Skip to content
ظریفانہ: آنکھوں میں نور، رگوں میں سیندور؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن نے کلن سے پوچھا یار ’خون اور سیندور‘ کا’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے‘؟
کلن بولا بھائی ان دونوں کا رنگ اپنے پردھان جی کی آنکھوں کی طرح سرخ ہے ۔
اچھا اب سمجھ میں آیا کہ پردھان جی کی آنکھوں سے چین کیوں تھر تھر کانپتا ہے ؟
کلن بولا اچھا !لیکن میں نے تو چین کو کانپتے نہیں دیکھا ۔ وہ تو آج کل سندھ ندی کے جواب میں برہما پترا کو روکنے کی بات کررہا ہے ؟
اچھا بہت نمک حرام ہے۔ ہمارے پردھان جی تو اس کا نام تک نہیں لیتے اور وہ پاکستان کی کھلے عام حمایت کررہا ہے۔
جی ہاں بھائی اسی کے بل بوتے پر اب تو پاکستان بھی سبز آنکھیں دکھا نے لگا ہے۔ویسے تم پردھان جی کی لال آنکھوں کے بارے میں کیا سوچتے ہو؟
بھیا ایسا ہے کہ ان کی رگوں میں لہو کی جگہ گرم سیندور دوڑتا ہے۔ اسی لیے اب وہ کبھی کبھار آنکھوں سے بھی چھلکنے لگتا ہے۔ کیا سمجھے؟
کلن نے کہا بھیا آج میری سمجھ میں آیا کہ چچا غالب نے بہادر شاہ ظفر سے رگوں میں دوڑتے پھرنے کی شکایت کیوں کی تھی؟
تم کہاں دو سو سال پرانا قصہ لے بیٹھے۔ پردھان جی سے اس کا تعلق میں نہیں سمجھا ۔ ذرا آسان کرکے بتاو ؟
بھیا غالب نے کہا تھا’ رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل۰۰۰جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے‘‘۔
ہاں یار یہ بھی صحیح ہے۔ آخری مغل کی رگوں میں اگر لہو کے بجائے سیندور دوڑ رہا ہوتا تو وہ آنکھوں کے ساتھ مانگ سے بھی ٹپکتا ۔
کلن نے کہا یار بہادر شاہ ظفر کسی کی دھرم پتنی ہوتے تو مانگ میں سیندو سجاتے وہ تو مرد مجاہد تھے ۔
جی ہاں ہمارے پردھان جی بھی اگر جسودھا بین کی بیوی ہوتے تو مانگ بھرتے لیکن کیا کریں اب لہو میں سیندور دوڑانے پر اکتفاء کرنا پڑرہا ہے۔
لیکن سنا ہے اب ہم لوگوں کو گھر گھر جاکر سیندور بانٹنا پڑے گا ۔ یار یہ بہت بری بات ہے ہمیں تو سوشیل میڈیا پر ہی سیندور اڑانے میں مزہ آتا ہے۔
ہاں بھائی لیکن فکر کرنے کی ضرورت نہیں وہ فیک نیوز تھی ۔ ہمارے اصلی باس امیت مالویہ نے بتایا پارٹی ایسا کچھ بھی نہیں کرنے جارہی ہے۔
یار پردھان جی کے دایاں ہاتھ امیت شاہ ہیں اس لیے ان کا نام بھی چل جاتا مگر تم نے یہ کس امیت مالویہ کو ہم مودی بھگتوں کا مالک بنادیا ؟
للن بولا بھیا ہمیں مال تو آئی ٹی سیل سے ملتا ہے اور مالویہ اس کا مالک ہے اس لیے ہمارا باس ہوا کہ نہیں؟
وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ بتاو کہ یہ الٹ پھیر کیسے ہوگیا ؟ میں تو اپنے اڈانی اور امبانی کے چینلس پر بھی یہ خبر دیکھی تھی۔
للن بولا بھیا میں نے بھی اپنی پارٹی کے ترجمان شرما جی کو بھی ’ہرہر مودی ، گھر گھر سیندور‘ کا نعرہ لگاتے سنا تھا لیکن ممتا نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔
اچھا اس عورت کی یہ مجال کہ ہمارا گڑ گوبر ایک سمان کردے؟ مگر اس نے ایسا کیا کردیا کہ ہمیں اپنا منصوبہ بد لنا پڑ گیا ۔
