیا گیا تھا۔ آئی آئی ٹی کانپور میں ڈاکٹر واشیمنت شرما نامی ایک شخص نے شکایت درج کرائی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ نظم ہندو مخالف ہے اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتی ہے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہاں "بت اٹھوانے” کی بات ہو رہی ہے، اور چونکہ ہندو مذہب میں بت پرستی ایک اہم عقیدہ ہے، لہٰذا اس بات کو یوں سمجھا گیا کہ یہ ایک مذہب یعنی اسلام کی دوسرے مذہب یعنی ہندومت پر بالادستی قائم کرنے کی خواہش کا اظہار ہے، یعنی اسلام اللہ کا نام بلند کرنے کے لیے ہندوؤں کے بتوں کو ہٹانا چاہتا ہے۔ لہٰذا، یہ نظم سراسر ہندو مخالف ہے۔ یہ دلیل اس وقت بھی دی گئی تھی اور وقتاً فوق فوقتاً "ہم دیکھیں گے” کے خلاف یہ دلیل مختلف پلیٹ فارمز سے پیش کی جاتی رہی ہے کہ یہ ایک ہندو مخالف نظم ہے۔
تاہم، اس تشریح کے برعکس، اگر نظم کے اصل پس منظر، فیض کے نظریات اور ان کے مجموعی کلام کو دیکھا جائے تو یہ اعتراض بے بنیاد اور گمراہ کن نظر آتا ہے۔ یہ نظم، جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا، 1979 میں پاکستان کے ایک مسلمان فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف لکھی گئی تھی، جو خود کو اسلام کا ٹھیکیدار بنا کر پیش کرتے تھے اور جنہوں نے مذہب کو اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کیا۔ 1986 میں اسے اقبال بانو نے گایا، جو خود بھی ایک مسلمان تھیں۔ لہٰذا، اس نظم کو بھارت میں ایک مخصوص عینک سے دیکھ کر یہ سمجھنا کہ یہ ہندو مخالف ہے، دراصل اس کی روح اور اس کے تاریخی سیاق و سباق کو یکسر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دیگر CAA مخالف احتجاجی مظاہروں میں بھی جب یہ نظم گائی گئی تو اسی قسم کی باتیں سامنے آئیں اور اسے ہندو مسلم منافرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا گیا۔ کچھ معاملات میں پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کیں اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ لیکن کچھ دوسرے معاملات میں، اگرچہ اعتراضات ضرور ہوئے اور شکایات بھی درج کرائی گئیں، مگر یا تو ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، اور اگر ہوئی بھی تو فوری گرفتاریاں عمل میں نہیں آئیں، جیسا کہ اس حالیہ ناگپور کے معاملے میں بھی 19 مئی 2025 تک کسی گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
"ہم دیکھیں گے” کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور اس کے ہندو مخالف ہونے کی سطحی تفہیم کے خلاف بھی متعدد مضبوط دلائل اور وضاحتیں پیش کی گئی ہیں۔ بھارت کی معروف فلمی شخصیت، شاعر اور دانشور جاوید اختر نے اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظم میں "بت اٹھوائے جائیں گے” اور "اللہ کا نام رہے گا” کے جو حوالے ہیں، انہیں ہرگز ہندو مخالف نہیں سمجھنا چاہیے۔ جاوید اختر کے مطابق، یہاں "بت” (idols) سے مراد ظلم و جبر، آمریت اور استبداد کی وہ علامتیں ہیں جو حکمران طبقہ اپنے گرد قائم کر لیتا ہے، نہ کہ ہندو دیوتاؤں کی مورتیاں۔ یہ نظم آمریت، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو، کو ہدف بناتی ہے۔ یعنی، وہ چہرے یا ادارے جو عوام دشمن اور جابرانہ رویوں کی نمائندگی کرتے ہوئے "بت” بن جاتے ہیں (اس تناظر میں ظلم و جبر اور طاقت کے نشے کے بت)، انہیں ایک دن مٹا دیا جائے گا اور نام صرف اللہ کا رہے گا۔ اس تناظر میں "اللہ” سے مراد خدائے بزرگ و برتر، واحد اور عالمگیر طاقت ہے، کیونکہ یہ نظم پاکستان کے اسلامی ثقافتی پس منظر میں لکھی گئی تھی جہاں خدا کا تصور اسی نام سے وابستہ ہے۔ لہٰذا، اسے اس کی وسیع تر روحانی اور علامتی معنویت میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ اسے فرقہ وارانہ یا ہندو مخالف رنگ دے کر اس کی اصل روح کو مسخ کیا جائے؛ یہ جاوید اختر اور دیگر کئی دانشوروں کا موقف ہے۔
