Skip to content
کاش میں بھی حاجی ہوتا
جمع وترتیب
مفتی محمد تمیم احمد قاسمی
خادم: مدرسہ کہف الایمان ٹرسٹ
………
حج اسلام کا پانچواں رکن ہے عاشقانہ عبادت ہے، یہودی مزاج ہی ہوگا جو حج کرے بغیر مرے گا ،عیسائی مزاج ہوگا جو حج کرے بغیر مرے گا، اللہ کے گھر پر حاضری کا عشق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر اور قبر مبارک پر سلام پڑھنے کا شوق ہر ایمان والے کے دل میں ہونا چاہیے ۔
کیا ہے شہر مکہ جہاں سے دنیا کی اللہ نے شروعات فرمائی، کیا ہے شہر مکہ جہاں پر اللہ نے اپنے گھر کی بنیاد کے لیے انتخاب کیا ،آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات آپؐ چھوڑ کر جا رہے تھے مدینہ منورہ ،آپؐ نے فرمایا اگر میری قوم نے نہ نکالا ہوتا ،تو میں نے تجھے چھوڑا نہیں ہوتا ۔
حضرت ابراہیم سے اللہ نے فلسطین چھڑوایا،ملک شام چھڑوایا ،زرخیز علاقہ چھڑوایا اور حضرت ہاجرہ ،حضرت اسماعیلؐ کو لے کر مکہ مکرمہ میں بسنے کا حکم فرمایا، یہ ہے شہر مکہ یہ ہے کعبۃ اللہ، حجر اسود مقام ابراہیمی اللہ نے اس کے نور کو چھپا دیا ،ورنہ مشرق و مغرب روشن ہو جاتے اگر اس کے نور کو کھول دیا جاتا ،حجر اسود گواہی دے گا قیامت کے دن دو آنکھیں ہوں گی ،زبان ہوگی ۔
طواف کے عمل کا شوق نہیں ہوتا ،لیلاؤں کے گھر کے چکر کاٹتا ہے آدمی مولا کے گھر کے چکر کاٹنے کا شوق ایمان والے کے دل میں ہونا چاہیے، طواف کا ہر چکر ایک ایک قدم گناہ معاف کرواتا ہے درجات بلند کرواتا ہے۔
کیا ہے یہ صفا مروہ ،کیا ہے یہ عرفات دعا قبول ہو کر رہے گی ،بچی کچی دعا مزدلفہ میں قبول ہو جائے گی، یوم النحر عبادتوں کا دن قربانی کا دن ۔
بے حس نہ بنو
میرے بھائی: بے حس نہ بنو ٹال مٹو ل نہ کر و،گھر بنانے کے پیسے رکھیںہیں، سات آٹھ لاکھ روپیے تب بھی حج فرض ہے بیٹی کی شادی کے لیے پیسے رکھے سات اٹھ لاکھ روپے آج کل حج فرض ہے اس پر لے جانے والےا گروہ چھ لاکھ میں سات لاکھ میں لے جاتے ہیں حج کمیٹی سے میں نام انا ضروری نہیں، سستے پیکج تلاش نہ کرو ،شادیوں میں
کبھی معیار گھٹایا ؟کھانے کا کبھی اسٹیٹس کم کیا ؟فنکشن حال کا ؟کیوں جان نکلتی ہے حج کے فریضے پر خرچ کرنے کے لیے ۔
تفریح والا حج نہیں تربیت والا حج ،زندگی بدل دینے والا حج ،مال سے اعمال کی طرف ،مخلوق سے خالق کی طرف، دنیا سے آخرت کی طرف موڑ دینے والا حج ،عشق رسول اور فکر رسول پیدا کروا دینے والا حج ،آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے 19 سال تربیت فرمائی پھر لے کر حاضر ہوئے اللہ کے گھر پر، سیکھنا پڑے گا۔
بڑھاپے کا انتظار نہ کرو ، جوانوں کی عبادت بوڑھوں کی نہیں، تنہا ماں باپ کے کرنے کی عبادت نہیں ،ساتھ میں خدام بھی ہوں اجنبی ملک اجنبی علاقہ اجنبی زبان مسلسل اعمال پانچ دن میں پوری دنیا پورے قبائل پورے علاقے موسم کا نامموافق ہونا خدمت کرنے والے چاہیے، تن تنہا ماں باپ کو بھیج دیا رہبر کے بغیر خادم کے بغیر بیٹھ جائیں گے یہ کہیں پر طواف زیارت کر نہیں پائیں گے، رمی کر نہیں پائیں گے ،واجبات کا فہم نہیں ہے
