Skip to content
رکے نہ جو جھکے نہ جو ،ہم وہ انقلاب ہیں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
غزہ کی پٹی ایک کھلی جیل ہے مگر اس کے اندررہنے والے جیالے آزاد ہیں ۔ وہ نہ صرف اپنی آزادی کے لیے برسرِ پیکار ہیں بلکہ دنیا بھر کے حریت پسندوں کی خاطر عزم و حوصلہ کا منبع و مرجع بنے ہوئے۔ فی زمانہ عالمِ انسانیت میں آزادی کی شمع انہیں کے دم سے روشن ہے۔ اس جیل توڑنے کی سعی اندر اور باہرہر دو جگہ سے کی جاتی ہے۔ 600؍دن قبل برپا ہونے والا طوفان الاقصیٰ ایک داخلی کوشش تھی اور فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے زیر نگرانی’’ مدلین ‘‘ نامی جہاز خارجی سعی ہے۔ اسرائیل کی جابر حکومت نے میدلین کو ضبط کرکے اس کاروانِ آزادی کے عزم مصمم کوکچلنے کی کوشش کی ۔ اس جہاز میں سوار کارکنانِ امن کا اغوادراصل آزادی کی آندھی کو روکنے کی ایک سعیٔ لاحاصل ہے ۔بالآخر یہ خوش گمانی غلط ثابت ہوگی ۔ اسرائیل کی غاصب حکومت نے سمندرمیں میدلین پر دھاوا بول کر اسے قبضے میں لیا تو اس کے جواب میں دنیا بھر سے آنے والے ہزاروں لوگ ایک عالمی جلوس برائے غزہ کی شکل میں رفح جانےکے لیے مصر کےدارالخلافہ قاہرہ کی جانب نکل کھڑے ہوئے۔
آزادی کے اس قافلۂ سخت جاں میں شامل ہونے کے لیے مصر کے ہم سایہ ممالک تیونس، الجزائر، ماریطانیہ، مراکش اور لیبیا سمیت کئی ممالک کے ہزاروں لوگ رفح سرحد پر پہنچ رہے ہیں۔ یہ جان کر ٹرمپ کو حیرت کا جھٹکا لگے گا کہ کہاں تو وہ غزہ کے فلسطینیوں کو دیگر ممالک میں منتقل کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا اور کہاں دنیا بھر سے لوگ اس جنگ آزادی میں شمولیت درج کرانے کے لیے جوق در جوق آر ہے ہیں۔ ۹؍ جون کو سڑک کے راستے مصر کیلئے روانہ ہونے والے پیدل قافلہ سے متعلق پال (فلسطین کا مخفف) ایکشنز تیونس نے اعلان کیا کہ ’’ہماری تیاری مکمل ہے۔ اس کاروانِ حریت میں شرکت کے لیے تیونس سے 7000؍ سے زائد خواہشمندوں میں سے 2500؍ سفر پر نکل کھڑے ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں۔ قاہرہ سے رفح کے درمیان مختلف ممالک سے آنے والے شرکاء کی تعداد10؍ ہزار سےتجاوزکرنے کی توقع ہے ۔
امن کے قیام کی خاطر ایسی بڑی عالمی تحریک کا نظارہ برسوں بعد ہواہے۔اس کاروانِ امن کے دو بنیادی مقاصد ہیں ۔ان میں پہلا تو ناکہ بندی میں محصور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور دوسرے ان کے لیے انسانی امداد کی ترسیل ۔ تیونس کا فلسطین ایکشن نامی مشترکہ وفاق اس جلوس کا اانتظام و انصرام کررہا ہے۔ اس کے مطابق تیونس، سوسہ، صفاقس اور گیبس شہروں سے روانہ ہونے والا ’مغرب مزاحمت قافلہ ‘ بن گرڈین، لیبیا اور مصر کے راستے غزہ تک جائے گا۔ ۹؍ جون کو تیونس سے گاڑیوں میں روانہ ہونے والا کاروانِ امن لیبیا سے گزرتا ہوا13؍ جون تک قاہرہ پہنچ کر عریش اور رفح کی طرف روانہ ہوگا۔ اس کی منصوبہ بندی مثلاً راستے کی سہولت اورحفاظت وغیرہ عالمی مارچ برائے غزہ اور فریڈم فلوٹیلا کولیشن جیسے تحریکوں کے مشورے سے کی گئی ہے۔جلوس کا محرک ’’غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران فلسطینیوں کے ناقابل برداشت مصائب ہیں ‘‘۔
