Skip to content
امیر بھارت ۔۔غریب بھارت
ایک ہی شہر میں دو بھارت
ازقلم:شیخ سلیم.ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
بھارت بی جے پی کے دورِ حکومت میں تیزی سے بدل رہا ہے (نفرت انگیزی مسلم دشمنی کے علاوہ)۔ لگژری مارکیٹ عروج پر ہے، اور ملک میں سپر امیروں کی تعداد دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ McKinsey & Company کی رپورٹ کے مطابق، 2028 تک بھارت میں انتہائی دولت مند افراد (جن کے پاس 30 ملین ڈالر یعنی تقریباً 250 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی دولت ہے) کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، صرف 2025 میں بھارت کی لگژری مارکیٹ میں 15 سے 20 فیصد کی ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔بھارت اب دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے لیے ایک بڑی منڈی بنتا جا رہا ہے۔ Louis Vuitton، Gucci، Rolls-Royce جیسے مشہور برانڈز ممبئی اور دہلی جیسے شہروں میں اپنے شو رومز کھول رہے ہیں۔ امیروں کے لیے مخصوص مالز تعمیر ہو رہے ہیں اور علیحدہ کالونیاں تیار ہو چکی ہیں چند سال پہلے تک ہم دبئی یا سنگاپور جا کر مہنگی چیزیں خریدتے تھے، اب آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے دوسری اور تیسری سطح کے شہروں تک بھی لگژری مصنوعات پہنچ رہی ہیں۔ قیمتی گھڑیاں، ڈیزائنر کپڑے، نجی طیارے، اور مہنگے تفریحی سفر سب کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
نئی Super Rich کلاس سامنے آ رہی ہے Flipkart، Zomato، Paytm جیسے اسٹارٹ اپس کے بانی جو سرمایہ کاروں کی مدد اور حکومت کی "Startup India” جیسی پالیسیوں سے فائدہ اٹھا کر کامیاب ہوئے۔ حکومت ان کامیابیوں کو فخر سے "Make in India” جیسے نعرے لگا کر پیش کر رہی ہے۔ لیکن اس چمک دار تصویر کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے وہ حقیقت جس میں کروڑوں عام بھارتی روز جیتے ہیں۔
جہاں ایک طرف سپر امیر اور امیر مزید امیر ہو رہے ہیں، وہیں غریب اور متوسط طبقہ مسلسل پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ کروڑوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نوکری نہیں مل رہی، یا ایسی نوکریاں نہیں مل رہیں جن میں استحکام Permanent اور معقول تنخواہ ہو۔ مستقل روزگار اب ماضی کی بات بن چکا ہے۔ کسان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور کئی ریاستوں میں کسان خودکشیاں رکی نہیں ہیں۔ چھوٹے دکاندار اور مقامی کاروبار جو کبھی ہمارے ملک کی معیشت کی بنیاد ہوا کرتے تھے آج مہنگائی، بڑی کمپنیوں کے دباؤ اور کمزور مانگ کے سبب نڈھال ہو رہے ہیں۔
بھارت کی لگژری مارکیٹ تو خوب چمک رہی ہے، مگر 80 کروڑ سے زیادہ لوگ آج بھی سرکاری راشن پر منحصر ہیں۔ یعنی چاول، گندم، تیل جیسی بنیادی غذائیں بھی سرکاری امداد کے بغیر ان کے لیے ناقابلِ حصول ہیں۔ اس کے برعکس، حکومت بڑے سرمایہ داروں کو بے پناہ مالی فوائد دے رہی ہے ٹیکس میں چھوٹ، قرض معافی، سرکاری زمین تک رسائی، اور بہت کچھ۔ یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ پالیسی کا حصہ ہے۔
مودی حکومت کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد اقتصادی پالیسیاں واضح طور پر کچھ بڑے سرمایہ داروں کے حق میں ڈھلتی چلی گئی۔ سرکاری کمپنیاں فروخت کی جا رہی ہیں، محنت کشوں کے قوانین کمزور کیے جا رہے ہیں، اور فلاحی ریاست دن بہ دن سکڑ رہی ہے۔ کرونی سرمایہ داری (crony capitalism) نیا معمول بنتی جا رہی ہے، جہاں سرمایہ اور اقتدار کا گٹھ جوڑ عام شہریوں کی قیمت پر فائدہ اٹھاتا ہے۔بمبئی اور دھلی میں رہنے والے دیکھ سکتے ہیں امیروں اور غریبوں کی بستیاں الگ الگ ہیں۔غریبوں کے علاقے گندگی میں لت پت ہیں امیروں کے علاقے صاف ستھرے ہیں وہاں دن میں دو بار یا تین بار صفائی کی جاتی ہے وہاں صفائی کے ملازمین زیادہ تعینات کیے جاتے ہیں۔ وہاں بجلی آنکھ مچولی نہیں کرتی وہاں صاف پانی ملتا ہے ۔