دل وہاں پر لگے
حضرت عمر فرماتے ہیں میں گھر پر رہوں میرا دل کعبۃ اللہ سے چمٹا رہے یہ بہتر ہے اس سے کہ میں کعبے کے پاس رہوں اور میرا دل گھر والوں میں رہے، کعبۃ اللہ کے پاس ہیں اور پوتے نواسوں میں دل اٹکا ہوا ہے شہر مدینہ میں ہے اور چیزوں میں سونے چاندی میں دل اٹکا ہوا ہے ،مکہ مکرمہ مسجد حرام میں اللہ کی نشانیاں ہیں ہدایت حاصل کرنے کا مقام ہے ۔
تیرا اللہ سے کیا ناتا ہے
یہ لیبیا کے ایک نوجوان حاجی کی حیران کن داستان ہے، جسے نہ لے کر جانے والا طیارے کو 2 بار فضا سے واپس لوٹنا پڑا۔لیبیا کے عوام نے اس انوکھے اور دل کو چھو لینے والے واقعے پر بھرپور ردعمل دیا ہے، جو حاجی عامر المہدی کے ساتھ پیش آیا۔ یہ وہ خوش نصیب شخص ہے جس کی نیت اتنی پختہ اور دل اتنا سچا تھا کہ خالقِ کائنات نے اسے حج کی سعادت بخشنے کے لیے طیارہ بھی 2 بار پلٹا دیا۔یہ واقعہ 26 مئی 2025ء کو نشر ہونے والے الجزیرہ کے پروگرام "شبکات” میں زیر بحث آیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جنوبی لیبیا کے سبہا ایئرپورٹ پر موجود حکام نے عامر المہدی کو پاسپورٹ کے ایک مسئلے کی بنیاد پر طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا۔ فلائٹ کے وقت حجاز جانے والے مسافروں کے نام پکارے گئے۔ مگر اسے اندر جانے نہیں دیا گیا۔ پھر طیارہ اپنے مقررہ وقت پر اڑان بھر کر روانہ ہو گیا، لیکن المہدی نہ مایوس ہوا، نہ ایئر پورٹ کی روانگی ہال سے نکلا۔ وہ پوری استقامت اور یقین سے کہتا رہا: میں نے نیت باندھ لی ہے، میں حج کے لیے جا رہا ہوں، اور میں جاؤں گا!” لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ بھئی، فلائٹ جا چکی ہے۔ اب تمہارا جانا ناممکن ہے۔ لہٰذا گھر چلے جاؤ، اللہ سے مانگو کہ اگلے سال تمہیں حج کی سعادت نصیب فرمائے۔ مگر عامر نے کسی کی نہیں سنی اور کہا کہ دیکھنا، میں حج پر چلا جاؤں گا۔ادھر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ طیارہ آسمان میں پہنچ کر اچانک فنی خرابی کا شکار ہو گیا اور واپس ایئر پورٹ لینڈ کر گیا۔ یہ موقع المہدی کے لیے ایک نئی امید کی کرن بن سکتا تھا، مگر جب طیارہ واپس آیا اور المہدی کو سوار ہونے کی اجازت طلب کی گئی، تو پائلٹ نے سیڑھی کھولنے سے انکار کر دیا۔ طیارے کی فنی خرابی دور کر دی گئی اور وہ ایک بار پھر اڑان بھر کر فضا میں بلند گیا، المہدی کو پیچھے چھوڑ کر۔مگر وہ مردِ مومن نہ تو مایوس ہوا نہ ہی گھر لوٹا۔ حکام نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اب کوئی امید باقی نہیں، لیکن اس کا جواب ایمان سے لبریز تھا:إن الطائرة لن تذهب بدونه وإنها ستعود.”یہ جہاز میرے بغیر نہیں جائے گا، یہ پھر لوٹے گا۔”اور حیرت انگیز طور پر، وہی ہوا! طیارہ ایک اور فنی خرابی کا شکار ہوا اور مجبوراً اسے دوبارہ ایئرپورٹ آنا پڑا۔ اب کی بار پائلٹ نے اعلان کیا: "جب تک عامر المہدی سوار نہیں ہوگا، میں جہاز نہیں اڑاؤں گا۔”چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ لمحہ جب المہدی بالآخر طیارے پر سوار ہوا، اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، اس وقت مہدی کی خوشی دیدنی تھی۔سوشل میڈیا پر ردعمل:یہ ناقابلِ یقین واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔ کسی نے اسے صدقِِ نیت کی فتح کہا، تو کسی نے لیبیا کے ہوائی نظام کی بدانتظامی پر تنقید کی۔ ایک صارف "الابتسامہ” نے لکھا:”جب طیارہ دو بار صرف تمہارے لیے واپس آئے، تو یہ عام بات نہیں۔ تمہارا اللہ سے کوئی خاص ناتا ہے کہ اس نے تمہاری دعا قبول کر لی۔”ایک اور صارف "ألون” نے کہا:”جب حسنِ نیت عمل سے آگے ہو، حسنِ ظن اللہ سے مضبوط ہو اور توکل خالص ہو، تب ہی ایسی کرامت ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اللہ اپنی قدرت سے سب کچھ ممکن بناتا ہے۔”ایک اور صارف جُمعاح لکھتے ہیں:”یقین نہیں آتا! پہلے تمہارے اعصاب کی دھجیاں اڑا دیں، پھر پائلٹ سیڑھی کھولنے سے انکار کرے؟ ہم لیبیائی لوگ واقعی ہر چیز کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں!لیکن المہدی کی ثابت قدمی اور اللہ پر کامل یقین رنگ لے آیا۔ وہ اب اراضی مقدسہ پہنچ چکے ہیں اور ایک ویڈیو میں مہدی لباسِ احرام پہنے نظر آتا ہے، اپنے سفر کی روداد سنا رہا ہے اور یہ کہتا سنا گیا:”الحمد للہ! میں بیت اللہ پہنچ چکا ہوں۔”حقیقت یہ ہے کہ دل سے نکلی ہوئی پکار عرش کو ہلا دیتی ہے۔ اڑتے طیارے کو روکنے والی بھی وہی ذات ہے، جو نیتوں کا حال جانتی ہے۔ واقعی… مہدی! تیرے اور اللہ کے درمیان کچھ خاص ناتا تھا…! کوئی خاص تعلق تھا۔۔۔۔ کوئی بڑا گہرا تعلق!! کاش ہمیں بھی نصیب ہو۔
اپنے فرض حج کی فکر کیجیے
میرے بھائی اپنے فرض حج کی فکر کیجیے سید احمد شہید رحمت اللہ علیہ لوگوں نے کہہ دیا راستہ پرامن نہیں ہے ڈاکو ہے حج فرض باقی نہیں رہا سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ قافلہ لے کر نکلے پانی کے جہاز 700 لوگ محنت مزدوری کرتے ہوئے مجاہدین کا قافلہ جدہ پہنچے پانی کے جہاز سے جیسے ہی قدم رکھا زمین پر سجدے میں گر گئے، اے اللہ جیتے جی آپ نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زمین تو بتا دی ،حجاز کی زمین تو بتا دی، اللہ سے محبت کے بغیر سفر کی مشقت نہیں چلی جائے گی ۔
پڑھو واقعات عاشقوں کے اللہ کے گھر پر حاضر ہونے والوں کے حاضر ہونے والیوں کے ،کتابیں ہیں مستقل عورتوں کے واقعات، باندی مکہ مکرمہ پہنچی بے قرار ہو گئی کہاں ہے میرے اللہ کا گھر (این بیت ربی این بیت ر بی )کہاں ہے میرے اللہ کا گھر، لوگوں نے بتایا یہ کعبۃ اللہ یہ ہے چوکورعمارت ،لپٹ گئی ،اتنا روئی کہ روح پرواز کر گئی ،جان نکل گئی ۔
اللہ کی بعض نیک بندیاں
اللہ کی بعض نیک بندیاں پہنچی تڑپنے بلکنے لگیں، یہ قدم اس قابل کہاں تھے کہ اللہ کے گھر کا طواف کر لیتے، گناہ ختم ہو گئے گناہ کی مصیبتیں گناہ کے عذاب باقی رہ گئے، یہ قدم تو طواف کرنے کے قابل نہیں تھے ،کعبۃ اللہ کے اندر جانے کے کیا قابل رہتے ہیں انتقال ہو گیا۔
