عزمِ ابراہیمؑ، صبرِ اسماعیلؑ، اور شہادتِ حسینؓ: ایثار و استقامت کے لازوال نقوش
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
تاریخِ انسانیت کے اوراق گواہ ہیں کہ کچھ ہستیاں ایسی گزری ہیں جن کے اعمال و افکار محض اپنے عہد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ زمان و مکان کی قیود سے ماورا ہو کر آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ابدی سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ انہی میں اللہ عزوجل کے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کوہِ گراں جیسا عزم، ان کے فرزندِ ارجمند حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بے مثال صبر و تسلیم، اور پھر اسی سلسلہ رشد و ہدایت کی ایک عظیم کڑی، نواسہ رسول ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی لازوال شہادت، ایسے واقعات ہیں جو محض تاریخی اہمیت ہی نہیں رکھتے بلکہ انسانیت کی پیشانی پر ثبت وہ لازوال نقوش ہیں جو ہر دور میں حق و صداقت کے لیے قربانی، اطاعتِ الٰہی، اور استقامت کا درس دیتے ہیں۔ یہ مضمون انہی تین عظیم المرتبت کرداروں اور ان سے وابستہ واقعات کے گہرے روحانی، تاریخی اور نفسیاتی تسلسل کا جائزہ لینے کی ایک ادنیٰ کاوش ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ کا آغاز ہی صبر آزما آزمائشوں اور غیر متزلزل عزم سے عبارت تھا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں بت پرستی عروج پر تھی، توحید کا علم بلند کرنا اُن کے آہنی عزم کا مظہر تھا۔ اللہ رب العزت سے نیک و صالح اولاد کی دعا، جو پیرانہ سالی میں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی صورت میں قبول ہوئی، محض ایک فطری خواہش کی تکمیل نہ تھی، بلکہ ایک عظیم الٰہی منصوبے کا نقط? آغاز تھی جس کا مقصود انسانیت کی امامت اور بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ اسی عزم کا ایک اور بے مثال مظہر، اپنی رفیقہ حیات حضرت ہاجرہؑ اور شیر خوار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکمِ الٰہی کے تحت مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آنا تھا۔ یہاں حضرت ہاجرہؑ کا توکل اور صبر بھی اس داستانِ عزیمت کا ایک روشن باب ہے، جنہوں نے پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کر کے قیامت تک کے لیے ایک شعار قائم کر دیا۔ یہ مشترکہ قربانی و توکل ہی تھا جس کے بطن سے بیت اللہ شریف کی تعمیرِ نو اور ایک عالمگیر اسلامی مرکز (ام القریٰ یعنی شہروں کی ماں) کا قیام مقدر ہوا۔ یہ واقعہ راہِ خدا میں دی گئی قربانی کے کبھی رائیگاں نہ جانے کا زندہ ثبوت ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کی سب سے کڑی آزمائش، جس کا ذکر سورۃ الصافات (آیات :۱۰۷-۱۰۰) میں ہے، اپنے لختِ جگر، نورِ نظر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکمِ الٰہی تھا۔ یہ پیغمبرانہ خواب، جو وحی ِ الٰہی کا درجہ رکھتا تھا، بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے پدرانہ شفقت اور حکمِ خداوندی کی تعمیل کے مابین ایک عظیم نفسیاتی کشمکش کا باعث بنا ہوگا، مگر عزمِ خلیل اللہ غالب آیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں انسانی عقل و فہم کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں اور ایمان کا سفر شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ انیسویں صدی کے معروف مغربی فلسفی، سورین کیرکیگارڈ(1813-1855) نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”خوف و لرزہ”(Fear and Trembling) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس دل دہلا دینے والے امتحان پر عمیق فلسفیانہ بحث کرتے ہوئے کہا کہ ابراہیم کا ایمان انہیں”اخلاقیات کی غائی معطلی” (یعنی ایک ایسے مقام پر جہاں ایمان کا تقاضا مروجہ اخلاقی اصولوں سے ماورا ہو جاتا ہے) کی طرف لے گیا، کیونکہ بقول کیرکیگارڈ: ”ایمان کی ابتدا ٹھیک وہیں سے ہوتی ہے جہاں فکر کی انتہا ہوتی ہے۔” دوسری جانب، نو عمری کے باوجود حضرت اسماعیل علیہ السلام کا جواب (”اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، اسے کر گزریں، اِن شاء اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔” الصافات: ۱۰۲) نہ صرف کامل سپردگی بلکہ غیر معمولی صبر و استقامت کا مظہر تھا۔ یہ مکالمہ اطاعتِ خداوندی کا وہ ارفع ترین نمونہ ہے جو آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مقصود محض آزمائش نہ تھا، بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ‘مقامِ خلت’ (اللہ کی دوستی کا اعلیٰ ترین مقام) اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے صبرِ جمیل کو دنیا پر آشکار کرنا تھا۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند کو پیشانی کے بل لٹایا اور عملی اقدام فرمایا، تو غیب سے ندا آئی: ‘یَا إِبْرَاہِیمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا… وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ’ (ترجمہ:”اے ابراہیم! یقیناً تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا… اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیہ میں دے کر اس بچے کو بچا لیا۔” الصافات: ۱۰۷-۱۰۴)۔
یہ ‘ذبحِ عظیم’، جس کے بدلے ایک دمبہ فدیہ دیا گیا، محض ایک جانور کی قربانی تک محدود نہیں۔ اس اصطلاح میں گہرے روحانی، تہذیبی اور علامتی معانی پوشیدہ ہیں۔ بعض صوفیاء و عرفاء اسے نفسِ امارہ کی قربانی، یعنی اپنی بری خواہشات کو اللہ کی رضا کے لیے فنا کر دینے کی علامت بھی قرار دیتے ہیں، جو روحانی ترقی کا ایک اہم زینہ ہے۔ یہیں سے اسلامی فکر کی گہرائی نمایاں ہوتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
یہ شعر اس فلسفے کو اجاگر کرتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ایک سنگِ بنیاد تھی، ایک عظیم تمثیل تھی، جس کی معنوی تکمیل اور عملی تفسیر ایک دوسری، عظیم تر قربانی کی صورت میں رونما ہونا تھی۔ حکمتِ خداوندی تھی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسلِ پاک سے خاتم النبیین، سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت مقدر تھی، لہٰذا ان کی حیات کا تحفظ منشائے الٰہی تھا۔ ‘ذبحِ عظیم’ کا گہرا مفہوم اس وقت مزید آشکار ہوتا ہے جب اس کا ربط خانوادہ رسالت کی عظیم ترین شہادت، یعنی میدانِ کربلا میں نواسہ رسول، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی بے مثال قربانی سے جوڑا جاتا ہے۔ متعدد اہلِ علم و بصیرت اسے ‘ذبحِ عظیم’ کی ارفع ترین عملی تفسیر قرار دیتے ہیں۔