مذکورہ بالا کاروانِ امن کے منتظمین کاکہنا ہے کہ ’’اب خاموش تماشائی بن کر رہنا ممکن نہیں تھا۔ بطور مسلمان، بطور تیونسی، بطور عرب اور انسان کی حیثیت سے یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ کیونکہ خاموشی جرم ہے۔ جب ایک پوری آبادی کو بھوکا مارا جا رہا ہو، بمباری کی جا رہی ہو اور دم گھونٹا جا رہا ہوتو دنیا خاموش کیسےرہ سکتی ہے ۔ یہ مارچ انصاف، اتحاد اور انسانی وقار کے لیے ایک پکار ہے۔‘‘اس تاریخی کاروانِ امن میں 52 ؍ سے زائد ممالک کے لوگوں کا غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی خاطر ہم آہنگ ہونا ثابت کرتا ہے کہ مسئلۂ فلسطین سیاست سے بالاتر ہوکر عالمِ انسانیت کو متحد کردیتا ہے۔ماضی میں چونکہ اسرائیل پرامن احتجاج کو نشانہ بناتا رہا ہے اس لیے کاروانِ امن کے شرکاء تمام تر خطرات سے مقابلہ آرائی کے لیے تیار ہیں ۔ وہ بے خوفی سے اعلان کرتے ہیں کہ ’ ’ہمارا خون غزہ کے لوگوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔‘‘عام شہریوں کی قیادت میں یہ ایک پرامن، غیر مسلح، عوامی قافلہ ہے۔ اسرائیل نے اگر اس پرامن قافلے کوبھی روکا تو پھر ایک بار صیہونی جرائم کو دنیا کے سامنے مزید بے نقاب ہوجائیں گےاس کے برعکس مشکلات، تھکاوٹ اور چیلنجز سے بے نیاز شرکائے قافلہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔
فلسطین اور مزاحمت کے جذبے سے سرشار اس قافلے کے ہیرو غزہ کے مجاہدین آزادی ہیں۔ یہ لوگ انہیں پیغام دے رہے ہیں کہ اپنی جدوجہد میں اہلیانِ غزہ تنہا نہیں ہیں۔ دنیا بھر کے ہزاروں لوگوں کا فلسطینیوں کی حمایت میں یقیناً ان کے جذبۂ حریت اور حوصلوں کو بلند کرے گا۔ وطن عزیز میں اس کاروانِ امن کی منتظم ثناء سید اسے انسانیت کی طرف ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’ ۷؍ اکتوبر کے بعد چونکہ دنیا میں بہت ساری غلط فہمیاں اور افراتفری تھی اس لیےلوگوں نے اس پر اعتراض بھی کیا تھا مگر وقت کے ساتھ یہ واضح ہو گیا کہ اسرائیل معصوم شہریوں کی نسل کشی کر رہا ہے‘‘۔ وہ ایک ماں کی حیثیت سے فلسطینی بچوں کا درد محسوس کرتی ہیں۔ثناء کے مطابق بہت سے لوگوں نے وفد کا حصہ بننے کے لیے جوش و خروش دکھایا، لیکن ہندوستانی حکومت کی فلسطین یکجہتی مظاہروں پر کریک ڈاؤن اور اسرائیل کی کھلی حمایت نے حفاظتی خدشات کو جنم دیا ہے۔
ثناء سید نے نہایت صاف گوئی سے اعتراف کیا کہ ، ’’بہت سارے خدشات کے باوجود ہندوستان سے کئی لوگ وفد میں شامل ہونے کیلئے آگے آئے ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ ہندوستانی وفد 12؍ جون تک قاہرہ پہنچ کر وہاں موجود دیگرلوگوں کے ساتھ شامل ہوجائےگا ۔ حکومتِ ہند نے اگر اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی تو وہ اس کی مزید بدنامی کا سبب بنے گا ۔ اس بات قوی امکان ہے اس قافلہ کی وجہ سے غزہ میں ایک مستقل اور آزاد انسانی ہمدردی کی راہداری کھلے ۔ ڈاکٹر، طلباء، وکلاء اور عام لوگوں پر مشتمل غزہ کے دروازوں تک یہ مارچ مزاحمت اور امید کا عالمی پیغامبر ہے۔ مادلین کا اغواء ہوجانابھی اس کے جوش و خروش کو متاثر نہیں کرسکا ۔یہ قافلہ امن اندیور کے لکھے ایک انقلابی نغمہ کی یاد دلاتا ہے؎
رکے نہ جو، جھکے نہ جو، مٹے نہ جودبے نہ جو
ہم وہ انقلاب ہیں ،ظلم کا جواب ہیں
ہر غریب ہر شہید کا ہم ہی تو خواب ہیں
