Skip to content
میلونی اور مودی کی میلوڈی :
مرا خون جگر سیندور بن جائے تو اچھا ہو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی پر ایسا برا وقت آئے گا یہ ان کے بھگتوں نے تو دور دشمنوں نے بھی نہیں سوچا تھا۔ عالمی تنہائی کے اس عالم میں موصوف سوچ رہے ہوں گے کہ کاش وہ پچھلا انتخاب ہار جاتے۔ راہل گاندھی کو جی ۷میں نہیں بلایا جاتا تو پورا سنگھ پریوار آسمان سر پر اٹھا لیتا اور انہیں یاد کرتا ۔ وہ ڈنکا بجاتا پھرتا کہ کاش مودی جی ہوتے کہ جن کو 2019کے بعد ہر سال آن ، بان اور شان کے ساتھ بلایا جاتا رہا۔ ان کی خوشنما تصویریں، ویڈیوز اور سیلفی شیئر کرکے ہندوتوا کے سنہرے دور کو یاد کیا جاتااور پھرا سے لانے کا عزم ہوتا لیکن برا ہو حسد کے مارے گوروں کا کہ جنھوں نے ہمارےوشو گرو( عظیم عالمی رہنما) کو دھتکار دیا۔ جی ۷ میں جانے کی اس وقت جتنی زیادہ ضرورت تھی پہلے کبھی نہیں تھی ۔ جو کام ۷ عدد وفود نہیں کرپائے وہ مودی جی اکیلے کرڈالتے اس لیے کہ وہ خود نعرہ لگا چکے ہیں ’ایک اکیلا سب پر بھاری! ‘ لیکن اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ’ایک اکیلا ایسی خواری؟‘ گودی میڈیا سے عالمی رہنماوں کے ساتھ مودی کی تصویریں چھاپ کرجھوٹی خبرپھیلانے کا نادر موقع چھن گیا ورنہ سیندور کی ڈبیا سے نکال کریہ سرخی اچھالی جاتی کہ پاکستان کے خلاف دنیا کے اہم ترین رہنما وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔
چین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشان گوروں کی مشکلات میں اضافے کے لیے برکس نامی وفاق بنا کر اس میں ہندوستان کو بڑے تزک احتشام کے ساتھ شامل کیا گیا مگر برا ہو مودی سرکارکی ناعاقبت اندیشی کا کہ اس نے امریکہ کی خوشنودی کے لیے وہاں بھی اپنا وقار گنوا دیا ۔ صدر ٹرمپ نے جب وزیر اعظم نریندر مودی کے منہ پر برکس کی موت کا اعلان کیا تو موصوف مسکراتے دکھائی دئیے اور وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے اعلان کردیا کہ ہندوستان ڈالر کے آغے سرِ تسلیم خم کرکے اسی میں کاروبار کرے گا یعنی برکس کی کرنسی کو نہیں اپنائے گا ۔ یہ عمل برکس کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے جیسا تھا مگر توقع تھی کہ’ سردار(ٹرمپ) خوش ہوگا، شاباشی دے گا ‘ لیکن پہلگام کے بعد جب آزمائش کا وقت آیا تو بازی الٹ گئی ۔ امریکہ نے پہلے تو ہندوستان و پاکستان کو ہم پلہ رکھ کر عظیم ممالک کہا اور اس کے بعد پاکستان کے لیے معاشی تعاون کا دروازہ کھول دیا ۔
اس جی ۷ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ برکس میں شامل امریکہ کو آنکھیں دکھانے والے برازیل کو اجلاس میں شرکت کا دعوتنامہ مل گیا۔ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ کرنے والے برکس رکن جنوبی افریقہ کو بھی بلایا گیا ۔ حد تو یہ ہے کیمرے کے سامنے صدر ٹرمپ اور ان کے نائب وینس سے ’توتو میں میں ‘ کرنے والے یوکرین کے سربراہ زیلنسکی بھی بلائے گئے۔ دور دراز سے آسٹریلیا کو دعوت دی گئی مگر بیچارے مودی منہ تکتے رہ گئے ۔ اس کا سفارتی پیغام یہ ہے کہ دُم ہلانے والوں کو احترام نہیں ملتا بلکہ نظر انداز کردیا جاتا ہے مگر جو سراٹھا کر اپنی بات کرنے والے سرخرو ہوتےہیں۔ مودی جی اگراس حقیقت سے واقف ہوتے تو اس تنہائی کا شکار نہ ہوتے ۔ فی الحال دنیا میں ایک طرف چین نواز برکس ممالک کا وفاق ہے اور اس میں اپنی امریکہ نوازی کے سبب بھی ہندوستان اپنا اعتبار کھو چکا ہے اور امریکی سربراہی میں کام کرنے والے جی ۷ ممالک اجلاس میں شرکت سے محرومی ’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ‘ کی مصداق ہے۔