بھائی اس نے اپنے پردھان جی کی دکھتی رگ جسودھا بین کا حوالہ دے کر کھیل بگاڑ دیا ۔
کلن نے کہا ہاں یار اب اگر ہم لوگوں کو جسودھا بین کے گھر جاکر سیندور دینا پڑتا تو وہ کیا کہتیں ؟
وہ ہم سے کیا کہتیں؟ ان کو تو پردھان جی سے کہنا چاہیے :’’میری مانگ ستاروں سے بھردو‘۔
جی ہاں یہی کہتی جو ساری ہندو عورتیں کہہ رہی ہیں کہ سیندور دینا تو شوہر کا حق ہے۔ کسی تیسرے کی دخل اندازی سراسر توہین ہے۔
ہاں یار اگر وہ کہہ دیتیں کہ پردھان جی کوسیندور دے کر بھیج دو تو ہمارے ساتھ وہ بھی پھنس جاتے۔ بہت بڑا دھرم سنکٹ پیدا ہوجاتا ۔
للن نے پوچھا یار آپریشن سیندور کا معاملہ پاکستان کی حدتک تو ٹھیک تھا مگر اسے اپنے ملک میں بانٹنے کی تُک سمجھ سے بالاتر ہے۔
اچھا اگر سیندوریہاں نہیں تو کیا پاکستان میں جاکر بانٹتے؟ وہاں کی عورتیں تھوڑی ناسیندور لگاتی ہیں؟
اچھا ! لیکن ہماری عورتیں بھی صدیوں سے سیندور لگا رہی ہیں ، ہمیں اسے گھر گھر پہنچانے کی کیا ضرورت؟
کلن بولا یار تم بہت بھولے ہو ۔ سیاست کی گہرائی کو نہیں سمجھتے ۔
چلو مان لیا ۔ اب تم ہی سمجھا دو؟
تم تو جانتے ہی ہو کہ ہم نے مدھیہ پردیش میں لاڈلی بہن اسکیم چلا کر انتخاب جیتا ۔
جی ہاں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ مہاراشٹر میں ہم نے ’لاڈکی بہن‘ کے نام الیکشن جیت لیا لیکن اس کا سیندور سے کیا تعلق ؟
کلن بولا سیدھا تعلق ہے۔ پارٹی کی سمجھ میں آگیا کہ عورتوں کو جھانسے میں لینا آسان ہے اور ان کی مدد سے انتخاب جیتا جاسکتا ہے۔
بھیا میں پوچھ رہا ہوں اس کا سیندور سے کیا لینا دینا؟ تم مجھے اِدھر اُدھر گھما رہے ہو۔ ہم اسی طرح بہار، بنگال اور یوپی بھی جیت سکتے ہیں۔
جی ہاں مگر یہ بہت مہنگا سودہ ہے۔ ہرماہ لاکھوں عورتوں کو وظیفہ دینے سے خزانے پر بوجھ پڑتا ہے۔
ارے بھائی خزانہ تو خالی ہونے کے لیے بھرا جاتا ہے۔ اس میں سے عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی کام ہوجائے تو برا کیا ہے؟
کلن نے کہا یار تم سمجھتےکیوں نہیں یہ پیسہ براہ راست عورتوں کے کھاتے میں چلا جاتا ہے ہمیں اس میں سے کوئی رشوت کا موقع ہی نہیں ملتا ۔
اچھاً تب تو اس فضول خرچی کو فوراً بند کردینا چاہیے ۔
یہ مت بھولو کہ جو ووٹ وظیفے کے عوض مل رہا ہے وہ اس کے بند ہوتے ہی ملنا بند ہوجائے گا ۔ اس کے بعد ہمارا کیا ہوگا؟ جیل جانا پڑے گا۔
ہاں یار یہ تو سیریس پرابلم ہے لیکن اب بھی گھر گھر سیندور سے اس کا تعلق سمجھ میں نہیں آیا ۔
کلن بولا بھیا اپنے دماغ کا کچھ تو استعمال کرو۔ خواتین کو پیسے بانٹے بغیر ان کا ووٹ لینے کے لیے یہ سازش کی گئی تھی مگر فیل ہوگئی ۔
اب سمجھا ۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا ۔ یہ عورتیں اگر سیندور کی ایک ڈبیا سے بہل جاتیں تو کتنا اچھا ہو تا۔
اچھا تو اب سمجھ میں آیا کہ ویومیکا سنگھ اور صوفیہ قریشی کو آپریشن سیندور کا چہرا کیوں بنایا گیا؟
جی ہاں صحیح سمجھے لیکن اجئے شاہ جیسے لوگوں نےصوفیہ قریشی کی مخالفت کرکے رائتہ پھیلادیا ۔