آج ملک میں عدم مساوات اس سطح پر پہنچ چکی ہے جو حالیہ تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ایک طرف ارب پتی بڑھتے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف کروڑوں لوگ غربت، فاقہ کشی اور بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے ایک کسان کی خودکشی کو وہ میڈیا کوریج نہیں ملتی جو ممبئی کے کسی سرمایہ دار کے نئے منصوبے کو ملتی ہے۔ بہار کا بے روزگار نوجوان کسی ہیڈ لائن میں جگہ نہیں پاتا، لیکن کسی اداکار کا نیا بنگلہ قومی بحث بن جاتا ہے۔ یہی اصل خلیج ہے صرف پیسے کی نہیں، بلکہ اس بات کی بھی کہ کس کی زندگی اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس سب پر مستزاد، ہمارا مرکزی میڈیا جسے اکثر "گودی میڈیا” کہا جاتا ہے اس نے عام آدمی کے مسائل کو بحث میں لانا تقریباً چھوڑ دیا ہے۔ پرائم ٹائم بحثیں نفرت، مذہبی منافرت اور حکومتی تعریفوں سے بھری ہوتی ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، اور معاشی ناانصافی جیسے موضوعات یا تو غائب ہوتے ہیں یا ان کا مذاق بنایا جاتا ہے۔
جی ہاں، بھارت کا لگژری مارکیٹ میں ابھرنا ایک حقیقی کہانی ہے۔ ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس ملک میں صلاحیت ہے، جو عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتی ہے۔ مگر یہ صرف آدھی تصویر ہے۔ پوری تصویر میں بھوکے بچے، مایوس نوجوان، اور قرضوں تلے دبے خاندان بھی شامل ہیں۔ کسی ملک کی ترقی صرف اس کے ارب پتیوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس کے سب سے غریب شہری کی حالت سے ناپی جانی چاہیے۔
ملک اس وقت ایک موڑ پر ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ یا تو ہم وہ راستہ چنیں جو صرف چند سیٹھ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، یا پھر وہ راستہ اختیار کریں جو ہر شہری کو وقار، مواقع، اور ترقی میں برابر کا حصہ دے۔ اگر پالیسیوں کا جھکاؤ یونہی چند طاقتور لوگوں کی طرف رہا، تو ممبئی اور دہلی کے یہ لگژری مالز ایک دن اس ٹوٹے وعدے کی علامت بن جائیں گے "سب کے لیے انصاف اور مساوات”۔
اس تفریق کی سب سے واضح جھلک ہمیں ان ریاستوں میں ملتی ہے جو سب سے غریب ہیں۔ بہار، جس کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (GSDP) تقریباً ₹8.5 لاکھ کروڑ (یعنی تقریباً $102 بلین) ہے، وہاں فی کس آمدنی صرف ₹59,000 سالانہ ہے۔ اتر پردیش، جو کہ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے، اس کی GSDP تقریباً ₹23.5 لاکھ کروڑ (یعنی $282 بلین) ہے، مگر وہاں بھی فی کس آمدنی صرف ₹80,000 سالانہ ہے۔ یہ اعداد و شمار قومی اوسط سے کہیں کم ہیں اور بھارت کے ترقیاتی ماڈل میں علاقائی عدم مساوات کی شدت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ جب تک یہ اعداد و شمار بہتر نہیں ہوتے، ہم بھارت کی ترقی کو سب کے لیے ایک کامیابی نہیں کہہ سکتے۔ ان سب پر گودی میڈیا میں اگر بحث ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا مگر افسوس ایسا نہیں ہو رہا ہے اُمید کرتے ہیں ملک میں امیری اور غریبی پر عام بحث ہوگی۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...