پہلگام حملے کے بعد جب مودی سرکارنے محسوس کیا کہ عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے تو سات کثیر الجماعتی وفود کو 33 عالمی دارالحکومتوں کا دورہ کرنے کے لیے روانہ کیا گیا۔ اس کا مقصد پاکستان کےمنصوبوں اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے ردعمل کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو اپنا موقف سمجھانا تھا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان ممالک کی فہرست سے کینیڈا کا نام غائب تھا حالانکہ کئی وجوہات کی بناء پر وہاں جانا ضروری تھا۔ اول تو یہ کہ ماضی میں ہند کینیڈا تعلقات کشیدہ رہے ہیں ۔ خوش قسمتی سے سابق وزیر اعظم ٹروڈو انتخاب ہار گئے اور گودی میڈیا نے انہیں ہرانے کا کریڈٹ بھی مودی جی کو دے دیا۔ کینیڈا کے ایوان بالا میں اس بار 22 ہندوستانی نژاد ارکان پارلیمان نے منتخب ہو کر پچھلی مدت میں 17کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ ان حقائق کے باوجود کینیڈا کو نظر انداز کرنا اس لیے بھی حیرت انگیز تھا کیونکہ وہاں سکھ علٰحیدگی پسندوں کے اثرات کو زائل کرنا ضروری ہے مگران وفود کو ایسے چیلنج سے دور رکھ کر نرم چارہ کھلایا گیا تاکہ اچھی تصاویر چھپ سکیں ۔
کینیڈا کےنئے وزیر اعظم مارک کارنی کو ان کی جیت پر مبارکباد دیتے ہوئے مودی جی نے امید ظاہر کی تھی کہ وہاں کی پارلیمنٹ میں ہندوستانی نژاد آوازوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی ہم آہنگی میں اضافہ کرے گی اور لوگوں کے درمیان گہرے تعلقات، باہمی احترام اور دو متحرک جمہوریتوں کے بیچ پائیدار قریبی تعلقات کا فروغ ہوگا۔ ان چکنی چپڑی باتوں میں آکر کینیڈا کی ہندوستانی نژادوزیر خارجہ انیتا آنند نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ "نتیجہ خیز بات چیت” کرکے اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور دیا ۔ اس کے بعد اگر ہندوستانی وفد کینیڈا جاتا تو حالات میں مزید بہتری آتی اور یہ حالت نہ ہوتی کہ جی ۷ کادعوتنامہ ہی نہ ملتا۔ کینیڈا کو نظر انداز کرکےمحکمۂ خارجہ نےوہاں موجود خالصتان نوازوں کو اپنا موقف رکھنے کا بہترین موقع دے دیا جو انسانی حقوق، فوجداری انصاف، اور تارکین وطن کی آواز کا حوالہ دے کر حکومت ہند کی مخالفت کررہے ہیں ۔ جی ۷ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر موجودگی ان کی کامیابی اور وزارتِ خارجہ کی ناکامی ہے۔