آٹھ دن تک مسلسل سفر کرکے انسانیت کا پیغام دینے والی کشتی ’’مادلین‘‘ کو اسرائیلی حکومت نے اغواء کرکے ایک اور بدنامی کا تمغہ اپنے نام کرلیا لیکن اس مقصدکی خاطر نکلنے والی وہ کشتی نہ پہلی تھی اور نہ آخری ۔ اس سے قبل بھی وہ ہوتا رہا اور آگے بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ غزہ کے محصور و مجبور عوام کی آزادی کے لیے روشن ہونے والی امید کی ایک کرن بجھی تو امن مارچ کی شمع جل اٹھی ۔ اٹلی سے روانہ ہونے والی "ماڈلین” کا واحد مقصد قابض اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ وحشیانہ محاصرے کو توڑ کر غزہ کے لاکھوں شہریوں کے لیے زندگی کے بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس کشتی میں سوار 12 افراد کے اندر مشہور سویڈش ماحولیاتی کارکنہ گریتا تھونبرگ اور آئرش اداکار لیام کیننگھم شامل تھے ۔ "مادلین” "فریڈم فلوٹیلا” یعنی آزادی کے بیڑے کا حصہ ہے، جو قابض اسرائیل کے 2007ء سے مسلط کردہ غیر انسانی محاصرے کو توڑنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ مادلین پریورپی پارلیمنٹ کی فرانسیسی رکن ریما حسن کے ساتھ الجزیرہ کے صحافی عمر فیاض بھی شامل تھے ۔
اسرائیل کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹس نےجب زمینی، فضائی اور سمندری افواج کو کشتی کو روکنے کی ہدایات جاری کیں تو اس کے جواب میں حماس کے رہنما ڈاکٹر باسم نعیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس قابض صہیونی ریاست کے تمام لیڈروں کو بین الاقوامی کارکنوں کی زندگیوں کے تحفظ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، جو اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر انسانیت کے وقار کی خاطر ایک وحشیانہ محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ "مادلین‘‘ مہم کو سراہتے ہوئے انہوں نے لکھا ایسی حریت پسند کوششیں دنیا بھر کے آزاد انسانوں کی عزم و حوصلے کی نمائندہ ہیں۔ یہ آزادی کے قافلے قابض اسرائیلی اور امریکی اتحاد کی درندگی کو شکست دیں گے۔ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ موت اور بربادی کے جنون سے کہیں زیادہ طاقتور زندگی کی خواہش ہے۔ اسرائیلی بحریہ نے جب ’مادلین‘ پر دھاوا بو کر اس کے عملے کو اغوا کرلیا توحماس نے سخت ترین الفاظ میں اسے مجرمانہ درندگی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ۔
حماس کی نظر میں امدادی مشن کو روکنا صہیونی حکومت کی جانب سے عالمی قوانین کو روندنے اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو ٹھکرانےوالی منظم ریاستی دہشت گردی ہے ۔ یہ ظلم نہ صرف کشتی پر سوار عالمی رضاکاروں بلکہ پوری انسانیت کی آواز کو دبانے کے مترادف ہے۔حماس نے نہ صرف مادلین سے سفر کرنے والے غیرتمند عالمی کارکنوں کو سلام پیش کیا بلکہ زمینی راستے سے آنے والے کاروانِ امن کی غزہ کے ساتھ انسانی یکجہتی کو بھی سراہا۔ تحریک مزاحمت نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس مجرمانہ عمل پر خاموش تماشائی نہ بنے۔حماس نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں، عالمی صحافتی ادارے اور وہ تمام لوگ جن کے دل میں انسانیت کی رمق باقی ہےیہ اپیل کی کہ وہ اس ظلم کے خلاف متحد ہو جائیں ۔ تحریک مزاحمت نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ اسرائیل لاکھ ظلم کر لے، مگر سچائی اور انسانیت کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔یہی پر جوش رجائیت 600 دن بعد بھی حماس کے حوصلوں کو زندہ و تابندہ رکھتی ہے اور صہیونیوں کو ان تباہی سے خبردار کرتی رہتی ہے۔ ایسے مجاہدین کی بابت اقبال فرماتے ہیں؎
یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے
جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
Like this:
Like Loading...