Skip to content
"قافلہ کیوں لٹا؟”
تنقیدی مطالعہ
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
تاریخ نگاری صرف واقعات کی فہرست نہیں بلکہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ کی آئینہ دار بھی ہوتی ہے۔ "کتاب "قافلہ کیوں لٹا؟” افغان نژاد امریکی مورخ تمیم انصاری کی انگریزی تصنیف Destiny Disrupted: A History of the World Through Islamic Eyes کا اردو ترجمہ ہے، جس کا ترجمہ، مقدمہ اور حواشی محمد ذکی کرمانی نے انجام دیے ہیں۔ ایک ایسا ہی کام ہے جس میں اسلامی تاریخ کو مسلمانوں کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے، مگر یہ کوشش کئی پہلوؤں سے قابلِ تنقید ہے۔ اس تنقیدی مطالعے میں ہم درج ذیل نکات کا جائزہ لیں گے:
موضوع اور زاویۂ نگاہ — ایک فکری تجزیہ
تمیم انصاری صاحب اپنی کتاب میں ایک منفرد دعویٰ کرتے ہیں: وہ دنیا کی تاریخ کو "اسلامی نقطۂ نظر” سے بیان کرنا چاہتے ہیں — یعنی تاریخ کا وہ بیانیہ جو صدیوں سے مغربی فکر کے غلبے میں دب کر رہ گیا۔ انصاری کی تحریر اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ وہ ایک باشعور، درد آشنا، اور حساس مؤرخ ہیں، جنہوں نے مغرب اور اسلام کے درمیان موجود فکری خلیج کو پاٹنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ تاہم، ان کی یہ کوشش ایک خاص ذہنی پس منظر کی اسیر دکھائی دیتی ہے، جس پر مغرب میں پرورش پانے والے ایک ترقی پسند، لبرل مسلم دانشور کی فکری تربیت کی گہری چھاپ نمایاں ہے۔
مصنف کا زاویہ نگاہ دراصل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں اسلامی تاریخ کی جھلکیاں تو دکھائی دیتی ہیں، مگر وہ عکس اپنی اصل شکل میں نہیں بلکہ ایک مغربی فکری سانچے میں ڈھلا ہوا، نرگسیت زدہ عکس معلوم ہوتا ہے۔ وہ اگرچہ مسلم امّہ کے دکھ، زوال، اور جدوجہد کا بیان کرتے ہیں، مگر ان کے الفاظ کے درمیان کہیں نہ کہیں ایک غیر محسوس فکری نرمی اور تاریخی مصالحت کی فضا موجود رہتی ہے، جو اسلام کی ان ٹھوس اقدار کو کمزور کر دیتی ہے جو صدیوں سے اس امت کا محور و مرکز رہی ہیں۔
جہاں وہ خلافت، شریعت، اور جہاد جیسے مفاہیم کو زیرِ بحث لاتے ہیں، وہاں ان کی تعبیرات مغرب کے سیاسی و فکری معیار کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں۔ گویا وہ ان موضوعات کو اسلامی عقیدے کی روشنی میں نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے مغربی تنقیدی عدسے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ اسلامی نظریۂ تاریخ کو نہ پوری طرح قبول کر پاتے ہیں، نہ رد کرتے ہیں—بلکہ ایک تذبذب اور فکری مصلحت کے ساتھ اس کے اور مغربی سیکولر تاریخ کے درمیان ایک مصنوعی توازن قائم کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی تحریر، بجائے تاریخی شعور کو اجاگر کرنے کے، تاریخی معنویت کو دھندلا دیتی ہے۔ کیونکہ جب تاریخ کو دینی وجدان سے الگ کر کے صرف انسانی تجربے، سیاسی مفادات، یا سماجی تبدیلیوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے، تو اس کے اندر سے وہ روحانی ربط اور ایمانی تسلسل ختم ہو جاتا ہے جو اسلامی تاریخ کا جوہر ہے۔ انصاری صاحب کے بیانیے کی یہ کمزوری دراصل اس فکری بحران کی نمائندہ ہے جس کا سامنا آج کا تعلیم یافتہ مسلم ذہن کر رہا ہے: وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا سے ہم آہنگ رہنا چاہتا ہے، مگر ایسا کرتے ہوئے وہ نہ پوری طرح مغرب میں ضم ہو پاتا ہے، نہ اسلام کے قلبی شعور سے جُڑ پاتا ہے۔
خلافت اور سیاسی انحطاط — ایک فکری تجزیہ
