Skip to content
’’قربانی‘‘ خلیل اللہ ؑ کی فدائیت کا مظہر
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اسلام اور اس کے تمام احکامات اور تعلیمات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کئے گئے ہیں جو سارے جہان کا خالق ومالک اور پروردگار ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے جو احکامات اُتارے ہیں وہ انسانی فطرت اور ان کے مزاجوں کے عین مطابق ہیں ، بلاشبہ فطرت ِ انسانی جس بات کا تقاضہ کرتی ہے بعینہ شریعت اُسی کا حکم دیتی ہے ، اس طرح اگر دیکھا جائے تو شرعی احکامات اور فطرت انسانی میں کسی بھی قسم کا تضاد نظر نہیں آئے گا ، شریعت اسلامی فطرت ِ انسانی کے عین مطابق ہونے کے باوجود اگر کوئی شریعت اور اس کے احکامات یا ان میں سے کسی بھی ایک حکم کی مخالفت کرتا ہے تو گویا وہ فطرت انسانی کی مخالفت کرتا ہے اور جو شریعت سے بغاوت کرے گا وہ لامحالہ انسانی فطرت کا بھی باغی اور منکر کہلائے گا ۔
قربانی اسلامی عبادات میں ایک اہم عبادت ہے ،یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا بہترین ذریعہ ہے ،قربانی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا ایک اعلیٰ اظہار اور اس کی فرماں برداری کا ایک خوبصورت انداز ہے ، قربانی ایک اہم ترین فریضہ ہے جس کا ایام نحر میں ادا کرنا ہر صاحب استطاعت مسلمان پر واجب اور ضروری ہے ،قربانی اصل میں اپنی طرف سے بارگاہ الٰہی میں مخصوص اور متعینہ جانور کے گلے پر چھری چلانے اور اسے اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنے کا نام ہے ،سچ تو یہ ہے کہ قربانی ربانی خواہشات پر اپنی خواہشات قربان کرنے کا اظہار کا نام ہے ، قربانی درحقیقت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ؑ اور آپؑ کے لائق فرزند ارجمند سیدنا اسماعیل ؑ کی فدائیت کا عظیم مظہر ہے وہیں عظیم باپ اور بیٹے کا بے مثال جذبہ ،جاں نثاری اور اطاعت کا بین ثبوت ہے ۔
قربانی کیا ہے ؟ اور اس کا مقصد کیا ہے؟ پہلے اسے جاننے کی ضرورت ہے تا کہ اس کے ذریعہ قربانی کی حقیقت ، اس کی اہمیت اور اس پر عمل کی ضرورت واضح ہو ئے ،پھر اس کے بعد خود بخود ان سوالوں کے جوابات مل جائیں گے جنہیں نام ونہاد لوگوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے زبردستی اٹھایا ہے ،یقینا قربانی شعائر اسلام میں سے ہے،اسلامی اہم ترین عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کے خلیل سیدنا ابراہیمؑ اور ان کے فرماں بردار فرزند ارجمند سیدنا اسماعیلؑ کی عظیم یاد گار اور سنت ہے ، اسی وجہ سے مسلمان عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کو ذبح کرکے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ؑ کے اُس عمل کی نقل کرتے ہیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اطاعت پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے ،اس سے تعلق و محبت کا اظہار کرتے ہوئے منیٰ کے میدان میں اپنے اکلوتے، کمسن فرزند ارجمند سیدنا اسماعیل ؑ کے گلے پر چھری چلائی تھی ، لیکن اللہ تعالیٰ کا مقصد اپنے خلیل کے اکلوتے فرزند سیدنا اسماعیل ؑ کا ذبح ہونا بالکل نہیں تھا ، اللہ تعالیٰ تو ہر گز یہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنے خلیل کو بڑھاپے میں دی گئی اولاد کی نعمت اس سے واپس لے لی جائے بلکہ اس امتحان کے ذریعہ اپنے خلیل کی اس بے مثال محبت کو دنیا کے سامنے لانا تھا جو انہیں اپنے پروردگار سے تھی ،سو سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے بیٹے کے گلے پر چھری چلاکر اسے پورا کر دکھایا ، اللہ تعالیٰ کو اپنے خلیل سیدنا ابراہیم ؑ اور ان کے ہونہار فرزند سیدنا اسماعیل ؑ کا یہ عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لئے عبادت قرار دید ے دیا ،اس کی نقل کو اہل اسلام کے لئے لازم قرار دیکر اسے قیامت تک کے لئے زندۂ جاوید بنادیا، چنانچہ ان باپ بیٹے کی نقل میں ہر صاحب استطاعت پر سال میں ایک مرتبہ ایام نحر میں شریعت کی طرف سے منتخب کردہ جانور کی قربانی واجب قرار دے دی گئی ، جو شخص بھی ابراہیمی جذبہ ٔ محبت کو سامنے رکھتے ہوئے قربانی کے عمل کو انجام دیگا تو وہ ضرور رب کی قربت اور اس کی رحمت وعنایت کا مستحق ہوگا ،بر خلاف وہ شخص جو جذبہ ابراہیمی سے عاری ہوکر قربانی کرے گا تو وہ صرف دم جانور بہائے گا لیکن اس کے فوائد وثمرات سے محروم رہے گا۔
قربانی نہ یہ کہ صرف ایک عبادت ہے بلکہ ایک عظیم الشان اور مہتم بالشان عبادت اور اپنے رب سے محبت وچاہت کا نرالہ انداز ہے،قربانی کو کوئی سالانہ رسم نہ سمجھیں کہ اسے انجام دیکر خاموش ہو جائیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے اور اپنی خواہشات کو قربان کرنے کے عملی مظاہرے اور محبت کی کسوٹی پر کھرے اترنے کی عملی تربیت کا نام ہے،جولوگ قربانی کو صرف ایک سالانہ رسم سمجھ کر انجام دیتے ہیں وہ کبھی بھی قربانی کی روح اور اس کے مقصد کو پانہیں سکتے ، وہ تو صرف جانور کے گلے پر چھری چلانا جانتے ہیں لیکن اس کی حقیقت سے بے گانہ ہیں ، رب کے حکم اور اس کی مرضی پر اپنی خواہشات کے گلے پر ربانی حکم کی چھری چلانا ہی در اصل قربانی کی حقیقت اور اس کی روح ہے،رسول اللہ ؐ نہ صرف ہر سال قربانی فرمایا کرتے تھے بلکہ بڑی تاکید کے ساتھ اپنے اصحاب ؓ کو بھی اس پر عمل کی ترغیب فرماتے تھے ، صحابہ ؓ نے جب آپ ؐ کو نہایت تاکید کے ساتھ قربانی کا حکم دیتے ہوئے سنا تو اس کی بابت پوچھ ہی لیا کہ:اے اللہ کے رسول ؐ! یہ قربانی ہے کیا؟، تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے جد اعلیٰ ابراہیم ؑ کی سنت ہے،(یعنی سب سے پہلے ان کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا تھا اور وہ اسے کیا کرتے تھے ،ان کی اس سنت اور قربانی کے اس عمل کی پیروی کا حکم مجھے اور میری امت کو بھی دیا گیا ہے) ، صحابہؓ نے پوچھا کہ :یارسول اللہ ؐ!ہمارے لئے ان قربانیوں میں کیا اجر ہے؟، آپؐ نے ارشاد فرمایا:ہر ہر بال کے عوض ایک ایک نیکی ہے،پھر صحابہؓ نے سوال کیا یارسول اللہ ؐ !کیا اُون پر بھی یہی اجر ہے؟ تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا:ہاں اُون والے جانور پر بھی اسی حساب سے اجر ملے گا (مسند احمد:۱۹۲۸۳)، ایک حدیث میں آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کے دنوں میں قربانی سے بڑھ کر کوئی عمل بارگاہ رب العالمین میں پسندیدہ نہیں (ترمذی:۱۵۷۲) ’’ ایک اور حدیث میں قربانی کی فضیلت بتاتے ہوئے آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ عیدالاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ،پھر آگے اس کی مزید فضیلت اور اس کی عند اللہ مقبولیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ (زندہ ہوکر)آئے گا،اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضااور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے(ترمذی:۱۵۷۲)،قربانی کی فضیلت اور اس کی عند اللہ قبولیت بتانے کے بعد آپ ؐ نے اسے خوش دلی سے انجام دینے کی طرف توجہ دلا ہوئے ارشاد فرمایا :فطیبوبھا نفساً(ترمذی:۱۵۷۲) ، سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ہجرت مدینہ کے بعد مدینہ طیبہ میں دس سال قیام فرمایا ،اور آپ ؐ برابر ہر سال قربانی فرمایا کرتے تھے(ترمذی :۱۵۰۷) قربانی تقرب الیٰ اللہ کا نہایت زبردست وسیلہ ہے اور اجر وثواب کے لحاظ سے بہت اونچا عمل ہے، اس کے باوجود اگر کوئی صاحب استطاعت قربانی سے گریز کرتا ہے ،اس عظیم عمل سے اعراض کرتا ہے اور حیثیت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا تو ایسے شخص پر رسول اللہ ؐ نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’ استطاعت کے باوجود جولوگ قربانی نہیں کرتے انہیں چاہئے کہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے‘‘ (مسند احمد:۸۲۷۳)۔
