Skip to content
تمل پناہ گزین نے سی اے اے کا چہرا بے نقاب کردیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایک زمانے میں شہریت ترمیمی قانون بناکر مودی سرکار نے ملک کے ہندو عوام کو خوب بیوقوف بنایا ۔ عوام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ آزادی کے بعد پہلی بار ایک ایسی سرکار عالمِ وجود میں آئی ہے جو نہ صرف اس ملک میں بلکہ ہم سایہ ممالک میں رہنے اور بسنے والے مظلوم ہندووں کی بھی بہی خواہ ہے۔ یہ ان لوگوں کو ترجیحی اعتبار سے شہریت دے کر نازبرداری کرے گی ۔ اس شوشے کے پیچھے کا مقصد کسی کی مدد کرنا تو تھا نہیں بلکہ یہ پیغام دینا تھا کہ پڑوسی مسلم ممالک میں ہندووں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتےہیں تاکہ اس کی آڑ میں اپنے ظلم و ستم کو جواز فراہم کیا جاسکے۔ ہندو انتہا پسندوں کو یہ کہہ کر بھی بہلایا جارہا تھا کہ ان ممالک سے آنے والے مسلمانوں کو اس سہولت سے محروم رکھا جائے گا ۔یہ اور بات ہے کہ ملک کے اندر جو حالات ہیں اس کے پیش نظر کون مسلمان یہاں آنے کی غلطی کرے گا؟ یہاں تو سلامتی کے ساتھ ساتھ بیروزگاری اور مہنگائی کے بھی شدید مسائل ہیں۔
ملک کی جدید تاریخ کا یہ یادگار باب ہے کہ یہاں کے مسلمانوں نے انصاف پسند ہندووں کے خلاف شاہین باغ کے نام سے ایک زبردست تحریک چلا کر اس تفریق و امتیاز کی مخالفت کے ذریعہ حکومت کو اسے ٹھنڈے بستے میں ڈالنے پر مجبور کردیا ۔ سی اے اے کے لالی پاپ کو طویل عرصے تک چٹایا گیا۔ پڑوسی ممالک کےغیر مسلم پناہ گزینوں کو مظلومیت کی صورت میں شہریت تک دینے کا یقین دلاکر سی اے اے قانون کا انتخابی فائدہ تو اٹھایا گیا مگر جب واقعی اس پر عمل درآمد کا موقع آیا تو بلی تھیلے سے کود کر باہر آگئی اور یہ ظاہر ہوگیا کہ حکومت اپنے وعدے سے مکر رہی ہے۔ پہلگام کے بعد کئی ایسے ہندووں کو پا کستان جانے کا حکم دینا جو برسوں قبل یہاں آکر بس گئے تھے اور اب ایک تمل پناہ گزین کے تعلق سے عدالتِ عظمیٰ نے نہایت سخت فیصلہ کرکے سرکاری سفاکی کی حمایت کردی ۔ سپریم کورٹ نے 19 مئی کو سری لنکا کے ایک تمل شخص کی ہندوستان میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دنیا بھر کے پناہ گزینوں کو رہنے کے لیے’’دھرم شالہ (مفت پناہ گاہ) نہیں ہے‘‘۔جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے 2015 میں ممنوعہ لبریشن ٹائیگرز آف تامل ایلم (ایل ٹی ٹی ای) کے ساتھ مبینہ تعلق کے الزام میں گرفتار ایک شخص کی درخواست پر یہ سفاکانہ فرمان سنایا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر درخواست گزار کو سری لنکا واپس جانے پر کوئی خدشہ لاحق ہے تو وہ کسی دوسرے ملک میں پناہ لے سکتا ہے ۔ اب وہ بیچارہ امریکہ یا یوروپ تو جانہیں سکتا اس لیے جائے تو جائے کہاں ؟ ایک طرف دنیا بھر ہندووں سے ہمدردی جتانا اور وشو گرو بننے کا دعویٰ کرنا نیز برے وقت میں آنکھیں پھیر لینا صریح منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ اس معاملے میں ملوث درخواست گذار کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت 2018 میں ایک ٹرائل کورٹ نے 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ آگے چل کر 2022 میں، مدراس ہائی کورٹ نے اس کی سزا کو کم کر کے سات سال کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ اسے پناہ گزین کیمپ میں رکھا جائے اور اس کی مدت ختم ہونے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے۔اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرکے اس نے گہار لگائی تھی ک سری لنکا میں اپنی جان کا خدشہ ہونے کے سبب ہ وہ ویزا پر ہندوستان میں داخل ہوا اور بیوی، بچے سمیت ہندوستان میں آباد ہوگیا۔
ان دلائل کے جواب میں جسٹس دتا نے پوچھا کیا ہندوستان پوری دنیا کے پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا ہے؟ ہم پہلے ہی 140 کروڑ لوگوں کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں، یہ ہر جگہ سے غیر ملکی شہریوں کی تفریح کے لیے کوئی دھرم شالہ نہیں ہے۔ اب جج صاحب کو کون سمجھائے کہ انسان تفریح کے لیے کسی غیر ملک میں پناہ نہیں مانگتا وہ شدید مصیبت میں یہ انتہائی قدم اٹھاتا ہے۔ جسٹس دتا کے مطابق آئین کی دفع 21 (زندگی اور ذاتی آزادی کا تحفظ) اور آرٹیکل 19 (جس میں نقل و حرکت اور رہائش کا حق شامل ہے) صرف ہندوستانی شہریوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کی تمل کی تین سالہ نظر بندی کو عدالت قانون کے مطابق درست بتایا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے اور تبصرے کے ذریعہ یہ واضح پیغام دیاگیا ہے کہ ہندوستان اپنی سلامتی اور آئینی حدود کے تحت غیر ملکیوں کو یہاں مستقل طور پر رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا، خصوصاً اگر وہ دہشت گردی سے متعلق کسی کیس میں سزا یافتہ ہوں۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی اپنی جگہ، لیکن قومی مفاد سب سے مقدم ہےیعنی درخواست گزار کا مظلوم ہندو ہونا اس کے کسی کام نہیں آئے گا۔ روہنگیا پناہ گزینوں پر دہشت گردی کا الزام تو ابھی تک کسی نے نہیں لگایا لیکن ان پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔
گونسالویس کے مطابق ہندوستان کے دستور کا آرٹیکل 21 شہریت سے علی الرغم سبھی کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔آئین کی یہ شق ثبوت کی کمی کا حوالہ دے کر پناہ گزینوں کو مجرم قرار دینے والے سیاسی بیانیے کی سرزنش بھی کرتی ہے۔ انہوں نے عدلیہ کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق مقدمات کو نظر انداز کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمل ٹائیگرس کو ہندوستان کی حکومت بے یارو مددگار چھوڑ دے گی ؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایل ٹی ٹی ای کو ہندوستان کے اندر اندرا گاندھی نے مکتی باہنی کی طرح نے تربیت دے کر تیار کیا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ راجیو گاندھی نے ان کا قلع قمع کرنے کی خاطر انڈین پیس کیپنگ فوج بھجوا دی ۔ اس دوران سری لنکا کے کئی تمل بھاگ کر ہندوستان آگئے اور ان میں سے ایک نے راجیو گاندھی کو ہلاک کردیا لیکن وہ سب ماضی کی باتیں ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ملک ہندو ہردیہ سمراٹ وزیر اعظم سری لنکا کے ہندووں کی داد رسی کریں گے یا نہیں؟ اکھنڈ بھارت بناکر وشو گرو بننے کا خواب دیکھنے والے کیا تمل سری لنکن پناہ گزینوں کے ساتھ بھی روہنگیا جیسا سلوک کریں گے ؟