للن نے اعتراف کیا ارے ہاں یار اگر مجھے پہلے سے اس کا پتہ ہوتا تو ہیمانشی نروال اور وکرم مسری کی بیوی و بیٹی کو ٹرول نہیں کرتا ۔
بھائی کیا بتائیں غصہ آتا ہے تو دماغ کام نہیں کرتا۔ میں نے بھی نیہا سنگھ اور ڈاکٹر میڈوسا کو برا بھلا کہہ کر خواتین کو بہت ناراض کیا تھا۔
للن بولا یار کلن سچ بتاوں اب تو مجھے تو یہ سیندور والی بات ’ٹوٹل فلمی ‘ لگتی ہے ۔ کہیں یہ ’آپریشن سیندور ‘ بھی کوئی فلمی مشق تو نہیں تھی ؟
یہ تو میں نہیں جانتا مگر کیا تمہیں پتہ ہے کہ اس آپریشن کے دوران ہی اس پر فلم بنانے والوں کی ہوڑ لگ گئی ۔
کیا بکتے ہو؟ ایسے نازک موقع پر جب ملک حالتِ جنگ میں ہو فلم بناکر پیسے کمانے کا خیال کون کرسکتا ہے؟
وہی لوگ جنھوں نے اس سے قبل کشمیر فائلس اور سرجیکل اسٹرائیک جیسی فلمیں بناکر روپیہ کمایا ۔
للن نے سوال کیا لیکن تم کو اس کا علم کیسے ہوا؟
انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے انیل ناگرتھ نے 30 سے زائد سیندو جیسے عنوانات کے درخواستیں موصول ہو نے کی تصدیق کی ۔
اچھا حیرت ہے ۔ وہ کیسے عنوانات تھے؟
’آپریشن سیندور‘ ، ’مشن سیندور‘ اور سیندور اسٹرائیک جیسے نام رجسٹر کرنے والے مزید دو اداروں کے پاس اور بھی نام آئے ہوں گے۔
للن نے کہا یار ایسے ابن الوقت لوگوں کو تو سزا ملنی چاہیے ۔
فلم ’ دی سرجیکل اسٹرائیک‘ کے ہدایتکار آدتیہ دھر، وویک اگنی ہوتری، اشوک پنڈت جیسے پردھان جی کے دوستوں پر کون کارروائی کرےگا؟
ہاں پردھان جی تو ان فلموں کی تشہیر کرتے تھے اور ممکن ہے آگے بھی اسی روش پر چلتے رہیں؟
وہی تو ، بھائی اس دوڑ میں ریلائنس بھی شامل تھی۔اب تم ہی بتاو کہ مکیش امبانی پر کون ایکشن لے گا ۔
للن نے سوال کیا مکیش امبانی تو امریکی صدر ٹرمپ کو ملنے کے لیے قطر بھی گئے تھے۔ وہ ایسی اوچھی حرکت کیسے کرسکتے ہیں؟
جی ہاں بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ شرم کے مارے پلٹ گئےاور کہہ دیا کہ ایک جونیئر افسر نے غلطی سے وہ کام کردیا ۔
یارکیا پردھان جی کی طرح امبانی بھی ہم لوگوں کو بالکل بیوقوف سمجھتے ہیں؟ یہ تو بڑی بے شرمی کی بات ہے؟
اس میں کیا شرم ؟ اگر سیندورکا سیاسی فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے تو معاشی فائدہ کیوں نہیں ؟
للن بولا جی ہاں تم نے صحیح کہاویسے بھی سیاست اور معیشت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔
’ہم دو ہمارے دو‘ کاچلن تو اسی مودی یُگ کی دین ہے۔ اس کمبھ میں اڈانی اور امبانی کے علاوہ اور بھی بہت سےلوگ گنگا میں ڈبکی لگا چکے ہیں ۔
ہاں بھیا ظاہر سی بات ہے اگر کسی سیاستداں کی رگوں میں خون کے بجائے سیندور دوڑ سکتا ہے تو سرمایہ دار کے اندر کیوں نہیں ؟
یار سچ بولوں مجھے تو لگتا ہے کہ قومی وقار سے کھلواڑ کرنے وا لوں کی رگوں میں نہ خون اور نہ سیندور بلکہ زہریلا پانی دوڑتا ہے ۔
جی ہاں سیندور کے بارے میں ماہرین کیمیا کا کہنا ہے کہ خون میں سیندورسرائیت کر جائے تو زہر بن جاتا ہےاور عالمِ سیاست میں یہی ہورہا ہے۔
Like this:
Like Loading...