Skip to content
ہندوستانی تناظر میں – عید الاضحیٰ کا پیغام
ازقلم : نجیب الرحمن خان اکولہ
(لیکچرر انجمن جونیئر کالج کھام گاؤں)
دنیا کی ہر تہذیب، قوم اور مذہب میں تہواروں کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ تہوار صرف خوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی ورثے، فکری اصولوں اور روحانی پیغامات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے دو بڑے مذہبی تہوار’’عید الفطر اور عید الاضحی‘‘ نہ صرف اسلامی شعائر کے مظاہر ہیں بلکہ یہ تہذیبی و تمدنی اور روحانی پیغامات کے حامل بھی ہیں۔
عید الفطر جہاں قرآن مجید کے نزول کا جشن ہے، وہیں عید الاضحیٰ اس پر سراپا قربانی، اطاعت، توحید اور عزم و استقلال کا پیغام لیے ہوئے ہے۔
آئیے اب ہم ملک عزیز میں عید الاضحیٰ کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حق کی تلاش عقلی و فکری جستجو کا پیغام
عید الاضحیٰ کا پہلا پیغام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم سفر سے جُڑا ہے جو انھوں نے حق کی تلاش میں کیا۔ انہوں نے اندھی تقلید کے بجائے عقل، فطرت اور شعور کا سہارا لیا۔ وہ بت پرست معاشرے میں پیدا ہوئے لیکن بتوں، ستاروں، چاند اور سورج کی عارضی حقیقت کو پہچان کر صاف اعلان کیا:
فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ”
میں ڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔(سورۃ الانعام: 76)
یہ پیغام خاص طور پر ہندوستان جیسے مذہبی تنوع والے معاشرے میں اہمیت رکھتا ہے جہاں دیوی دیوتاؤں کی کثرت، ذات پات اور اندھی تقلید کی جڑیں گہری ہیں۔ ہمیں ابراہمی سنت کو سامنے رکھتے ہوئے برادران وطن کے ساتھ مکالمہ، شعور انگیزی اور محبت کے ساتھ دعوتی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی عقل و فطرت کے آئینے میں حق کو پہچان سکیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے اکثریت کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اکثریت کو اقلیت کی طرف بلایا۔آپ علیہ السلام باطن نظریات کے سامنے جھکے نہیں بلکہ مقابلہ کیا۔
شخصیت کا رخ متعین کرنا۔ دعوت کا شعوری آغاز
ابراہیم علیہ السلام نے صرف بت شکنی نہیں کی بلکہ اپنے فکری و عملی رخ کو یکسوئی کے ساتھ متعین کیا۔
"إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(سورۃ الانعام، آیت 79)
ترجمہ : "میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔”
یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ قربانی، اصلاح اور دعوت کا کام اسی وقت ثمر آور ہوتا ہے جب ہم اپنے رخ کو اللہ کی طرف متعین کرلیں، پھر حالات جیسے بھی ہوں، مقصد اور مشن سے روگردانی نہ کریں۔
ہندوستان میں دعوتِ دین اور اسلامی فکر کو عام کرنے کے لیے یہ یکسوئی، لازمی ہے۔ اسی لیے قران نے بار بار ابراہیم کی اس صفت کے لیے "حنیف” (یکسو) کا لفظ استعمال کیا.