دو دو پیسے جمع کرو، مفتی شفیع صاحب رحمت اللہ علیہ کی ایک بیٹی انتقال ہو گیا مرنے کے بعد تھیلی ملی، تھیلی میں حج کے پیسے جمع کر رکھےتھے، نہ جائیں تب بھی حاجی بنا کر اٹھائیں گے، شوق تو بتایا نا آپنے اللہ کو ،ایک مکی کو پکڑا اپنی بیٹی کی طرف سے حج کروایا جتنے تھوڑے بہت پیسے اس بچی نے، بیٹی نے تھیلی میں جمع کیا تھا، اتنے پیسے کافی ہو گئے حج کے لیے، کوشش تو کریں مانگے تو صحیح۔
اصل حج
اصل حج تو یہی ہے کہ اللہ کے گھر پر حاضری دی جائے، کتنے بیٹے ہیں جو ہمارے فرض حج کا حجِ بدل کروائیں گے، کون ہیں ساتھ لاکھ خرچ کرنے والا، پانچ لاکھ خرچ کرنے والا ،مفتی صاحب ہمارا حصہ ہمیں بتا دو ،اباکو کیا کرنا تھا ،کر لیا انہوں نے ،عمرہ کرنا فرض حج کی طرف سے کافی نہیں ہے، عمرہ کرنا فرض حج کی طرف سے کافی نہیں ہے۔
ہیبت ہوتی ہے خوف ہوتا ہے مجمع کو دیکھ کر ،فنکشن حالوں میں ڈر نہیں ہوتا دسترخوانوں پر گر پڑ کر جاتے ہوئے لائن میں کھڑے ہوتے ہوئے، جیسے چچڑوں پر بلیاں گرتی ہیں ویسے دسترخوانوں پر، افطار پارٹیوں میں ٹوٹتے ہوئے ہیبت نہیں ہوتی، کعبۃ اللہ کے پاس مجمع کو دیکھ کر ہیبت ہوتی ہے ،عرفات اور منی کے مجمعے کو دیکھ کر ہیبت ہوتی ہے، نمائش میں جاتے ہوئے ہیبت نہیں ہوتی ۔
میرے بھائی یہ مردہ دلی ہے یہ دلوں کے اللہ کی محبت سے خالی ہونے کی دلیل ہے فضلی حج ہے، اشراق کی نماز پڑھو ۔آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مقبول مکمل ،مکمل حج عمرے کا اللہ ثواب دیتے ہیں ماں باپ کی جی جان سے خدمت کرو ،اللہ تعالی مقبول حج کا ثواب دیتے ہیں ،علم کے حلقے میں جاؤ اللہ تعالی مقبول حج عمرے کا ثواب دیتے ہیں ،قدم قدم پر ،عشاء کی نماز باجماعت پڑھنا حج کے برابرہے، فجر کی نماز باجماعت پڑھنا عمرہ کے برابرہے، اس سے بڑی کیا بدقسمتی ہے جدہ میں رہا ،فرض حج کے بغیر مر گیا، مدینہ پاک میں 25 سال رہا فرض حج کے بغیر واپس آگئے، قطر دبئی میں 30 30 سال کی زندگیاں گزر گئیں، لیکن فرض حج کے ارادے نہیں ہوئے، دعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھے توفیق مانگو دولت کی نہیں توفیق اور ہمت کی ضرورت ہے۔
کاش میں بھی حاجی ہوتا
اللہ کے مہمان جب حرمین شریفین کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں، تو وہ صرف سفر نہیں کرتے، بلکہ وہ ایک ایسی روحانی فضاء میں داخل ہوتے ہیں جس کا ہر لمحہ محبت، تڑپ، طلب، عاجزی، انکساری ، اور بندگی سے لبریز ہوتا ہے۔ ہر قدم پر اپنے رب کے قریب ہوتے چلے جاتے ہیں، اور جو پیچھے رہ جاتا ہے، اس کا دل تڑپتا ہے، بے چین رہتاہے، اور بے قراری میں ڈوبا رہتا ہے۔ یہی تڑپ اگر سچی ہو، تو اللہ کے ہاں وہی مقام رکھتی ہے جو ایک حاجی کے سجدے یا تلبیہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔یہ تڑپ کوئی معمولی چیز نہیں۔ حضرت رابعہ ؒیہ فرمایا کرتی تھیں کہ کاش میرا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ذرہ ایک حاجی کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کرے۔(احیاء علوم الدین، امام غزالی، ج1، ص248)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ
اسی جذبۂ تڑپ کی جھلک ہمیں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کی سوانح میں ملتی ہے۔ وہ جب حج کے موسم میں حرمین نہ جا پاتے تو کئی دن تک دل گیر رہتے، آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے۔ ایک سال جب کمزوری کی وجہ سے سفر نہ کر سکے، تو اپنے شاگردوں سے فرمایا:حج کا موسم آ رہا ہے، لوگ جا رہے ہیں، اللہ کے مہمان بلاوے پر لبیک کہہ رہے ہیں، اور زکریا نہ جا سکایہ کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ (سوانحِ حضرت شیخ، از مولانا یونس پالنپوری، ص 312)
امام احمد بن حنبل
امام احمد بن حنبلؒ جب حج پر جانے سے معذور ہوئے تو اس قدر غم میں ڈوب گئے کہ اور فرمایا کرتے: حج بیت اللہ تو عبادت ہے، مگر اس کی حسرت بھی عبادت ہے، اگر سچی ہو تو اللہ کی بارگاہ میں پہنچ جاتی ہے۔
امام بخاری ؒ
امام بخاریؒ کی زندگی میں بھی ایک وقت ایسا آیا جب وہ شدید مرض کی حالت میں حج پر جانے سے محروم ہو گئے۔ ان کے شاگرد روایت کرتے ہیں کہ وہ بیت اللہ کی جانب رُخ کر کے دیر تک خاموش بیٹھے رہتے اور ہونٹوں پر صرف یہی الفاظ ہوتے:اللہم ارزقنی حجاً قبل موتی، یا اللہ! موت سے پہلے مجھے اپنا مہمان بنا لے۔
حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ
حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ ایک بار دورانِ درس غمگین ہو گئے۔ جب شاگردوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا:”حج کے دن ہیں، اور میرے دل کی بیقراری بڑھتی جا رہی ہے۔ حرم کی گلیاں، منیٰ کے خیمے، مزدلفہ کی راتیں، عرفات کے میدان — ان سب کی خوشبو میرے دل میں بسی ہے، مگر جسم یہاں ہے۔(مقالاتِ انور، ج1، ص 226)
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:جو بیت اللہ کا دیدار نہ کر سکے، وہ اپنے دل کو بیت اللہ بنا لے، اُس دل میں وہی انکسار، وہی عاجزی، وہی سوز پیدا کرے اللہ اسی دل کو اپنی تجلیات سے بھر دے گا۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ حج سے محروم رہتے ہیں، مگر دل میں سچی طلب رکھتے ہیں، وہ بھی اللہ کے محبوب بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ حج کا اصل مقصد صرف سفر یا ظاہری مناسک نہیں، بلکہ وہ دل کا جھکاؤ ہے، وہ تڑپ ہے جو انسان کو بندگی کے سمندر میں غرق کر دیتی ہے۔ملفوظات حکیم الامت،جلد12
پس! اگر ہمارادل تڑپ رہا ہے، تو جان لو کہ یہ کوئی معمولی حالت نہیں یہ وہ حالت ہے جو سیدنا ابراہیمؑ کے دل میں تھی، جب وہ بے چینی سے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھ رہے تھے؛ وہ کیفیت ہے جو حضرت ہاجرہؓ کے قدموں میں تھی، جب وہ صفا و مروہ کے درمیان بھاگ رہی تھیں؛ وہی درد ہے جو حضرت اسماعیلؑ کے گلے پر چھری رکھے جانے کے لمحے میں تھا۔اللہ تڑپ کو ضائع نہیں کرتا۔ اور وہ ضرور بلاتا ہے، کسی نہ کسی دن، کسی نہ کسی موسم میں —بس دل کی سچائی باقی رہنی چاہیے۔اگر چاہو تو اسی درد میں کچھ دعائیں سکھا سکتا ہوں، جو اکابر نے تڑپتے دل کے ساتھ مانگی تھی۔
Like this:
Like Loading...