تمیم انصاری صاحب کی تحریر میں خلافتِ راشدہ کو ایک سنہری باب کی حیثیت حاصل ہے—ایک ایسا باب جس میں عدل، شفافیت، اور دینی شعور کی کامل جھلک نظر آتی ہے۔ وہ اس دور کو مثالی قرار دیتے ہیں، جس میں دین اور سیاست ایک ہی وحدت کا مظہر تھے۔ مگر جیسے ہی تاریخ خلافتِ امویہ اور عباسیہ کی طرف بڑھتی ہے، مصنف کا لہجہ بدل جاتا ہے—اب تاریخ، اقدار سے زیادہ اقتدار کی کہانی بن جاتی ہے، اور خلافت کا مفہوم روحانی و نظری نہیں بلکہ محض سیاسی انتظامیہ کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ خلافتِ امویہ اور عباسیہ کو مصنف نے زیادہ تر سیاسی جبر، خاندانی کشمکش، اور شاہی درباروں کی رنگینیوں کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان ادوار کا تمام تر محور صرف طاقت کی کشمکش اور اقتدار کی منتقلی تک محدود ہو، جب کہ ان کے علمی، تمدنی، فقہی، اور تہذیبی اثرات کو یا تو نظر انداز کر دیا گیا ہے یا محض سطحی طور پر چُھوا گیا ہے۔
یہی رجحان خلافتِ عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت کے ذکر میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ مصنف ان کے زوال کی وجوہات کو زیادہ تر داخلی کمزوری، بدعنوانی، اور جدید دنیا سے عدم ہم آہنگی کے تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ گویا مسلم تہذیب کی شکست خوردگی ایک فطری یا داخلی حادثہ تھی، نہ کہ ایک منظم استعماری منصوبے کا نتیجہ۔ یہ نقطۂ نظر درحقیقت استعماری تاریخ نگاری کی گونج ہے—وہی نقطۂ نظر جس نے مسلم زوال کو صرف مسلمانوں کی نالائقی، بے عملی اور علمی جمود کا شاخسانہ قرار دیا، جب کہ یورپی جارحیت، فکری نوآبادیات، اور فرقہ وارانہ سازشوں کو پسِ منظر میں دھکیل دیا۔ مصنف کی تحریر میں کہیں بھی وہ مستشرقانہ تدبیریں، لادینی تعلیمی منصوبے، اور دینی قیادت کی منظم بیخ کنی کا واضح تذکرہ نہیں جو مسلمانوں کی فکری بنیادیں کھوکھلی کرنے کے لیے استعمال کی گئیں۔
اس طرزِ بیان میں مسلم تاریخ کو ایک معتوب اور خود شکن قوم کی داستان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس نے اپنی عظمت خود ہی گنوا دی—اور یوں مغرب کو فتح اور غلبے کا اخلاقی جواز مل جاتا ہے۔ نتیجتاً، تاریخ صرف ایک قصہ گوئی نہیں رہتی، بلکہ وہ ایک فکری ہتھیار بن جاتی ہے جو اقوام کی روح کو شکست دینے کا کام کرتا ہے۔ انصاری صاحب نے اگرچہ نیتاً مسلمانوں کی تاریخ کو ایک مربوط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، مگر ان کی بیان کردہ داستان میں استعماری عینک کی دھند صاف دکھائی دیتی ہے، جو زوال کے اصل اسباب کی شناخت کو خلط ملط کر دیتی ہے۔ خلافت کے زوال کو محض داخلی خامیوں سے تعبیر کرنا، اس پوری روحانی و تہذیبی جنگ کو نظر انداز کرنا ہے جو صدیوں سے مغرب اور اسلام کے مابین جاری ہے۔
تصوف اور اصلاحی تحریکیں —
فکری جمالیات اور مغالطہ آفرینی
قافلہ کیوں لٹا؟ (Destiny Disrupted) میں تمیم انصاری صاحب جب اسلامی تاریخ کے روحانی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو ان کی نگاہ صوفی تحریکوں پر جا ٹھہرتی ہے—وہ تحریکیں جو صدیوں سے ظلمت کے اندھیروں میں نور کی کرن بن کر اُبھریں، اور جنہوں نے ٹوٹے دلوں، شکستہ معاشروں، اور زوال یافتہ اقوام کو نئی روح عطا کی۔ انصاری صوفیاء کو ان کے معاشرتی اثرات کی حد تک سراہتے ہیں، انہیں "امن پسند مفکرین” اور "روحانی مصالحت کاروں” کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن وہ ان صوفی تحریکوں کے اس علمی، فقہی اور تہذیبی عمق کو پوری طرح اجاگر نہیں کرتے جس نے اسلامی تمدن کو ایک باطنی جلال اور علمی کمال بخشا۔
تصوف کو محض روحانی نرمی، عوامی مقبولیت، یا معاشرتی امن کی کوشش تک محدود کر دینا ایک ایسا مغالطہ ہے جو استشراقی (Orientalist) طرزِ فکر کا پروردہ ہے۔ یہ وہی فکر ہے جو روحانیت کو سیاست سے الگ، اور اخلاقیات کو شریعت سے بیگانہ سمجھتی ہے۔ مصنف کی تحریر میں بھی یہی خفیف رجحان دکھائی دیتا ہے، جہاں تصوف کا عرفانی پہلو تو چمکتا ہے، مگر اس کے اصلاحی، مزاحمتی، اور انقلابی رنگ کہیں دبے رہ جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں وہ ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ، اور سید احمد شہیدؒ جیسے مجددین کا ذکر کرتے ہیں—ایسے مردانِ حق جنہوں نے زمانے کی ستم ظریفیوں کے بیچ دین کی شمع کو فروزاں رکھا، طاغوت سے ٹکرانے کا حوصلہ دیا، اور کتاب و سنّت کو عمل کی بنیاد بنایا۔ مگر مصنف ان عظیم شخصیات کو ایک خاص زاویے سے دیکھتے ہیں—وہ انہیں اصلاح کے بجائے شدّت پسندی کے سایے میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں یہ مفکرین بجائے نجات دہندہ کے، گویا مغالطہ انگیز متشدد تحریکوں کے پیش رو دکھائی دیتے ہیں۔