قربانی کی اہمیت ،فضیلت ،عند اللہ قبولیت اور اس پر اجر وثواب کے معلوم ہونے کے بعد پھر بھی کوئی اس پر اعتراض کرتا ہے اور اسے مال کا ضیاع اور جانوروں کے ساتھ ظلم سے تعبیر کرتا ہے تو ایسا شخص جاہل ،دین سے بے بہرہ ،قربانی کی روح سے ناواقف اور بد دین کہلانے کے لائق ہے ، اس وقت بعض ایسے لوگ جو سوشل میڈیا پر خود کو اسلامی اسکالر بتاکر عام مسلمانوں اور خصوصا دین سے ناواقف لوگوں کو اسلامی احکامات اور خصوصا قربانی کے متعلق غلط باتیں بتاکر ان کے ذہنوں کو منتشر کررہے ہیں بلکہ بعض نام نہاد اسلامی اسکالر تو اسلام کے بعض احکامات کو عقل کے خلاف بتاکر اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ،یہ نام نہاد اسلامی اسکالر جو حقیقت میں دشمنان اسلام کے آلہ کار ہیں اور ان کی زبان بن کر اسلامی احکامات اور دینی تعلیمات پر کیچڑ اچھا ل رہے ہیں ، یہ کم عقل اپنی عقل سے شریعت پر اعتراض کرتے ہوئے بے سروپا سوالات کے ذریعہ اپنے کم علم بلکہ جاہل ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں ، انہیں قربانی کے جانوروں سے تو بڑی ہمدردی ہے مگرسلاٹر ہاوس میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں کٹنے والے جانوروں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ،ان جانوروں کے گوشت سے روزانہ کروڑوں روپئے کما تے ہیں بلکہ وہ تو خود ہر سانس کے ذریعہ لاکھوں جراثیم کو موت کے منہ میں پہنچا تے رہتے ہیں تو اپنی سانس روک کر ان جراثیم پر رحم کیوں نہیں کھاتے ،انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خالق نے دنیا کا نظام ہی کچھ اس طرح سے بنایا ہے کہ بعض کی موت بعض کے لئے حیات کا ذریعہ ہے ، خالق نے جانوروں کو الگ الگ مقاصد کے لئے پیدا کیا ہے اور ان جانوروں کو انسانوں کے کھانے کے لئے جائز قرار دیا ہے جو جسمانی طور پر صحت بخش اور روحانی طور پر انسانوں کے لئے سرور بخش ہیں ،ان لوگوں کو عین قربانی کے وقت ہی مال کا ضیاع کیوں نظر آتا ہے جب کہ ہزاروں روپئے فضولیات میں خرچ کرتے ہیں ،لاکھوں کروڑوں رو پئے بے ضرورت عمارتوں کی تعمیر اور اس کی تزئین پر خرچ کرتے ہیں،ان نادانوں کو کون سمجھائے کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کے ذریعہ جانوروں کا نذرانہ پیش کرنا بذات خود ایک عظیم عبادت ہے اور قربانی وجوب کا درجہ رکھتی ہے نہ کہ مستحب کا ،کیا قربانی نہ کرکے اس کی رقومات سے ہی سے غرباء ومساکین کی مدد کی جاسکتی ہے ؟ کیا قربانی کے بعد قربانی دینے والا اس قدر غریب ومسکین ہو جاتا ہے کہ پھر وہ غرباء ومساکین کی اعانت کی سکت نہیں رکھتا ؟ کیا قربانی نہ دے کر غرباء کی مددکرنا زیادہ اجر وثواب کی بات ہے؟ ، بات یہ ہے کہ فرض اور واجب کا درجہ سنت ونفل سے بڑھ کر ہوتا ہے اور وجوب کو ترک کرتے ہوئے سنت پر عمل نہیں کیا جاسکتا جو کہ خلاف شریعت ہے ،چونکہ قربانی واجب ہے اور بلا عذر اس کا ترک گناہ اور سخت پکڑ کا باعث ہے ،اس لئے یہ کہنا کہ قربانی کے بجائے اس کی رقم سے غربا کی اعنات کرنا چاہئے یہ ایک بے جا سوال ہے ، یہ ایک دھوکہ اور قابل ترک خیال ہے ،حقیقت میں یہ شیطانی چال ہے جس سے بچنا ضروری ہے ، عقلی گھوڑے دوڑا کر ایک عظیم عبادت سے روکنے کی کو شش کرنا بڑی سازش اور انتہائی بدبختی کی بات ہے ۔۔۔
Like this:
Like Loading...