کربلا میں امام حسینؓ نے، اپنے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح، اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا بے مثال عزم دکھایا۔ حضرت اسماعیلؑ کی طرح، آپؓ نے بھی صبر و تسلیم کا مظاہرہ کیا، مگر یہاں فدیہ کی صورت مختلف تھی۔ حضرت اسماعیلؑ کی قربانی امتحان تھی، نتیجہ فدیہ؛ امام حسینؓ کی قربانی دینِ محمدیﷺ کی بقاء اور تحریفِ دین سے حفاظت کے لیے ایک شعوری، اختیاری شہادت تھی۔ آپؓ کی یہ ثابت قدمی اور اصولوں کی پاسداری ایسی تھی کہ امریکی مصنف و مورخ واشنگٹن ارونگ نے بھی لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ ”ان کے لیے (یعنی حضرت حسینؓ کے لیے) پیچھے ہٹنا ممکن تھا؛ وہ یزید کی حکومت کو تسلیم کر سکتے تھے۔ لیکن ان کے نانا (حضور نبی اکرمﷺ) کے دین کی سربلندی کے لیے ان کی غیرت نے انہیں اس بات کی اجازت نہ دی کہ وہ ایک ایسے شخص کو خلیفہ تسلیم کریں جسے وہ غاصب سمجھتے تھے۔ انہوں نے چند ساتھیوں کے ساتھ، جو ان کے عزم سے متاثر تھے، بہادری سے لڑتے ہوئے جان دے دی۔” یہ ایک ایسی قربانی تھی جس نے نہ صرف تاریخ کا رخ موڑا بلکہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ چنانچہ بیسویں صدی کے عظیم رہنما مہاتما گاندھی، جن کے خیالات کو مشرق و مغرب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، نے امام حسینؓ کی قربانی سے گہری تحریک پاتے ہوئے برملا کہا: ”میں نے حسین سے سیکھا کہ مظلوم ہوتے ہوئے فتح کیسے حاصل کی جاتی ہے۔”امام حسینؓ نے اپنی ذات، اپنے جلیل القدر اہلِ بیت (جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے)، اور اپنے وفاشعار اصحاب کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دینِ اسلام کی حقیقی روح کی بقا اور سربلندی کو یقینی بنایا۔ یہ شہادت ظلم و استبداد کے خلاف حریت و استقامت کی لازوال علامت بن گئی، اسلامی معاشرے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) کے جذبے کو حیاتِ نو بخشی اور امت کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا گہرا احساس دلایا۔ مولانا محمد علی جوہر نے کیا خوب کہا ہے:
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہی سنتِ قربانی، جس کا عملی مظہر آج بھی حج کے موقع پر لاکھوں فرزندانِ توحید ادا کرتے ہیں، محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ اطاعت، ایثار اور توکل کا زندہ سبق ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں کوئی بھی قربانی رائیگاں نہیں جاتی، بلکہ ہر آزمائش انسانی روح کی بلندی اور قربِ الٰہی کا وسیلہ ہے۔ جب انسان اپنی عزیز ترین متاع رضائے الٰہی کے لیے قربان کرنے پر آمادہ ہوتا ہے، تو خالقِ کائنات اسے دنیا و آخرت میں وہ بلندیاں عطا کرتا ہے جن کا تصور بھی محال ہے۔ یہ محض تاریخ کا گزشتہ باب نہیں، بلکہ ایک ابدی فلسفہ ہے جو ہر باشعور انسان، بالخصوص مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
آج کی مادیت زدہ دنیا میں، جہاں خود غرضی اور بے حسی عروج پر ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عزم (بت شکنی، ہجرت، تعمیرِ کعبہ)، حضرت اسماعیل علیہ السلام کا صبر (قربانی کے لیے آمادگی)، اور حضرت امام حسینؓ کی شہادت (کلمہ حق کی سربلندی کے لیے جان کا نذرانہ) ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ حقیقی امن، ترقی اور انسانی فلاح کا راز خدا کی رضا اور مخلوق کی بے لوث خدمت میں پوشیدہ ہے۔ ان عظیم قربانیوں کا مقصد محض انفرادی امتحان نہ تھا، بلکہ انسانیت کو یہ دائمی سبق دینا تھا کہ اللہ کی راہ میں دی گئی ہر قربانی، نسل در نسل پھلتی پھولتی ہے اور آنے والی انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا باعث بنتی ہے۔ عزمِ ابراہیمؑ، صبرِ اسماعیلؑ، اور شہادتِ حسینؓ، یہ وہ لازوال نقوش ہیں جو ہر عہد کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی ہمت، حوصلہ اور بصیرت افروز رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔
========
Like this:
Like Loading...