یہی اسلوب دراصل استشراقی تاریخ نگاری کا وہ پرانا زاویہ ہے، جس کے تحت ہر "تحریکِ احیاءِ دین” کو یا تو بنیاد پرستی کہا جاتا ہے یا اسے رومانوی جذباتیت کا مظہر قرار دے کر تاریخ کے حاشیے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ انصاری صاحب بھی—شاید نادانستہ طور پر—اسی فکری سانچے میں ڈھلے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ان تحریکوں کو ان کے فکری سیاق، روحانی عمق، اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ پیش نہیں کرتے، بلکہ انہیں ایک سیاسی ردِعمل کے طور پر بیان کرتے ہیں جو مغربی استعمار کے مقابلے میں جنم لے رہا تھا۔
یہ طرزِ تحریر اس عظیم جدوجہد کی روح کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے، جس میں ان علما نے باطن کی پاکیزگی اور ظاہر کی اصلاح کو یکجا کیا، اور تصوف و فقہ، عشق و شریعت، عقل و روحانیت، سب کو ایک لڑی میں پرو کر ایک ایسا اسلامی احیائی تصور پیش کیا جو نہ صرف فکری تھا بلکہ عملی اور انقلابی بھی۔ انصاری صاحب کی یہ فکری کوتاہی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب تاریخ کو صرف سماجی تبدیلیوں، بیرونی اثرات، اور سیاسی ردعمل کی عینک سے دیکھا جائے، تو اس کا روحانی تسلسل، نظریاتی بنیاد، اور دینی گہرائی کہیں کھو جاتی ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب "تحریک” کو "شدّت” اور "مجدد” کو "متعصب” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
نوآبادیات اور مغربی استعمار — ایک دبے دبے بیانیے کا تنقیدی تجزیہ
قافلہ کیوں لٹا؟ میں تمیم انصاری صاحب جب نوآبادیاتی عہد کے ہولناک باب کی طرف بڑھتے ہیں تو وہ اس پر خاصا تفصیلی مواد فراہم کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح یورپی طاقتیں مشرقی دنیا پر قابض ہوئیں، کس طرح سلطنتیں ٹوٹیں، معیشتیں تباہ ہوئیں، اور تمدنی ڈھانچے زمین بوس ہو گئے۔ مگر ان کی بیان کردہ داستان میں وہ تلخی، وہ چیخ، وہ مزاحمتی صدا موجود نہیں جو استعمار کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔ مصنف کی تحریر میں نوآبادیات محض ایک "تاریخی تغیر”، ایک "عالمی موج”، یا یوں کہیے کہ ایک "ناگزیر حادثہ” بن کر سامنے آتی ہے—نہ کہ ایک منظم، دانستہ، اور سفاک منصوبہ بندی کا شاخسانہ۔
یہ بیانیہ مغرب کے استعماری پروجیکٹ کو تاریخی جبر سے زیادہ فکری تفوق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ برطانوی، فرانسیسی اور ڈچ استعمار کی ان گھناؤنی سازشوں کو محض انتظامی، تعلیمی یا تجارتی سرگرمیوں کے طور پر بیان کرتے ہیں، جن کے پیچھے اصل مقصد مسلم معاشروں کے عقیدے کو مجروح کرنا، ثقافت کو مسخ کرنا، اور قیادت کو بے دست و پا بنانا تھا۔ مصنف کا انداز تحریر ان نازک لمحوں کو مفروضہ ارتقا کے مراحل کی طرح دکھاتا ہے، جیسے مغربی غلبہ ایک فطری نتیجہ تھا، نہ کہ فکری دہشت گردی اور عسکری جارحیت کی پیداوار۔
ان کی تحریر میں کہیں کہیں مسلمان مزاحمت کاروں، علما، اور مجاہدین کا ذکر آتا ہے، لیکن یہ ذکر بھی زیادہ تر جذباتی ردعمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے—گویا مسلم اقوام اپنی کھوئی ہوئی عظمت پر افسردہ تھیں اور کچھ دیوانہ وار قدم اٹھا بیٹھیں۔ مصنف کی نگاہ میں ان مزاحمتی تحریکوں کی فکری گہرائی، نظریاتی جواز، اور روحانی محرکات کو وہ جگہ نہیں دی گئی جو ان کا حق تھا۔ نتیجتاً، ان کی کتاب میں سید احمد شہیدؒ، جمال الدین افغانیؒ، اور دیگر مجاہدین آزادی کی جدوجہد محض ایک افسانوی احتجاج بن کر رہ جاتی ہے، نہ کہ امت کے فکری احیاء کا جزو۔
یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو استعماری عذر خواہی (colonial apologetics) کو جنم دیتا ہے—یعنی وہ رجحان جس میں استعمار کے مظالم کو یا تو معاشی ترقی کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے، یا تعلیمی اصلاحات کا عنوان دے کر نرم لہجے میں بیان کیا جاتا ہے۔ مصنف کی تحریر میں یہی "نرم لہجہ” صاف محسوس ہوتا ہے، جہاں استعمار کے خونی پنجے سیاسی تدبیر کہلاتے ہیں، اور ملتِ اسلامیہ کی چیخیں فرسودہ مزاحمت کا عکس بن جاتی ہیں۔
اصل میں نوآبادیاتی دور محض زمینوں کی فتح نہیں تھا، بلکہ دلوں اور ذہنوں کی غلامی کا آغاز تھا۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو توپ و تلوار سے کم اور قلم، نصاب، اور نظریات کے زہر سے زیادہ لڑی گئی۔ مصنف کی معتدل زبان اسی فکری استعمار کے زیرِ اثر معلوم ہوتی ہے، جو قاتل کو مبلغ، اور مزاحمت کرنے والے کو انتہا پسند بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس لیے ان کی کتاب کا نوآبادیاتی تجزیہ، باوجود تفصیل کے، ایک تاریخی اخلاقی وزن سے محروم محسوس ہوتا ہے—ایسا بیانیہ جو مسلم اُمہ کے زخموں پر مرہم تو رکھتا ہے، مگر ان زخموں کی حقیقی وجوہات کو اجاگر کرنے سے گریزاں رہتا ہے۔
اسلامی احیاء اور جدیدیت — ایک تہذیبی بیانیے کا امتحان
تمیم انصاری صاحب جب اسلامی احیاء کی معاصر تحریکوں—جیسے اخوان المسلمون، یا دیگر تحریکاتِ بیداری—کا ذکر کرتے ہیں، تو ان کی زبان میں ایک خاص تذبذب اور فکری تحفظ جھلکتا ہے۔ مصنف ان تحریکوں کو اسلام کی اکیسویں صدی کی بیداری کی علامات ماننے کے بجائے، اکثر انہیں "قدامت پسند ردّعمل” کے دائرے میں محدود کرتے ہیں۔ ان کے بیانیے میں یہ تحریکیں گویا جدید دنیا کے بے رحم طوفان سے ٹکرانے کی بے سود کوششیں ہیں—ایک ایسی کشمکش جس میں شکست پہلے سے لکھی جا چکی ہو۔
وہ مغرب کی جدیدیت کو سائنس، عقلیت، اور سیکولر جمہوریت کے روپ میں ایک ناگزیر ارتقائی نتیجے کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور اسلامی دنیا کے فکری و عملی جوابات کو اکثر جذباتی، ناقابلِ عمل، یا ماضی پرستی کا مظہر قرار دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسلام پسند تحریکیں تاریخ کے دھارے کے خلاف تیرنے کی ضد کر رہی ہوں، اور مغرب کی "علمی آمریت” گویا تقدیر کا وہ آخری فیصلہ ہے جسے چیلنج کرنا عبث ہے۔ یہ طرزِ نگاہ دراصل تہذیبی مرعوبیت کی پیداوار ہے—ایک ایسا ذہنی سانچہ جو مغربی جدیدیت کو نہ صرف غالب بلکہ معیاری مانتا ہے، اور جو قرآن و سنّت پر مبنی اسلامی جدیدیت کو یا تو نامکمل سمجھتا ہے یا ایک عارضی، جذباتی کوشش کے طور پر پیش کرتا ہے۔
حالانکہ اسلامی احیاء کی یہ تحریکات محض ردّعمل نہیں، بلکہ ایک متبادل فکری نظام کی تشکیل کا مظہر ہیں۔ یہ تحریکیں قرآنی پیغام، نبوی سنّت، اور اجتہادی بصیرت کو بنیاد بنا کر ایک ایسی جدیدیت کا خاکہ پیش کرتی ہیں جو روحانیت، اخلاقیات، اور سماجی عدل کو مادیت، الحاد اور استعماری باقیات سے کہیں زیادہ معتبر سمجھتی ہے۔ مگر تمیم انصاری صاحب کی تحریر میں یہ ساری فکری جدوجہد یا تو سیاست کی زبان میں گھل کر غیر مؤثر ہو جاتی ہے، یا شدّت پسندی کے سایے میں دُھندلا جاتی ہے۔ وہ یہ تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں بیداری کی یہ لہر صرف محرومی کا ردّعمل نہیں، بلکہ ایک فکری شعور، تہذیبی غیرت، اور دینی بصیرت کی علامت ہے۔ ان کے بیانیے میں مغرب کی کامیابی ایک مقدس ارتقائی منزل معلوم ہوتی ہے، اور مسلم دنیا کی کوششیں صرف ماضی کی بازگشت۔