اس کے علاوہ، قانونی حدود سے تجاوز (legal overreach) کا معاملہ بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ آزادی اظہار رائے، جو کہ کسی بھی صحت مند جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے، اور قانون کی پاسداری کے درمیان ایک نازک توازن قائم رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ماضی میں بھی کئی بار یہ دیکھا گیا ہے کہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے محض ایک گانا گانے، ایک نظم پڑھنے یا ایک نعرہ لگانے پر، اس کے سیاق و سباق، اس کی علامتی معنویت اور کہنے والے کی نیت کو سمجھے بغیر، بغاوت (sedition) جیسے سنگین الزامات عائد کر دیے جاتے ہیں۔ یہ واضح طور پر قانونی اختیارات کا ناجائز استعمال اور قانونی حدود سے تجاوز ہے۔ بغاوت ایک انتہائی سنگین دفعہ ہے، جس کا مقصد ریاست کے خلاف مسلح جنگ یا تشدد پر اکسانا ہوتا ہے، اور اس کا اطلاق ایک نظم پڑھنے پر کرنا بذات خود ایک ایسا معاملہ ہے جس پر آزادی اظہار اور قومی سلامتی کے حوالے سے ہونے والے بحث و مباحثوں میں بارہا تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
ناگپور میں حال ہی میں جس واقعہ کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، وہ دراصل مراٹھی تھیٹر اور فلم کے معروف اداکار ویرا ستی دار کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب تھی۔ ویرا ستی دار ایک ایسے فنکار تھے جو اپنی سماجی اور سیاسی طور پر باشعور فلموں اور کرداروں کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ ان کی ایک فلم "کورٹ” (Court)، جو 2014 میں ریلیز ہوئی تھی اور جسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا تھا، خود بھی اس وقت کے سماجی اور عدالتی نظام پر ایک گہری تنقید کے باعث کافی بحث میں رہی تھی۔ ناگپور میں یہ یادگاری تقریب ان کی اہلیہ پشپا ستی دار نے ویرا ستی دار سمرتی سمنوے سمیتی کے اشتراک سے سمتا کلا منچ کے ساتھ مل کر جھانسی رانی اسکوائر، سیتا بلدی کے مقام پر منعقد کی تھی۔ سمتا کلا منچ ایک امبیڈکر وادی نظریات کا حامل ثقافتی گروپ ہے جو اپنے فن کے ذریعے سماجی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تقریب میں سمتا کلا منچ کے شرکاء نے فیض احمد فیض کی نظم "ہم دیکھیں گے” گائی۔ تقریب کے ایک اور مقرر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ نظم آج کے دور میں، خاص طور پر جابرانہ حکمرانی (oppressive rule) اور فاشسٹ ادوار (fascist times) میں، انتہائی اہم اور متعلقہ ہے۔ اسی بات کو، یعنی نظم گانے کو، اور مقرر کی گفتگو کے ان الفاظ کو بنیاد بنا کر دتاترے شرکے نامی ایک دائیں بازو کے کارکن نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔
دتاترے شرکے کی شکایت میں لکھا گیا کہ تقریب میں "اپریسیو رول”، "فاشسٹ ٹائم”، اور "شیک دی تھرون” (تخت کو ہلا دو) جیسے جملے استعمال کیے جا رہے تھے اور ایسی نظمیں گائی جا رہی تھیں، جنہیں ملک دشمن اور اشتعال انگیز سمجھا گیا۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ناگپور شہر میں ملک کے خلاف باتیں ہو رہی تھیں اور عوام کو حکومت کے خلاف اکسایا جا رہا تھا۔ اس شکایت میں خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا کہ "پہلگام” حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے پیش نظر، اس طرح کے پاکستانی شاعر کے گانے گانا اور اس طرح کی باتیں کرنا ملک سے غداری سے بھی بڑا جرم ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پر سیتا بلدی پولیس تھانے میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) درج کی گئی۔ الزام یہ تھا کہ ایسی سرگرمیاں ملک کی سالمیت، اتحاد اور خودمختاری کے لیے خطرہ ہیں اور مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دے رہی ہیں۔ اس وجہ سے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) جو کہ انڈین پینل کوڈ (IPC) کی جگہ لینے والا نیا قانون ہے ، کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ایف آئی آر بی این ایس کی دفعہ 152 (جو انڈین پینل کوڈ کی بغاوت کی دفعہ 124A کی جگہ لیتی ہے اور بھارت کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق ہے)، دفعہ 196 (مختلف گروہوں کے درمیان مذہب، نسل، جائے پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر دشمنی کو فروغ دینا)، دفعہ 353 (عوامی فساد یا بدامنی کا باعث بننے والے بیانات دینا) اور دفعہ 3 ذیلی پیرا 5 (مشترکہ ارادہ یا سازش) کے تحت درج کی گئی۔ سیتا بلدی پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر وٹھل سنگھ راجپوت نے ایف آئی آر درج ہونے کی تصدیق کی۔ تاہم، جیسا کہ پہلے بتایا گیا، 19 مئی 2025 تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی، لیکن تقریب کی ایک ویڈیو ریکارڈنگ کو ثبوت کے طور پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
