Skip to content
دبئی،7جون(العربیہ/ ایجنسیز)اسرائیلی ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کا عندیہ نہ دیں کہ تہران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ یہ بات جمعرات کے روز "axios” ویب سائٹ نے نے دو با خبر اسرائیلی عہدے داران کے حوالے سے بتائی۔
ان میں سے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو کسی فوجی کارروائی کے ذریعے حیران نہیں کرے گا۔
مذکورہ دونوں عہدے داران کے مطابق یہ پیغام امریکا کو گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے دورے کے دوران پہنچایا گیا۔ دورہ کرنے والے وفد میں اسرائیل کے وزیر برائے تزویراتی امور رون ديرمر، موساد کے سربراہ دافید برنيع اور قومی سلامتی کے مشیر تساحی هنغبی شامل تھے۔
واشنگٹن کو کئی ہفتوں سے اس بات پر تشویش ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر تہران کے خلاف کوئی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، حالاں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تناظر میں صدر ٹرمپ پہلے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کر چکے ہیں کہ مذاکرات کے دوران کسی بھی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
تاہم، ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر انھیں محسوس ہوا کہ ایران کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز نہیں رہی تو ان کا مقف "ایک فون کال پر” بدل سکتا ہے۔
بدھ کے روز ٹرمپ نے ایران پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ "اپنے فیصلے میں تاخیر کر رہا ہے”، یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا جب ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکی تجویز پر تنقید کی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے اندازوں کے مطابق دو ماہ کی وہ مدت جو صدر ٹرمپ نے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کی تھی، آئندہ ہفتے ختم ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے اختتام پر امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان کسی نئی بات چیت کا امکان نہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران نے 12 اپریل سے اب تک عمان کی ثالثی میں مذاکرات کے پانچ دور مکمل کیے ہیں۔ فریقین کی جانب سے پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے، اگرچہ یورینیم کی افزودگی کے حق کے بارے میں ان کے مابین اختلاف برقرار ہے۔
یہ معاملہ بنیادی تنازع کی صورت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ تہران اس بات پر مصر ہے کہ اسے پر امن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، جب کہ واشنگٹن اس موقف کو مسترد کرتا ہے۔
Like this:
Like Loading...