یہی وہ فکر ہے جو اسلامی جدیدیت کو محض بقا کی کشمکش سمجھتی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک پوری تہذیبی تجدید کی تحریک ہے—ایسی تجدید جو سائنس اور روحانیت، عقلیت اور وحی، آزادی اور اخلاق، سب کو ایک متوازن نظام میں جوڑنے کا خواب رکھتی ہے۔ انصاری صاحب کی زبان، اگرچہ نرم ہے، لیکن اس میں فکری استغناء کی بجائے فکری دفاع جھلکتا ہے۔ ان کی تحریر گویا ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی دنیا کو جدیدیت سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مغرب کا تعاقب کرنا ہوگا، بجائے اس کے کہ وہ اپنا راستہ خود طے کرے۔
یہ دراصل تہذیبی خود سپردگی کا ایک مہذب اظہار ہے—وہی اظہار جو اسلامی فکری روایت کے شاندار امکانات کو محض ایک رومانوی خواہش یا مذہبی ردعمل میں بدل دیتا ہے۔ اگرچہ Destiny Disrupted اپنے زاویۂ نگاہ اور فکری جھکاؤ کے باعث تنقید کی زد میں آتی ہے، لیکن اس کتاب کی چند نمایاں خوبیاں ایسی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا انصاف نہ ہوگا۔ تمیم صاحب کی سب سے قابلِ تحسین خصوصیت ان کی عام فہم زبان اور سہل بیانیہ انداز ہے۔ مغرب میں اسلام کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش۔ اسلامی تاریخ کو ایک تسلسل کے ساتھ بیان کرنے کی تحسین کی جا سکتی ہے۔
قافلہ کیوں لٹا؟ — کا فکری محاسبہ
تمیم انصاری صاحب کی تصنیف بظاہر اسلامی تاریخ کو مسلمانوں کی نظر سے بیان کرنے کی ایک نیک نیتی پر مبنی کوشش ہے۔ یہ ایک ایسے مسلمان قلم کار کا بیانیہ ہے جو مغرب کی فکری درسگاہوں میں تربیت پا کر مشرق کی کہانی کو مغرب کے کانوں تک پہنچانے کی جسارت کرتا ہے۔ وہ اپنے تئیں ایک ایسا پل تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس پر مشرق و مغرب ایک دوسرے کو سمجھنے کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ مگر یہ پل — جتنا دلکش اور ہمدردانہ نظر آتا ہے — اتنا ہی متزلزل، غیر متوازن اور فکری لغزشوں سے پُر دکھائی دیتا ہے۔
کتاب کا عنوان ہے Destiny Disrupted یعنی — "قافلہ کیوں لٹا؟” — تو تمیم صاحب کی کتاب ہمیں ایک نیم روشنی میں جواب دینے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ خلافت کے زوال، داخلی کشمکش، اور نوآبادیاتی چالاکیوں کا سرسری ذکر کرتے ہیں، مگر قافلے پر حملہ آور ہونے والوں کی حقیقت، ان کے ہتھیار، ان کی سازشیں اور ان کے فکری جال کو پوری طرح بے نقاب کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انصاری صاحب فکری غلامی کی گہرائیوں میں اترنے سے کتراتے ہیں۔ وہ اس علمی زوال کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر اس زوال کی اصل وجوہات — یعنی علم کی روح سے دوری، وحی سے لاتعلقی، اور تقلید پرستی کے اندھیروں — پر روشنی ڈالنے سے بچتے ہیں۔ استعمار کو وہ ایک تاریخی واقعہ مانتے ہیں، نہ کہ ایک منظم تہذیبی منصوبہ، جو صرف زمینوں پر نہیں بلکہ ذہنوں، نظریات، اور نصابوں پر قبضہ کرنے آیا تھا۔
قافلہ کیوں لٹا؟ ایک بیانیہ ضرور پیش کرتی ہے، مگر یہ بیانیہ اکثر استشراقی میلانات سے آلودہ نظر آتا ہے۔ وہ تحریکیں جو اُمت کے احیاء کے لیے اٹھی تھیں، وہ علما جنہوں نے ظلم کے خلاف علم و عمل کا چراغ جلایا، اور وہ قافلے کے نگہبان جنہوں نے لٹیروں سے لڑنے کی قسم کھائی—ان سب کو یا تو "شدّت پسند ردّعمل” بنا کر پیش کیا گیا، یا "ناکام نظریات” کہہ کر نظر انداز کر دیا گیا۔
تو قافلہ کیوں لٹا؟
قافلہ اس لیے لٹا کہ راہزنوں کو راہبر سمجھا گیا،
اس لیے لٹا کہ غیروں کے ترازو میں اپنے خواب تولا گیا،
اس لیے لٹا کہ فکر کی باگ ڈور اغیار کے ہاتھ میں دے دی گئی،
اور اس لیے لٹا کہ اپنے ماضی کی عظمت کو شرمندگی کے ساتھ پڑھا گیا، فخر کے ساتھ نہیں۔
