Skip to content
اخلاص ووفا عدل کی پہچان عمر ہیں
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام صحابۂ کرامؓ میں مقام ومرتبہ کے لحاظ سے خلیفہ ٔ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد دوسرا مقام خلیفہ ٔ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق ؓکا ہے ،حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کو تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ پوری تاریخ انسانی میں ایک منفرد مقام حاصل ہے ،آپؓ کی شخصیت غیر معمولی خوبیوں کی حامل تھی،شجاعت وبہادری سے لے کر عدل وانساف اور تقویٰ وطہارت میں آپؓ اپنی مثال آپ تھے ،آپؓ کو صحابہ کرامؓ کے درمیان مراد رسول ؐ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا،آپؓ کے داخل اسلام ہونے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کو تقویت حاصل ہوئی اور انہیں اپنے حوصلوں کو پروان چڑھانے کا موقع ملا تھاکیونکہ آپؓ کے اسلام لانے سے قبل مسلمان خفیہ طور پر اسلامی احکام پر عمل کرتے تھے اس لئے انہیں مکہ کے باشندگان اور خصوصاً سرداران مکہ کے ظلم وستم کا سامنا تھا مگر آپؓ کے اسلام قبول کرتے ہی مسلمانوں کو ایک نئی قوت وتوانائی حاصل ہوئی ،اس سے پہلے مکہ اور قریش مکہ کا ظلم وستم بڑھتا ہی جارہا ہے اور مسلمان مسلسل ان کے ظلم وستم کا نشانہ بنتے جارہے تھے ،مکہ والوں کی مخالفت جب حد سے بڑھ گئی اور صحن کعبہ میں بھی مسلمان محفوظ نہ رہے تو رسول اللہؐ دست مبارک بارگاہ الٰہی میں اٹھے اور آپؐ نے دعا فرمائی الھم انصر الاسلام باحد عمرین’’اے اللہ! (مکہ کے) دو عمروں میں سے کسی ایک عمر کو اسلام کا مددگار بنادیجئے‘‘ ،بخاری میں آپؐ کی دعا کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں :اللھم اعز الاسلام باحب ہزین الرجلین الیک بأبی جہل اوبعمر بن الخطاب(بخاری) ’’اے اللہ!ان دو مردانِ کار ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو بھی تجھے زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعہ اسلام کو عزت وقوت عطا فرمائے‘‘ ،اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر فاروق ؓ حق میں رسول اللہ ؐ کی دعا کو قبول فرمایا ،اسلام لاتے ہی آپؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ؐ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا یقینا ہم حق پر ہیں ۔اس پر آپؓ نے عرض کیا :پھر ہم کو دار ارقم کے بجائے بیت اللہ میں جاکر نماز پڑھنی چاہئے ،چنانچہ اس روز مسلمان دار ارقم سے دو صفیں بناکر نکلے ،ایک صف کے آگے سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب تھے اور دوسری صف کے آگے سیدنا عمر بن خطابؓ تھے ،یہ بالکل پہلا موقع تھا کہ مسلمان کھلم کھلا اور نہایت شان کے ساتھ ھرم کعبہ میں نماز ادا کی ۔
حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کا نسب نویں پشت میں جاکر رسول اللہ ؐ سے ملتا ہے،،آپ کا لقب فاروق اور کنیت ابوحفص ہے ،لقب اور کنیت دونوں رسول اللہ ؐ کی طرف سے عطاکردہ ہیں،آپ ؓ کو ستائیس سال کی عمر میں اسلام لانے کاشرف حاصل ہوا ،اس وقت لگ بھگ انتالیس مرد اور گیارہ عورتیں مشرف بااسلام ہوچکے تھے،اسلام لانے سے پہلے جیسی شدت کفر میں تھی اسلام لانے کے بعد ویسی شدت اسلام میں ہوئی ،آپ ؓ کے اسلام قبول کرنے سے اسلام کو بڑی قوت اور مسلمانوں کو بڑی راحت حاصل ہوئی ،آپ ؓ کے قبول اسلام کے بعد پہلی مرتبہ مسلمانوں نے علی الاعلان کعبۃ اللہ میں نماز اداکی،آپ ؓ کو اللہ تعالیٰ نے بڑا رعب اور دبدبہ عطا کیا تھا،بڑے سے بڑا پہلوان بھی آپ ؓ کے سامنے تھر تھر انے لگتا تھا ،جس گلی سے آپ ؓ گزرتے شیطان اپنا راستہ بدل دیتا تھا،آپ ؓ کے اسلام لانے کے بعد اسلام کی شوکت میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا گیا، آپ ؓ کے قبول اسلام ،ہجرت مدینہ اور دور خلافت کے متعلق ابن مسعود ؓ فرماتے تھے کہ ’’عمر فاروق ؓ کا مسلمان ہونا فتح اسلام تھا،ان کی ہجرت نصرت الٰہی تھی اور ان کی خلافت اللہ کی رحمت تھی‘‘ہجرت مدینہ کے بعد جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو آپؓ نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور غزوۂ بدر سے لے کر گزوۂ حنین تک تمام غزوات میں اہم ترین ذمہ داریاں اپنے ذمہ لے کر بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اسے پورا کیا، حق وباطل کا پہلا معرکہ’’ جنگ بدر‘‘ میں آپ نے اپنے ہاتھوں اپنے حقیقی ماموں عاص بن ہشام کو جہنم رسید کرکے دنیا کو بتادیا کہ وہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اسلام کی مخالفت اور اس کے خلاف صف آرائی ہر گز برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔
ایک مرتبہ عمرہ اداکرنے کی رسول اللہ ؐ سے آپ ؓ نے اجازت طلب کی،تو آپ ؐ اجازت کے ساتھ ایسا کلمہ ارشاد فرمایا جس کے متعلق خود فاروق اعظمؓ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اگر اس کلمہ کے عوض ساری دنیا بھی مجھے مل جائے تو میں خوش نہیں ہوں گا،آپؐ نے اجازت دینے کے بعد ان سے فرمایا’’ یااخی اشرکنا فی دعائک ولاتنسانامن دعائک (۹۰۵۹:شعب الایمان للبیہقی)‘‘اے میرے بھائی اپنی دعا میں ہم کو بھی شریک رکھنا بھول نہ جانا،بہت سے مواقع وحی الٰہی آپ ؓ کی رائے کے تائید میں نازل ہوئی ،مثلاً قیدیان بدر کے متعلق،منافقوں کی نماز جنازہ کے بارے میں اور شراب حرام کئے جانے کے متعلق ، سیدنا عمر فاروق ؓ نے ہمیشہ سادہ زندگی بسر کی ،لباس سادہ پہنتے تھے اور سادہ غذا تناول فرماتے تھے،کثرت عبادت آپ کا محبوب مشغلہ تھا،کسی کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھ لیتے تو فورا تنبیہ فرماتے تھے، رسول اللہ ؐ کی وصال کے بعد جب سیدنا ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپؓ نے پوری پوری اطاعت کی ،نہایت ادب کا معاملہ فرمایا،ان کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھا اور ان کے دست وبازو بن کر دین اسلام کی بڑی خدمت کی،صدیق اکبرؓ کی وفات کے بعد آپؓ مسند خلافت پر متمکن ہوئے اور نہایت قلیل مدت میں اسلامی ریاست کو دور دور تک پھیلادیا، بڑے بڑے شہر اور ممالک فتح ہوکر ا سلام کے زیر حکومت آئے ،شام ،مصر ،عراق ،آذربائیجان ،فارس اور ایران ، تاریخ نگاروں نے لکھا ہے کہ سیدنا عمر فاروق ؓ نے کل دس سال چار ماہ چند دن مسند خلافت پر فائز رہے اور اتنے عرصہ میں ۲۲۵۱۰۳۰ مربع میل علاقہ پر اسلامی حکومت قائم تھی،اتنے بڑے علاقہ کا خلیفہ اور حکمران مگر طرز زندگی انتہائی سادہ ، اپنی رعایا کی مکمل خبر گیری فرماتے تھے ، ان کے حالات سے واقفیت کے لئے راتوں میں گشت لگایا کرتے تھے ، آپ ؓ کے دور میںعدل وانصاف وامن وامان کی حکمرانی تھی ، مظلوم کو انصاف دلانے تک آپ ؓ چین نہیں پاتے تھے۔
آپ ؓ کی دور خلافت کو بطور مثال پیش کرنے پر دشمن بھی مجبور ہیں،سیدنا عمر فاروق ؓ ہمیشہ دعا مانگا کرتے تھے ’’اے اللہ مجھے شہادت عطا کر اپنے راستہ میں اور اپنے رسول ؐ کے شہر میں موت عطا کر‘‘ چنانچہ قبولیت دعا کا وقت آپہنچا ایک روز آپ ؓ مسجد نبوی میں نماز فجر پڑھا رہے تھے کہ مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابولؤ لو جو نمازیوں میں شامل تھا دوہرے خنجر سے آپ ؓ پر چھ وار کئے جن میں سے ایک ناف کے نیچے لگا ،اسی وقت آپ زمین پر گر پڑے ،حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے آگے بڑھ کر مختصر نماز پڑھائی ،سب سے پہلے آپ نے پوچھا میرا قاتل کون ہے ؟ ابن عباسؓ نے کہا ابولؤلؤ مجوسی ہے ،یہ سن کر آپ نے تکبیر ایسی بلند آواز سے کہی کے باہر تک آواز گئی ،پھر فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ایک کافر کے ہاتھ مجھے جام شہادت عطافرمائی،حملہ کے پانچویں دن یکم محرم الحرم ۲۴ھ، بروز اتوار ،۶۳ سال کی عمر میں آپ نے رحلت فرمائی ،حضرت صہیب رومی ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور روضہ نبویؐ میں اپنے حبیب ؐ اور اپنے دوست سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔
Like this:
Like Loading...