ہر محبت قربان ۔ عشقِ حق کا عملی مظاہرہ
ابراہیم علیہ السلام نے وہ کارنامہ انجام دیا جسے عقل حیرت سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے والد، قوم، وطن، اقتدار، شہرت بلکہ اپنے شیر خوار بیٹے اور بیوی کو 1000 کلو میٹر دور بیابان وادی اس وقت جس کا نام بکہ تھا میں چھوڑا، عمر کے آخری حصہ میں بیٹے کی قربانی کے لیے بھی تیار ہو کر عشقِ الٰہی کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعۡىَ قَالَ يٰبُنَىَّ اِنِّىۡۤ اَرٰى فِى الۡمَنَامِ اَنِّىۡۤ اَذۡبَحُكَ فَانْظُرۡ مَاذَا تَرٰىؕ قَالَ يٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ سَتَجِدُنِىۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيۡنَ ۞
(سورۃ الصافات: 102)
ترجمہ:
وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا،’’بیٹا ، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا، ’’ ابا جان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے ، آپ اِنْشاءَ اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے ‘‘
یہ کوئی رسمی عقیدت نہ تھی بلکہ سچی محبت کا وہ مرحلہ تھا جہاں سب کچھ اللہ کی رضا پر قربان کر دیا گیا۔ ہندوستانی سماج میں جب ہم دعوت اور اصلاح کا کام کریں گے تو ہمیں بھی ممکنہ طور پر مخالفت، تنقید، مقاطعہ، یا مشکلات کا سامنا ہوگا۔ یہی ابراہیمی پیغام ہے کہ حق کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔
ابراہیم علیہ السلام نے نہ شکوہ و شکایت کی اور نہ ہی انعام کا مطالبہ کیا۔
قربانی پر گھمنڈ نہیں ۔انکساری کا مظہر
ابراہیم علیہ السلام کو یہ اطمینان نہیں کہ رب اسے قبول فرمائے گا یا نہیں۔ پوری عمر قربانیاں دینے کے بعد خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت باپ بیٹے کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔
"رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
"اے رب! ہم سے یہ (عمل) قبول فرما، یقیناً تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔”
(سورۃ البقرہ: 127)
یہ عاجزی ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم جو بھی قربانی دیں، چاہے وقت کی ہو یا مال کی، علم کی ہو یا تعلقات کی ہم گھمنڈ نہ کریں بلکہ قبولیت کی دعا کرتے رہیں۔
عید الاضحیٰ اور حج بیت اللہ کا اصل پس منظر ابراہیم علیہ السلام کی سیرت ہے۔
`ہندوستانی تناظر میں عید الاضحیٰ کا مجموعی پیغام
ہندوستان ایک عظیم الشان مذہبی اور ثقافتی ورثہ رکھنے والا ملک ہے۔ یہاں کا ہر شہری خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، کسی نہ کسی طرح سے قربانی، خدمت، اور روحانیت کے کسی نہ کسی پہلو سے جُڑا ہوا ہے۔
ایسے میں عید الاضحیٰ کا پیغام محض جانور قربان کرنے کا نہیں، بلکہ اپنے نفس، خواہشات، باطل نظریات، اور غلط رسومات کی قربانی دینے کا ہے۔
ہمیں برادران وطن کے ساتھ محبت، خلوص، اور دعوتی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے خدشات، شکوک اور غلط فہمیوں کو دور کریں۔ یہ ہمارا صرف دینی نہیں بلکہ اخلاقی و انسانی فریضہ بھی ہے۔
`نتیجہ`
عید الاضحیٰ کا ہر پیغام — حق کی تلاش، رخ کی یکسوئی، ہر محبت کی قربانی، اور انکساری ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت سے حاصل ہوتا ہے۔ اور یہی پیغام ہے جو ہمیں ہندوستانی تناظر میں دعوتی شعور، سماجی ہم آہنگی اور باطل نظریات سے ٹکرا کر حق کی روشنی پھیلانے کے لیے تیار کرتا ہے۔
اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ وَجَادِلۡهُمۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ ۞
(سورۃ النحل آیت نمبر 125)
ترجمہ:اے نبی ؐ ، اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سےمباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ تمہارا ربّ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے”
جب تک ہم عید الاضحیٰ کی روح کو نہیں سمجھیں گے، اس کا عمل محض ایک رسمی تہوار بن کر رہ جائے گا۔
آج ضرورت ہے کہ ہم شیطان کو صرف کنکریوں کا نشانہ نہ بنائیں، بلکہ اپنے نفس، برائی، تعصب اور باطل نظام کے خلاف جدوجہد کریں۔
ساتھ ہی برادران وطن تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے ہمیں اپنی دستیاب صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انفرادی ملاقات، اجتماعی وفود، لٹریچر، سوشل میڈیا، اخبارات، مکالمات، دعوتِ طعام، مدرسہ و مساجد میں مدعو کرنے، خدمت خلق، عید ملن، تالیف قلب اور اپنے بہترین اخلاق و معاملات کے ذریعے دعوت پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں .انشاءاللہ ہماری کوششوں سے ملک میں امن و شانتی کے ساتھ ساتھ اتحاد کی فضاء عام ہوگی اور توحید کا بول بالا ہوگا۔
Post Views: 18
Like this:
Like Loading...
بالکل درست بات ہے ۔بہتہ عمدہ مضمون