قافلہ کیوں لٹا؟ اگرچہ تاریخ کے کچھ اہم دریچوں کو کھولتی ہے، لیکن وہ قافلے کی لُٹ جانے کی اصل داستان کو نہ پوری طرح پڑھتی ہے، نہ پڑھنے دیتی ہے۔ وہ نشانیاں جو ہمیں دشمن کی پہچان کرواتیں، ان پر گرد ڈال دی گئی ہے۔ وہ صدائیں جو ہمیں بیدار کرتیں، ان کو "انتہا پسندی” کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ "قافلہ کیوں لٹا؟” تو ہمیں اصل جواب کہیں اور تلاشنا پڑتا ہے—ان کتابوں میں جو وحی کے نور سے جُڑی ہوں، فکری خودی سے لبریز ہوں، اور امت کی تکمیلِ سفر کا ایقان رکھتی ہوں۔ مگر یہ تلاش تبھی بارآور ثابت ہو سکتی ہے جب ہم فکری جمود سے نکل کر آزاد مکالمے کی راہوں پر قدم رکھیں، اور اختلافِ رائے کو تنقید نہیں بلکہ ارتقاء کا زینہ سمجھیں۔
علمی مجلسوں میں جب اختلافِ رائے ابھرتا ہے، تو وہ دراصل فکر و فہم کی نمو کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ یہ اختلاف اگر دلیل کی زمزمہ سرائی میں گندھا ہو، اور تہذیب و توازن کے پیرہن میں ملبوس ہو، تو وہ مکالمے کو نکھارتا ہے، افکار کو سنوارتا ہے، اور سچائی کی طرف ایک نیا دریچہ کھولتا ہے۔ مگر المیہ تب جنم لیتا ہے جب فکری احتساب کو ذاتی حملہ سمجھا جانے لگے، اور "کہنے والے” کا نام "کہی گئی بات” پر غالب آ جائے۔ جب ایک فریق علمی زبان میں نرمی و دیانت کے ساتھ سوال اٹھائے، اور دوسرا فریق اسے مخالفت یا بغاوت کا رنگ دے، تو نہ صرف توازن بگڑتا ہے بلکہ فکری ارتقاء کی راہ بھی مسدود ہو جاتی ہے۔ یوں اختلاف ایک تعمیری عمل کے بجائے تعصب کا شکار ہو جاتا ہے، اور مکالمہ مناظرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں مقصد "سمجھنا” نہیں بلکہ "چت کرنا” بن جاتا ہے۔
یہ بات طے ہے کہ احتساب اگر خلوص کے ساتھ ہو، علم کی بنیاد پر ہو، اور ادب کی حدود کے اندر ہو، تو وہ مخالفت نہیں بلکہ اصلاح کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج کی علمی فضا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو بات "دل کو نہ بھائے” وہ "دل آزاری” کہلاتی ہے، اور جو سوال "مرکزِ فکر” پر اٹھے، وہ "شخصیت پر حملہ” سمجھا جاتا ہے۔ علمی توازن کا تقاضا یہ ہے کہ ہر اختلاف کو بغور سنا جائے، اس کے محرکات کو سمجھا جائے، اور اگر اس میں وزن ہو تو قبول کیا جائے۔ احتساب کو سننے کا حوصلہ علم کی علامت ہے، اور ردّعمل کے بجائے تدبر، فکری بلندی کی دلیل ہے۔ اگر ہر تنبیہ کو توہین سمجھا جائے، اور ہر اختلاف کو عداوت، تو نہ صرف سچائی پسِ پردہ چلی جاتی ہے بلکہ علمی فضا بھی تعفن زدہ ہو جاتی ہے۔
احتساب، اگر نیت میں اخلاص ہو، زبان میں شائستگی ہو، اور بنیاد میں دلیل ہو، تو وہ چراغ ہے جو راہوں کو روشن کرتا ہے، زخم نہیں جو دل کو چیر دیتا ہے۔ اور مخالفت، اگر تعصب سے بھری ہو، تو وہ چاہے کسی بھی خوشنما لفظ میں ملفوف ہو، بالآخر زہر ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس نازک توازن کو سمجھیں: ہر اختلاف مخالفت نہیں، اور ہر سوال گستاخی نہیں۔ احتساب کو برداشت کرنا صرف ایک خصلت نہیں، بلکہ وہ علمی عظمت کی علامت ہے۔ جس دن ہم نے اس فرق کو سمجھ لیا، اسی دن علم فہم بنے گا، اور فہم نور۔
فکری چراگاہ میں بے مہار چرنے کا خطرہ
نوخیز اذہان ایسی لطیف کونپلوں کی مانند ہوتے ہیں جو فطرت کے حسین باغیچے میں نمو پاتے ہیں۔ ان کونپلوں کو اگر رشد و نمو دینی ہو تو نہ صرف انہیں آفتابِ علم کی حیات بخش تمازت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ شبنمِ تربیت کی نرم و نازک نمی بھی درکار ہوتی ہے۔ وہ ذہن جو ابھی فکری بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہوں، انہیں ہر قسم کی رائے، ہر دریدہ فکر اور ہر فکری انحراف کے سامنے بلا واسطہ کھلا چھوڑ دینا، گویا ان کے ساتھ ایک نادانستہ ظلم کے مترادف ہے۔
یہ تصور کہ نوجوانوں کو اجنبی اور غیر مانوس نظریات تک بے روک ٹوک رسائی حاصل ہو، تاکہ وہ خود تنقیدی شعور پیدا کر لیں، ایک خوبصورت مگر خطرناک مغالطہ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ناسمجھ بچے کو دواخانے کی چابی تھما دی جائے، اس گمان میں کہ وہ خود ہی دوا اور زہر کا امتیاز سیکھ جائے گا۔ حالانکہ دوا کی تاثیر اور زہر کی تباہی میں فرق محض شیشیوں کی رنگت میں نہیں بلکہ اس فہم میں ہے جو تجربے، تربیت اور رہنمائی سے جنم لیتی ہے۔