کینیڈا کی سکھ برادری اپنی حکومت سے جی۷ سربراہی اجلاس میں نریندر مودی کو مدعو نہ کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے ۔ ٹورنٹو کی سکھ فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ جب تک کینیڈا میں سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کی مجرمانہ تحقیقات میں ہندوستان تعاون نہیں کرتا مودی کو جی۷؍ اجلاس میں مدعو نہ کیا جائے۔سکھ تنظیموں نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کو اقتصادی مفادات پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ یہ بیان کینیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند کے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے کی پیشکش کے فوراً بعد سامنے آگیا تھا ۔ سکھ برادری کا کہنا تھاکہ کینیڈین حکومت کو اقتصادی تعلقات سے بڑھ کر انسانی اقدار اور اپنے شہریوں کی حفاظت کواہمیت دینی چاہیے۔ ٹورنٹو میں قائم ‘سکھ فیڈریشن’ اور ‘ورلڈ سکھ آرگنائزیشن’ کا الزام ہے کہ ہندوستان کینیڈا میں جاری مجرمانہ تحقیقات میں تعاون نہیں کرتا۔ سکھ تنظیموں کے مطابق 2023 میں وینکوور کے قریب سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں حکومت ہند کا کردار ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ ہندوستان پر کئی دیگر پرتشدد واقعات میں بھی ملوث ہونے کا الزام ہے۔
مذکورہ بالا الزامات کے جواب میں دیسی جیمس بانڈ اجیت ڈوول اور امیت شاہ کو آگے بڑھ کر یہ کہنا چاہیے کہ ہم اگر پاکستان میں دہشت گردوں کو مار سکتے ہیں تو کینیڈا میں کیوں نہیں؟ مودی جی عوامی خطاب میں یہ کیوں نہیں کہتے کہ ’خالصتانی بولی کے جواب میں ہمارے پاس گولی ہے‘؟ اپنے لوگوں کے سامنے گرجنا جس قدر آسان ہے باہر جاکر برسنا اتنا ہی مشکل ہے اور اسی پریشانی سے ملک گزررہا ہے ۔ عصرِ حاضر میں میڈیا نے سرحدوں کو منہدم کردیا ہے۔ وزیر اعظم کا کسی دیہات میں دیا جانے والا ایک اشتعال انگیز بیان منٹوں میں ساری دنیا پر چھا جاتا ہے اور اس سے ملک کی شبیہ بگڑ جاتی ہے۔ امسال 29 جنوری( 2025) کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکہ نے غیر ملکی امداد کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا تو ہمارا میڈیا بغلیں بجارہا تھا کہ اب وہ کٹورہ لے کر دنیا بھر میں بھیک مانگتا پھرے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ پہلے تو آئی ایم ایف نے1.3 بلین ڈالر کی مدد دے کر جھٹکا دیا لیکن اس کے بعد ورلڈ بنک نے تو کمال کردیا ۔
حکومتِ پاکستان نے عالمی بنک سے بیس بلین ڈالر کا قرض مانگا تو جواب میں امریکہ نے چالیس بلین ڈالر کی رقم دلوادی ۔ آپریشن سیندور کی مہربانی سے نہ صرف چین بلکہ امریکہ اور روس بھی مہربان ہو گئے ہیں ۔روس نے ابھی حال میں پاکستان کے ساتھ ۲۲ ملین ڈالر کا سودہ کیا تو چین نے ۷ء۳ ملین ڈالر کا قرض دے دیا ۔ پاکستان پر ہونے والی اس سیندوری برسات کو چونکہ گودی میڈیا نے نظر انداز کردیا اس لیے مودی بھگت اس سے بے خبر ہیں ۔ ان کی پریشانی یہ ہے کہ پچھلے جی ۷ اجلاس میں مودی جی کے ساتھ سیلفی نکال میلوڈی بجانے والی اطالوی میلونی نے بھی آخر کیوں نظریں پھیر لیں؟ دراصل وہ بیچاری ڈر گئی ہوگی کہ کہیں مودی جی جوش میں آکر اسے سیندور کی ڈبیا تحفے میں نہ دے دیں ۔ اس لیے کہ وہ بیچاری تومانگ ہی نہیں نکالتی ایسے میں سیندور کہاں لگائے گی؟ اس کے باوجود اگر مودی جی کو موقع ملتا تو میلونی کو اپنی رگوں میں دوڑتے سیندور کی قسم کھا کر علی ظہیر رضوی کا یہ شعر ضرور سناتے؎
مرا خون جگر پر نور بن جائے تو اچھا ہو
تمہاری مانگ کا سیندور بن جانے تو اچھا ہو
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...