بنگلا دیش کی جلاوطن وزیر اعظم حسینہ کو دہلی میں پناہ د ے کر وہاں کی عوام اور حکومت کو ناراض کرنے والی مودی سرکار کے سامنے یہ بڑا سوال ہے کہ اسے اگر بنگلا دیشی غریبوں سے دشمنی ہے تو شیخ حسینہ کو کیوں پال رہی ہے؟ روہنگیا مسئلہ کا سیاسی پہلو تو ہندو مسلمان والا ہے مگر ان کا معاملہ اس لیے سنگین ہے کیونکہ وہ پہلے ہی اقوام متحدہ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔ یو این میں انسانی حقوق کمیشن نے ہندوستانی بحریہ کے جہازوں سے متعدد روہنگیا افراد کو سمندر میں پھینکنے کی تحقیقات شروع کر کے سارے عالم کو چونکا دیا ہے۔ پچھلے دنوں جب ہتھکڑیاں اور بیڑیا ں ڈال کر امریکی انتظامیہ نے ہندوستان سے غیر قانونی طور نقل مکانی کرنے والوں کو اپنے وطن واپس بھیج دیا تھا تو ملک بھر میں اس غیر انسانی سلوک کی مذمت ہوئی تھی ۔ یہ کوئی عادی مجرم نہیں تھے۔ ان کے پاس اگر کاغذات نہیں تھے تو انہیں قانون کے مطابق واپس بھیجا جاسکتا تھا لیکن مجرموں کی مانند فوجی جہاز میں بھیج کر اس کا اضافی کرایہ وصول کرنا نہایت مذموم حرکت تھی ۔ روہنگیا پناہ گزینوں کا معاملہ امریکہ بدر ہونے والے ہندوستانیوں سے بھی زیادہ ہمدردانہ سلوک کا مستحق ہے کیونکہ وہ اپنے ملک میں نسل کشی کے خطرات سے دوچار ہیں ۔
ہندوستانی حکام نے پچھلے دنوں دہلی میں مقیم درجنوں روہنگیا مہاجرین کو حراست میں لے لیا تھاحالانکہ ان میں سے بیشتر لوگوں کے پاس پناہ گزینوں کی شناختی دستاویزات موجود تھیں۔ یہ الزام بھی ہے کہ اس گروہ کے تقریباً 40 ارکان کو مبینہ طور پر آنکھوں پر پٹی باندھ کر انڈمان اور نکوبار جزائر لے جایا گیا ۔ وہاں انہیں ہندوستانی بحریہ کے جہاز پر چڑھا کر مبینہ طور پر کشتی کے ذریعہ بحیرہ انڈمان کو عبور کرنے کے بعد لائف جیکٹس دے کر سمندر میں دھکیل دیا گیا۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بچ گئے مگر ان کے محل و وقوع کا علم کسی کو نہیں ہے۔ یہ معاملہ امریکی بدسلوکی کو بھی شرمندہ کرنے والا ہے۔اس واقعے کو غیر انسانی اور ناقابل قبول فعل قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کمشنر کے دفتر نے حکومتِ ہند پر زور دیا کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ غیر انسانی اور مہلک سلوک سے باز رہے ۔ یوگا کے حوالے سے دو سال قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اس کا پھیلاؤ پوری دنیا کوایک خاندان کے طور پر یکجا کرتا ہے۔ یوگا کے پھیلاؤ کا مطلب ہے ’وسودھیو کٹمبکم‘کے جذبے کی وسعت ہے، اس لیے اس سال ہندوستان کی زیر صدارت منعقد ہونے والی جی-20چوٹی کانفرنس کا موضوع بھی’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ رکھا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا روہنگیا اور تمل پناہ گزین اس عالمی خاندان کا حصہ نہیں ہیں؟ یاپھر وہ خطاب بھی محض ایک جملہ تھا ؟
Like this:
Like Loading...