شعور کوئی اچانک آن پڑنے والا انکشاف نہیں، بلکہ یہ ایک تدریجی اور باقاعدہ تربیت کا محتاج عمل ہے۔ یہ صرف مطالعے سے نہیں بلکہ صحیح مطالعے، موزوں ترتیب، فکری رہنمائی اور استاد کی نگاہِ تربیت سے نمو پاتا ہے۔ جس طرح خام لوہا محض آگ میں ڈال دینے سے تلوار نہیں بن جاتا، اسی طرح ایک ناپختہ ذہن محض ہر طرح کی کتابیں پڑھ کر مفکر یا ناقد نہیں بن سکتا۔ اسے سیکھنے کے لیے ایک فکری استاد، ایک فہمیدہ راہبر اور ایک تجربہ کار مربّی کی ضرورت ہوتی ہے۔
فکری آزادی کا خوشنما نعرہ، جو ہر قسم کی فکر کو "قابلِ مطالعہ” اور ہر رائے کو "قابلِ احترام” قرار دیتا ہے، دراصل اس لبرلزم کا پردہ پوش چہرہ ہے جو نوجوان ذہنوں کو الجھن، تضاد، شک، انکار اور روحانی اضطراب کی گہری کھائی میں دھکیل سکتا ہے۔ ہر خیال روشنی نہیں ہوتا، کچھ افکار تاریکی کے دلدل ہوتے ہیں جن میں ناپختہ ذہنوں کے قدم پھسلنے میں دیر نہیں لگتی۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر نظریہ قابلِ تعارف نہیں، اور ہر فکر مطالعے کے لائق نہیں۔ کچھ خیالات فکری زہر ہوتے ہیں، جن سے صرف وہی لوگ نبرد آزما ہو سکتے ہیں جو فہم و فراست، حکمت و دانش، اور فکری بصیرت سے آراستہ ہوں۔ جیسے سانپ کا زہر صرف "سم شناس” طبیب کے تجربے کا محتاج ہوتا ہے، ویسے ہی انحرافی نظریات کا مطالعہ بھی صرف ان کے لیے موزوں ہوتا ہے جو عقل و شعور کے مسلّح قلعے میں ہوں، نہ کہ ہر نوآموز ذہن کے لیے۔
پس ضروری ہے کہ نوجوانوں کی فکری چراگاہ کی حدود طے کی جائیں۔ انہیں پہلے وہ افکار دیے جائیں جو ان کی جڑوں کو مضبوط کریں، ان کے ضمیر کو روشن کریں، اور ان کی روح میں یقین، تقویٰ، اور مقصدِ حیات کی روشنی پیدا کریں۔ تنقیدی شعور ضرور سکھایا جائے، لیکن اس کے لیے فکری اساتذہ، متوازن لٹریچر، اور تربیتی سیاق و سباق فراہم کیا جائے۔
بے مہار فکری آزادی کی آندھی اگر نوخیز شاخوں پر چلے تو وہ یا تو ٹوٹ جائیں گی، یا جھک جائیں گی۔ فکری ارتقاء ایک سنجیدہ ذمّہ داری ہے، نہ کہ تجربات کی چراگاہ۔ نوجوان ذہنوں کی آبیاری محض مطالعے سے نہیں، بلکہ نکتہ شناس رہنمائی، بلند مقاصد، اور حیات آفرین اقدار سے ہوتی ہے۔
مفروضاتی اجتہاد: الجھنوں کا سرچشمہ
اجتہاد محض ایک علمی اصطلاح نہیں، بلکہ وہ مقدّس شعوری عمل ہے جو علم، تقویٰ، بصیرت اور دینی گہرائی کے سنگم سے جنم لیتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں عقل سجدہ ریز ہوتی ہے، اور فہم وحی کے سانچے میں ڈھل کر شریعت کے تقاضوں کو عصر حاضر کی زبان میں بیان کرتا ہے۔ اجتہاد ایک فرض ہے، مگر ہر فرض ہر فرد کے لیے نہیں۔ اجتہاد کا دروازہ کھلا ضرور ہے، مگر یہ دروازہ ہر راہ گیر کے لیے نہیں، بلکہ صرف ان کے لیے ہے جو علم و تقویٰ کے زادِ راہ سے لیس ہوں۔
افسوس کہ آج کا ماحول ایک عجیب فکری شور میں ڈوبا ہوا ہے، جہاں اجتہاد کو محض "اختلافی رائے” کا خوشنما لیبل دے کر، ہر غیر مانوس خیال کو "علمی ندرت” کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ نوآموز ذہن جب اس مبارک عمل کو بغیر معرفت و تربیت کے برتنے لگتے ہیں، تو اجتہاد ایک انارکی بن جاتا ہے، اور "نیا نظریہ” علمی انحراف کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں علمی ندرت، فتنہ بننے لگتی ہے۔ جہاں غیر شعوری طور پر اجتہادی بیانات فکری بدعت، دینی خلط ملط، اور اخلاقی ابہام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ہر اجتہادی رائے "درست” نہیں ہوتی، اور ہر فکری تازگی "اصلاح” نہیں ہوتی۔ اجتہاد دراصل میزانِ شریعت کے ترازوں میں تولا جانے والا عمل ہے، نہ کہ جذباتی نعرہ یا شخصی رجحان۔