ناگپور پولیس، خاص طور پر سیتا بلدی پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر، نے اپنے ایک بیان میں مبینہ طور پر کہا ہے کہ "جرم تو ہوا ہے”۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ اچھی بات ہے کہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا، لیکن وہ اس معاملے میں نامزد تینوں ملزمان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کے کام کرنے کا طریقہ سمجھ سکیں، کیونکہ ان کے نزدیک انہوں نے "اتنا خطرناک گانا” گایا ہے۔ ان کے خیال میں یہ صحیح نہیں ہے، آپ فیض احمد فیض کی نظم کیسے گا سکتے ہیں، یہ ایک جرم سرزد ہوا ہے۔ یہ بیان، اگر درست نقل ہوا ہے، تو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک ذمہ دار افسر کی جانب سے انتہائی تشویشناک اور جمہوری اقدار کے منافی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ایسی آوازیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گی؟ کیا فیض احمد فیض کی نظمیں گانے والے لوگ ختم ہو جائیں گے؟ کیا اس نظم کو تاریخ کے اوراق سے یا لوگوں کے دلوں سے مٹا دیا جائے گا؟ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ ہر حکومت، ہر انتظامیہ اور ہر طاقتور ادارے کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اقتدار کے ایوانوں میں چہرے بدلتے رہتے ہیں، لیکن جمہوریت، اگر وہ حقیقی جمہوریت ہے، تو وہ بہت سی آوازوں، متنوع خیالات اور مختلف نقطہ ہائے نظر سے بنتی اور پروان چڑھتی ہے۔ "ہزاروں پھولوں کو کھلنے دو” کا مشہور مقولہ صرف باغ میں کھلنے والے رنگ برنگے پھولوں کی بات نہیں کرتا، بلکہ یہ دراصل خیالات، افکار اور نظریات کے ان پھولوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کا کھلنا کسی بھی معاشرے کی صحت مندی اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور وہ کھلیں گے، ضرور کھلیں گے، چاہے حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں۔ فیض کی نظم "ہم دیکھیں گے” درحقیقت جمہوریت کے استحکام، شہریوں کے سیاسی و سماجی شعور کی بیداری، اور اس بنیادی اصول کی بات کرتی ہے کہ حق حکمرانی عوام کا ہے، عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ یہ نظم کسی مذہب کے خلاف نہیں، کسی فرقے کے خلاف نہیں، بلکہ یہ ہر قسم کے جبر، آمریت، ناانصافی اور استبداد کے خلاف ایک پرامن، علامتی اور انتہائی موثر احتجاج ہے۔ اسے ملک سے غداری یا کسی مخصوص مذہبی گروہ کے خلاف نفرت پھیلانے کا ذریعہ قرار دینا نہ صرف اس کی ادبی اور تاریخی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش ہے، بلکہ اس کی اصل روح اور پیغام کو مکمل طور پر مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
یوں، فیض احمد فیض کی نظم "ہم دیکھیں گے” پر بھارت میں جو ہنگامہ برپا ہے، یا برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ دراصل آزادی اظہار رائے پر لگنے والی قدغنوں، اختلاف رائے کو برداشت نہ کرنے کی بڑھتی ہوئی روش، اور نظم کے حقیقی، وسیع تر اور آفاقی مفہوم کو سمجھنے کے بجائے اسے ایک تنگ نظر، متعصبانہ اور مخصوص سیاسی ایجنڈے کی عینک سے دیکھنے کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسی تشویشناک صورتحال ہے جو نہ صرف بھارت کی جمہوری اقدار اور آئینی آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت اور فکری گھٹن کس حد تک سرایت کر چکی ہے۔ فیض کی شاعری ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے، اور "ہم دیکھیں گے” اسی مزاحمت کا لازوال ترانہ ہے، جسے دبانے کی ہر کوشش بالآخر ناکام ہی ہوگی۔
Like this:
Like Loading...