Skip to content
ممبئی ٹرین حادثہ، کیا سرکار پالیسی بدلے گی ؟
ازقلم: شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
۹ جون ۲۰۲۵ کو ممبئی میں ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا۔ ممبرا ریلوے اسٹیشن پر صبح کی رش والے اوقات میں دو لوکل ٹرینیں ایک دوسرے کے سامنے سے گذر رہی تھیں، اس دوران ٹرین کے دروازے سے لٹکنے والے ۵ مسافر نیچے گر کر موقع پر ہی کی موت کا شکار ہو گئے۔ کم از کم ۹ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ممبرا سے حادثے کے ویڈیو دیکھنے سے پتہ چلا وہاں زخمی افراد اور جاں بحق ہونے والوں کو اٹھانے کے لیے کوئی تربیت یافتہ آدمی نہیں تھا، کوئی سٹرچر بھی نہیں تھا ایسے میں اگر زخمی شخص کو غلط طریقے سے اُٹھایا گیا تو زخمی شخص مذید زخمی یا اپاحج ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کو اگر فوری مدد ملتی تو جانیں بچ سکتی تھی شاید۔دکھ کی بات ہے کہ یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے۔ ایسے حادثات تقریباً روزانہ ہوتے رہتے ہیں۔ آئندہ ایسے حادثے نہ ہوں اسکے لیے ریلوے حکام کیا کرتے ہیں دیکھنا ہوگا ۔اس مرتبہ مرنے والوں میں ایک IT انجینئر، ایک پولیس اہلکار اور چند طالب علم شامل تھے۔ حکومت نے صرف ₹۵ لاکھ کا معاوضہ دیا۔ ریلوے کو حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو کم از کم ₹۵۰ لاکھ کا معاوضہ دینا چاہئے۔ سوال یہی ہے: کیا اس طرح کے حادثات اب ختم ہوں گے؟ نہیں
ممبئی میں روزانہ ۷۵ لاکھ سے زائد لوگ لوکل ٹرینوں کا استعمال کرتے ہیں۔شاید یہ دنیا کا سب سے بڑا لوکل نیٹ ورک ہے، مگر اس پر غیر معمولی دباؤ ہے۔ ٹرینیں اپنی گنجائش سے کئی گنا زیادہ بھری ہوتی ہیں۔ہمیشہ دیر سے آتی ہیں كرجت اور کسارا میں تو ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ایک ٹرین ہے، مجبوراََ لوگ دروازوں سے لٹک کر، سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر یا دو ڈبوں کے بیچ لٹک کر سفر کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوکل ٹرینوں میں آٹومیٹک دروازے نہیں۔ معمولی دھچکا، بریک لگنے یا دھکے سے لوگ نیچے گر جاتے ہیں اور بعض اوقات ان کی جان چلی جاتی ہے۔ ریاستی حکومت نے حالیہ برسوں میں سڑکوں، فلائی اوورز، میٹرو اور ہوائی اڈوں پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے ہیں: سمردھی ہائی وے – ₹۹۶،۰۰۰ کروڑ۔ اگر یہ رقم ممبئی کی لوکل میں لگتی تو نظام بدل سکتا تھا۔ اٹل سیٹو، کوسٹل روڈ، سی–لنک – اربوں روپے خرچ، فائدہ گاڑی چلانے والوں اور امیروں کو۔ نوی ممبئی میٹرو، آرے–BKC میٹرو – کچھ منصوبے غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے ناکام، چند تو تقریباً خالی چل رہے ہیں۔ نوی ممبئی ایئرپورٹ – ایک اور مہنگا منصوبہ، فائدہ صرف امیروں کو۔ لیکن جس لوکل ٹرین نیٹ ورک پر کروڑوں لوگ سفر کرتے ہیں، اس کے لیے نہ حفاظت، نہ سرمایہ کاری، نہ ترقی نہ جواب دہی کا احساس۔