مطالعہ کی آزادی ضرور ہو، مگر مطالعہ سے پہلے "اسلوبِ مطالعہ” سکھایا جانا ازحد ضروری ہے۔ ہر تحریر صرف "تحریر” نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے ایک فکری نظام، ایک دینی یا غیر دینی منہج، اور ایک مخصوص فضا کارفرما ہوتی ہے۔ اگر نوجوان ہر لکھی بات کو ایک جیسے زاویے سے پڑھیں، سیاق و سباق کی تمیز، تنقیدی اصولوں کی شناسائی، اور دینی اخلاقیات کی روشنی کے بغیر مطالعہ کریں، تو اس کا نتیجہ "تنقیدی شعور” نہیں بلکہ "فکری غرور” کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے—ایسا غرور جو علم کی توہین اور حقیقت کی تضحیک بن کر ابھرتا ہے۔
علم کی حرمت حدود سے مشروط ہے۔ جب مطالعے کی آزادی اپنی حدود کھو دے، تو وہ علم کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔ نوجوانوں کو جب غیر تربیت یافتہ شعور کے ساتھ ہر کتاب، ہر نظریہ، اور ہر رائے تک رسائی دی جائے، تو یہ آزادی ان کے لیے ہدایت کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری بے سمتی کا راستہ بن جاتی ہے۔ یہ بے سمتی دھیرے دھیرے روحانی انارکی، فکری تناقض اور عملی انتشار کو جنم دیتی ہے۔
لہٰذا، اجتہادی اور غیر مانوس افکار کے مطالعے کی اجازت ہونی چاہیے، مگر اس کے لیے چند شرطیں ناگزیر ہیں:
اوّل: تربیت یافتہ ذہن، جو حق و باطل کا امتیاز رکھتے ہوں۔
دوم: رہنمائی کرنے والا استاد، جو فکری زہر کی پہچان کراتا ہو۔
سوم: دینی اصولوں کا شعور، جو ہر تحریر کو میزانِ حق پر تولنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اگر ہم ان شرائط کو نظر انداز کریں، اور صرف اس بنا پر کہ "نوجوانوں کو خود فیصلہ کرنا چاہیے”، ہر متضاد فکر ان کے سامنے رکھ دیں، تو یہ درحقیقت ایک پوری نسل کو فکری سرابوں، گمراہی کے گڑھوں، اور تضاد کے کانٹوں سے بھری راہوں کی طرف روانہ کرنا ہوگا۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں منزلیں کم اور بھٹکاؤ زیادہ ہوتا ہے، جہاں دلیلیں کمزور اور دعوے بلند ہوتے ہیں۔
علم روشنی ہے، مگر جب یہ بے قابو ہو جائے تو آگ بن جاتی ہے۔ اجتہاد نعمت ہے، مگر جب یہ تربیت کے بغیر ہو تو آزمائش بن جاتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم فکری نظم و ضبط کے ذریعے شعور کی تعمیر کریں، نہ کہ لامحدود آزادی کے نام پر ذہنوں کو خود ان کے حال پر چھوڑ کر علمی افراتفری کو پروان چڑھائیں۔
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...
آپ کے تبصرے سے بے انتہا خوشی و مسرت حاصل ہوئی اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کتاب میرے زیر مطالعہ ہے۔ مقدمہ میں ہی تھا کہ شدید احساس پیدا ہوا کہ عوام کے سامنے اس کتاب کا تنقیدی جایزہ پیش کرنا ہے ماشاءاللہ آپ نے وہ کام مزید آسان کردیا۔اس موضوع پر بہت لکھا گیا ہے ۔ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے جو مصنف نے پیش کیا ہے۔اس کا رد بھی لکھا گیا ہے۔
یہ کتاب پڑھتے ہی کچڑا محسوس ہوئی کیوں کہ اس مسلے میں آیات قرآنی و احادیث کو نہیں پیش کیا گیا ہے۔جب کہ نبی صلی نے ایک طویل حدیث میں ہمارے زوال کے اصل سبب کی وضاحت فرمادی ہے۔
صفحہ اٹھارہ پر آخری پیراگراف میں جو لکھا ہے اس کو بڑھ کر محسوس ہوا کہ مقدمہ نگار امام ابن تیمیہ امام احمد بن حنبل کی شام میں گستاخی کے مرتکب ہوۓ ہیں۔
آپ کے تبصرے سے بے انتہا خوشی و مسرت حاصل ہوئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کتاب میرے زیر مطالعہ ہے۔ مقدمہ میں ہی تھا کہ شدید احساس پیدا ہوا کہ عوام کے سامنے اس کتاب کا تنقیدی جایزہ پیش کرنا ہے ماشاءاللہ آپ نےمیرے اس کام کو مزید آسان کردیا۔اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے جو مصنف نے پیش کیا ہے۔اس کا رد بھی لکھا گیا ہے۔
یہ کتاب پڑھتے ہی کچڑا محسوس ہوئی کیوں کہ اس مسلے میں آیات قرآنی و احادیث کو نہیں پیش کیا گیا ہے۔جب کہ نبی صلی نے ایک طویل حدیث میں ہمارے زوال کے اصل سبب کی وضاحت فرمادی ہے۔
صفحہ اٹھارہ پر آخری پیراگراف میں جو لکھا ہے اس کو بڑھ کر محسوس ہوا کہ مقدمہ نگار امام ابن تیمیہ امام احمد بن حنبل کی شام میں گستاخی کے مرتکب ہوۓ ہیں۔