Skip to content
کرناٹک میں مسلم کمیونٹی فوٹو شوٹ میں مصروف ؛ دوسری قوم کمار ہی ہےخوب !!
بنگلور:( خصوصی رپورٹ مدثر احمد شیموگہ )
کرناٹک میں کانگریس کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی اور سماجی منظر نامے میں کئی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ تاہم، مسلم کمیونٹی کی حالت پہلے سے اب بھی بدتر نظر آرہی ہے کیونکہ وہ موقع کا صحیح استعمال کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ معاشی اور انتظامی مواقع کے حصول میں پیچھے رہ گئے ہیں، جبکہ دوسری کمیونٹیز عہدوں، ٹھیکوں اور اپنی آمدنی بڑھانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلم کمیونٹی اپنی ترقی کے بجائے سیاسی لیڈروں کی واہ واہی اور سماجی تقریبات میں ان کے ساتھ فوٹو سیشنز تک محدود نظر آتی ہے۔
2023 میں کرناٹک میں کانگریس کی حکومت بننے کے بعد، مسلم کمیونٹی نے امید کی تھی کہ انہیں سیاسی اور معاشی طور پر زیادہ نمائندگی اور مواقع ملیں گے۔ کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں اقلیتوں کے تحفظ اور ترقی کے وعدے کیے تھے، جن میں تعلیمی اور معاشی مواقع، اقلیتی اداروں کی مضبوطی، اور سماجی انصاف شامل تھے۔ تاہم، دو سال بعد بھی مسلم کمیونٹی کے کئی افراد کا خیال ہے کہ ان وعدوں پر عملدرآمد محدود رہا ہے۔ ہوناتو یہ چاہئے تھاکہ کانگریس کی حکومت آنے کے بعد مسلم کمیونٹی سرکاری ٹھیکوں، عہدوں اور معاشی ترقی کے مواقع کا جم کراستعمال کرتی لیکن صورتحال پہلے جیسی ہی ہے۔
دوسری کمیونٹیز، خاص طور پر اونچی ذات کے ہندو اور دیگر اقلیتی گروہ، سرکاری ٹھیکوں اور عہدوں میں اپنا حصہ بڑھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے لیڈر صرف تقریبات میں شرکت اور فوٹو کھنچوانے تک محدود ہیں۔ مسلمانوں کے پاس نہ تو سیاسی اثر و رسوخ ہے اور نہ ہی سرکاری ٹھیکوں تک رسائی۔ دوسری کمیونٹیز منظم ہیں اور وہ اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے سرکاری وسائل حاصل کر رہی ہیں۔ ایک یم یل اے کے پاس جانے کے لئے بھی مسلمانوں کو سفارش یا سہارے کی ضرورت پڑرہی ہے اور لوگ ان سیاستدانوں کو شادیوں میں بلانا ، انہیں گرم نرم بریانی کھلانا اور انکے ساتھ فوٹو کھینچنا فرض سمجھ چکے ہیں ، جبکہ سیاستدان آتے ہیں اور کھا کر ڈکار دے کر چلے جاتے ہیں اسکے بعد تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں۔
مسلم کمیونٹی کے کچھ لیڈروں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ سماجی اور معاشی ترقی کے بجائے سیاسی لیڈروں کی خوشامد اور ان کے ساتھ فوٹو سیشنز کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسلم کمیونٹی کے لیڈر اپنی سیاسی وابستگیوں کو مضبوط کرنے کے لیے سماجی تقریبات کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ سرکاری عہدوں یا ٹھیکوں کے بجائے اپنی سیاسی شناخت کو اجاگر کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سے کمیونٹی کے عام لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ مسلم کمیونٹی کو اپنی معاشی اور سیاسی ترقی کے لیے منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کی مضبوطی، چھوٹے پیمانے کے کاروباروں کے لیے حکومتی امداد، اور سرکاری ٹھیکوں میں منصفانہ حصہ داری کے لیے کمیونٹی لیڈروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
Post Views: 32