جنوبی ممبئی میں گھر خریدنا تو دور کی بات ہے، کرایہ پر حاصل کرنا بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس لیے لوگ مجبوراً ٹھانے، ڈومبیولي، امبرناتھ، اولہاس نگر، کرجت، کسارا، نوی ممبئی جیسی دور دراز جگہوں میں رہتے ہیں۔ سرمایہ دار طبقہ اور بڑے کارپوریٹ مالکان بھاری منافع کما رہے ہیں، مگر وہ ممبئی میں کام کرنے والے ملازمین کو مناسب تنخواہ نہیں دیتے، جس کی وجہ سے یہ ملازمین مناسب رہائش کے لیے ۱۰۰ کلومیٹر تک کے فاصلوں پر رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اور روزانہ رش بھری لوکل ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں۔ روزانہ نوکری یا تعلیم کے لیے انہیں ممبئی سفر کرنا پڑتا ہے اور لوکل ٹرین کے سوا انہیں کوئی راستہ نہیں۔ یہ سفر مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ ہر روز ۲ سے ۸ افراد لوکل ٹرینوں سے نیچے گر کر یا پٹری کراس کرتے وقت مر جاتے ہیں۔ یہ صرف چند اعداد نہیں، بلکہ روزانہ تباہ ہونے والے خاندانوں کی حقیقت ہے۔ ریلوے انتظامیہ کہتی ہے کہ ۲۰۲۶ تک کچھ نئی ٹرینوں میں آٹو دروازے اور اے سی کوچز نصب کیے جائیں گے، مگر یہ سب بہت سست رفتار پر ہیں، اور اے سی لوکل عام آدمی کے لیے انتہائی مہنگا ہے۔
ممبئی کی لوکل سروس کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہییں۔ رش کے دوران زیادہ ٹرینیں چلائی جائیں، موجودہ ٹرینوں میں اضافی کوچز لگائے جائیں، ٹھانے–دادار، کلیان–CST، پَنویل–اندھیری جیسی نئی لائنوں پر کام تیز کیا جائے۔ کلیان–مرباد، پَنویل–کرجت جیسے کاریڈورز کو فوری منظوری دی جائے۔ تمام نئی لوکل ٹرینوں میں آٹومیٹک دروازے، CCTV اور حفاظتی نظام نصب ہوں۔ جتنا سرمایہ سڑکوں، فلائی اوورز اور میٹرو پر لگ رہا ہے، اتنا ہی عام مسافروں کی زندگی بچانے پر بھی خرچ کیا جائے۔ دفاتر کو جنوبی ممبئی سے مضافاتی علاقوں میں منتقل کیا جائے، جیسے ٹھانے، نوی ممبئی، کلیان، ڈومبیولي وغیرہ۔ اس سے سفر کا دباؤ کم ہوگا۔ دفتری اوقات میں نرمی لائی جائے تاکہ تمام افراد ایک ہی وقت پر سفر نہ کریں، اور رش تقسیم ہو۔ حکومت سستی اور مناسب رہائش کی اسکیمیں لائے تاکہ لوگ ممبئی کے قریب رہ سکیں اور خطرناک سفر سے بچ سکیں۔
ہجوم والے اسٹیشنوں پر RPF کی نفری میں اضافہ ہو، CCTV، سیکیورٹی گیٹس اور براہ راست مانیٹرنگ کا انتظام ہو، مسافروں میں حفاظت سے متعلق شعور پیدا کیا جائے۔ ممبرا جیسا حادثہ کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے، یہ صرف ایک اتفاقیہ واقعہ نہیں، بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ اگر واقعی ممبئی کو ایک ورلڈ کلاس شہر بنانا ہے، تو صرف ایئرپورٹس، ہائی ویز اور فلائی اوورز نہیں بلکہ یہاں کے عام انسان کی جان کی قیمت کو سمجھنا ہوگا۔ یہی اصل ترقی ہوگی۔
Like this:
Like Loading...